سوال: میں نے اپنے والد کو نظر انداز کیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے… کیا کوئی نصیحت ہے جو میرے دل کو سکون دے؟
میں چالیس سال کا آدمی ہوں، دو چھوٹی بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں۔ میں ایک درميانے حالات والے گھر میں پروان چڑھا۔ میرے والد نے ہماری تعلیم اور زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت محنت کی۔ انہوں نے مجھے محبت، شفقت اور لاڈ پیار بلكہ اس سے بھی زیادہ دیا جس کا میں حق دار تھا، مگر میری توجہ ہمیشہ کہیں اور رہی۔ میرا زیادہ تر وقت دوستوں کے ساتھ گزرتا تھا، اور میری زندگی گویا دوستوں، پڑھائی اور نیند کے درمیان تقسیم تھی۔ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ جب میں باہر جانے لگتا تو میرے والدین مجھے آواز دیتے کہ کچھ وقت ان کے ساتھ بھی گزاروں، کم از کم اتنا ہی جتنا میں اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتا ہوں۔ کبھی میں جھنجھلا کر جواب دیتا اور چلا جاتا، اور کبھی یہ بہانہ بنا دیتا کہ میرے دوست میرا انتظار کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے حقیقی ضرورت کے وقت جیسے بیماری یا دیگر کاموں میں بھی میں ان کے کام نہ آ سکا۔
زندگی اسی ڈگر پر چلتی رہی، یہاں تک کہ ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔ میری چھوٹی بہن کی آواز آئی: “بھائی، ابو کا انتقال ہو گیا ہے… فوراً آؤ۔” واقعی میرے والد دنیا سے رخصت ہو چکے تھے!
میں یہ سب اس لیے نہیں لکھ رہا کہ آپ مجھے تسلی دیں، کیونکہ میرا غم اتنا بڑا ہے کہ اس پر کوئی تسلی کارگر نہیں۔ بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنے قارئین کو یہ پیغام دیں کہ وہ اپنے والدین کی قدر کریں اور ان سے مضبوط تعلق رکھیں۔ اور مجھے یہ بھی بتائیں کہ میں کس طرح اپنے والد کے حق میں اپنی کوتاہی کا کچھ ازالہ کر سکتا ہوں۔ اب میں اپنی والدہ کے قدموں میں بیٹھنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ اپنی سابقہ بے رخی کا کچھ مداوا کر سکوں۔ کیا کوئی ایسی نصیحت ہے جو میرے دل کو سکون دے اور مجھے ان کے حقوق ادا کرنے میں مدد دے؟
جواب
جان لو کہ کسی نعمت کے چھن جانے کے بعد انسان کو کس قدر حسرت اور درد محسوس ہوتا ہے۔ مگر نعمتوں کی فطرت ہی زوال ہے، اور کبھی ان کی ناشکری بھی ان کے چھن جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ جیسا کہ مشہور قول ہے: “شکر نعمت کو باقی رکھتا ہے”، اور ابن عطاء اللہ اسکندری نے فرمایا: “جو نعمت کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اس کے زوال کو دعوت دیتا ہے”۔ اس میں بندے کے لیے ایک لطیف حکمت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس غفلت سے نکالتا ہے جس میں وہ پڑا ہوتا ہے، تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکے۔ ہر نعمت کا شکر یہ ہے کہ اس میں اللہ کے حق کو پہچانا جائے اور اس کے احکام کی رعایت کی جائے۔
اس لیے تمہیں تین باتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے: اوّل یہ کہ معاملہ اس کے برعکس نہیں ہوا، یعنی تم خود دنیا سے رخصت نہیں ہوئے، کیونکہ اس صورت میں ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ ہم ہر صبح یہ دعا اسی لیے پڑھتے ہیں: “الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا والیہ النشور” يعنى اللہ كا حمد ہے جس نے ہمیں مرنے كے بعد پهر سے زنده كيا اور پهر ہمیں اسكى طرف لوٹنا ہے۔ ابھی تمہارے پاس وقت ہے اور تمہارا نامۂ اعمال کھلا ہوا ہے۔ جس میں تم (نیک اعمال) لکھ سکتے ہو۔
دوم یہ کہ اللہ نے تمہاری والدہ کو زندہ رکھا۔ اللہ انہیں عمرِ دراز عطا فرمائے تاکہ تم ان کے ساتھ حسنِ سلوک کر کے وہ کمی پوری کر سکو جو تم سے اپنے والد کے ساتھ رہ گئی۔ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو آپؐ نے پوچھا: “کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟” انہوں نے عرض کیا: “جی ہاں۔” تو آپؐ نے فرمایا: “اس کے قدموں سے وابستہ رہو، جنت وہیں ہے۔”
سوم یہ کہ تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تمہارے والد کی وفات کو تمہارے لیے نصیحت، عبرت اور رجوع (توبہ) کا ذریعہ بنا دیا۔ کیونکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر اس طرح کے واقعات گزرتے ہیں، مگر وہ نہ کوئی سبق لیتے ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کا محاسبہ کرتے ہیں اور نہ والدین کے ساتھ اپنے رویّے پر غور کرتے ہیں، بلکہ بعض تو اسے اپنے اوپر سے ایک بوجھ ہٹ جانے کے طور پر سمجھتے ہیں۔
اور وہ خوشخبری جس پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے یہ بھی ہے کہ تم اب بھی اپنے والد کے ساتھ نیکی کر سکتے ہو۔ تم نے اپنی والدہ کی خدمت کر کے اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اسی طرح اپنے بہن بھائیوں، والد کے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے لیے دعا و استغفار کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی میں شامل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: “کیا والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا کوئی طریقہ ہے؟” آپؐ نے فرمایا: “ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے وعدوں کو پورا کرنا، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا جو ان کے ذریعے جڑے تھے۔”
چونکہ تم نے اپنے خط کے ذریعے دوسروں کو بھی متنبہ کرنا چاہا ہے — اور یہ تم نے بہت اچھا کیا — اس لیے ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ اصل معاملہ زندگی میں توازن قائم کرنے کا ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب دوست بعض لوگوں کی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، خاص طور پر نوجوانی اور تعلیمی دور میں۔ لیکن اگر ہم بچپن ہی سے اس بات کی تربیت حاصل کریں کہ ہر مرحلے میں ہماری مختلف ذمہ داریاں اور دائرے ہوتے ہیں جن سب کا خیال رکھنا ضروری ہے، تو ہم زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکتے ہیں۔ اس کو مثال کے طور پر “زندگی کے پہیے” سے تشبیہ دی جاتی ہے، جس کے تمام پرزے (حصے) برابر یا قریب قریب برابر ہوں تو ہی وہ صحیح طرح چل سکتا ہے۔ لہٰذا کسی ایک پہلو کو دوسرے پر ترجیح نہ دو۔ اسی بات کی طرف حضرت سلمانؓ کے اس قول میں اشارہ ہے، جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تصدیق فرمائی، جب انہوں نے حضرت ابو الدرداءؓ سے کہا: “بے شک تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے، اور تمہارے اہل و عیال کا بھی تم پر حق ہے، لہٰذا ہر حق دار کو اس کا حق دو۔” یہ ایک ایسا اصول ہے جس پر ہمیں خود بھی عمل کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کی بھی بچپن سے تربیت کرنی چاہیے۔ اور یہی بات سوال کرنے والے کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس کا خیال رکھے، تاکہ وہ اپنی والدہ کی خدمت کرتے ہوئے کہیں ایسا نہ کرے کہ باقی حق داروں کے حقوق میں کوتاہی ہو جائے۔
ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک (بِرّ) ایک ایسی قدر ہے جس پر نفس کو عادت ڈالنی پڑتی ہے، یہ فطری طور پر خود بخود حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اولاد سے محبت کرنا اور ان کی پرورش کرنا ایک ربّانی فطرت ہے۔ لیکن والدین کے ساتھ نیکی کرنے کے لیے کوشش، یاد دہانی، احسان شناسی اور ان کے فضل کو پہچاننا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے مسلمانوں کو بار بار والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین کی ہے اور قرآن و حدیث میں اس کی فضیلت کو کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔ اسلام میں اس کی اہمیت اس قدر ہے کہ اسے اکثر شرک کی ممانعت کے فوراً بعد ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “اور اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔” یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوتی، چاہے وہ نیکی ہو یا بدسلوکی۔ جو شخص نیکی بوئے گا وہ نیکی ہی کاٹے گا، اور جو اپنے والدین کے ساتھ سختی اور بے رخی کرے گا، وہی رویہ اسے اپنی اولاد سے ملے گا۔
لہٰذا ہمیں ہمیشہ اپنی دعا میں یہ مانگنا چاہیے کہ اللہ ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کی اچھی صحبت، ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جوانی میں بھی اور بڑھاپے میں ان کی کمزوری پر نرمی کرنے کی بھی توفیق دے، تاکہ ہم اس بشارت کے مستحق بن سکیں جس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا جب آپؐ نے خواب میں جنت میں قرآن کی تلاوت کی آواز سنی، اور معلوم ہوا کہ یہ صحابی حارثہ بن نعمانؓ کی آواز ہے جو اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کے لیے مشہور تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ایسا ہی ہوتا ہے نیکی کا بدلہ، ایسا ہی ہوتا ہے نیکی کا بدلہ۔”
مترجم: ڈاکٹر سیّار احمد نجار