ہم اُس وقت اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور ہوئے جب ہمارے شہروں اور دیہاتوں پر روسی اور سرکاری افواج کی بے رحمانہ یلغار ہوئی۔ حالات ایسے بن گئے کہ ہمیں ہجرت کر کے ترکی میں پناہ لینی پڑی۔ اگرچہ ترکی ایک خوبصورت ملک ہے اور اللہ کے فضل سے ہم یہاں امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نہ وہ خوف ہے نہ وہ دہشت، لیکن اپنے وطن، اپنے لوگوں اور عزیزوں کی یادیں دل سے محو نہیں ہوتیں۔ ہم اکثر انہی کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ مسئلہ دراصل ہمارا نہیں، بلکہ ہمارے بچوں کا ہے۔ وہ ہماری باتیں سن کر پوچھتے ہیں: ہمارا وطن کیسا تھا؟ کیا وہ واقعی خوبصورت تھا؟ کچھ بچوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، مگر کچھ نے اس کی تصویر صرف خبروں، خوف، موت اور تباہی کی کہانیوں سے بنائی ہے۔ ایسے میں دل یہ سوال اٹھاتا ہے کہ تربیت کا کردار کیا ہے؟ ہم اپنے بچوں کے دل میں وطن کی کیسی تصویر اور کیسا تعلق پیدا کریں؟ ہم کس وطن کی بات کریں؟ اُس وطن کی جہاں سے ہم جان بچا کر نکلے، یا اُس کا جس نے ہمیں پناہ، آزادی اور تحفظ دیا؟ اور ان دونوں میں سے کس سے زیادہ وابستگی ہونی چاہیے؟ کس کو اپنی خوبصورت یادوں اور کہانیوں کا حصہ بنائیں؟
الحمد للہ! اللہ کا شکر ہے کہ اس نے زمین کو ہمارے لیے وسیع رکھا۔ اگر ایک جگہ تنگ ہو جائے تو دوسری جگہ اپنے دامن میں جگہ دے دیتی ہے۔ اسی کے لیے حمد و ثنا ہے۔
محترمہ سائلہ! آپ کے دل میں اٹھنے والے یہ متضاد جذبات بالکل فطری ہیں۔ ایک طرف وہ وطن ہے جو آپ کا اصل گھر تھا مگر اب غیر محفوظ ہو چکا ہے، اور دوسری طرف وہ سرزمین ہے جس نے آپ کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہجرت کوئی نئی بات نہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی حبشہ کی طرف ہجرت کی، اور رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ کی طرف۔ ویا نبی کریم ﷺ ہر اس شخص کے دل کو تسلی دے رہے ہیں جو اپنے وطن اور امن کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا ہو، کہ ہجرت ایک محفوظ پناہ گاہ ہے، اگرچہ اس کے ساتھ نامعلوم کا خوف اور اپنے عزیزوں کی جدائی کا غم بھی ہوتا ہے۔
جب نبی کریم ﷺ مکہ سے روانہ ہوئے تو پیچھے مڑ کر اسے دیکھا اور فرمایا: “اللہ کی قسم! تو اللہ کی سب سے بہترین اور مجھے سب سے زیادہ محبوب زمین ہے، اور اگر تیرے لوگوں نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں کبھی تجھے نہ چھوڑتا۔” یقیناً آپ کے دل کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی رہی ہوگی جب آپ مجبورى سے اپنے وطن سے نکلے۔ اللہ آپ کے ان دکھ بھرے لمحات کا بہتر بدل عطا فرمائے۔ آپ نے ہجرت کا جو فیصلہ کیا، وہ درست تھا، کیونکہ ایسی جگہ ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں جہاں انسان کو بنیادی ضروريات، يعنى امن وامان ہی میسر نہ ہو۔
جہاں تک بڑوں کا تعلق ہے، جنہوں نے اپنے وطن کی مٹی میں جینا سیکھا اور اس کی خوشبو کو محسوس کیا، ان کے لیے اپنے وطن سے محبت برقرار رکھنا فطری بات ہے، چاہے انہوں نے کتنی ہی تکلیفیں کیوں نہ دیکھی ہوں۔ کیونکہ اچھی یادیں دل کی گہرائیوں میں جڑ پکڑ لیتی ہیں۔
البتہ وہ بچے جنہوں نے آنکھ ہی تباہی کے مناظر میں کھولی، اگر ان کے دل میں وہی محبت نہ ہو تو یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آپ کی تربیت کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ ان کے سامنے وطن کی ایک متوازن اور خوبصورت تصویر پیش کریں، حقیقت کو سادہ انداز میں بیان کریں، اور دلوں میں واپسی کی امید کو زندہ رکھیں۔ ضروری ہے کہ ان کے اندر اپنے اصل وطن کے ساتھ ایک نرم اور مثبت رشتہ قائم ہو، تاکہ جب وہ کبھی واپس جائیں—اور ان شاء اللہ ایک دن ضرور جائیں گے—تو وہ اپنے وطن سے جذباتی طور پر کٹے ہوئے نہ ہوں۔
ہم بہت سے باشعور والدین کو دیکھتے ہیں جنہوں نے بغیر کسی جنگ یا جبری ہجرت کے، صرف اپنے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہجرت کا انتخاب کیا۔ ایسے والدین اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ اُن کے بچے اپنی شناخت اور اصل سے جڑے رہیں، اور یہ اہتمام وہ یوں کرتے ہیں:
- مادری زبان کی حفاظت کے ذریعے
- اپنے ملک کی تاریخ سے آگاہی دے کر
- اپنے وطن کے نمایاں مقامات اور ثقافت سے وابستگی پیدا کر کے
- وطن کی خبروں اور وہاں ہونے والی پیش رفت سے باخبر رکھ کر
اسی طرح وطنِ اصلی سے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے چند مزید امور بھی مفید ہیں:
- اگر آپ کے پاس اپنے گھر یا محلے کی تصاویر ہوں تو انہیں ایک بڑی تختی پر آویزاں کریں، اور بچوں سے کہیں کہ وہ اُن پر اپنے وطن اور گھر کے بارے میں اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان کریں۔
- اگر آپ کے کچھ رشتہ دار وطن میں ہی مقیم ہوں تو اُن سے مضبوط تعلق قائم رکھیں، حتیٰ الامکان اپنے گھر کو برقرار رکھیں اور کسی قریبی فرد کو اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپ دیں؛ تاکہ جب واپسی ہو تو بچوں کو یہ احساس ہو کہ اُن کے لیے ایک خوبصورت اور مانوس ٹھکانہ موجود ہے۔
ہم آپ کو یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جسمانی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر بھی وطن سے کٹ جانا نہایت خطرناک ہے۔ بہت سے لوگ جو دہائیوں تک اپنے وطن سے دور رہے، آخرکار اپنی زندگی کے آخری ایام اپنے ہی وطن میں گزارنے کے لیے واپس لوٹے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے بچوں کے دل و دماغ میں وطن کی ایک خوشگوار یاد اور مثبت تصویر قائم کریں۔ کیونکہ بعض اوقات مہاجرین کے لیے ممالک اپنے دروازے کھول دیتے ہیں اور ایک مدت تک سہولتیں فراہم کرتے ہیں، مگر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حالات بدل جائیں خدانخواستہ اور میزبان ممالک تنگی اختیار کر لیں یا ایسے قوانین نافذ کریں جو مہاجرین کو واپسی پر مجبور کر دیں۔ ایسے میں اگر ہم نے اپنے بچوں کو اپنے وطن سے مکمل طور پر کاٹ دیا ہو، تو اچانک واپسی کی صورت میں اُن کی کیفیت کیا ہوگی؟
ہم اکثر اپنے فلسطینی بھائیوں کو واپسی کے خواب کا ذکر کرتے سنتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے بہت سے لوگ اپنے نئے ممالک میں مستحکم زندگی گزار رہے ہیں، مگر وطن کی محبت اُن کے دلوں سے کبھی جدا نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہر پردیسی کو اُس کے وطن واپس لوٹائے۔
محترمہ سائلہ
جس طرح اپنے بچوں کے ذہنوں میں وطن کی یاد کو زندہ رکھنا اہم ہے، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے نئے وطن میں بھرپور طور پر ضم ہونے کی کوشش کریں۔ یہی طرزِ عمل بچوں کے دلوں میں “وطن” کے مفہوم کو متوازن انداز میں راسخ کرتا ہے۔ بعض لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ بچوں کو نئے ملک کی زبان نہ سکھائی جائے، جس کے نتیجے میں بچے محدود تعلقات کے دائرے میں قید ہو جاتے ہیں، کیونکہ زبان خود ایک رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یوں ہمارے بچے ایسی سرزمین پر پروان چڑھتے ہیں جہاں وہ نہ اپنے آپ کو مکمل طور پر وابستہ محسوس کرتے ہیں، نہ اپنے اصل وطن سے گہری محبت قائم رکھ پاتے ہیں اور نہ نئے وطن میں صحیح معنوں میں گھل مل پاتے ہیں۔
ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت سے رہنمائی ملتی ہے۔ جب آپ ﷺ مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوئے تو دعا فرمائی: “اے اللہ! مدینہ کو ہمارے لیے اسی طرح محبوب بنا دے جیسے ہمیں مکہ سے محبت ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ!”
آپ ﷺ نے وطن کے مفہوم کو گہرائی سے سمجھایا کہ یہ صرف وہ جگہ نہیں جہاں انسان پیدا ہوا، بلکہ وہ جگہ بھی وطن بن جاتی ہے جہاں وہ اس وقت زندگی گزار رہا ہو۔ یہاں تک کہ جب مکہ فتح ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو وہاں غلبہ عطا فرمایا، تو آپ ﷺ نے اپنی باقی زندگی مدینہ ہی میں گزاری، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال بھی وہیں ہوا۔
پس یہی متوازن رویہ ہونا چاہیے: ہم نئے معاشرے میں اس طرح ضم ہوں جیسے یہاں ہمیشہ رہنا ہے، اور اپنے اصل وطن سے تعلق بھی قائم رکھیں، اس امید کے ساتھ کہ واپسی ایک دن ضرور ہوگی۔ نئے معاشرے میں انضمام کے چند اہم اصول یہ ہیں:
- اُس کی زبان سیکھنا
- اُس کی ثقافت، رسم و رواج کا احترام کرنا
- اُس کے وسائل اور املاک کی حفاظت کرنا
- اُس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا
- وہاں کے قوانین کی پابندی کرنا، چاہے وہ ہمارے سابقہ ماحول سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں
- اُس کے حکمرانوں کا احترام اور فراہم کی جانے والی سہولتوں کی قدر کرنا
- مقامی باشندوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انكى شكر گزاري كرنا اور ان کے ساتھ قدردانی کا رویہ اختیار کرنا، کیونکہ پوری زمین اللہ ہی کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے البتہ موجودہ حالات اور رواج کے مطابق ہم انہیں اسی ملک کے مقامی باشندے کہتے ہیں۔
یہ بھی ذہن میں رہے کہ بعض ممالک مختلف شرائط کے تحت مہاجرین کو شہریت بھی عطا کرتی ہیں، اور یہ شرائط ہر ملک میں مختلف ہوتی ہیں۔ اگر آپ کے لیے ممکن ہو کہ آپ اپنے موجودہ ملک میں ان شرائط کو پورا کر لیں تو یہ آپ کے استحکام کے لیے زیادہ بہتر اور امید افزا ہوگا، خاص طور پر جب آپ خود بھی وہاں قیام کو پسند کرتے ہوں جیسا کہ آپ نے ذکر کیا۔
محترمہ سائلہ
آخر میں ہم اپنی بات دو اہم یاد دہانیوں پر ختم کرنا چاہیں گے:
- رسول اللہ ﷺ جب کسی نئی بستی میں داخل ہوتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے: “اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب ہے اور جو کچھ ان کے سائے میں ہے، اور ساتوں زمینوں کا رب ہے اور جو کچھ ان پر ہے، اور شیاطین کا رب ہے اور جو کچھ انہوں نے گمراہ کیا، اور ہواؤں کا رب ہے اور جو کچھ وہ اڑاتی ہیں۔ ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی اور اس کے رہنے والوں کی بھلائی مانگتے ہیں، اور اس کی برائی، اس کے رہنے والوں کی برائی اور اس میں موجود ہر برائی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔”
- پس اس دعا کو اپنا معمول بنائیں، تاکہ آپ کا قیام اور ٹھکانہ خوشگوار ہو جائے۔
- ہم اپنے بچوں کو یہ اہم بات بھی سمجھائیں کہ ہم اس زمین پر اللہ کے نائب ہیں، اور ہمارا اصل گھر جنت ہے۔ ہم یہاں ایک مقصد کے لیے آئے ہیں، جسے ہمیں بہترین طریقے سے پورا کرنا ہے، تاکہ ہم نعمتوں بھری جنت کے حق دار بن سکیں—جہاں نہ جنگوں کا خوف ہوگا اور نہ ایسے حکمران ہوں گے جو اہلِ ایمان کے حقوق کا خیال نہ رکھیں—وہی جگہ حقیقی سکون اور اطمینان کی ہوگی۔
لہٰذا اپنے بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ ہم جہاں بھی رہیں، اللہ کی زمین پر اس کی امانت کے طور پر رہتے ہیں، اسے آباد کرتے ہیں اور اپنے اچھے کردار کے نقوش چھوڑتے ہیں۔ اور ہمیں گمان ہے کہ آپ، ہمارے شامی بھائی—جیسا کہ آپ کے سوال سے ظاہر ہوتا ہے—محنت، خوش اخلاقی اور تجارت میں مہارت کے ذریعے بہترین مثال قائم کر چکے ہیں۔ یہ آپ کے لیے باعثِ فخر ہے، اور یہی کافی ہے کہ کسی کے بارے میں کہا جائے کہ وہ شامی النسل ہے تو اس کے اچھے اوصاف کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا آپ کے بچوں کو بھی اپنی شناخت پر فخر ہونا چاہیے اور یہ جاننا چاہیے کہ دنیا کی ہر سرزمین ان کے لیے مواقع رکھتی ہے کہ وہ اسے بہتر بنائیں اور مثبت اثر چھوڑیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کے اس جذبے کو قبول فرمائے اور اس میں بركت دے کہ آپ اپنے بچوں کو ان کے وطن سے جوڑے رکھنا چاہتے ہیں اور میزبان ملک کی قدر بھی کرتے ہیں۔ اللہ آپ کے قیام کو بابرکت بنائے اور آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار