عید رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جلیل القدر صحابہؓ کی زندگی میں خوشی اور مسرت کا موقع تھی، اور اسی طرح ہر زمانے اور ہر جگہ کے مسلمانوں کے لیے بھی ہونی چاہیے۔ ایک سمجھ دار مسلمان کو چاہیے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے دلوں میں خوشی پیدا کرے اور اسے تربیت کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرے؛ کیونکہ جو بات اپنے وقت پر پیش کی جائے وہ تربیت پانے والوں کے نفوس پر اس بات سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے جس کا وقت گزر چکا ہو۔
عید، جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں، محض لہو و لعب، کھیل تماشے اور غفلت میں وقت ضائع کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے قیام، اس کی نعمتوں کے اظہار، اور ان نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔ یہی درحقیقت حقیقی خوشی اور مسرت ہے۔
عید خوشی ہے، اسے ختم نہ کیجیے
عید خوشی اور مسرت کا نام ہے، اور مومنوں کی دنیا و آخرت کی تمام خوشیاں دراصل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہی سے وابستہ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم آیات میں فرمایا: «کہہ دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی لوگوں کو خوش ہونا چاہیے، یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔» [یونس: 58] اور فرمایا: «اللہ ہی کے اختیار میں ہے ہر معاملہ، پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔» [الروم: 4]
دل کے لیے اس خوشی سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوسکتی جو انسان کو رب العالمین کی رضا حاصل ہونے پر نصیب ہو۔ اہلِ ایمان یقیناً اس بات کے حق دار ہیں کہ وہ ان مبارک دنوں کے بعد خوشی منائیں اور اللہ کا ذکر کریں، جو دنیا کے بہترین دن تھے، جن میں محبت کرنے والوں نے سعادت اور اطمینان کا ذائقہ چکھا۔
جب عید آتی ہے تو گویا پوری کائنات بہترین زیب و زینت سے آراستہ نظر آتی ہے، سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے، اور مسلمان کے چہرے پر محنت و عبادت کے بعد خوشی کی چمک نمایاں ہوجاتی ہے۔ یہ ایسی خوشی ہے جس سے امیر و غریب، بڑا و چھوٹا، مقیم و مسافر سب یکساں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس موقع پر محبت اور بھائی چارے کی روح سب کے دلوں میں دوڑنے لگتی ہے، کدورتیں اور دشمنیاں دور ہوجاتی ہیں، محبت و مودّت عام ہوجاتی ہے، دل صاف ہوجاتے ہیں، اور مسکراہٹیں بکھر جاتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں عید کی خوشیاں
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں:
رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے، اس وقت میرے پاس دو جاریاں دف بجا کر جنگِ بعاث کے اشعار گا رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا: «انہیں چھوڑ دو، اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔»
بخاری
عید کی خوشی اور مسرت کے مناظر میں سے ایک منظر وہ بھی ہے جو حبشہ کے لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ وہ مسجد میں ڈھالوں اور نیزوں کے ساتھ کھیل اور رقص کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: «خوب کھیلتے رہو، اے بنو ارفدہ! تاکہ یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں وسعت اور آسانی ہے، بے شک مجھے آسان اور سیدھی شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔» [نسائی]
عید کے موقع پر دلوں میں خوشی پیدا کرنے والی چیزوں میں مسلمانوں کا ایک دوسرے کو مبارک باد دینا بھی شامل ہے۔ حضرت جبیر بن نفیرؒ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرامؓ جب عید کے دن ملتے تو کہتے: «تقبل الله منا ومنك» (اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے)۔ [امام احمد]
نبی کریم ﷺ عید کے دن ایسی سنتوں کا اہتمام فرماتے تھے جو خوشی اور مسرت کا باعث بنتی تھیں؛ مثلاً عیدگاہ میں نماز سے پہلے تکبیرات کا بلند آواز سے پڑھنا، بہترین لباس پہننا، فقراء پر صدقہ کرنا اور یتیموں کی خبرگیری کرنا۔ آپ ﷺ خواتین کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیتے تھے تاکہ وہ نماز اور ذکرِ الٰہی میں شریک ہوں۔ یوں عید آپ ﷺ کی زندگی میں عبادت اور بندگی کا بھی مظہر تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی منانے کا بھی۔
عیدوں میں خوشی اور مسرت کا اظہار، دل کو کشادگی دینا اور جسم کو جائز تفریح فراہم کرنا بھی دین کے شعائر میں سے ہے
عید کس کے لیے ہے؟
عید اس شخص کے لیے خوشی کا دن ہے جس نے حسنِ اخلاق کو اختیار کیا، گناہوں اور برائیوں سے دوری اختیار کی، اور اس کے لیے مسرت کا موقع ہے جس نے اپنے دن کو عبادات اور نیک اعمال سے آراستہ کیا۔ بعض سلف صالحین نے فرمایا: «غافل انسان اپنی خواہشات اور کھیل تماشوں پر خوش ہوتا ہے، جبکہ عقل مند اپنے رب کی رضا پر خوشی مناتا ہے۔» اور حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا: «ہر وہ دن جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے، عید کا دن ہے۔»
جو شخص عید میں حقیقی خوشی اور ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ:
۱۔ غفلت سے بچے
بعض علماء نے عیدالفطر کے دن لوگوں کو کھانے پینے اور لباس میں مشغول دیکھا تو فرمایا: «اگر ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہوتی کہ ان کے روزے اور قیام قبول کر لیے گئے ہیں، تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ صبح ہی سے اللہ کا شکر ادا کرنے میں مشغول ہوتے۔ اور اگر انہیں یہ خوف ہوتا کہ ان کے اعمال قبول نہیں ہوئے، تو پھر انہیں اس سے بھی زیادہ فکر مند ہونا چاہیے تھا!»
۲۔ حلال روزی اختیار کرے
ابو بکر مروزیؒ بیان کرتے ہیں: «میں عید کے دن ابو بکر بن مسلم کے پاس گیا، وہ تھوڑا سا خروب کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: اس چیز کو نہ دیکھو، بلکہ یہ سوچو کہ اگر قیامت کے دن مجھ سے پوچھا گیا کہ یہ کہاں سے حاصل کیا تھا تو میں کیا جواب دوں گا؟»
۳۔ نگاہوں کی حفاظت کرے
سفیان ثوریؒ کے ایک شاگرد بیان کرتے ہیں: «میں عید کے دن سفیان ثوریؒ کے ساتھ نکلا۔ انہوں نے فرمایا: آج ہمارے دن کا پہلا کام نگاہوں کو نیچا رکھنا ہے۔» اسی طرح حسان بن ابی سنانؒ عید سے واپس آئے تو ان کی اہلیہ نے پوچھا: «آج کتنی حسین عورتیں دیکھی ہوں گی؟» انہوں نے جواب دیا: «گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک میری نظر صرف اپنے انگوٹھے پر رہی۔»
۴۔ صدقۂ فطر ادا کرے
رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے صدقۂ فطر کو ہر مسلمان غلام و آزاد، مرد و عورت، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مقرر فرمایا۔
متفق علیہ
صدقۂ فطر روزہ دار کو لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک کرتا ہے اور غریبوں کو عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ صدقۂ فطر ادا کرنے کا بہترین وقت عید کی نماز سے پہلے عید کی صبح ہے، البتہ ایک یا دو دن پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ فقہائے احناف کے نزدیک اس کی رقم نقدی کی صورت میں بھی دی جا سکتی ہے۔
عید میں ہونے والی بعض غلطیاں
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ عید کا مطلب صرف کھیل تماشا، رات بھر جاگنا، گانے سننا اور ممنوع کاموں میں مشغول ہونا ہے، حالانکہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ عید کے موقع پر بعض ایسی غلطیاں اور خلافِ شرع کام کیے جاتے ہیں جن سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے:
- عید گاہوں، سڑکوں اور پارکوں میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط۔
- خوشی اور مسرت کے نام پر گانے، رقص اور دیگر منکرات کے ذریعے عید کا استقبال کرنا۔
- عورتوں کا بے پردگی اختیار کرنا اور حجاب، حیا اور وقار کی پابندی نہ کرنا۔
- لباس، کھانے پینے اور دیگر مباحات میں اسراف کرنا — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔» (الأعراف: 31)۔
بعض لوگوں کے چہروں پر عید کی خوشی اس لیے نمایاں ہوتی ہے کہ رمضان المبارک ختم ہوگیا اور وہ اس کی عبادتوں سے چھٹکارا پا گئے، گویا رمضان ان کی پیٹھ پر ایک بھاری بوجھ تھا — یہ طرزِ فکر نہایت خطرناک ہے۔
بعض لوگ نمازِ عید کی ادائیگی میں سستی کرتے ہیں اور خود کو اس کے عظیم اجر و ثواب سے محروم کر لیتے ہیں، اور بسا اوقات اس کی وجہ رات بھر جاگنا ہوتا ہے۔
عیدوں اور رمضان کی راتوں میں ایک عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ بچے اور نوجوان آتش بازی اور پٹاخوں سے کھیلتے ہیں، جس سے نمازیوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور پرامن لوگوں میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔
بعض ممالک میں عید کے دن جوا اور قمار بازی کا رواج عام ہو گیا ہے؛ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس لیے والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی نگرانی کریں اور انہیں اس برائی سے بچائیں۔
اختتامیہ
عید درحقیقت اس شخص کے لیے خوشی اور مسرت کا دن ہے جس کی نیکیوں اور اطاعت میں اضافہ ہوا ہو، نہ کہ اس کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔ مسلمان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عید میں خوشی کا اظہار ایک دینی اور سماجی تقاضا ہے۔ عید کی تقریبات کے لیے مناسب مقامات کا اہتمام بھی ایک اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس سے لوگوں کے درمیان ملاقات، محبت، بھائی چارہ اور باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، اور معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ ملتا ہے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار