سائبر بلیک میلنگ اور لڑکیوں کی حفاظت
شرعی اور تربیتی لائحہ عمل
عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا نے سماجی اور جغرافیائی رکاوٹوں کو توڑ دیا ہے، گھروں کے کمروں اور لوگوں کی ذاتی زندگی کے لمحوں تک رسائی حاصل کر لی ہے، اور حالیہ عرصے میں لڑکیوں کے خلاف سائبر بلیک میلنگ کے پھیلاؤ کا ایک سبب بھی بنا ہے۔ یہ سائبر جرائم کی اُن اقسام میں سے ہے جو خاندانوں کے لیے سب سے زیادہ پریشانی اور اذیت کا باعث بنتی ہیں۔ ایسے جرائم کمزور ایمان رکھنے والے اور پست فطرت افراد انجام دیتے ہیں، جن کے اردگرد تربیتی ماحول کا فقدان ہوتا ہے، یا جن کی تربیت میں والدین کی کوتاہی شامل ہوتی ہے، یا پھر وہ شیطان کے جال میں پھنس چکے ہوتے ہیں۔
بلیک میل کرنے والا شخص مادی یا معنوی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ رازوں اور معلومات کو افشا کرنے یا تصاویر نشر کرنے کی دھمکی دیتا ہے، جن میں سے اکثر وہ متاثرہ فرد کے سوشل میڈیا صفحے تک رسائی حاصل کرنے کے بعد جعل سازی کے ذریعے تیار کرتا ہے، پھر اُسے مزید گفتگوؤں اور تصاویر حاصل کرنے کے لیے فریب اور چالاکی سے اپنے جال میں پھنساتا ہے۔ بعض اوقات یہ جرم اس قدر سنگین نتائج پیدا کرتا ہے کہ متاثرہ شخص خودکشی تک پر مجبور ہو جاتا ہے اور ایک پورا خاندان تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
سائبر دھونس کیا ہے؟
الیکٹرانک بلیک میلنگ یا سائبر دھونس ایک ایسا سائبر جرم ہے جس میں کوئی شخص متاثرہ فرد کی نجی الیکٹرانک فائلیں اپنے پاس رکھتا ہے، اس نیت سے کہ اس کے بدلے میں مالی فائدہ حاصل کرے یا اس سے کوئی مخصوص مطالبہ منوائے، خواہ وہ مطالبہ اخلاقی امور سے متعلق ہو یا غیر اخلاقی امور سے۔ یہ ان نئے جرائم میں سے ہے جو معلوماتی ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی اور سوشل میڈیا کے استعمال کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں یہ جرم دراصل ایسی باتوں کے افشا کرنے کی دھمکی دینے کا نام ہے جو کسی فرد کی ذاتی اور نہایت نجی زندگی سے تعلق رکھتی ہوں اور اکثر اوقات اس کی عزت و آبرو کو متاثر کرتی ہوں۔ فقہاء کی لغت کی معجم میں آیا ہے کہ: "ابتزاز” کسی چیز کو اس کے مالک کی رضامندی کے بغیر سختی اور جبر کے ساتھ لے لینے کو کہتے ہیں۔
اسباب:
موجودہ دور میں، جب تربیتی نظام میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں، مؤثر اصول اور لوگوں کو جرم سے باز رکھنے والے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا، اور مربیوں، داعیوں اور مصلحین کا کردار کمزور پڑ جاتا ہے، تو لڑکیوں کے خلاف الیکٹرانک بلیک میلنگ کا رجحان پھیل جاتا ہے۔ اس مظہر کے اہم اسباب درج ذیل ہیں:
- تربیتی و اخلاقی بنیادوں کا فقدان، جس کے نتیجے میں افراد کے اندر ایسا داخلی یا خارجی نگران موجود نہیں ہوتا جو ان کی اصلاح کرے اور انہیں درست راستے کی طرف رہنمائی دے۔
- والدین کی نگرانی کا نہ ہونا، اور اولاد خصوصاً بیٹیوں یا بیٹوں کو حد سے زیادہ آزادی دینا۔
- گھر کے اندر لڑکی کو درپیش نفسیاتی دباؤ، اور خاندان کے افراد کے درمیان محبت، شفقت اور مکالمے کا فقدان۔
- فراغت، نوجوانوں کے سامنے واضح مقاصد کا نہ ہونا، اور مثبت سرگرمیوں کی کمی۔
- روحانی یا جذباتی خلا، بری صحبت، اور لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان بے جا اختلاط۔
- جدید ٹیکنالوجی کے درست اور غلط استعمال کے بارے میں آگاہی کی کمی۔
- نوجوانوں میں اندھی تقلید کا شوق اور نتائج و عواقب کا ادراک نہ ہونا۔
- مال حاصل کرنے کی خواہش اور غربت و مالی تنگی۔
- خاندانی تعلقات کی تباہی کے لیے کسی لڑکی پر دباؤ ڈالنا اور سوشل میڈیا پر رسوا کرنے کی دھمکی دینا۔
دھونس و بلیک میلنگ ہوتی کیسے ہے؟
شبہات کا دائرہ سب سے پہلے عموماً قریبی رشتہ داروں کے گرد گھومتا ہے، کیونکہ وہ خاندان یا اس کی لڑکیوں کی کمزوریوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی کے وسیع پھیلاؤ اور جدید تکنیکوں کی ترقی کے باعث، بلیک میل کرنے والا شخص کسی فرد کے ذاتی مواد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے اسے دھمکا سکتا ہے، خصوصاً نوعمر لڑکیوں کو۔
مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرانک بلیک میلنگ کا شکار ہونے میں بعض اوقات خود متاثرہ فرد کی ذمہ داری تقریباً 80 فیصد تک ہوتی ہے، اور بعض صورتوں میں یہ بلیک میلنگ محض فرضی یا وہمی بھی ثابت ہوتی ہے۔ یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ اپنی تصاویر یا ویڈیوز دوسروں کے ساتھ شیئر کرتی ہے، یا معلوماتی رازداری کے تحفظ کا درست طریقہ اختیار نہیں کرتی، اور دوسروں کو اپنے موبائل فون، ای میل یا ذاتی کمپیوٹر تک رسائی کا موقع دے دیتی ہے۔
اس صورت میں یہ ضروری نہیں کہ بلیک میل کرنے والا ہیکنگ کا ماہر ہو، کیونکہ ممکن ہے اسے یہ فائلیں کسی گم شدہ موبائل فون یا اسٹوریج ڈیوائس سے مل جائیں، یا خود متاثرہ فرد کسی مقصد کے تحت تصاویر اور ویڈیوز اسے بھیج دے، جسے بعد میں وہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرے۔
اسلام اور دھونس و بلیک میلنگ:
اسلام نے ایسے مضبوط اور جامع احکام دیے ہیں جو فرد، خاندان اور معاشرے کو ہر قسم کی بلیک میلنگ سے محفوظ رکھتے ہیں، اور ان جرائم پر سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔ اسی طرح شریعتِ اسلامیہ نے ان پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے: دین، جان، عزت، عقل اور مال۔
لہٰذا لڑکیوں اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف الیکٹرانک بلیک میلنگ کے بارے میں اسلام کا موقف نہایت واضح اور سخت ہے، کیونکہ یہ دوسروں پر تعدی اور ظلم کی ایک صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ}، ترجمہ: "مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” [البقرة: 190]
بلکہ اسلام نے اسے فحاشی پھیلانے کی خواہش قرار دیا ہے:
{إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ}، ترجمہ: "جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں” [النور: 19]
وابوداؤد نے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے۔”
اسلام نے صرف مجرموں کی سرکوبی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان تمام راستوں کو بھی بند کرنے کی کوشش کی جو فحاشی اور بلیک میلنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔ چنانچہ اس نے حجاب کا حکم دیا، شہوت کی نظر سے دیکھنے کو حرام قرار دیا، بے جا اختلاط سے منع کیا، اور اجنبی مردوں کے سامنے عورتوں کی زینت کی نمائش کو ممنوع ٹھہرایا۔
تربیت کے ذریعے روک تھام:
الیکٹرانک بلیک میلنگ کے رجحان کا تربیتی لحاظ سے علاج بہت سے شعبوں میں محنت اور مربوط حکمتِ عملی کا متقاضی ہے:
- اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنا، تقویٰ اور اللہ کی نگرانی کا شعور پیدا کرنا۔
- گھر کے اندر محبت، شفقت اور اپنائیت کا ماحول فراہم کرنا، خصوصاً لڑکیوں کے ساتھ۔
- بچوں کو اعتماد دینا تاکہ وہ خطرناک صورتِ حال میں والدین سے بلا جھجک بات کریں۔
- مختلف ذرائع ابلاغ، اسکولوں اور جامعات میں آگاہی کے پروگرام کا انعقاد۔
- نوجوانوں کے لیے سماجی مراکز کا قیام تاکہ ان کی توانائیوں کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکے۔
- خاندان کے افراد کی تصاویر، خصوصاً خواتین کی تصاویر، سوشل میڈیا پر شیئر کرنے میں سخت احتیاط۔
- متاثرہ لڑکیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلیک میلر کی بات نہ مانیں اور فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔
- موبائل فون بیچنے سے پہلے تمام حساس ڈیٹا اور تصاویر کو محفوظ طریقے سے حذف کرنا۔
- نامعلوم افراد کو ذاتی تصاویر ہرگز نہ بھیجنا۔
- انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے اصول اپنانا اور نامعلوم لنکس کو بغیر جانچ پڑتال کے نہ کھولنا۔
یہ بات واضح ہے کہ بلیک میلنگ ایک نہایت خطرناک سماجی و اخلاقی مسئلہ ہے جس نے حالیہ برسوں میں بہت سے افراد، خصوصاً لڑکیوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے سدباب کے لیے پورے معاشرے کی مشترکہ کوشش ضروری ہے، تاکہ آگاہی، تربیت اور احتیاط کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
مترجم: زعیم الرحمان