میری ماں میری شادی سے انکار کرتی ہے تاکہ میں اُس سے دور نہ ہو جاؤں… میں کیا کروں؟
سوال:
میرا مسئلہ مختصراً یہ ہے کہ میری عزیز اور نہایت محبت کرنے والی والدہ مجھ سے اس قدر محبت کرتی ہیں کہ کبھی کبھی میں اس محبت سے تنگ آ جاتا ہوں؛ کیونکہ یہ محبت معمول کی محبت نہیں بلکہ حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے۔
میری پیاری والدہ مجھے ہوا سے بھی بچاتی ہیں کہ کہیں وہ میرے رخسار کو نہ چھیل دے، ٹھنڈے پانی سے بھی روکتی ہیں کہ کہیں میرے گلے کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ یہاں تک کہ وہ میری شادی کے معاملے میں بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتیں۔ آخرکار مجھے معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے شدید وابستگی کی وجہ سے نہیں چاہتیں کہ میری شادی ہو، تاکہ وہ خاتون جس سے اللہ نے میرا نصیب لکھا ہے، مجھے ان سے دور نہ لے جائے۔ میں ایک اچھی ملازمت پر فائز ہوں، میری آمدنی بھی مناسب ہے، میرے اردگرد دوست سب شادی شدہ ہیں، اور فتنوں نے ہر طرف سے مجھے گھیر رکھا ہے۔ اب میں کیا کروں؟ کیا انہی کے پاس رہوں یہاں تک کہ عمر گزر جائے، یا پھر ان کی رضامندی کے بغیر شادی کرلوں؟
جواب:
آپ کے خط کے آغاز میں جب آپ نے اپنی والدہ کی محبت، شفقت اور فکر کا ذکر کیا تو ہمیں اس میں ایک خاص گرمی، محبت اور خوشی محسوس ہوئی۔ یہ یقیناً اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، کیونکہ دنیا میں ماں کی محبت کا کوئی بدل نہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے آپ اللہ کا شکر ادا کریں۔ البتہ آپ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محبت اب ایک ایسی حد تک پہنچ گئی ہے جسے نہ سراہا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان بالکل واضح ہے:
"اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرمگاہ کی بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔”
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
"لیکن میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔”
کوئی بھی صاحبِ علم آپ کو والدہ کی خدمت کے نام پر شادی ترک کرنے کا مشورہ نہیں دے گا، کیونکہ یہ دین میں ایسی چیز داخل کرنا ہوگا جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔”
پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر شادی میں تاخیر کی وجہ سے آپ گناہوں اور فتنوں میں مبتلا ہو جائیں تو کیا آپ کی والدہ قیامت کے دن آپ کے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گی؟ لہٰذا جس گناہ کا بوجھ اللہ کے سامنے تمہیں اکیلے اٹھانا ہوگا، اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا بھی تمہاری اپنی ذمہ داری ہے۔
آپ کی والدہ کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر آپ کی شادی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ بہتر یہ ہوگا کہ یہ بات آپ کے والد یا کسی بھائی کے ذریعے ان تک پہنچائی جائے، نہ کہ آپ خود براہِ راست کہیں۔
انہیں اس بات کا بھی اطمینان دلانا ضروری ہے کہ شادی کے بعد بھی آپ ان کی محبت، خدمت اور احترام میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے، اور مرد پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کا ہے۔”
سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اور تم اپنے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دیا کرو۔”
آپ کو چاہیے کہ ایسی نیک، دیندار اور خوش اخلاق لڑکی کا انتخاب کریں جو آپ کو والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور خدمت میں معاون ثابت ہو۔ لیکن ساتھ ہی احتیاط بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی والدہ کی شدید جذباتی وابستگی کو اپنی ذاتی فیصلے کرنے کی صلاحیت پر حاوی نہیں ہونے دیں گے، تاکہ آپ اپنے گھر، بیوی کے حقوق اور والدہ کے حقوق کے درمیان متوازن انداز میں ذمہ داریاں نبھا سکیں۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار