السلام عليكم ورحمة الله وبركاته… میں اس ویبسائٹ کے صفحے پر آیا، اسے دیکھا اور اس کا مواد مجھے بہت پسند آیا، اس لیے میں آپ سے نصیحت چاہتا ہوں۔
براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ میں 24 سال کا ایک نوجوان ہوں۔ بچپن میں میرا دل بہت مطمئن رہتا تھا۔ میں محبت اور اطمینان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، اور اپنے دل میں ایمان کی مٹھاس اور لذت محسوس کرتا تھا۔ میں ہمیشہ قرآنِ کریم سننا پسند کرتا تھا اور اس کی تلاوت سے لطف اور سکون حاصل کرتا تھا۔ میری زندگی ایک خوبصورت ایمانی فضا میں گزرتی تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں نے محسوس کیا کہ میرے دل سے یہ ایمانی کیفیتیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ اب مجھے وہ مٹھاس اور لذتِ ایمان محسوس نہیں ہوتی۔ عبادت اور دینی امور میں کچھ اکتاہٹ محسوس ہونے لگی ہے، اور قرآن سننے یا اس کی تلاوت کرنے کا وہ شوق بھی باقی نہیں رہا۔ اب میں کیا کروں تاکہ دوبارہ اپنی سابقہ ایمانی حالت حاصل کر سکوں؟
جواب:
محترم سائل! ہمارے اس صفحے میں آپ کا خیر مقدم ہے۔
عزیز بھائی! ایمان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ اگر اس میں اضافہ نہ ہو تو اس میں کمی آنے لگتی ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ایمان تم میں سے کسی کے دل میں اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے جیسے کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، لہٰذا اللہ سے دعا کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید فرمائے۔
طبرانی، حاکم
لہٰذا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کے دل میں ایمان کو تازگی عطا فرمائے۔
ایمانی کمزوری اور سستی کے اوقات ہم سب پر آتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ انسان ان کے اسباب پر غور کرے اور ان چیزوں کی تلاش کرے جو دوبارہ اس کے دل میں ایمان کی حرارت اور تازگی پیدا کریں۔
رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ بھی کبھی ایسی کیفیت محسوس کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت حنظلہ اسیدیؓ، جو رسول اللہ ﷺ کے کاتبوں میں سے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ملے۔ ابوبکرؓ نے پوچھا: "حنظلہ! تم کیسے ہو؟” انہوں نے کہا: "حنظلہ منافق ہو گیا ہے!” حضرت ابوبکرؓ نے تعجب سے فرمایا: "سبحان اللہ! تم کیا کہہ رہے ہو؟” حنظلہؓ نے کہا: "جب ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ہوتے ہیں اور آپ ﷺ ہمیں جنت اور جہنم کی یاد دلاتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جب آپ ﷺ کی مجلس سے نکل کر بیوی بچوں اور دنیاوی کاموں میں مشغول ہوتے ہیں تو ان میں سے بہت سی کیفیتیں بھول جاتے ہیں۔”
حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! ہمیں بھی ایسی ہی کیفیت پیش آتی ہے۔” پھر دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی حالت پر قائم رہو جس حالت میں میرے پاس اور ذکرِ الٰہی کے وقت ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور راستوں میں تم سے مصافحہ کریں۔ لیکن اے حنظلہ! ایک وقت ایسا اور ایک وقت ایسا۔
صحیح مسلم
یعنی مسلمان کی زندگی میں توازن ہونا چاہیے؛ کچھ وقت عبادت اور ذکر کے لیے ہو اور کچھ وقت جائز دنیاوی کاموں کے لیے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایک اچھی نوجوانی عطا فرمائی ہے۔ یہ ایسا دور ہوتا ہے جس میں عزم، ہمت اور قوت و توانائی بھرپور ہوتی ہے۔ لہٰذا اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے آپ کو چن لیا اور اس عمر میں آپ کے لیے خیر و بھلائی کے اسباب فراہم کیے۔
عزم کے کمزور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس کو جائز تفریح اور آرام کا موقع نہ دے۔ اس لیے ہم نصیحت کرتے ہیں کہ جس طرح عبادت کے لیے وقت مقرر کرتے ہیں، اسی طرح اپنے لیے جائز تفریح کا وقت بھی نکالیں۔
میں کبھی کبھی اپنے نفس کو کسی غیر حرام تفریح کے ذریعے راحت دیتا ہوں، تاکہ وہ حق کے کاموں کے لیے زیادہ مضبوط ہو جائے۔
حضرت ابو الدرداءؓ
دلوں کو کبھی کبھی راحت دیا کرو، کیونکہ جب ان پر زبردستی کی جائے تو وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔
حضرت علیؓ
نیک صحبت کی اہمیت
نیک صحبت بہت مددگار ہوتی ہے۔ شیطان ایک آدمی کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور دو آدمیوں سے نسبتاً دور۔ لہٰذا اللہ کے لیے ایک ایسا دوست اختیار کریں جو آپ کی مدد کرے اور دینی اسباق اور قرآن کی مجالس میں جانے کے لیے آپ کا حوصلہ بڑھائے۔
ہمارے دینی بھائی ہمیں اپنے اہلِ خانہ سے بھی زیادہ عزیز ہیں، کیونکہ اہلِ خانہ ہمیں دنیا یاد دلاتے ہیں جب کہ دینی بھائی آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔
حسن بصریؒ
نیک لوگوں کی مجلس اللہ کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اس لیے سوچ سمجھ کر انتخاب کریں کہ آپ اپنا زیادہ وقت کن چیزوں اور کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔
تجدید اور تنوع
ہمیں وقتاً فوقتاً تجدید کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا کبھی مسجد تبدیل کریں، شاید اللہ تعالیٰ کسی دوسرے امام یا نئے نمازیوں کے ذریعے آپ کے لیے خیر کے دروازے کھول دے۔ اسی طرح جن علماء کی تقاریر سنتے ہیں ان میں بھی تنوع پیدا کریں، اور فقہ، سیرت، تزکیۂ نفس اور تدبرِ قرآن جیسے مختلف موضوعات سے استفادہ کریں۔
تدریج اور عبادت کے موسم
تدریج ضروری ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کائناتی سنت ہے۔ اس لیے فرائض کی درست ادائیگی سے آغاز کریں، پھر سنتوں میں اضافہ کریں۔
اللہ تعالیٰ نے عبادت کے مختلف موسم مقرر فرمائے ہیں:
- جمعہ کا دن
- پیر اور جمعرات کے روزے
- ہر قمری مہینے کے تین ایامِ بیض کے روزے
- رمضان المبارک کے روزے اور قیام
- ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن
لمبی امیدیں (طولِ امل) انسان کو بگاڑ دیتی ہیں۔ مومن کو امید اور خوف دونوں کے درمیان رہنا چاہیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں بہترین وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔”
زمین میں سیر و سیاحت
زمین میں سیر و سیاحت بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ اس سے دل بیدار ہوتا ہے، سینہ کھلتا ہے اور بندہ اللہ کی طرف بہتر انداز میں متوجہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے ایسے دل ہوتے جن سے وہ سمجھتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
الحج: 46
دل ہی ایمان کا اصل مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کی فرض عبادت کو تقویٰ کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے:
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
البقرہ: 183
منصوبہ بندی اور دعا
منصوبہ بندی اور تحریر بہت ضروری ہے۔ چنانچہ ان کاموں کو متعین کرو جنہیں تم فوراً شروع کر سکتے ہو اور انہیں لکھ لو۔
اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور ہر اس قول و عمل کا سوال کرتے ہیں جو جنت کے قریب کر دے، اور ہم جہنم سے اور ہر اس قول و عمل سے تیری پناہ مانگتے ہیں جو جہنم کے قریب کر دے۔ اے دلوں اور نگاہوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ آمین۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار