یوں تو مفکر اسلام کا لقب ڈاکٹر محمد عمارہ کے لیے عین موزوں ہے اور وہ واقعی عصرِ حاضر کے نمایاں فکری، دعوتی اور سیاسی رہنماؤں میں سے ایک تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ میدانِ تربیت کے بھی شہسوار تھے۔ انہوں نے خاندان کی نگہداشت، بیوی بچوں کی دیکھ بال اور والدین کی خدمت میں بھی ایک مثالی کردار ادا کیا۔ یہ وہ پہلو ہے جسے ان کے صاحبزادے ڈاکٹر خالد نے اپنے والد کی زندگی کے شخصی، سماجی اور تربیتی گوشوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اجاگر کیا ہے۔
ڈاکٹر عمارہ نے تقریباً 89 برس کی عمر پائی، ان میں سے 60 سے زیادہ برس علم، تربیت، اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی تلقین اور ہر محفل اسلام کی اعانت و نصرت کی تاکید سے بھرپور تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی عظیم فکری و سیاسی مشاہیر کے مکمل علمی مجموعے بھی مرتب کیے، جو اسلامی فکر کے لیے زرخیز بنیاد ثابت ہوئے۔ وہ عصرِ حاضر کی تحریکِ احیاء و تجدید کے علمبرداروں میں بھی شمار ہوتے ہیں-
ڈاکٹر محمد عمارہ کی ولادت اور اہم خصوصیات
ڈاکٹر محمد عمارہ 8 دسمبر 1931ء / 1350ھ کو کفر الشیخ کے مرکز قلین کے گاؤں صروہ میں ایک سادہ سے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 6 سال کی عمر میں انہوں نے بستی کے مکتب میں قرآن کریم حفظ کیا اور تجوید کے ساتھ پڑھا۔ پھر 1364ھ میں وہ جامع ازہر شریف سے ملحق دسوق کے ابتدائی دینی ادارے میں داخل ہوئے، اور وہیں سے 1368ھ میں ابتدائی سند حاصل کی۔
1368ھ میں وہ جامع ازہر شریف سے ملحق طنطا کے احمدی دینی ثانوی ادارے میں داخل ہوئے، اور وہاں سے 1373ھ میں ازہر کی ثانویہ کی سند حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے اپنی ادبی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں اور مصر کے متعدد اخبارات و رسائل میں لکھا۔ جہادِ فلسطین کے عنوان سے ان کا پہلا مضمون مصر الفتاۃ نامی مجلے میں شائع ہوا۔
عمارہ 1374ھ میں جامعہ قاہرہ کے شعبہ دارالعلوم میں داخل ہوئے۔ دورانِ تعلیم انہوں نے 1375ھ میں مصر پر سہ فریقی حملے کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا، اور ایک عرصے تک سیاست میں مصروف رہے، جس کی وجہ سے بیچلر کی ڈگری کے حصول میں تاخیر ہوئی۔ پھر انہوں نے 1390ھ / 1970ء میں اسلامی فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، اور اسی کالج سے 1395ھ / 1975ء میں اسلامی علوم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری اسلامی فلسفہ میں تخصص کے ساتھ حاصل کی۔
ڈاکٹر عمارہ ایسی صفات کے حامل تھے جنہوں نے انہیں نابغۂ روزگار مفکر بنایا، وہ مضبوط دلیل، پختگی اور فصاحت کے مالک تھے۔ جو بھی انہیں سنتا، چاہتا کہ وہ خاموش نہ ہوں، اور جو کوئی ان کے چہرے کے نقوش اور آنکھوں کی حرکت دیکھتا، چاہتا کہ وہ ایک لمحہ بھی اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہوں۔
محمد عمارہ نے شبہات پھیلانے والوں اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے مقابلے میں دینِ خدا کے دفاع کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔ ان کی تلوار کاٹ دار اور نیزہ کاری تھا، کسی بھی حریف کے ساتھ میدان میں اترتے تو اس کے نظریات کی تمام تر باریک معلومات سے لیس ہوتے تھے۔ یہی انہوں نے نصر حامد ابو زید اور مشیر سعید العشماوی کے ساتھ کیا۔
انہوں نے مستشرقین اور مغرب میں اسلام کے نام نہاد ماہرین کا جائزہ لیا اور ان کے نظریات کا بغور مطالعہ کیا تو لوگوں پر ان کی بہت سی کمزوریاں آشکار کر دیں۔ انہوں نے ان سیاستدانوں اور حکمتِ عملی کے ماہرین کا بھی سامنا کیا جو اسلام کو مغرب کا نیا دشمن تصور کرتے ہیں، تو انہوں نے واضح کر دیا کہ ایسے لوگ کس قدر واہیات باتیں پھیلا رہے ہیں۔
رجب 1441ھ، بمطابق 28 فروری 2020ء جمعہ کی شام کو اس عظیم مفکر کی روح اپنے خالق حقیقی سے جا ملی، اس حال میں کہ انہوں نے اپنا پیغام پھیلایا اور تربیت کے سلسلے میں اور اسلامی تعلیمات کی حفاظت کے ضمن میں اپنا مشن مکمل کیا۔
محمد عمارہ کا تعلیمی اور دعوتی وژن
ڈاکٹر محمد عمارہ کی تعلیمی اور دعوتی کامیابیاں، ان کے مواقف اور افکار کے علاوہ “عدل، آزادی اور خودمختاری” کے تین بنیادی اصولوں سے جڑی ہوئی تھیں۔ یہ وہ تھرما میٹر تھا جسے وہ ہر چیز کو ناپنے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور انہی میں اولاد کی تربیت، خاندان کی دیکھ بھال اور احاطہ بھی شامل تھا۔ یہ وہ درج ذیل طریقوں سے کرتے تھے:
خاندانی اجتماع
ڈاکٹر عمارہ نے صرف اولاد سے محبت کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور ان کے لیے آسائشیں مہیا کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ کتاب اور مطالعے سے محبت پر بھی ان کی تربیت کی۔ یہ اجتماع روز شام پانچ بجے چائے کے گرد منعقد ہوتا تھا اور آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے تک جاری رہتا تھا کہ پھر ہر فرد اپنے کام یا پڑھائی کی طرف لوٹ جاتا۔
مشورہ
ڈاکٹر عمارہ خاندان میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے۔ وہ رہنما اور ذمہ دار باپ تھے، مگر خاندان کے افراد کی رائے بھی ضرور لیتے تھے۔ وہ نہ تو ایسے آمر باپ تھے ک جو نہ بات سن سکے اور نہ رحم کرنے والا ہو اور نہ ہی ایسا لاپرواہ باپ تھے جس کی نہ کوئی رائے ہو، نہ نگرانی کرتا ہو اور معاملات بھی اس کے قابو سے باہر ہوں۔
گھر میں مکتب
ڈاکٹر عمارہ نے افرادِ خانہ اور کتاب کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانے پر زور دیا، چنانچہ ہر فرد کے پاس ایک چھوٹی لائبریری تھی جس میں وہ اپنی خریدی ہوئی کتب رکھتا تھا۔ پڑھنے، لکھنے اور کتابوں سے محبت ان کے خاندان کے اہم امورِ زیست تھے۔
شفقت اور سختی
ڈاکٹر عمارہ نے اولاد کی تربیت کے سلسلے میں نرمی اور سختی کا امتزاج پیش کیا۔ اولاد کو کافی حد تک آزادی دی، کسی کو بھی زندگی کے فیصلوں کے حوالے سے مجبور نہیں کیا بلکہ حکمت کے ساتھ نصیحت کی اور رہنما کا کردار نبھایا۔
خطوط
ڈاکٹر عمارہ کے خاندان میں خطوط کا طریقہ بھی رائج تھا، جن کا مقصد ایسے امور کا اظہار تھا جن پر باپ کے سامنے بات کرنا بعض کے لیے شرمندگی کا باعث ہو، اسی طرح یہ معافی مانگنے یا کسی چیز کی درخواست کرنے کا ذریعہ بھی تھا اور ڈاکٹر عمارہ اپنے بچوں کو لکھ کر اظہار کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔
خیالات، نہ کہ اشخاص
ڈاکٹر عمارہ نے اپنے بچوں کو سکھایا کہ وہ مکالمہ کریں اور غلطیوں پر تنقید بھی، لیکن غلطی کرنے والے پر ملامت سے بچیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی تھی کہ جب وہ کسی کی غلطی کی نشاندہی کرتے تو کسی کو نامزد کرنے کی بجائے عمومی انداز میں کہتے کہ: “تم میں سے بعض ایسا کیوں کرتے ہیں؟”
میز کی دراز
ڈاکٹر عمارہ کی مادی خواہشات نہیں تھیں۔ انہوں نے سادہ زندگی بسر کی۔ مال کے پیچھے نہیں بھاگے، پورے گھر میں ہی قناعت اور تسکین کا ماحول تھا۔ وہ سارا پیسہ میز کی دراز میں رکھتے تھے، جو سب کے لیے کھلی ہوتی تھی، تاکہ جسے ضرورت ہو وہ والد کو بتانے کے بعد لے لے۔ اس سے بچوں میں والد پر بھروسہ کا احساس ہوا اور ذمہ داری بھی پیدا ہوئی۔
ذاتی صفائی
وہ لباس میں سادہ تھے مگر ذاتی صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے، اور کبھی اس میں کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ ان کے کپڑے عام مگر صاف ہوتے تھے اور وہ جگہ کے مطابق لباس پہنتے تھے: گاؤں میں جلباب، لیکچر میں عبایہ، اور سفر کے وقت مغربی سوٹ۔
مستقل مزاجی اور استقامت
ڈاکٹر عمارہ نے اپنے بچوں میں مستقل مزاجی اور تسلسل کا اصول راسخ کیا، اور انہیں اچانک اور تیز کامیابی کی خواہش سے متنبہ کیا۔ وہ انہیں یاد دلاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ سے قبل تیرہ سال تک ایک منتخب جماعت کی تربیت کی، جس نے بعد میں اسلامی امت کی بنیاد رکھی۔
شوہر
ڈاکٹر عمارہ کا اپنی بیوی کے ساتھ منفرد تعلق تھا، وہ ہمیشہ ان کے احسان کو تسلیم کرتے، ابتدا ہی سے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کو ذکر کرتے، اور یہ بات وہ بچوں کے سامنے دہراتے تاکہ گھر کا ماحول پر سکون ہو، محبت و الفت سے لبریز ہو، احسان مندی کا جذبہ ہو اور مودت، سکون اور رحمت سایہ فگن رہے۔ جیسے حضرت خدیجہؓ کی مثال ملتی ہے کہ وہ تاجر خاتون تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بہ شانہ کھڑی رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اولاد کا ذریعہ بنیں اور ایسی بہت سی اور مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں۔
فرمانبردار اولاد
وہ تمام زندگی والدین کے فرمانبردار رہے، اور ان کی وفات کے بعد گاؤں میں ایک گھر بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ آپس میں رابطہ رہے، اپنی جڑوں سے تعلق برقرار رہے اور نیکی میں اضافہ ہو۔
مہربان بھائی
اپنے بھائیوں کے ساتھ ان کا تعلق محبت، نرمی اور درگزر پر مبنی تھا۔ وہ مصیبت کے وقت بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہتے اور ان کے بھائی بھی بحرانوں میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے تھے۔ تعلق کی یہ گرمجوشی تمام بھائیوں کی وفات تک برقرار رہی۔
دوست
مختلف افکار، مذاہب اور قومیت کے لوگوں سے ان کا دوستی کا تعلق قائم تھا۔ وہ سب سے محبت کرتے اور سب سے خیر کی توقع رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ لوگوں کے درمیان مشترکات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہیں اپنے مسلم بھائی سے بھی محبت تھی اور اپنے مسیحی پڑوسی سے بھی لگاؤ تھا اور اس میں فکر پر کوئی قدغن تھی اور نہ رائے کے لیے کوئی تعصب ہی تھا اور نہ گھریلو معاملات کے حوالے سے کوئی امتیاز تھا۔
دادا بطور مربی
ان کے بہت سے پوتے پوتیاں تھے جن سے ان کا تعلق اپنی اولاد سے بھی زیادہ تھا۔ وہ تربیت کرتے تھے، آپس میں گہری دوستی تھی، وہ اہتمام کرتے تھے کہ ان کی زبان اور اسلوبِ فکر کو سمجھ سکیں اور ان کی باتیں گھنٹوں طویل ہوجاتیں۔
طلباء کے مربی
وہ ہمیشہ اپنے طلبہ کا خیرمقدم کرتے، اپنے گھر یا لائبریری میں کسی طالب علم کو آنے سے منع نہیں کرتے تھے۔ اپنی استطاعت کے مطابق ہر طالب علم کی مدد کرتے تھے۔ اپنے طلبہ سے اپنی اولاد جیسا سلوک کرتے تھے، ہمدردی رکھتے تھے، حالات سے واقف ہوتے، ان میں اپنے آپ کو پاتے تھے، ان کی جدوجہد کو محسوس کرتے اور طلبِ علم میں مزید آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
انداز میں مثبت انداز
وہ خوشی اور غم دونوں میں اللہ کا شکر ادا کرنے کا اھتمام کرتے تھے۔ ہر چیز کو مثبت انداز میں بیان کرتے، اللہ کے علاوہ کسی اور سے شکایت کو کمزوری اور ذلت سمجھتے تھے۔ کہتے تھے کہ مردانگی میں شکایت، گلہ اور رونا دھونا شامل نہیں۔ وہ اس تصور کو ناپسند کرتے تھے کہ مسلمان غمگین ہو کر دنیا چھوڑ دے، موت کا منتظر رہے، مسجد میں جا چھپے اور دنیا کو اپنے دشمنوں کے راج کے لیے چھوڑے رکھے اور اسباب اختیار نہ کرے۔ وہ بار ہا یہ آیت دہراتے کہ:
“حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔” [الرعد: 11]
اور وہ حدیث بھی کہ “تم میں سے جب کوئی کسی منکر کو دیکھے….الخ”
فکری منصوبہ
ڈاکٹر محمد عمارہ نے اپنے آپ کو مکمل طور پر فکری منصوبے کے لیے وقف کردیا تھا۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم تصنیف و تالیف اور اپنے اسی منصوبے کے لیے مکمل کی، جسے انہوں نے ہر چیز پر ترجیح دی تھی۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ اسلامی فکری ورثے کی تجدید اور متون کی تحقیق کی جائے۔ وہ اسی میں تمام زندگی لگے رہے حتیٰ کہ مجلہ الازہر کی ادارت کے دوران بھی وہ اس بات کا اہتمام کرتے تھے کہ ہر شمارے کے ساتھ اسلامی ورثے کی تحقیق یا کسی نہایت اہم فکری کام پر مشتمل کوئی کتاب منسلک ہو۔
ڈاکٹر عمارہ کہتے ہیں:
میرا مقصد ایسی اسلامی ذہنیت کی تشکیل ہے جو اسلامی شناخت سے وابستہ اور اسلامی بنیادوں سے جڑی ہو، اور ساتھ ہی دوسری فکر کی روشنی میں اسلام کو دیکھنے اور اسلام کی روشنی میں دوسرے فکر کو دیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو
محمد عمارہ نے بے شمار ثقافتی معرکے لڑے تاکہ اسلامی فکر کے مخالفین کے نظریات کی تردید کر سکیں۔ وہ ان بڑے علماء میں سے ہیں جنہوں نے لادینیت اور الحاد کو باطل ثابت کیا، اور ہر ایسے اصول کی مخالفت کی جو اسلامی بنیادوں پر حملہ آور ہوا یا جس نے نئی نسل کے ذہنوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کئی مسائل کی تجدید میں حصہ لیا؛ جن میں تکثیری جماعتی نظام، عمومی سماجی زندگی میں مغرب کے ساتھ تعلق کے مسائل اور اس کے بارے میں موقف، اور یورپی تہذیب کے بارے میں موقف، اور فنون لطیفہ کے حوالے سے اسلام کی رائے شامل ہیں۔
محمد عمارہ کا چالیس کی دہائی میں مصری بائیں بازو سے قرب بڑھا اور وہ ان کے بڑے نظریہ سازوں سے واقف ہوئے۔ اس سے انہیں مارکسزم اور مغربی فکر کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا، جس نے ان کے علمی ذخیرے میں ایک مختلف جہت کا اضافہ کیا، اور یہی چیز بعد میں ان کی علمی زندگی کا حصہ بنی رہی۔
بائیں بازو کے دھارے میں شامل ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے محمد عمارہ کہتے ہیں:
دو معاملات ابتدا سے میرے ساتھ رہے۔ ایک آزادی، وطن کی آزادی کا مسئلہ اور دوسرا سماجی انصاف کا معاملہ جو انسان کو مسکینوں کی حمایت پر اکسائے اور یہی چیز مجھے بائیں بازو سے وابستہ کرنے کا سبب بنی
محمد عمارہ مارکسزم سے فکرِ اسلامی کی جانب آئے اور اس میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے دو سو سے زائد تصانیف چھوڑیں جو ان کے فکری سفر کا نچوڑ ہیں۔ یہ کتب سہل أسلوب میں لکھی گئی ہیں جس سے قاری بآسانی ان کے افکار اور آراء کو سمجھ سکتا ہے، اور ساتھ ہی اسلامی فکر کی بنیادی باتیں بھی سیکھ سکتا ہے جیسے کہ لغت، دین، تاریخ، جدید طرزِ فکر اور وژن سے مطابقت جو ہماری شناخت کا بھی حصہ ہیں اور امت کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان تصانیف میں کتاب “الوسیط فی المذاهب والمصطلحات الإسلامية” بھی شامل ہے، جس میں آسان انداز میں قاری اہم اسلامی مذاہب، فرقوں، اصطلاحات، سلف اور سلفیت، شیعہ فرقوں اور تشیع کے معنی وغیرہ کو سمجھ سکتا ہے۔
ان کی دیگر نمایاں تصانیف میں شامل ہیں
- اسلام کی مارکسی تشریح۔
- بیت المقدس: یہودیت اور اسلام کے درمیان
- اسلام کے بارے میں شبہات
- ردِ کتاب “اسلام اور فیصلے کے اصول”
- بیت المقدس اور فلسطین کے لیے جدوجہد کی فقہ۔
- دین کی تجدید سے دنیا کی تجدید
- ابن رشد مغرب اور اسلام کے درمیان
- جامعہ اسلامیہ اور قومیت
- تہذیب اسلامی میں معاشی اصطلاحات کی لغت
- عمر بن عبدالعزیز
- سنت نبوی اور انسانی علم
- تکثیریت: اسلامی نقطۂ نظر اور مغربی چیلنجز
- اسلام اور فلسفۂ حکومت
- تراث اور مستقبل
- اسلام اور تکثیریت
- ابتدائے فکر اور تہذیبی خصوصیات
- ڈاکٹر عبدالرزاق السنهوری باشا: ریاست کی اسلامیت، مدنیت اور قانون
- اسلام اور سیاست: لادینی شبہات کا جواب
- جب مصر دینِ خدا میں داخل ہوا
- اسلامی تحریکیں: تنقیدی جائزہ
- مطالعۂ عربی کا عقلی منہج
مترجم: زعیم الرحمان