بقلم: د طلعت فہمی
یہ بابرکت دن اپنی رحمتوں، برکتوں اور فیوضات کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہیں۔ یہ ایام انسان کے حوصلوں کو تازگی بخشتے ہیں اور دل و جوارح کو مزید نیکی اور عملِ صالح کی طرف آمادہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً دل پاکیزہ ہوتے ہیں اور انسان کے اعمال اپنے خالق کی مرضی اور مقصدِ تخلیق کے مطابق ڈھلنے لگتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات ہم میں سے کچھ لوگ نیکی کے صرف چند مخصوص پہلوؤں تک محدود رہتے ہیں، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث، جس میں ان مبارک لمحات کی فضیلت بیان ہوئی ہے، عملِ صالح کے نہایت وسیع، ہمہ گیر اور گہرے مفہوم کو واضح کرتی ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں کی جانے والی نیکی سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب اور اجر میں زیادہ نہیں ہے۔” صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: “کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر ان میں سے کوئی چیز واپس نہ لایا۔” راوی کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر جب عشرۂ ذوالحجہ میں داخل ہوتے تو اس قدر شدید محنت اور عبادت کرتے کہ گویا اس سے زیادہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ [دارمی]
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھی عملِ صالح کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: “اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمہارے اعمال کو خوب جاننے والا ہوں۔ اور بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھ سے ڈرو۔” [المؤمنون: 51-52] اور اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے رسولوں کو دیے گئے خطاب میں اس بات کی دعوت شامل ہے کہ وہ پاکیزہ چیزیں کھائیں اور نیک اعمال کریں، جو ایک ایسے جسمِ واحد کی مانند امت کی تشکیل کا ہدف رکھتے ہیں جو اللہ کی عبادت گزار ہو۔ تاکہ نیک عمل زمان و مکان کی حدود سے آگے بڑھ کر پوری امت اور تمام انسانیت کو شامل کرے، اور نسل پرستی، قومیت اور ہر قسم کی رکاوٹوں سے بالاتر ہو جائے۔
جب انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنے رب کی پکار سنی تو انہوں نے عملِ صالح کے اس جامع تصور کو عملی میدان میں نافذ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون جیسے سرکش حکمران کے سامنے حق کی صدا بلند کرتے ہوئے کھڑے ہوئے: “پس بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں عذاب نہ دے۔” [طٰہٰ: 47] حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: “میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں، اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔” [الأعراف: 62] حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کی سرکشی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: “کیا تم ہر اونچی جگہ پر بے مقصد نشانیاں بناتے ہو؟ اور مضبوط عمارتیں اس امید پر تعمیر کرتے ہو کہ ہمیشہ زندہ رہو گے؟ اور جب کسی کو پکڑتے ہو تو ظالم و جابر بن جاتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔” [الشعراء: 128-131] حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا: “اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، اور حد سے بڑھنے والوں کی بات نہ مانو، جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔” [الشعراء: 150-152] حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کی بے راہ روی کے خلاف ڈٹ کر فرمایا: “بلکہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔” انہوں نے جواب دیا: “اگر تم باز نہ آئے تو اے لوط! تمہیں شہر سے نکال دیا جائے گا۔” لوط علیہ السلام نے فرمایا: “میں تمہارے اعمال سے سخت بیزار ہوں۔” [الشعراء: 166-168] حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو معاشی ظلم اور بددیانتی سے روکتے ہوئے فرمایا: “ناپ پورا کرو اور نقصان پہنچانے والوں میں شامل نہ ہو، صحیح ترازو سے وزن کرو، لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔” [الشعراء: 181-183] اور ہمارے نبی محمد ﷺ نے فرمایا: “عمل کرتے رہو، میں اللہ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہ آ سکوں گا۔”
انبیائے کرام علیہم السلام اپنے رب کے پاس واپس چلے گئے، لیکن ان کے پیروکار ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے لوگوں تک پیغام پہنچاتے رہے۔ تاہم اسلام میں تمام نیک اعمال ایک درجے کے نہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ایمان کی ساٹھ سے زائد یا ستر سے زائد شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل ’لا إله إلا الله‘ کہنا ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، جب کہ حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔” [متفق علیہ]
پھر رسول اللہ ﷺ نے خیر اور عملِ صالح کے حقیقی مفہوم کو مزید واضح فرمایا۔ حضرت ابوذر غفاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ہر انسان پر لازم ہے کہ جس دن اس پر سورج طلوع ہو، وہ اپنی ذات کی طرف سے صدقہ کرے۔ صدقے کے دروازوں میں اللہ اکبر کہنا، سبحان اللہ کہنا، الحمدللہ کہنا، لا إله إلا الله کہنا، استغفار کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، لوگوں کے راستے سے کانٹا، ہڈی یا پتھر ہٹانا، نابینا کی رہنمائی کرنا، بہرے اور گونگے کو اس طرح سمجھانا کہ وہ بات کو سمجھ جائے، کسی ضرورت مند کو اس کی ضرورت کی جگہ بتانا، مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی سے چلنا، کمزور کی قوتِ بازو سے مدد کرنا — یہ سب تمہاری طرف سے صدقہ ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی بیوی کے ساتھ جائز تعلق قائم کرنے میں بھی تمہارے لیے اجر ہے۔” کیا تم نے غور کیا کہ اگر تمہارا کوئی بچہ ہوتا، تم اس کے اجر کی امید رکھتے، پھر وہ فوت ہوجاتا، تو کیا تم اس پر اجر کی امید نہ رکھتے؟ کیا تم نے اسے پیدا کیا تھا؟ کیا تم نے اسے ہدایت دی تھی؟ کیا تم اسے رزق دیتے تھے؟ اسی طرح اپنی خواہش کو حلال طریقے میں پورا کرو اور اسے حرام سے بچاؤ۔ پھر اگر اللہ چاہے تو اسے زندہ رکھے اور اگر چاہے تو وفات دے، اور تمہارے لیے اجر ہی اجر ہے۔” [مسند احمد، سند صحیح]
اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ہر نیکی صدقہ ہے، اور نیکی میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو، اور اپنے ڈول سے اس کے برتن میں پانی ڈال دو۔” [مسند احمد]
کچھ لوگ نیکی کے تمام اعمال کو ایک دوسرے کے برابر سمجھتے تھے اور ان میں کسی قسم کی فضیلت و فرق کے قائل نہ تھے، تو اسلام آیا تاکہ عملِ صالح کا معیار واضح اور متعین کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی خدمت کو اُس شخص کے برابر قرار دے دیا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، ان کے درجے اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔” [سورۃ التوبہ: 19-20] اسی طرح میزان درست ہوتی ہے اور پیمانے متوازن ہوجاتے ہیں؛ کیونکہ معاملہ صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں بلکہ اس سے پہلے وقت کے تقاضوں، لوگوں اور معاشروں کی ضروریات کو سمجھنا اور ان کا صحیح ادراک کرنا بھی ضروری ہے۔ اس معنی کی گہرائی اور عملِ صالح کے جامع مفہوم کو واضح کرنے والی چند احادیث اور آثار ملاحظہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کے بارے میں فرمایا: “تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے، وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔” امام محمد بن المنکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “میں نے ایک رات اپنی بیمار والدہ کی خدمت اور تیمارداری میں گزاری، جب کہ میرا بھائی رات بھر نماز پڑھتا رہا، لیکن مجھے اپنی وہ رات اس کی رات سے کم پسند نہیں۔” اسی طرح عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ نے اپنے بھائی فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:
اے حرمین کے عبادت گزار! اگر تم ہمیں دیکھ لیتے
تو جان لیتے کہ تمہاری عبادت محض کھیل ہے۔
اگر کوئی اپنے رخسار آنسوؤں سے تر کرتا ہے
تو ہماری گردنیں اپنے خون سے رنگین ہوتی ہیں۔
یہ اللہ کی کتاب ہمارے درمیان بول رہی ہے
کہ شہید مردہ نہیں ہوتا، اور یہ بات جھٹلائی نہیں جا سکتی۔
جب فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے یہ اشعار پڑھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے کہا: “ابو عبد الرحمٰن (عبد اللہ بن المبارک) نے سچ کہا اور مجھے نصیحت کی۔” پھر انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ منصور بن معتمر نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیے جس سے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا ثواب حاصل کرسکوں۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ مسلسل نماز پڑھتے رہو اور کبھی تھکو نہیں، اور ہمیشہ روزہ رکھو اور کبھی افطار نہ کرو؟” اس شخص نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! میں اس سے کمزور ہوں کہ ایسا کرسکوں۔” تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہیں اس کی طاقت بھی دے دی جائے، تب بھی تم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔”
روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ حج کے سفر پر روانہ ہوئے۔ راستے میں ان کے قافلے کا ایک پرندہ مر گیا تو انہوں نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ اسے راستے کے کنارے کسی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیں۔ کچھ دیر بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی آئی اور اس مردہ پرندے کو اٹھا لیا۔ آپؒ نے اس سے اس کی کیفیت پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی سخت تنگ دستی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے والد قتل کر دیے گئے، مال و اسباب چھین لیا گیا، اور فاقوں نے انہیں اس حال تک پہنچا دیا کہ مردار کھانا ان کے لیے جائز ہو چکا ہے۔ یہ سن کر عبد اللہ بن مبارکؒ نے اپنے خادم سے پوچھا: “ہمارے پاس کتنی رقم ہے؟” اس نے عرض کیا: “ایک ہزار دینار۔” آپؒ نے فرمایا: “اس میں سے صرف بیس دینار الگ رکھ لو تاکہ ہم اپنے گھروں تک واپس پہنچ سکیں، اور باقی ساری رقم اس لڑکی کو دے دو، کیونکہ اس سال ہمارے لیے یہی عمل حج سے زیادہ افضل ہے۔” چنانچہ آپؒ وہیں سے واپس لوٹ آئے۔ انہیں یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ وہ بیت اللہ جا کر غلافِ کعبہ سے لپٹ کر آہ و زاری کریں، جب کہ ان کے پیچھے ایسے لوگ موجود ہوں جو بھوک کی شدت سے مردار کھانے پر مجبور اور ہلاکت کے قریب ہوں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے، اور اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ تم کسی مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرو، یا اس کی کوئی پریشانی دور کر دو، یا اس کا قرض ادا کرا دو، یا اس کی بھوک مٹا دو۔ اور اگر میں اپنے کسی بھائی کی حاجت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلوں تو یہ مجھے مسجدِ نبوی میں ایک ماہ کے اعتکاف سے زیادہ محبوب ہے۔ اور جو شخص اپنے غصے کو پی جائے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جو اپنے غیظ کو روک لے حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید و اطمینان سے بھر دے گا۔ اور جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ اس کا کام ہو جائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قدموں کو ثابت قدمی عطا فرمائے گا، اس دن جب قدم ڈگمگا رہے ہوں گے۔” [صحیح الترغیب، علامہ البانیؒ]
حسن بصریؒ فرماتے ہیں: “لوگوں میں سے کوئی مسلسل کہتا رہتا ہے: حج کروں، حج کروں؛ حالانکہ تم حج کر چکے ہو، اب صلہ رحمی کرو، کسی غم زدہ کی دلجوئی کرو، اپنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرو۔” یہ روایت امام احمدؒ نے “الزہد” میں نقل کی ہے۔ اور یہی امام احمد بن حنبلؒ مال کے بارے میں فرماتے ہیں: “مال کو بھوکے پیٹوں تک پہنچانا مجھے نفلی حج سے زیادہ محبوب ہے۔” حقیقت یہ ہے کہ نیکی اور عملِ صالح کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ یہ صرف عباداتِ فردیہ تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی شخصیت سازی، خاندان کی تعمیر، معاشرے کی اصلاح، وطن کی آزادی، حکومتوں کی درستی اور پوری دنیا میں خیر و بھلائی کے فروغ تک پھیلا ہوا ہے۔
البتہ اس تنوع اور وسعت کے باوجود دل کا ذکرِ الٰہی سے آباد رہنا ضروری ہے، تاکہ زبان تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل میں مشغول رہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے عشرۂ ذی الحجہ میں اس کا حکم دیا ہے۔ تسبیح کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کو ہر عیب، ہر کمی، ہر شریک اور ہر مشابہت سے پاک ماننا۔ تحمید دراصل اللہ کی ان بے شمار نعمتوں پر حمد و شکر ہے جو اس نے ہمیں اسلام، ایمان، اخوت، ہدایت اور عملِ صالح کی توفیق کی صورت میں عطا فرمائی ہیں۔ تکبیر اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اللہ سب سے بڑا، سب سے بلند اور سب سے عظیم ہے، وہی حکمت والی شریعت نازل فرمانے والا ہے۔ اور تہلیل اس عقیدے کا اظہار ہے کہ اللہ کے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی حقیقی رب۔
یہ اذکار جب دل میں اترتے ہیں تو انسان کے باطن کو زندہ کر دیتے ہیں، پھر بندہ اخلاص اور جذبۂ ایمان کے ساتھ نیکی کے مختلف میدانوں میں سرگرم ہو جاتا ہے۔ اور ان مبارک دنوں میں ان اعمال کے ہم پلہ صرف وہ شہادت ہے جو اللہ کی راہ میں جان و مال قربان کر کے حاصل کی جائے۔ کیونکہ شہادت دراصل اس حقیقت کی گواہی ہے کہ اللہ ہی سب سے بڑا اور سب سے عظیم ہے؛ پھر انسان اسی گواہی کی صداقت میں حق کا ساتھ دیتا ہے، اپنی جان اور اپنا مال اللہ کے راستے میں پیش کر دیتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کا خریدار بن جاتا ہے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار