دنیا بھر کے آزادی پسند لوگوں کو صدر محمد مرسیؒ کے انتقال پر گہرا صدمہ پہنچا۔ وہ پیر، 13 شوال 1440ھ بمطابق 17 جون 2019ء کو وفات پا گئے۔ یہ وفات ان کے خلاف 3 جولائی 2013ء کو ہونے والی فوجی بغاوت کے تقریباً چھ سال بعد ہوئی۔ بغاوت کے بعد انہیں چار ماہ تک جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا، پھر من گھڑت الزامات کے تحت جیلوں میں قید کر دیا گیا۔
ڈاکٹر محمد مرسی، جو مصر کے پہلے منتخب سویلین صدر تھے، کی زندگی اہم واقعات سے بھرپور تھی۔ سیاست اور پارلیمانی خدمات کے میدان میں ان کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت کا ایک تربیتی اور اخلاقی پہلو بھی تھا جس نے ان کے اردگرد رہنے والے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا، لیکن شاید ان کے بہت سے چاہنے والے اس پہلو سے واقف نہ تھے۔ جیسا کہ اسلامی علمی شخصیات اکثر اپنی زندگیوں سے تربیت کا نمونہ پیش کرتی ہیں۔
محمد مرسی کون تھے؟
محمد محمد مرسی عیسیٰ العیاط 20 اگست 1951ء کو مصر کے صوبہ الشرقیہ کے ضلع ہیہیا کے گاؤں العدوه میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سادہ مصری خاندان میں پروان چڑھے۔ ان کے والد ایک کسان تھے اور والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ ان کی دو بہنیں اور تین بھائی تھے۔
انہوں نے اپنے آبائی صوبے کے اسکولوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے قاہرہ گئے، جہاں یونیورسٹی میں تدریسی معاون (معید) کے طور پر کام کیا۔ 1975ء سے 1976ء تک مصری فوج میں کیمیائی جنگی شعبے میں بطور سپاہی خدمات انجام دیں۔ 1978ء میں ان کی منگنی ہوئی اور 1980ء میں امریکہ میں شادی کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پانچ بچوں سے نوازا۔
فوجی خدمت کے بعد انہوں نے 1978ء میں قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پھر بیرونِ ملک گئے اور 1982ء میں یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا (امریکہ) سے انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) مکمل کی۔ امریکہ میں قیام کے دوران، خصوصاً 1979ء میں، وہ اخوان المسلمون کی فکر سے متعارف ہوئے اور بعد میں اس جماعت کے رکن بن گئے۔
پی ایچ ڈی حاصل کرنے کے بعد وہ کچھ عرصہ یونیورسٹی میں رہے اور 1982ء سے 1985ء کے درمیان کیلیفورنیا کی نورث رج یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1985ء میں انہیں امریکہ میں مستقل قیام کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے مصر واپس آنے کو ترجیح دی۔ مصر واپسی کے بعد وہ جامعہ الزقازیق کے انجینئرنگ کالج میں استاد مقرر ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے شعبۂ انجینئرنگِ مواد کے سربراہ بن گئے۔
محمد مرسی کے تربیتی و اخلاقی مواقف
ڈاکٹر محمد مرسی کی صدارت کی کامیابی پر لاکھوں لوگ خوشی سے سڑکوں پر نکل آئے تھے، اور ان کی شہادت کے وقت بھی بے شمار لوگوں نے ان کے لیے دعائیں کیں، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسے تربیتی اور اخلاقی نمونے چھوڑے جو لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑ گئے۔ یہ وہی محبت اور تربیت کا طریقہ ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں سکھایا گیا ہے۔
چینی شہری بنگ وانگ لکھتے ہیں: «میں نے مارچ 2013ء میں قاہرہ کی «مسجد الرحمن الرحیم» میں صدر مرسی کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کی۔ میرے اور ان کے درمیان صرف ایک میٹر کا فاصلہ تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ جمعہ کے فوراً بعد سنتِ مؤکدہ ادا کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: اگر ایک ملک کا صدر جمعہ کی بعد والی سنتیں نہیں چھوڑتا تو میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا اگر وہ مجھ سے پوچھے کہ تم نے یہ نمازیں کیوں ترک کیں؟ چنانچہ اس دن کے بعد میں نے کبھی جمعہ کی بعد والی سنتیں نہیں چھوڑیں۔»
اسی طرح مائیکل عادل کہتے ہیں: «اگرچہ میں عیسائی ہوں اور ایک وقت میں آپ کے خلاف تھا، لیکن میں نے آپ سے زیادہ پاکیزہ اور دیانت دار انسان نہ دیکھا ہے اور نہ دیکھوں گا۔» یہ گواہی ایک ایسے رہنما کی کردار کی عکاسی کرتی ہے جو اسلامی تربیت کے اصولوں کو عملی زندگی میں نافذ کرتا تھا۔
صبر، استقامت اور قربانی کا نمونہ
جب وہ قید، ظلم و ستم، ایذا رسانی اور بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار تھے، اور بعض لوگوں نے انہیں اپنے موقف سے دستبردار ہونے، معافی مانگنے یا سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیا، تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا:
«ان شاء اللہ میں قید میں بند اپنے بیٹوں سے پہلے جیل سے باہر نہیں نکلوں گا، اور اپنی گرفتار پاکدامن بیٹیوں سے پہلے اپنے گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ میری زندگی میرے نزدیک انقلاب کے نیک شہداء کی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔»
ان کا یہ موقف دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے لیے ایک عظیم تربیتی سبق اور اصول پسندی، استقامت اور قربانی کی روشن مثال بن گیا۔ تربیتِ نفس کا یہ سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی رہنما وہ ہوتا ہے جو آزمائش میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے۔
ماخذ: محمد مرسي مواقف تربوية من حياة أول رئيس | مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار