اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا اجر اس بات پر موقوف نہیں کہ جسے وہ دعوت دے رہا ہے وہ اس کی دعوت قبول بھی کرے، بلکہ محض دعوت دینا ہی اجر کے حصول کے لیے کافی ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جو ایک عام غلط فہمی کی اصلاح کرتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اجر کا دار و مدار ظاہری دنیاوی نتائج پر ہوتا ہے، اور وہ دعوت کے معاملے کو بھی انہی اعمال پر قیاس کرتے ہیں جن میں محسوس نتائج کو معیار سمجھا جاتا ہے۔
اگر دعوت کے باب میں معاملہ ایسا ہی ہوتا تو اللہ کے بہت سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام — معاذ اللہ — ناکامی سے دوچار قرار پاتے، حالانکہ اللہ کے انبیاء کو اس وصف سے متصف کرنا ہرگز روا نہیں، باوجود اس کے کہ ان کی دعوت پر ایمان لانے والوں کی تعداد کم تھی۔ چنانچہ یہ نوح علیہ السلام تھے، جو اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کے درمیان ایک ہزار برس میں پچاس سال کم ٹھہرے، مگر اس طویل مدت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو طوفان کے ذریعے ہلاک کر دیا، سوائے چند لوگوں کے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں داعی کا اجر:
قرآنِ کریم کی بہت سی آیات اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا اجر، لوگوں کے قبولِ دعوت پر موقوف نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی، کس میں آپ کو دعوت اور تبلیغ کا حکم دیا، مگر نتیجے کا مکلف نہیں ٹھہرایا۔ ارشاد فرمایا:
فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبیؐ، ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے، تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ [الشوریٰ: 48]
فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
تو کیا رسُولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمّہ داری ہے؟ [النحل: 35]
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
اے نبیؐ، تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خُوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ [القصص: 56]
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور حرج کو دور فرمایا، اور آپ ﷺ کو صرف اسی چیز کا مکلف بنایا جس کی آپ طاقت رکھتے تھے:
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ
آپ پہ ان کے ہدایت قبول کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ [البقرة: 272]
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا
اچھا، تو اے محمدؐ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ [الكهف: 6]
فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ
پس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے۔ [فاطر: 8]
رحم سے لبریز دل اُس وقت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جب وہ لوگوں کو پروانوں کی طرح آگ میں گرتے دیکھتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت بھی یہی تھی۔ تب ربانی ہدایت نازل ہوئی: {فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ} یعنی شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے کے غم اور افسوس میں اپنی جان ہی ہلاک کر ڈالیں گے۔ قتادہ نے باخع کا مطلب بتاتے ہوئے لکھا: "کیا آپ ان پر غضب اور غم کی شدت سے اپنی جان کو ختم کر ڈالیں گے؟” اور مجاہد نے ان الفاظ میں وضاحت کی: "جزع و بے قراری کے باعث”۔ دونوں اقوال کا مفہوم قریب قریب ایک ہی ہے، یعنی آپ ان پر حسرت نہ کریں، بلکہ اللہ کا پیغام پہنچا دیجیے؛ پھر جو ہدایت اختیار کرے گا، اس کا فائدہ خود اسی کو ہوگا، اور جو گمراہ ہوگا، اس کی گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہوگا۔
اس اصول میں اُن جلدباز داعیوں اور مربیوں کے لیے علاج موجود ہے جو ظاہری دنیاوی نتائج کے منتظر رہتے ہیں، اور انہی نتائج کو دعوت کے راستے پر قائم رہنے اور آگے بڑھنے کی شرط بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ لازم سمجھنا ایک طرف سوء فہم ہے، اور دوسری طرف قرآن و سنت میں مذکور اصولِ دعوت کی کھلی مخالفت۔
قرآنِ کریم نے دعوت اور قبولِ دعوت کے درمیان عدمِ لزوم کو واضح کیا ہے؛ بسا اوقات داعی اپنی پوری قوت صرف کر دیتا ہے، مگر مدعو کی طرف سے اسے صرف اعراض ہی نصیب ہوتا ہے۔ اور قرآن نے دعوت اور اس کی قبولیت کے درمیان ایک درمیانی مرحلہ بھی بیان کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ
یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے۔ [يوسف: 110]
بعض انبیاء ایسے ہوں گے جو قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کے ساتھ ایک، دو یا تین ہی لوگ ہوں گے، جبکہ بعض انبیاء کے ساتھ ایک بھی ایمان لانے والا نہ ہوگا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ ایک نبی اور چند نبیوں کے پاس سے گزرے جن کے ساتھ کچھ لوگ تھے، اور بعض نبیوں کے ساتھ ایک چھوٹی جماعت تھی، اور بعض نبی ایسے تھے جن کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔” [صحیح ترمذی]
داعی کا مقام و مرتبہ:
ظاہر ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اللہ کی طرف بلانے والے داعی قدر و منزلت اور مرتبہ میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور ان کے لیے اجرِ عظیم ہے۔ اسی بات کی تائید بہت سی آیات و احادیث سے ہوتی ہے:
- یہ اس امت کے بہترین لوگ ہیں: "تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہو، نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو”
- یہی فلاح پانے والے اور سعادت مند ہیں: وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ — "تم میں ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو خیر کی طرف بلائے اور نیکی کا حکم دے اور برائیوں سے روکے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں” [آل عمران: 104]
- ان کا قول بہترین اقوال میں سے ہے: "اس شخص سے بڑھ کر اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک اعمال کیے اور کہا کہ میں مسلمین میں سے ہوں؟” [فصلت: 33]
- اللہ کی رحمتیں داعی کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں: وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ — "مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور بُرائی سے روکتے ہیں… وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی” [التوبة: 71]
- ان کا اجر جاری رہنے والا ہوتا ہے: "جو شخص ہدایت کی طرف بلائے، اس کے لیے اُن تمام لوگوں کے اجر کے برابر اجر ہے جو اس کی پیروی کریں، اور اس سے ان کے اجور میں کوئی کمی نہ ہوگی” [مسلم]
- ان کے ذریعے کسی ایک شخص کا ہدایت پا جانا سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے: "اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے ایک شخص بھی ہدایت پا لے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے” [بخاری]
اللہ کی طرف دعوت دینا دراصل اللہ کے رسولوں علیہم الصلوٰۃ والسلام کا منصب ہے، اور یہی اس کے فضل، شرف، عظمت اور بلند مرتبے کے لیے کافی ہے۔
بعض داعیوں کی مایوسی کے اسباب:
بہت سے اسباب ایسے ہیں جو بعض داعیانِ الی اللہ یا مربیوں کو مایوسی اور دل شکستگی میں مبتلا کر دیتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
- اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل نہ ہونا: کیونکہ جو شخص اپنے رب کو اس کے اسماء و صفات کے ساتھ پہچان لیتا ہے، وہ یقین رکھتا ہے کہ جو اللہ عزوجل ہی پر بھروسا کرے، اللہ اسے ہر شر والے کے شر اور ہر مکار کے مکر سے کافی ہو جاتا ہے۔
- تنہا کام کرنا: کیونکہ اجتماعی عمل، جس میں کوششیں باہم مکمل ہوں، منصوبے اور حکمتِ عملیاں ہم آہنگ ہوں، اور امت کے بڑے دعوتی دھارے کے مختلف طبقات شریک ہوں، ایسا عمل ہے جس میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
- مایوس لوگوں کی صحبت: کیونکہ عادات منتقل ہوتی ہیں، دلوں کی بیماریاں متعدی ہوتی ہیں، اور انسان اپنے ساتھی سے اثر لیتا ہے۔
- کثرتِ ناکامی و شکست: یہ چیز بعض داعیوں کو مایوسی میں مبتلا کر دیتی ہے، حالانکہ ناکامی اور شکست صرف مسلمانوں ہی کا مقدر نہیں۔
إِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنْ اللهِ مَا لا يَرْجُونَ
اگر تم تکلیف اُٹھارہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اُٹھارہے ہیں۔ اور تم اللہ سے اُس چیز کے اُمّیدوار ہو جس کے وہ اُمّیدوار نہیں ہیں۔ [النساء: 104]
علاج:
مایوسی اور دل شکستگی ایک عالمی رجحان بن چکے ہیں۔ اس بیماری کا علاج درج ذیل امور سے شروع ہوتا ہے:
الف۔ مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ کو مضبوط کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرے تعلق کی تربیت دینا: کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی حقیقی معرفت انسان کے اندر مضبوط یقین اور زندہ ایمان پیدا کرتی ہے۔
ب۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا: ان کی جدوجہد اور اللہ کی راہ میں جہاد کو سمجھنا — کس طرح آپ پر سختیاں، آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں، مگر آپ ایک مضبوط پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے۔
ج۔ اللہ کے فضل، کرم اور پوشیدہ لطف پر غور کرنا: یہ دیکھنا کہ کس طرح کم وسائل اور بے شمار سازشوں کے باوجود دینِ اسلام طاقت کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ
[يوسف: 110]
د۔ یقین اور اللہ پر بھروسہ: داعی اور مربی کے لیے راستے پر استقامت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "قوی مؤمن اللہ کے نزدیک کمزور مؤمن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر موجود ہے” [مسلم]
بے شک داعی کے لیے اللہ کے ہاں اجر کا دار و مدار مدعو کی قبولیت پر نہیں ہوتا، اور ناکامی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب نتائج میں جلدی کرنا ہے۔ مسلمان کو مسلسل عمل، کوشش اور قربانی کے ذریعے اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے، کیونکہ دعوتِ الی اللہ انسان کا سب سے بلند اور عظیم مقام ہے۔
مترجم: زعیم الرحمان