السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
میرے تین بچے ہیں، جن میں سے دو جڑواں ہیں اور ان کی عمر ساڑھے آٹھ سال ہے، جب کہ ایک بچہ سات سال کا ہے۔ ان کے والد کے انتقال کے بعد مجھے ان کی تربیت اور ذمہ داری نبھانے میں بہت دشواری پیش آ رہی ہے۔
میری عمر 28 سال ہے، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں یہ ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں ہوں، یا شاید میں ایسا سمجھتی ہوں۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ اپنے بچوں کے ساتھ کس طرح صحیح رویہ اختیار کروں تاکہ ان کی نفسیات یا میری اپنی نفسیات متاثر نہ ہو۔ میں اپنی اس مشکل کا کوئی ایسا حل چاہتی ہوں جس میں زیادہ مشقت یا تھکن نہ ہو۔
محترمہ بہن! اللہ تعالیٰ آپ کے شوہر کی مغفرت فرمائے، ان پر اپنی رحمت نازل کرے، آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور آپ کے بچوں کی بہترین تربیت میں آپ کی مدد فرمائے۔
سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بچوں کی پرورش اور ان کے ساتھ رہنا خود ایک بڑی نعمت اور خیر کا ذریعہ ہے۔ بچوں کی تربیت کا نبوی اسلوب اپناتے ہوئے ہم نے بہت سے ایسے لوگوں کی کامیاب زندگیوں کے واقعات سنے اور دیکھے ہیں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا، لہٰذا ممکن ہے کہ اسی آزمائش میں آپ کے لیے کوئی بڑی نعمت اور خیر پوشیدہ ہو۔
یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو بندے سے لیتا ہے تو صبر اور اجر کی نیت کے ساتھ برداشت کرنے پر اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ اللہ نے بچوں کے والد کو اپنی حکمت کے تحت اپنے پاس بلا لیا، لیکن اگر آپ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو شمار کرنا شروع کریں تو آپ کو تسلی اور حوصلہ ملے گا۔ کتنے ہی یتیم ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت اور آسانیوں سے نوازتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات وہ لوگ بھی ان پر رشک کرتے ہیں جن کے والد زندہ ہوتے ہیں۔
میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اپنی خوبیوں اور طاقتوں کی ایک فہرست بنائیں۔ مثلاً خاندان کا سہارا، آپ کی صحت، بچوں کی صحت، مالی وسائل وغیرہ۔ اس سے آپ کے اندر اطمینان اور اعتماد پیدا ہوگا۔
اس کے بعد اپنی ضروریات اور کمزوریوں کو تحریر کریں۔ ممکن ہے آپ کو اپنے خاندان کے قریب منتقل ہونے کی ضرورت ہو، یا کسی ملازمت کی تلاش درپیش ہو۔ اپنی ضروریات لکھنے سے آپ کے لیے ان میں سے ممکنہ امور کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی آسان ہو جائے گی۔
اپنے تعلقات کا جائزہ لیں اور ایسی خواتین سے بات کریں جنہوں نے آپ جیسی صورتحال کا سامنا کیا ہو۔ ان کے تجربات آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں اور آپ کے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوگا۔ دلجوئی و ہمدردی کا رویہ اپنانا بھی آپ کو اور آپ کے بچوں کو سکون دے گا۔
اگر ممکن ہو تو نفسیاتی معاونت (سپورٹ) کے گروپس سے وابستہ ہوں، کیونکہ ایسے حلقے مشکلات اور ذہنی دباؤ سے نکلنے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین نفسیات مشورہ دیتے ہیں کہ جن لوگوں نے کسی عزیز کو کھونے جیسا صدمہ برداشت کیا ہو، وہ اپنی زندگی میں باقاعدہ روزمرہ معمول (روٹین) قائم رکھیں، کیونکہ بے مقصد فراغت ان کے لیے سب سے بڑا دشمن ہوتی ہے۔
کھانے کا معمول
کھانے کے اوقات اور جگہ کو مقرر کریں، ہفتہ وار کھانے کا منصوبہ (Schedule) بنائیں اور اس کی ضروریات پہلے سے تیار رکھیں۔
نماز کا معمول
نماز کے لیے گھر میں ایک خاص جگہ مقرر کریں، اسے خوشبو اور بچوں کے لیے خوبصورت جائے نمازوں سے آراستہ کریں۔ تاکہ آپ کے بچوں کے دل میں نماز کی محبت پیدا ہو اور وہ "اَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ” (اے بلال! ہمیں نماز کے ذریعے راحت پہنچاؤ) کا مفہوم محسوس کریں۔ محبت سے بچوں کی تربیت کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کو نماز سے پہلے تیاری کرنے کی عادت ڈالیں، نماز کو اس کے اول وقت میں باجماعت ادا کریں، اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق کی دعا کرتے رہیں۔
سونے کا معمول
جلدی سونے کی کوشش کریں۔ سونے سے پہلے بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزاریں، ان سے دن بھر کی باتیں پوچھیں: آج انہیں کس بات سے خوشی ہوئی؟ کس چیز نے پریشان کیا؟ کل کے لیے ان کی کیا خواہشات ہیں؟
کچھ اچھی کہانیاں جمع کریں اور روزانہ ایک کہانی سنائیں۔ یہ وقت بچوں کی تربیت اور شخصیت سازی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پھر بچوں کے سونے کے بعد اپنے لیے ایک گھنٹہ نکالیں، جس میں کوئی پسندیدہ سرگرمی انجام دیں تاکہ آپ کی روح تازہ ہو اور ذہنی سکون حاصل ہو۔
دوسروں کے ساتھ رابطہ رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر ممکن ہو تو بچوں کو کسی کھیل یا مفید سرگرمی میں شامل کریں۔ اس سے انہیں فائدہ ہوگا اور ان کا فارغ وقت بھی اچھے طریقے سے گزرے گا۔ جیب خرچ اور تربیت جیسے عملی امور میں بھی بچوں کو شامل کرنا ان کی ذمہ داری کا احساس بڑھاتا ہے۔
مزید یہ کہ کوشش کریں کہ بچوں کی زندگی میں کوئی نیک اور ذمہ دار مرد موجود ہو جو کسی حد تک والد کی کمی پوری کر سکے۔ یہ ان کے ماموں، دادا، نانا، قرآن کے استاد یا کھیل کے کوچ ہو سکتے ہیں۔ بہتر ہے کہ یہ آپ کے محرم رشتہ دار ہوں تاکہ بچوں کی ضروریات کے بارے میں ان سے بات کرنے میں کوئی جھجک نہ ہو۔
یہ بھی بہت اہم ہے کہ آپ ہر وقت اپنی ذات کی ترقی اور اصلاح کی کوشش کرتی رہیں، اور اپنے آپ کو ایسی سرگرمیوں میں مشغول رکھیں جو آپ کے نفس کی پاکیزگی اور تربیت کا ذریعہ بنیں۔ مثلاً یوٹیوب یا ٹیلیگرام پر علمی اور اصلاحی دروس سنیں، کیونکہ ان میں بہت خیر موجود ہے۔ تاہم صرف سننے سے بھی بہتر یہ ہے کہ آپ خواتین کے علمی حلقوں اور دینی مجالس سے وابستہ ہوں، تاکہ آپ کو ایسی نیک صحبت میسر آئے جو خیر کے کاموں میں آپ کی مددگار بنے۔ کیونکہ اکیلا انسان شیطان کے وسوسوں کا زیادہ شکار ہوتا ہے، جبکہ دو افراد ہوں تو شیطان کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ نیک ساتھی مشکل کاموں کو آسان بنا دیتے ہیں اور انسان کے عزم و حوصلے کو مضبوط کرتے ہیں۔
اگر آپ محسوس کریں کہ غم یا ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ آپ اپنی یا اپنے بچوں کی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا نہیں کر پا رہیں، تو کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے میں ہرگز ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ اس طرح آپ تمام ممکنہ اسباب اختیار کر لیں گی، اور اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو مشکلات کو آسان کرتی ہے اور تنگی کے بعد آسانی عطا فرماتی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے، آپ کے قدموں کو استقامت عطا کرے، آپ کے تمام معاملات آسان فرمائے، اور آپ اور آپ کے بچوں کے لیے بہترین بدلہ اور سہارا عطا فرمائے۔ آمین۔
ماخذ: زوجي توفي ومعي ثلاثة أطفال كيف أكون على | مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار