بلاشبہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج امتِ مسلمہ ایک نہایت کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔ یہ آزمائشوں سے بھرا زمانہ ہے، جس میں اسے اپنے دشمنوں کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ خود مسلمان بھی پے در پے آنے والے فتنوں کی تند و تیز آندھیوں میں گھرے ہوئے ہیں — وہی فتنے جن کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی — جو لوگوں کو دائیں بائیں سے اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم ان فتنوں کی حقیقت اور ان کی نوعیت کو سمجھیں، اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان سے نجات کا راستہ کیا ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہم قرآنِ کریم، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت و رہنمائی کو مشعلِ راہ بنائیں۔
فتن کا مفہوم اور قرآن و سنت میں اس کا ذکر
لسان العرب میں آیا ہے کہ فتن، فتنہ کی جمع ہے، اور اس کا اصل لغوی معنی آزمائش اور امتحان سے متعلق ہے۔ امام ازہریؒ فرماتے ہیں کہ فتنہ کا جامع مفہوم ابتلاء، امتحان اور آزمائش ہے۔ اس کی اصل اس قول سے ماخوذ ہے کہ “میں نے چاندی اور سونے کو آگ میں پگھلایا” تاکہ خالص اور کھوٹے میں تمیز ہو جائے۔
لفظ فتنہ مختلف معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً: مصیبت میں پڑ جانا، کفر، عذاب، آگ میں جلانا، قتل، اللہ کے راستے سے روکنا، گمراہی وغیرہ۔ قرآن کریم میں یہ لفظ انہی مختلف معانی میں وارد ہوا ہے۔ چنانچہ آزمائش اور امتحان کے معنی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟” [العنكبوت: 2]
قتل کے معنی میں فرمایا: “اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر تمہیں نقصان پہنچائیں گے…” [النساء: 101] حق سے ہٹا دینے کے معنی میں ارشاد ہے: “اور ان سے ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں اللہ کے نازل کردہ بعض احکام سے نہ پھیر دیں” [المائدة: 49] گمراہی کے معنی میں فرمایا: “اور جسے اللہ فتنے میں ڈالنا چاہے…” [المائدة: 41] حجت اور عذر کے معنی میں آیا: “پھر ان کے پاس اس کے سوا کوئی عذر نہ ہوگا کہ کہیں…” [الأنعام: 23] اور جنون کے معنی میں فرمایا: “تم میں سے کون دیوانہ ہے” [القلم: 6]
اسی طرح فتنہ شرک کے معنی میں بھی آیا ہے: “اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے” [البقرة: 191] اور کفر کے معنی میں: “پس جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی فتنہ نہ آ پڑے” [النور: 63)]
قرآن میں فتنہ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان کو نعمتوں اور جائز چیزوں کے ذریعے آزمایا جائے، جیسا کہ فرمایا: “اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔” [الأنفال: 28]
اسی طرح لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیت کو بھی فتنہ کہا گیا ہے: “وہ لوگوں کی ایذا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے۔” [العنكبوت: 10] اور آگ کے ذریعے عذاب دینے کے معنی میں فرمایا: “بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو ستایا يا آزمايا…” [البروج: 10] الغرض خیر اور شر دونوں انسان کے لیے آزمائش/امتحان ہیں: “ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں بھلائی اور برائی کے ذریعے آزماتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔” [الأنبياء: 35]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فتنوں سے ڈرایا اور ان سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی۔ حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ سے ظاہر اور پوشیدہ ہر قسم کے فتنوں سے پناہ مانگو” انہوں نے کہا: “ہم ظاہری اور پوشیدہ آزمائشوں اور فتنوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔” [مسلم]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں بھی فرماتے تھے: “اے اللہ! میں تجھ سے نیکی کے کام کرنے، برائیوں کو چھوڑنے، مسکینوں سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرمائے، اور میری توبہ قبول کرے، اور اگر تو اپنے بندوں کو کسی فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے اس سے محفوظ رکھتے ہوئے اپنے پاس بلا لے” [ترمذی]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں آنے والے فتنوں، اختلافات اور انتشار کی خبر بھی دی، جن میں بڑے بڑے سمجھدار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “عنقریب فتنوں کا زمانہ آئے گا، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا… اور جو شخص اس کی طرف متوجہ ہوگا، وہ اسے اپنی لپیٹ میں لے لے گا، پس جو کوئی پناہ کی جگہ پائے، وہ اس میں پناہ لے لے۔” [بخاری]
مقداد بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “خوش نصیب ہے وہ شخص جو فتنوں سے بچا لیا گیا (تين بار فرمايا)، اور اگر وہ آزمائش میں پڑے تو صبر کرے۔” [ابو داؤد]
جن صحابۂ کرام نے فتنوں سے متعلق احادیث روایت کیں اور ان سے کنارہ کشی کی فضیلت کو بیان کیا، انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کو بخوبی سمجھا اور اس پر عمل بھی کیا۔ چنانچہ انہوں نے باہم لڑنے والے گروہوں سے علیحدگی اختیار کرلی۔ ان میں سے بعض تو فتنہ سے بچنے کے لیے دیہات اور بیابان علاقوں کی طرف نکل گئے۔ اسی سلسلے میں یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفانؓ شہید کیے گئے تو حضرت سلمہ بن اکوعؓ ربذہ کے مقام کی طرف چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ایک عورت سے نکاح کیا، ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی، اور وہ وہیں مقیم رہے، یہاں تک کہ اپنی وفات سے چند روز پہلے مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ [بخارى]
یہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں کہ جب باغیوں نے حرکت کی اور آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا، اور آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے، تو حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مجھے وثاب نے خبر دی کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا کہ میں اشتر کو بلاؤں وہ باغیوں کے سرداروں میں سے تھا جو عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نکلے تھے— تو (عثمان رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: “لوگ کیا چاہتے ہیں؟” اس نے کہا: “تین باتوں میں سے ایک لازمی ہے۔” آپ نے فرمایا: “وہ کیا ہیں؟” اس نے کہا: “یا تو وہ آپ کو اس بات کا اختیار دیں کہ آپ خلافت چھوڑ دیں اور کہہ دیں: یہ تمہارا معاملہ ہے، تم جسے چاہو منتخب کر لو۔ یا پھر آپ اپنے اوپر قصاص نافذ کریں۔ اور اگر آپ انکار کریں تو یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔”
تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں ان کے لیے اپنی خلافت چھوڑ دوں، تو میں ہرگز وہ لباس نہیں اتاروں گا جو اللہ نے مجھے پہنایا ہے۔ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں اپنے آپ سے قصاص دوں، تو اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ میرے دونوں ساتھی میرا اشارہ عمر بن خطاب اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی طرف ہے میرے سامنے ہیں، اور وہ بھی سزا دیتے تھے، حالانکہ محض قصاص سے کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اور جہاں تک یہ بات ہے کہ تم مجھے قتل کرو، تو اللہ کی قسم! اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو میرے بعد نہ تم آپس میں محبت رکھ سکو گے، نہ اکٹھے نماز پڑھ سکو گے، اور نہ ہی کبھی مل کر کسی دشمن سے لڑ سکو گے۔” پس عثمان رضی اللہ عنہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے، اور اپنے آپ کو قربان کر دیا، اور اپنے حامیوں کو اپنے دفاع سے روک دیا تاکہ مسلمانوں کا خون بہنے سے بچ جائے۔
جب عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فتنہ مزید بڑھ گیا تو عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس فتنے سے کنارہ کشی اختیار کی اور اس میں شریک نہ ہوئے، اور اپنی مشہور بات کہی: “جو مجھے “حی علی الصلاۃ” کہے يعنى جو مجھے نماز کی طرف بلائے گا، میں اس کا جواب دیتا ہوں، اور جو کہے “اپنے مسلمان بھائی کو قتل کرو اور اس کا مال لو” تو میں ایسا ہرگز نہیں کرتا۔”
اسی طرح سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بھی فتنے سے کنارہ کشی اختیار کی اور فرمایا: “میں اس وقت تک جنگ نہیں کروں گا جب تک تم میرے پاس ایسی تلوار نہ لے آؤ جس کی دو آنکھیں اور ایک زبان ہو، جو یہ بتائے کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔”
تابعین نے بھی اسی راستے کی پیروی کی، چنانچہ وہ فتنوں سے بچتے رہے۔ انہی میں سے احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی ہیں: ان کے زمانے میں ایک گروہ پیدا ہوا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ قرآن مخلوق ہے، اور یہ لوگ معتزلہ کہلاتے تھے۔ پھر المامون حکومت میں آیا تو معتزلہ اقتدار کے قریب ہونے لگے اور وہ اس کے برے مشیر بن گئے۔ انہی میں سے ابن ابی داؤد نمایاں ہوا، جس نے فتنہ کو بھڑکایا اور مامون کو اس بات پر قائل کر لیا۔ یہاں تک کہ یہ نظریہ ریاست کا سرکاری عقیدہ بن گیا، اور مامون نے حکم دیا کہ ہر جگہ یہ اعلان کیا جائے کہ قرآن مخلوق ہے۔
لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس باطل اور گمراہ کن نظریے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور کھل کر اس کی مخالفت کی۔ اس پر انہیں قید کیا گیا اور کوڑوں سے مارا گیا تاکہ وہ اپنے فتویٰ سے رجوع کر لیں اور اس غلط عقیدے کو مان لیں، مگر انہوں نے انکار کیا اور ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کیا، اور ان لوگوں کا بھی جو اس کی حمایت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس اجنبی اور دین کے خلاف نظریے کا خاتمہ کر دیا۔ یہاں تک کہا گیا: “اگر ابن حنبل کی پیٹھ پر کوڑے نہ پڑتے تو وہ اہلِ سنت کے امام نہ ہوتے”۔
فتنوں کے وقت مسلمان کا مؤقف
جب مسلمان فتنوں کا سامنا کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایسے مؤقف اختیار کرے جو اسے ان سے نجات دلائیں اور اس کے اندر اسلام کے منہج کے مطابق ان سے نمٹنے کی تربیت پیدا کریں۔ ان میں سے چند اہم امور یہ ہیں:
بے شک ہم آج جن فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں وہ اندھیری رات کے ٹکڑوں کی مانند ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ یہ اکثر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے، یہاں تک کہ بردبار انسان بھی حیران رہ جائے گا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بے راہ نہیں چھوڑا، بلکہ نجات کے راستے واضح فرما دیے: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا، فتنوں اور ان کے اہل سے کنارہ کشی اختیار کرنا، بلا ضرورت ان کی طرف متوجہ نہ ہونا، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا کیونکہ حقیقی نجات انہی میں ہے۔
- ثابت قدمی: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اے ایمان والو! جب تم کسی جماعت سے مقابلہ کرو تو ثابت قدم رہو” [الأنفال: 45]۔ کیونکہ آزمائشیں امت کو ہلا دیتی ہیں، اس لیے ثابت قدمی ضروری ہے۔
- مخلص علماء کا ساتھ: دین دار اور ربانی علماء کی بات امن کے وقت بھی اہم ہوتی ہے، مگر بحران کے وقت اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔
- امت کو فعال بنانا: امت کے ہر فرد کو متحرک ہونا چاہیے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب، صحت مند ہو یا بیمار سب کو اپنے اپنے دائرے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
- احتساب: امت کے محافظین پر لازم ہے کہ وہ شرپسند عناصر کا سدباب کریں، چوروں اور فساد پھیلانے والوں کا تعاقب کریں اور عملی اقدامات کریں۔ اسی طرح لازم ہے کہ عورت کی حفاظت، اس کی عزت و عفت کی نگہبانی اور اس کی دیکھ بھال کا اہتمام کیا جائے، ظلم کو روکا جائے، اور لوگوں کی خبرگیری، ان کے امن و امان کی حفاظت اور ان کی معیشت کے انتظام کا بھی خیال رکھا جائے.
- شعور بیدار کرنا: امت طویل غفلت کا شکار رہی ہے، ایسی غفلت جو سستی اور دنیا کی محبت نے پیدا کی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کفار کی عداوت کا شعور پیدا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو” [البقرہ: 120]۔ اسی طرح اللہ کی سنتِ مدافعت کو بھی سمجھنا ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مساجد جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے سب ڈھا دی جاتیں” [الحج: 40]۔
- ایمان کی مضبوطی: لہٰذا ضروری ہے کہ ہم فتنوں اور آزمائش کے وقت اپنے دلوں میں اور دوسروں کے دلوں میں ایمان کو راسخ کرنے کی کوشش کریں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو پیشِ نظر رکھیں: “فتنوں کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے” [مسلم]۔
- علمِ صحیح پر عمل: ضروری ہے کہ انسان جو کچھ جانے وہ حق پر مبنی ہو، شبہات کے گرد نہ گھومے، اور بدعات و اہلِ اہواء کی باتوں پر کان نہ دھرے۔ اس سلسلے میں اس کا اصل ماخذ قرآن و سنت ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت” [حسنه الألبانی]۔
- دین کی وضاحت: فتنوں اور آزمائش کے زمانے میں سوالات، چہ میگوئیاں اور افواہیں بہت بڑھ جاتی ہیں، اور ایک ہی واقعہ ہزاروں سوالات کو جنم دے دیتا ہے۔ ایسے وقت میں امت علماء کی طرف رجوع کرتی ہے تاکہ ان سے رہنمائی حاصل کرے۔ اس موقع پر بات کرنا بڑی ذمہ داری کا کام ہوتا ہے، کیونکہ ایک کلمہ انسان کی جان یا اس کی ملازمت تک کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دین کو واضح طور پر بیان کیا جائے، خاص طور پر اس وقت جب امت کے عقیدہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہو، توحید میں خلل ڈالا جا رہا ہو، بنیادی اصولوں کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہو، اور نااہل لوگ (رویبضہ) زبان درازی کر رہے ہوں۔
- حالات/ آزمائش کا ادراک: انسان پر لازم ہے کہ وہ حالاتِ بحران میں ماضی اور حال دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے صورتحال کا صحیح ادراک کرے، خود کو تیار کرے، اور اس آزمائش کے دور میں مثبت انداز میں اپنا کردار ادا کرے اور اپنی ایک اچھی چھاپ چھوڑے۔
- صفوں کا اتحاد: ہمیں اپنی صفوں، دلوں اور کوششوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ اختلاف کے آداب اور اخوت کی سمجھ کو عام کرنا ہوگا، پاکیزہ الفاظ اختیار کرنے ہوں گے، نصیحت، اصلاح اور حق کی وضاحت کے ساتھ صبر کا دامن تھامنا ہوگا۔ اصل مقصد حق پر جمع ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو” [آل عمران: 103]۔
- اللہ کی پناہ طلب کرنا: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: “اے اللہ! میں تجھ سے سستی، بڑھاپے، قرض اور گناہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں جہنم کے عذاب، آگ کے فتنے، قبر کے فتنے اور عذابِ قبر سے پناہ مانگتا ہوں، اور مالداری کے فتنے اور تنگدستی کے فتنے سے بھی، اور مسیح دجال کے فتنے سے بھی۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور ٹھنڈے پانی سے دھو دے، میرے دل کو گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان ہے” [بخاری]۔
- اللہ ہی کی طرف رجوع: بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے، شکایت بھی اسی سے ہے، اور ہر معاملہ اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ لہٰذا ہمیں دعا، عاجزی، فریاد، قنوت اور نمازوں کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور فتنوں، مصیبتوں اور دشمنوں کے خوف کے وقت کی دعاؤں کو یاد کرنا اور اپنی نسلوں کو بھی سکھانا چاہیے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار