از ڈاکٹر رمضان فوزی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے اپنا پیغام دینے کےلیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے [إبراهيم: 4]؛ یہ آیتِ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ زبان اور لسان کا یکساں ہونا وضاحت اور تبلیغ کا سبب ہے، اور انبیاء و رسل کی بعثت کا بنیادی مقصد ہے کہ لوگوں پر حجت قائم ہو؛ پس زبان ہی پیغام کو پہنچانے اور اس کی تبلیغ کا بنیادی ذریعہ ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان اور بولی کے ساتھ بھیجا، تاکہ وہ اپنی رسالت کو اپنی قوم تک بغیر کسی ابہام، تحریف یا تبدیلی کے بہتر انداز میں پہنچا سکے۔
اللہ عزوجل نے چاہا کہ عربی زبان کو شرف بخشے، اس کا مقام بلند کرے اور اس کا ذکر بلند فرمائے؛ چنانچہ اسے اسلام کی پہلی زبان بنایا، اسی میں قرآن نازل فرمایا، اور اسے اپنے نبی علیہ السلام کی زبان قرار دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ، اسی طرح اے نبیؐ، یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو [الشورى: 7]، اور فرمایا: ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کرعربی زبان میں تا کہ تم ﴿اہلِ عرب﴾ اس کو اچھی طرح سمجھ سکو [يوسف: 2]، اور فرمایا: یہ صاف عربی زبان ہے [النحل: 103]۔
عربی زبان اسلام کا شعار اور اہلِ اسلام کی پہچان ہے، اور یہ عربوں کی ان شعائر میں سے ہے جن کی تبدیلی حتیٰ کہ معاملات میں بھی ناپسند کی گئی ہے۔ جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے فرمایا: “عربی زبان اسلام کا شعار ہے، اور زبانیں امتوں کی سب سے بڑی علامات میں سے ہیں جن سے وہ ایک دوسرے سے ممتاز ہوتی ہیں۔”
اور انہوں نے یہ بھی فرمایا: “سلف ہمیشہ عربوں کی شعائر میں تبدیلی کو ناپسند کرتے تھے، حتیٰ کہ معاملات میں بھی، یعنی ضرورت کے بغیر غیر عربی زبان میں گفتگو کرنا؛ جیسا کہ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ نے اس کی تصریح کی ہے۔ بلکہ امام مالکؒ نے فرمایا: “جو شخص ہماری مسجد میں عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں گفتگو کرے، اسے وہاں سے نکال دیا جائے۔”
قرآن کو سمجھنے کے لیے زبان کا سیکھنا ضروری ہے۔ امام شاطبیؒ نے فرمایا: “جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے عربی زبان کے راستے سے ہی سمجھا جا سکتا ہے، اور اس کے فہم کو اس راستے کے بغیر حاصل کرنے کی کوئی سبیل نہیں۔”
داعی کی زبان: دلوں تک پہنچنے کا راستہ
جب داعی حضرات ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں، پیغام کو لوگوں تک پہنچانے اور اسے ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور ہر عیب سے مبرا حالت میں پہنچانے کے معاملے میں، تو ان پر لازم ہے کہ اسلام کے اس شعار کی تعظیم کریں جو عربی زبان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اور اسے سیکھیں تاکہ وہ نصوص کو صحیح طور پر سمجھ سکیں اور اسی صحیح فہم کے ساتھ لوگوں تک پہنچا سکیں، بغیر کسی تحریف یا تبدیلی کے۔ امام شافعیؒ نے دین میں لوگوں کی بدعات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا “لوگ نہ جاہل ہوئے اور نہ اختلاف میں پڑے یہاں تک کہ انہوں نے عربی زبان کو چھوڑ دیا۔”
انہوں نے اس بات کی طرف بھی رجحان ظاہر کیا کہ زبان کا علم واجب اور فرض ہے، چنانچہ انھوں نے کہا: “جان لو کہ زبان کی عادت عقل، اخلاق اور دین پر نہایت واضح اور قوی اثر ڈالتی ہے، اور یہ اس امت کے ابتدائی لوگوں یعنی صحابہ اور تابعین سے مشابہت میں بھی اثر انداز ہوتی ہے، اور ان سے مشابہت عقل، دین اور اخلاق میں اضافہ کرتی ہے۔ نیز خود عربی زبان دین کا حصہ ہے، اور اس کا جاننا واجب ہے؛ کیونکہ کتاب و سنت کو سمجھنا فرض ہے، اور وہ عربی زبان کے فہم کے بغیر سمجھ میں نہیں آ سکتے، اور جس چیز کے بغیر واجب مکمل نہ ہو وہ بھی واجب ہوتی ہے۔”
موجودہ حالات پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ عرب اور اسلامی امت اس وقت ثقافتی بیگانگی اور فکری انتشار کے جس دور سے گزر رہی ہے، وہ شاید ایک بحران زدہ سیاسی صورتِ حال کا عکس ہے، جس کے براہِ راست اور واضح اثرات عربی زبان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ عربی زبان سماجی ترکِ استعمال اور زندگی کے بیشتر عمومی مظاہر سے کنارے لگا دیے جانے کا شکار ہے، یہاں تک کہ وہ کتابوں اور قدیم مراجع کے صفحات میں سمٹ کر رہ گئی ہے، جو صرف محققین اور ماہرینِ علم تک محدود ہیں۔
عربی زبان کے اس بحران زدہ حال کے ساتھ داعیوں کا طرزِ تعامل بھی معاشرے کے دیگر طبقات سے زیادہ مختلف نہیں۔
عمومی طور پر عربی زبان کے حوالے سے داعیوں کے رویّے کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
الف: ایک گروہ ایسا ہے جس نے اپنے تدین اور دعوت میں تشدد اختیار کیا، تو اپنی زبان اور خطاب میں بھی سختی اور تکلف کو اپنا لیا۔ وہ الفاظ میں سب سے زیادہ مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں، عبارات میں سب سے زیادہ پیچیدہ اسلوب اختیار کرتے ہیں، اور معانی کو فہم سے بہت دور لے جاتے ہیں، گویا وہ سوقِ عکاظ، ذی المجاز یا مربد میں کھڑے ہوں، یا عربی زبان و ادب کے بڑے نقادوں جیسے نابغہ ذبیانی یا اقرع بن حابس کے سامنے گفتگو کر رہے ہوں۔
اس کے نتیجے میں درج ذیل امور سامنے آئے:
ان کی دعوت عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد تک پہنچنے سے محروم ہو گئی، خصوصاً ان لوگوں تک جن کا علمی دائرہ صرف خواندگی تک محدود ہے۔
وہ بہت سے لوگوں کے دین اور دعوت سے دور ہونے کا سبب بنے؛ کیونکہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ متکلف اور پیچیدہ زبان بھی اسی دین کی رسومات میں سے ہے، اور اگر وہ دعوت دینا چاہیں تو انہیں بھی اسے سیکھنا ہوگا۔
وہ بعض لوگوں کے عربی زبان سے نفور اور اس کے سیکھنے سے دوری کا بھی سبب بنے؛ کیونکہ لوگوں نے گمان کیا کہ یہی اس زبان کی حقیقی نمائندگی ہے، لہٰذا وہ اس سے ہٹ کر دوسری زبانوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔
وہ اسلام کی اس آسان اور کشادہ روح سے دور ہو گئے جو قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ کی زبان میں نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔
انہوں نے دین کے دشمنوں اور تاک میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ہر داعی اور دیندار شخص کا مذاق اڑائیں، جیسا کہ ہم بہت سے ذرائع ابلاغ میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ زبان میں تکلف اختیار کرتے ہیں بلکہ کبھی ایسے الفاظ اور عبارات بھی بولتے ہیں جو اصل زبان کی حدود سے بھی باہر ہوتی ہیں، اس خیال سے کہ یہی دینداروں کی زبان ہے۔
ب: ایک دوسرا گروہ ایسا ہے جس نے دین میں آسانی پیدا کرنے اور لوگوں کے دل و دماغ تک جلد رسائی حاصل کرنے کے لیے نرمی اختیار کرنا چاہی؛ ان کی نیت تو اچھی تھی مگر طریقہ درست نہ تھا۔ انہوں نے زبان کے معاملے میں حد سے زیادہ نرمی برتی اور عامیانہ لہجوں اور بولیوں میں اس قدر ڈوب گئے کہ معاشرے کی پستی تک اتر آئے۔ بجائے اس کے کہ وہ معاشرے اور اس کی زبان کو بلند کرتے، وہ خود اسی سے متاثر ہو گئے اور اسے اسی حالت پر برقرار رکھا۔
چنانچہ ان میں سے کسی ایک کی زبان آپ کو یوں ملے گی کہ وہ عامیانہ زبان، بعض غیر ملکی الفاظ و اصطلاحات، کچھ فصیح عربی عبارات، اور بمشکل یاد کیے گئے قرآنی شواہد یا احادیث کا ایک مخلوط مجموعہ ہوتی ہے۔ اور اگر اس کی حالت کچھ بہتر ہو تو ایک آدھ شعر بھی یاد ہوتا ہے۔
حالانکہ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ان کے بہت سے مخاطبین، جن کی سطح تک وہ خود اتر آئے ہیں، ایک سے زیادہ غیر ملکی زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں، اور اگر انہیں اس جانب ترغیب دی جائے تو وہ عربی زبان بھی بخوبی سیکھ سکتے ہیں۔
یہاں تک پہنچنے کی ایک وجہ نیا معاملہ بھی ہے جسے نئے داعیوں کا رجحان کہا جاتا ہے۔
ممکن ہے کہ بعض لوگ ان داعیوں کے لیے یہ عذر تلاش کرنے کی کوشش کریں کہ وہ دینی یا لسانی اداروں سے فارغ التحصیل نہیں ہوئے، اس لیے زبان میں مہارت حاصل نہ کر سکے۔ لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ وہ دین کے اصول و مقاصد کو کیسے سمجھ سکتے ہیں جبکہ اس زبان ہی کو نہیں سمجھتے جس کے ذریعے دین ہم تک پہنچا؟! اور ہم ان داعیوں کی دعوت پر کیسے اعتماد کریں کہ وہ دین کو لوگوں تک صحیح طور پر پہنچا سکیں گے جبکہ وہ اس کی زبان پر عبور نہیں رکھتے؟ کیا انہیں یہ خوف نہیں کہ وہ لاعلمی میں دین میں تحریف، تبدیلی یا غلط فہمی کا سبب بن جائیں، اور یوں بہت سے لوگوں کی گمراہی کا ذریعہ بنیں؟
ہم انہیں یہ نہیں کہتے کہ وہ زبان کے بڑے ماہر اور امام بن جائیں، اور نہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ جو زبان پر کامل عبور نہیں رکھتا وہ دعوت دینا چھوڑ دے؛ کیونکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“میری طرف سے پہنچاؤ، اگرچہ ایک آیت ہی ہو” لیکن جو شخص عوام الناس میں عمومی دعوت کا بیڑا اٹھاتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ زبان کا اتنا علم ضرور حاصل کرے جس سے وہ دین کو سمجھ سکے اور اسے لوگوں تک بغیر کسی ابہام یا خلطِ مبحث کے صحیح طور پر پہنچا سکے۔
اس طرزِ عمل کے نتیجے میں درج ذیل امور سامنے آئے:
ان لوگوں نے اپنی دعوت کو صرف اپنی مقامی عامیانہ زبان بولنے والوں تک محدود کر دیا، اور اپنے دائرے سے باہر ایک بڑی تعداد کو اس سے محروم کر دیا؛ مثلاً جو شخص مصری عامیانہ زبان میں گفتگو کرتا ہے، اسے اہلِ مغرب اور خلیج کے عوام کے لیے سمجھنا مشکل ہوگا، اور جو خلیجی عامیانہ لہجے میں بات کرے، اسے غیر خلیجی افراد کے لیے سمجھنا دشوار ہوگا؛ بلکہ بسا اوقات ایک ہی ملک میں مختلف زبانیں اور لہجے پائے جاتے ہیں۔
انہیں بعض بڑے اہلِ علم، دانشوروں اور ادبی شخصیات کی طرف سے عدم قبولیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جنہیں یہ حد سے بڑھی ہوئی عامیانہ زبان پسند نہیں آتی۔
ان کی زبان بدہیئت اور غیر ہم آہنگ محسوس ہوتی ہے؛ چنانچہ جب یہ عامیانہ لہجے والا داعی کسی قرآنی آیت، حدیثِ نبوی یا کسی مأثور قول سے استشہاد کرتا ہے تو اس کے اپنے عامیانہ لہجے سے اس بلند و فصیح زبان کی طرف منتقلی میں کان ایک قسم کی بے سُری اور ناہمواری محسوس کرتا ہے۔
ممکن ہے ان پر دین کو ہلکا کرنے اور اس زبان کے معاملے میں کوتاہی کا الزام لگایا جائے جس میں دین نازل ہوا اور جس کے ذریعے ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے بہت سے نوجوانوں کو عربی زبان سے بے توجہی پر آمادہ کیا، اس عامیانہ زبان پر اکتفا کرتے ہوئے جو وہ اپنے داعیوں اور نمونہ شخصیات سے سنتے ہیں۔
انہوں نے غیر شعوری طور پر دعوت کے ایک نہایت اہم پہلو میں کوتاہی کی، اور وہ ہے قرآن کی زبان کے احترام، اس کی تقدیس، اور اس کے معیار کو بلند کرنے کی دعوت؛ کیونکہ زبان ایک دینی اور تہذیبی قدر ہے، جو دین کی ان بہت سی اقدار سے کم نہیں جن کی طرف یہ داعی حضرات لوگوں کو بلاتے ہیں۔
ج: ایک ایسا معتدل اور متوازن گروہ جو اپنی دعوت اور زبان دونوں میں وسطیت اختیار کرتا ہے؛ ان کی زبان آسان، شیریں اور رواں ہوتی ہے، جو کان تک پہنچ کر اسے لطف دیتی ہے، عقل تک پہنچ کر اسے متحرک کرتی ہے، اور دل تک پہنچ کر اسے نرم کر دیتی ہے۔ اسے پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں سمجھتے ہیں، جیسے اہلِ فکر اور خواص بھی اسے سمجھتے ہیں، اسی طرح عام لوگوں کے افراد بھی اور خوش حال طبقے کے لوگ بھی اسے بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔
آپ ان میں سے کسی ایک کو گھنٹوں گفتگو کرتے ہوئے سنیں تو نہ تھکن محسوس ہوتی ہے اور نہ اکتاہٹ؛ کیونکہ اس کی عبارت واضح، زبان صاف اور معانی سہل ہوتے ہیں۔ اس کی گفتگو میں اس کے اپنے الفاظ اور ان آثار و نصوص کے درمیان ایک خوب صورت ہم آہنگی پائی جاتی ہے جن سے وہ استشہاد کرتا ہے۔ اگر آپ اسے سنیں تو پوری توجہ سے سنتے ہیں، اور اگر اسے پڑھیں تو غور و فکر میں ڈوب جاتے ہیں؛ کیونکہ انسان حسنِ سلوک کا اسیر ہوتا ہے، اور اس نے آپ کے ساتھ یہ حسنِ سلوک کیا کہ اپنی عبارت سے آپ پر بوجھ نہیں ڈالا اور اپنے الفاظ سے آپ کو تھکایا نہیں۔ نیز آپ کے کان کو اس کی گفتگو میں کوئی بے سُری محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ آپ کو کوئی ناموزوں بات سناتا ہے۔
ان لوگوں کے نتائج اور ثمرات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ ممکن نہیں؛ کیونکہ اس سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جس کے گرد دل جمع ہو جائیں، کان اس کی بات سننے کو بے تاب ہوں، اور عقلیں اس کے لیے کھل جائیں۔ اس نے لوگوں کے دلوں میں اللہ کے دین کی محبت پیدا کی، پس لوگوں نے اسے محبوب جانا؛ وہ جمع کرتا ہے، تفریق نہیں کرتا؛ تعمیر کرتا ہے، تخریب نہیں کرتا؛ بشارت دیتا ہے، نفرت نہیں پھیلاتا۔
اس نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو خوب سمجھ لیا ہے:
(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تُند خواور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے، ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ [آل عمران: 159]؛
چنانچہ اس کا دل نرم ہوا تو اس کی عبارت بھی بغیر کسی کمزوری کے نرم ہو گئی، اور اس کی طبیعت میں نرمی آئی تو اس کی گفتگو میں سختی باقی نہ رہی۔
زبان کا التزام، داعی کا کام:
جب داعیوں پر اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت، اسلام کے اخلاق، آداب اور اقدار کو مضبوطی سے تھامنے کا فرض عائد ہوتا ہے، تو انہیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس زبان کے بارے میں بھی ان پر ایک بڑا فرض ہے جس میں یہ دین نازل ہوا اور جس کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ ذمہ داریاں درج ذیل صورتوں میں سامنے آتی ہیں:
داعی سب سے پہلے خود زبان کی فضیلت، دین میں اس کے مقام، اور امت کی نشاۃِ ثانیہ و ترقی میں اس کے کردار پر یقین رکھے؛ کیونکہ اس کا یہ یقین اس کے رویّے اور طرزِ عمل میں ظاہر ہوگا۔
لوگوں کے اندر عربی زبان پر اعتماد کو مضبوط کیا جائے، اس حیثیت سے کہ یہ امت کے بنیادی اجزاء میں سے ایک ہے، اور اس پر فخر کیا جائے تاکہ امت کی شناخت محفوظ رہے، اور قرآنی عربی زبان میں کوتاہی کو شناخت میں کوتاہی سمجھا جائے۔
داعیوں کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کی گفتگو فصیح، آسان اور واضح زبان میں ہو۔
داعی اپنی علمی و ثقافتی تربیت میں زبان کا اتنا علم ضرور حاصل کرے کہ وہ اس میں معانی کو بگاڑے بغیر گفتگو کر سکے۔
داعی حضرات اپنی گفتگو میں غیر ملکی اصطلاحات داخل کرنے سے اجتناب کریں، سوائے اس کے کہ کوئی حقیقی ضرورت پیش آ جائے۔
عامیانہ لہجوں کا سہارا صرف انتہائی محدود حالات میں لیا جائے، مثلاً اگر داعی کسی عام شخص کی بات یا واقعہ اسی کے اصل الفاظ میں نقل کرنا چاہے۔
داعی کو چاہیے کہ عربی زبان، اس کے مقام، امت کی ترقی میں اس کے کردار، اور اس کے سیکھنے کی فضیلت کے بارے میں الگ سے دروس اور ملاقاتیں منعقد کرے۔
داعی اپنی مجالس میں لوگوں کو فصیح زبان میں گفتگو کی مشق بھی کروائے، اس طرح کہ ان کے ساتھ مکالمہ فصحیٰ میں ہو، مگر بغیر کسی مشقت یا شرمندگی کے۔
بعض ائمہ اپنی مساجد میں ایک ہفتہ عربی زبان کے نام مختص کریں، جس میں پورے ہفتے کی گفتگو فصیح زبان میں ہو، حتیٰ کہ روزمرہ زندگی کے مکالمات بھی، تاکہ لوگ اس زبان سے مانوس ہو جائیں۔
شرعی جامعات اور داعیوں کی تربیت کے اداروں کو عربی زبان اور طلبہ کی فصیح گفتگو پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، اور یہ توجہ صرف قواعد اور متون تک محدود نہ ہو بلکہ عملی مشق اور اطلاقی انداز میں ہو، جیسا کہ آج بہت سے اداروں میں اس کی کمی ہے۔
مغربی ممالک میں موجود داعیوں کو چاہیے کہ غیر عربی بولنے والوں کو زبان سکھانے کے لیے تربیتی کورسز منعقد کریں، آسان کتابچے شائع کریں، اور ان کے دلوں میں اس زبان کی محبت پیدا کریں۔
وزارتِ اوقاف اور سرکاری دعوتی اداروں کو ائمہ اور داعیوں کے لیے زبان اور اس کی مختلف شاخوں میں تربیتی کورسز منعقد کرنے چاہییں تاکہ وہ اس میں بہتر انداز سے گفتگو کر سکیں۔
سائنسی اور تخصصی کالجوں کے نوجوانوں کو ترغیب دی جائے کہ عربی زبان اور ثقافت سے متعلق مضامین کو اختیاری کورسز کے طور پر اختیار کریں، اگر یہ ممکن ہو۔
دکانداروں اور تجارتی مراکز کے مالکان کے لیے آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ وہ اپنی دکانوں کے نام اور عنوانات میں عربی زبان استعمال کریں، غیر ملکی ناموں کے بجائے۔
طلبہ کو ترغیب دی جائے کہ وہ گرمیوں کی تعطیلات سے فائدہ اٹھا کر عربی خطاطی اور املا کے قواعد میں مہارت حاصل کریں، تاکہ خوبصورت خط اور درست زبان دونوں جمع ہو جائیں۔
بچوں کے نام عصرِ حاضر کے مناسب عربی ناموں پر رکھے جائیں؛ نہ حد سے زیادہ مشکل فصیح، نہ ضرورت سے زیادہ عامیانہ، اور نہ ہی درآمد شدہ غیر ملکی۔
اور آخر میں، ہماری جیسی خوبصورت اور زندہ زبان پر ہمیں اقوام کے درمیان فخر کرنا چاہیے، اور اس کے اہل کو اس پر ناز ہونا چاہیے، اور اس کے موتیوں کو تلاش کر کے انہیں خالص، پاکیزہ اور روشن صورت میں سامنے لانا چاہیے؛ جیسے زبانوں کے گلشن میں ایک خوشبودار پھول نگاہوں کو بھلا لگتا ہے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسا قیمتی خزانہ موجود ہو، پھر بھی ہم اسے چھوڑ دیں، اس سے دور بھاگیں، بلکہ بعض لوگ اس کی نسبت اختیار کرنے میں بھی جھجک محسوس کریں! یہاں تک کہ ہماری اپنی زبان، جو ہماری ترقی کا راز ہے، ہمارے نزدیک بے وقعت ہو گئی، اور ہم خود بھی اپنی نظروں میں گر گئے، چنانچہ ہم لوگوں کے سامنے بھی کم تر ہو گئے اور اقوام کی صف میں آخر میں جا کھڑے ہوئے۔
تو کیا داعی حضرات اس عظیم المیے کی سنگینی کو محسوس کریں گے، اور اپنی اس شفیق ماں کے حق میں اپنا فرض ادا کریں گے جو ان سے بہت کچھ امید لگائے بیٹھی ہے؟
مترجم: زعیم الرحمان