شخصیت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے صرف معلومات اور مہارت ہی کافی نہیں ہوتیں، بلکہ ایک اساسی اور ناگزیر چیز کا ہونا بھی ضروری ہے، جسے “اقدار” کہتے ہیں۔ تاکہ طالب علم یا متربی (جو زیرِ تربیت ہو) محض معلومات کا اسیر نہ بن کر رہ جائے، اور نہ صرف مہارتوں (اسکلز) کے حصول کے پیچھے دوڑتا پھرے، بلکہ وہ اپنے اس عمل کو روحِ اقدار سے آراستہ کرے۔ پس جب تعمیر اس بنیاد پر قائم ہو تو وہ متزلزل نہیں ہوتی، ڈگمگاتی نہیں، اور تب یہ کہا جا سکتا ہے کہ متربی نے ان مقاصد کو حاصل کر لیا جو اس سے مقصود تھے۔ یوں سمجھیے کہ ایک عظیم الشان عمارت ہو جس کا دروازہ ہی تربیتِ اقدار کا دروازہ ہے۔
ایک طویل عرصے تک یہ تصور غالب رہا کہ متربی کے اندر صرف علمی و معرفتی پہلو کی نشوونما ہی عملِ تربیت کے لیے کافی ہے، اس بنا پر کہ وسیع معلومات کا حاصل ہو جانا ہی شخصیت سازی کی بنیاد ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس صورت میں متربی محض معلومات کے دائروں ہی میں مقید رہ جاتا ہے؛ اور اس کی حیثیت ان معلومات کو دہرانے والے سے زیادہ نہیں ہوتی، درست بات یہی ہے کہ بلاشبہ معلومات تعمیر کا ایک جز تو ہیں، کل تعمیر نہیں۔
“اسلامی اقدار” کا مفہوم اور خصوصیات
ابنِ منظور نے “لسان العرب” میں ان اسلامی اقدار کے مفہوم کی تعریف، جن کے ذریعے متربی کی شخصیت کی تعمیر ممکن ہوتی ہے، یوں بیان کی ہے کہ: کسی چیز کی قیمت اس کے تقویم (قدر) سے جانی جاتی ہے، اور قِیَم دراصل قیمت کی جمع ہے۔ عربوں میں کہتے ہیں: كم قامت ناقتك؟ یعنی: تمہاری اونٹنی کی قیمت کتنی لگی؟
اصطلاحاً، موسوعہ “نضرة النعيم” کے مطابق اقدار اُن احکام اور معیارات کو کہا جاتا ہے جو اسلام کے کائنات، خدا، انسان اور زندگی سے متعلق تصورات سے جنم لیتے ہیں۔ یہ اقدار فرد اور معاشرے کے مختلف زندگی کے تجربات اور حالات کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں تشکیل پاتی ہیں، اور انہی کے ذریعے انسان اپنے اہداف اور رجحانات کا تعین کرتا ہے جو اس کے عملی رویّے میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اقدار اُس شخصی فلسفۂ حیات کا لازمی حصہ ہیں جس میں ہمارے مقاصد، ہمارے اعلیٰ تصورات، ہماری طرزِ فکر، اور وہ اصول شامل ہوتے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنے رویّوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کی معروف مثالوں میں دولت، وفاداری، خودمختاری، مساوات، عدل، اخوت اور محبت شامل ہیں۔
اسلامی تصور میں اقدار کی چند خصوصیات ہیں، جو درج ذیل نکات میں نمایاں ہوتی ہیں:
- ان کا سرچشمہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویِ مطہرہ ہے۔
- وہ رحمت اور قوت، نرمی اور سختی — دونوں کو جمع کرتی ہیں۔
- وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا؛ چنانچہ وہ جسم کی ضروریات اور روح کی آرزوؤں دونوں کا لحاظ رکھتی ہیں، بغیر اس کے کہ ایک پہلو دوسرے پر غالب آجائے۔
- وہ اللہ عزوجل کی رضا سے وابستہ ہیں، اور اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے اجر و جزا سے بھی۔
- وہ کبھی امر اور کبھی نہی کی صورت میں وارد ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود انسان کو اختیار کی ایک وسعت عطا کرتی ہیں۔
- وہ انسان کی تمام جہات اور اس کے دنیا و آخرت کے تمام معاملات کا احاطہ کرتی ہیں۔
- وہ توحیدِ الٰہی کے اصول پر قائم ہیں؛ کیونکہ یہی وہ مرکزی محور ہے جس کے گرد مسلمان کے تمام رجحانات اور اعمال گردش کرتے ہیں۔
- وہ ہر زمان و مکان کے لیے عام اور ہر دور میں برقرار رہنے والی ہیں۔
- وہ ان اقدار میں لچک رکھتی ہیں جو ظنی ہوں، جب کہ ان امور میں ثابت و غیر متغیر ہیں جو قطعی نصوص پر مبنی ہوں، خصوصاً عقیدہ، عبادات، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں۔
- وہ انسان کے بنیادی محرکات کی تکمیل اور توازن میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
- وہ اجتماعی عمل کے عمومی تجربات کی نمائندگی کرتی ہیں، اور ان کی تشکیل انفرادی و اجتماعی ردِّعمل اور رویّوں سے ہوتی ہے۔
- وہ سماجی تعلقات کو باہم مربوط کر کے معاشروں کی تعمیر کرتی ہیں۔
- وہ لوگوں کے رویّوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور دوسروں کے اعمال کو جانچنے کے معیار کے طور پر کام کرتی ہیں۔
- انہیں اجتماعی زندگی کی تنظیم میں بڑا کردار حاصل ہے، کیونکہ وہ روزمرہ رویّوں کی رہنمائی کے لیے اصول و ضوابط قائم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
اقدار کی اہمیت
متربی کی شخصیت کی تعمیر میں اقدار کی اہمیت اس حقیقت سے پھوٹتی ہے کہ ہر عمارت کے لیے ایک بنیاد کا ہونا ناگزیر ہے جس پر وہ قائم ہو، اور سب سے زیادہ بلند و برتر اور تعمیر کے لائق شے انسان ہے، جو اپنے طرزِ عمل کو سنوارتا ہے اور معارف و مہارتوں سے بڑھ کر اقدار کے ذریعے تربیت پاتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ نئی نسل کے رجحانات اور سرچشمے متنوع ہو چکے ہیں۔ نیز اقدار کی اہمیت ان نکات میں بھی نمایاں ہوتی ہے:
- یہ وہ اعلیٰ اصول اور پسندیدہ قواعد ہیں جنہیں فطرت، عقل اور شریعت سب مستحسن قرار دیتے ہیں، اور انہی پر انسانی زندگی قائم ہوتی ہے، جس کے باعث وہ حیوانی زندگی سے ممتاز ہوتی ہے۔
- یہ مستقل اور پائیدار ہیں؛ زمان و مکان کے بدلنے یا حالات و ظروف کی تبدیلی سے نہیں بدلتے، البتہ ان کے حصول کے ذرائع بدل سکتے ہیں۔
- یہ مختلف اقسام پر مشتمل ہیں؛ جیسے اعلیٰ اقدار (بندگی اور عدل)، تہذیبی اقدار (خلافت اور ذمہ داری)، اور اخلاقی اقدار (صدق اور امانت)، اور یہ سب مل کر ایسی متوازن شخصیت تشکیل دیتی ہیں جو حق کے راستے کو پہچانتی ہے اور پھر اسی کی پیروی کرتی ہے۔
- یہ مسلمان کے قلب کو اپنے خالق کی محبت، تعظیم اور عجز و انکسار کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
- سیرتِ نبوی نے ایمانی، معاشرتی، اقتصادی، سیاسی اور عملی تمام سطحوں پر ان اقدار کو خاص اہمیت دی ہے۔
“یہ کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یومِ آخرت پر ایمان لاؤ، اور تقدیر کے خیر و شر پر ایمان رکھو”
صحیح بخاری و مسلم — حدیثِ جبرئیل
اقدار کی تشکیل کے مراحل
اقدار متربی کی شخصیت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے تدریج کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔ ان مراحل کو “سُلَّمُ المَراقی السِّتَّة” یعنی چھ مدارجی زینوں کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے:
۱. انتباہ
اس مرحلے میں متربی کسی نئی چیز کا شعور محسوس کرتا ہے جو اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے، خواہ وہ کسی تصویر، قصے، سمعی و بصری منظر، اعداد و شمار، یا دیگر دل چسپ تعلیمی وسائل کی صورت میں ہو، تاکہ متربیوں کی توجہ کو ابھارا جائے اور ان کے اذہان کو کسی خاص مسئلے پر مرکوز کیا جائے۔
۲. دل چسپی
یہ وہ مرحلہ ہے جس میں متربی، مربی کی معاونت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے، اس قدر کے بارے میں نئی معلومات اور تصورات مرتب کرنے میں حصہ لیتا ہے۔ چنانچہ وہ اس بارے میں نئے سوالات اٹھاتا ہے، مزید معلومات طلب کرتا ہے، اور انہیں کسی معین سیاق میں ترتیب دیتا ہے۔
۳. شمولیت
یہ وہ مرحلہ ہے جس میں پچھلے مرحلے سے زیادہ بلند درجے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، اور وہ اس بات سے متعلق ہوتی ہیں کہ متربی اس قدر کے تجزیے، منصوبے اور تفہیم میں، اور اس کے عملی مظاہر کے مثبت و منفی پہلوؤں میں عملاً شریک ہو۔
۴. اختیار
یہ وہ مرحلہ ہے جس میں رجحانات، اختیارات، مواقف اور اعتقادات کی واضح علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اس کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ متربی کسی معین رائے کو دلائل اور معلومات کی بنیاد پر اختیار کرتا ہے اور اپنے مؤقف کے حق میں عقلی و نقلی دلائل پیش کرتا ہے۔
۵. دفاع و امتحان
اقدار کی آبیاری کے اس مرحلے میں متربی اس قدر پر قائل تو ہو چکا ہوتا ہے، لیکن اسے ایک ایسی تعلیمی صورتِ حال میں رکھا جانا ضروری ہوتا ہے جو اس کی صلاحیت کو آزمائے کہ آیا وہ سابقہ مراحل میں حاصل کردہ معارف اور مہارتوں کو اپنے اختیارات کے دفاع میں استعمال کر سکتا ہے یا نہیں۔
۶. قدر کی منتقلی
یہ وہ مرحلہ ہے جو بغیر کسی بیرونی محرک کے خودکار اقدام سے نمایاں ہوتا ہے؛ یعنی اب متربی کو کسی اشتعال انگیز یا تحریکی صورتِ حال میں ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ اس کے اندر ایسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جو دوسروں تک اس قدر کو منتقل کرنے کے احساسِ ذمہ داری کی غمازی کرتی ہیں۔
اقدار کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ متربی خود بخود دوسروں تک ان اقدار کو منتقل کرنے کی ذمہ داری محسوس کرے
من مراحل تشکیل الاقدار
خاندان میں تربیتی اقدار کی تشکیل
متربی کی شخصیت کی تعمیر میں خاندان کا کردار نہایت اہم ہے، جو تعلیمی اداروں میں مربیوں کے کردار سے کسی طور کم نہیں۔ یہ کردار درج ذیل امور کے ذریعے ادا ہوتا ہے:
رہنما
اسلامی اقدار خاندان کے اندر متربی کے دل میں عمدہ نمونے کے ذریعے راسخ کی جاتی ہیں، اور یہ ذمہ داری باپ اور ماں دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اولاد کے سامنے باہمی احترام، محبت اور رحمت کے ساتھ پیش آئیں، نیز نماز، تلاوتِ قرآن، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، صدقہ و زکوٰۃ، اور اسلام و ایمان کے تمام ارکان کی پابندی کا عملی مظاہرہ کریں۔
متربی کا احترام
یہ بھی ضروری ہے کہ متربی کو معاشرتی اعتبار سے قبول کیا جائے اور اس کا احترام کیا جائے۔ اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں، کیونکہ آپ بچوں کی قدر فرماتے تھے، انہیں خوب صورت کنیت سے پکارتے تھے، اور مجالس میں ان کے حقوق کا لحاظ رکھتے تھے۔
غلطی کے امکان کو قبول کرنا
خاندان کے مربی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کبھی غلطی ہی کامیابی کی راہ اور تلافی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لہٰذا متربی کی غلطی کی اصلاح سخت تنقید سے نہیں بلکہ رجوع اور توبہ کا موقع دے کر کی جائے تاکہ وہ اپنا نفسیاتی توازن دوبارہ حاصل کر سکے۔
ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرنا
بچے میں خودمختاری اور استقلال کی خواہش ابتدائی عمر ہی سے پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس لیے مربی پر لازم ہے کہ وہ اس کی خود اعتمادی اور خود انحصاری میں مدد دے، اگرچہ ابتدا میں یہ عمل دشوار اور صبر آزما ہی کیوں نہ ہو۔
اچھے اخلاق کی آبیاری
جیسے سچائی، عدل، امانت اور ضبطِ نفس، اور یہ سب اجتماعی کھیلوں اور سماجی تعلقات کی تعمیر کے ذریعے پیدا کیے جا سکتے ہیں، جہاں متربی تعاون، لین دین، اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا شعور حاصل کرتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں مربی کا کردار
اس میں کوئی شک نہیں کہ مختلف اداروں میں مربی کا تعلیمی کردار نشوونما پانے والی نسل کی تربیت اور اصلاح میں والدین کے کردار سے کسی طور کم نہیں ہوتا۔
اقدار کی آبیاری میں مربی کے سپرد کیے گئے اہم ترین فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تعلیمی اسلوب کے ذریعے متربی کی متوازن شخصیت کی تعمیر میں معاونت کرے، تاکہ اس کی جسمانی، نفسیاتی، عقلی، روحانی اور سماجی جہات ہم آہنگ طور پر پروان چڑھیں، اور وہ اپنے حال کی دشواریوں اور مستقبل کے چیلنجوں کے ساتھ موافقت پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکے۔
مربی اس معاونت کی ادائیگی میں اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب تربیتی عمل بنیادی طور پر ایک موزوں تعلیمی ماحول، اہداف، مناسب نصاب، عمدہ مقررات، جدید اسالیب و وسائل، اور ایسے انسانی وسائل سے تقویت پائے جو ان تمام عناصر کو متعین ہدف کی خدمت میں بروئے کار لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
خاتمہ
بلاشبہ اقدار کے ذریعے متربی کی شخصیت کی تعمیر کے لیے لازم ہے کہ خاندان ایسے مثبت رجحانات کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے جو فرد کو قوم کی دولت، جامع ترقی کا راستہ، اور اصلاح کا مقصود و جوہر سمجھتے ہوں۔ اسی طرح یہ امر مدرسے اور تربیتی اداروں کی کاوشوں کا بھی تقاضا کرتا ہے، کیونکہ یہی وہ اہم آغوشیں ہیں جن کے ذریعے اقدار کی نشوونما اور ان کی آبیاری متربی کے نفوس میں ممکن ہوتی ہے۔ اور اس غایت کے حصول کے لیے ہم صرف معارف اور مہارتوں پر اکتفا نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ محض انسانی شخصیت کی تعمیر کے عمل کا ایک حصہ ہیں۔
مترجم: زعیم الرحمان