رحم دلی اور محبت: انسانیت کو بچانے کے لیے ربانی اقدار
الرحمن، اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس صفت سے متصف ہے تاکہ وہ اپنے بندوں پر وسیع رحمت فرمائے۔ یہی وہ عظیم صفت ہے جسے اللہ نے انسانوں اور دیگر مخلوقات کی فطرت میں رکھا ہے تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کریں، اور ان کے درمیان محبت، شفقت اور الفت عام ہو، نیز معاشرہ ایک مضبوط وحدت بن جائے اور تمام فرق و امتیازات مٹ جائیں۔
امام ابن تیمیہؒ نے مجموع الفتاویٰ میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بے شک اللہ عزوجل کی سو رحمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک رحمت اس نے انسانوں، جنات، جانوروں اور درندوں کے درمیان نازل فرمائی ہے، اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے محفوظ رکھی ہیں۔
شیخ محمد الغزالیؒ فرماتے ہیں: "رحمت محض وقتی ترس یا عارضی ہمدردی کا نام نہیں، بلکہ یہ دائمی نرمی، عمدہ اخلاق اور پاکیزہ کردار کا سرچشمہ ہے۔”
اسلام اور باہمی رحمت و ہمدردی:
اسلام اس بات کی خصوصیت رکھتا ہے کہ وہ زندگی کے تمام پہلوؤں پر مشتمل ایک مکمل دین ہے، اور ایک ایسے اعلیٰ و باوقار معاشرے کی تعمیر کا مقصد رکھتا ہے جو اپنے افراد میں بچپن ہی سے بلند اخلاق اور نیک نمونہ پیدا کرے۔
پس اللہ کی رحمت ہی کے سبب آپ ان کے لیے نرم دل ہیں، اور اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔ [آل عمران: 159]
اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ [الأنبیاء: 107]
اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ [الروم: 21]
اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے رحمت کو سو حصوں میں تقسیم فرمایا، ننانوے حصے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین میں اتارا، اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی اپنے بچے کو لگنے کے خوف سے اپنا سُم اٹھا لیتی ہے۔ [مسلم]
ہماری معاشرت سے غائب ہوتی ہوئی رحمت و محبت:
جب اسلام آیا تو اس نے ایسے دل پائے جو سخت تھے، رحمت اور محبت کا مفہوم نہیں جانتے تھے، چنانچہ اسلام نے ان دلوں کو نرم کیا۔ یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہی تھے جو زمانۂ جاہلیت میں نہایت سخت مزاج تھے، یہاں تک کہ اپنی بیٹی کو زندہ دفن کر دیا تھا، لیکن جب اسلام کی روشنی نصیب ہوئی تو وہ لوگوں میں سب سے زیادہ رحم دل اور نرم قلب بن گئے۔
زندگی اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک لوگوں کے درمیان رحمت عام نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ [بخاری]
ہم ایسے دلوں والے بن گئے ہیں جو سخت ہو چکے ہیں۔ شاید اس کی وجہ مادّی زندگی میں حد سے زیادہ غرق ہو جانا، روحانیت اور فطرت سے دوری، یا صرف ظاہری دینداری ہے، حقیقی دینداری نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے، پس وہ پتھروں کی مانند بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ [سورۃ البقرہ: 74]
ان اقدار کو زندہ کرنے میں گھر کا کردار:
گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سے ہر انسان اپنے اخلاق اور صفات حاصل کرتا ہے۔ وہ گھر جہاں افراد کے درمیان محبت اور رحمت ہوتی ہے، وہاں سے ایسے افراد پروان چڑھتے ہیں جو رحم و کرم کی قدر کرتے ہیں۔
اسی لیے گھروں اور اسکولوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دلوں میں اقدار کو نظری اور عملی دونوں طریقوں سے راسخ کریں، تاکہ بچے اخلاق اور اچھے رویّے کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔
عملی طریقے:
- بچے اور ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کرنا، لیکن اعتدال کے ساتھ۔
- سڑک پر کسی بزرگ یا بیمار کی مدد کرنا تاکہ بچہ ان اعمال کی پیروی کرے۔
- جانوروں پر رحم کرنا اور بچوں کو سکھانا کہ غریبوں سے نرمی سے بات کریں۔
- بچوں کو سکھانا کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ محبت اور نرمی سے پیش آئیں۔
- تربیتی نشستوں کا اہتمام کرنا جن میں قرآن و سنت کی تعلیمات بیان کی جائیں۔
- بچوں کو رشتہ داروں کی زیارت کے لیے ساتھ لے جانا اور ضرورت مندوں کی مدد سکھانا۔
معاشروں پر باہمی رحم دلی کے فقدان کے اثرات:
جب صحیح عقیدہ زندگی سے دور ہوگیا تو رحم دلی بھی ختم ہوتی گئی اور لوگوں کے درمیان مادّہ پرستی عام ہوگئی۔ مصری صحافی مصطفیٰ عاشور کہتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ تیز رفتار طرزِ زندگی، مقابلے پر مبنی معیشت، اور خوشی کو صرف استعمال اور لذت سے جوڑ دینے نے انسان کو انتہائی خود غرض بنا دیا ہے۔ جدید زندگی میں رحم دلی کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ مسکراہٹیں اور ہمدردی کے جذبات بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔
آخر میں:
کوئی قوم جدید علم اور ترقی کے ذریعے آگے تو بڑھ سکتی ہے، لیکن اگر اس کے معاملات سے انسانی اقدار، خصوصاً رحم و محبت جیسی صفات ختم ہوجائیں تو وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ یہی رحم دلی دلوں کو جوڑتی ہے، طاقتور کو کمزور کا احساس دلاتی ہے، مالدار کو غریب کا درد سمجھاتی ہے اور صحت مند کو بیمار کی فکر سکھاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال دی ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ [بخاری]
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم معاشرے میں رحم، محبت اور ہمدردی کو فروغ دیں، تاکہ غریب اپنی انسانیت محسوس کرے، کمزور کو سہارا ملے، بیمار کو تسلی دینے والا ہو، اور محتاج کو کھانا کھلانے والا ملے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار