انسان جب دل میں وہم کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ حقیقتاً بڑی مشکل میں پھنس جاتا ہے کیوں کہ وہم انسان کا عقیدہ خراب کر دیتا ہے جس سے اس کا عمل بھی پراگندہ ہوجاتا ہے۔ نوبت یہاں تک ہو جاتی ہے کہ انسان اس وہم کا اسیر ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی ایک غیر حقیقی قید میں گزرنے لگتی ہے۔
یہ (وہم) ایک غیر صحت مند حالت ہے جس میں دماغ پہ قابو نہیں ہوتا اور رویہ منفی طور پہ متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا زیرِ نظر تحریر وہم کی حقیقت، مسائل اور اسلامی نقطہ نظر سے اسباب و علاج پر روشنی ڈالے گی:
معنی و مفہوم
وہم کے معنی ابن منظور کی لسان العرب میں یوں بیان ہوئے ہیں کہ یہ دل کے خطرات میں سے ہے، اور اس کی جمع اوہام ہے، اور دل کے لیے وہم ہوتا ہے۔ اور کسی شے کا وہم ہونا: اس کا تصور کرنا اور اسے ذہن میں مجسم کرنا ہے، خواہ وہ وجود رکھتا ہو یا نہیں۔ زہیر نے وہم کے معنی میں کہا: “میں نے بڑی مشقت کے بعد اس گھر کو پہچانا، وہم کے بعد” اور اللہ عز وجل کو بندوں کے اوہام نہیں پا سکتے۔
اور اصطلاح میں: وہ خیال جو ذہن میں وارد ہو، اور یہ انسان کی ایک جسمانی قوت ہے جس کا محل دماغ کے درمیانی جوف کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ اس کا کام محسوسات سے متعلق جزوی معانی کا ادراک کرنا ہے، جیسے زید کی بہادری اور اس کی سخاوت۔ یہی وہ قوت ہے جس کے ذریعے بھیڑ یہ حکم لگاتی ہے کہ بھیڑیا اس سے بھاگنے کے قابل ہے، اور بچہ اس پر مہربانی کا مستحق ہے۔ اور یہ قوت تمام جسمانی قوتوں پر حاکم ہوتی ہے اور انہیں اسی طرح استعمال کرتی ہے جیسے عقل تمام عقلی قوتوں کو استعمال کرتی ہے۔
اور فلسفیانہ نقطۂ نظر سے: یہ ہر وہ خطا ہے جو حسی ادراک، یا حکم، یا منطقی استدلال میں واقع ہو، بشرطیکہ یہ خطا طبعی ہو، اس معنی میں کہ اس کا مرتکب ظاہر کے دھوکے میں آ گیا ہو(یعنی سمجھنے میں غلطی اور خلل واقع ہو جائے)۔ اور یہ ایک ذہنی قبولیت کی حالت ہے جس کا انسان کسی نہ کسی درجے میں شکار ہوتا ہے، کیونکہ اس کی فطرت اوہام کو قبول کرنے اور ان پر اپنا رویہ قائم کرنے پر مائل ہوتی ہے۔ اور چونکہ اس میں عقلی دلائل اور دلائل شامل نہیں ہوتیں، اس لیے اس کی یقینی قوت گھٹ کر اس درجے تک آ جاتی ہے کہ اس سے پھوٹنے والا رویہ بھی بے ترتیب اور غیر منطقی ہوتا ہے۔
یہ وہم محض ایک خیال سے لے کر ایک رویے تک کی شکل بنا لیتا ہے، کیونکہ یہ اپنے اندر موجود افکار کے ذریعے اعضاء کو اپنے حکم پہ چلاتا ہے، لاشعوری طور پر۔ (بات شاید مشکل ہوگئی، مصنف کہنا یہ چاہتے ہیں کہ وہم نہ صرف ایک خیال ہے جو ابتداً بالکل غلط نہیں تھا مگر انسان سے سمجھنے میں یا سوچنے میں کوئی بنیادی غلطی ہوگئی جس کی بنیاد پہ ایک پورا رویہ تبدیل ہوگیا۔ مثال یہ دی جاتی ہے مثلاً آپ مچھر کے سامنے تالی بجائیں تو وہ اڑ جاتا ہے، اس کے پر کاٹ کے تالی بجائیں تو نہیں اڑے گا۔ اب اگر آپ یہ فرض کر لیں کہ پر کٹنے سے یہ بہرا ہوگیا اور تالی کی آواز نہ سن سکا تو یہ وہم ہوگا۔)
اس کے باوجود، ان افکار کی تشکیل اصل میں موجود محسوسات پر ہی مبنی ہوتی ہے، اس معنی میں کہ وہم کی تشکیل حس سے ہی ہوتی ہے، لیکن بعد میں اس میں ایک ارتقا پیدا ہوتا ہے جو اسے بڑھا چڑھا کر ایسا بنا دیتا ہے جو وہ دراصل نہیں تھی۔ لہٰذا انسان جس چیز کو حقیقت سمجھتا ہے اس میں کہیں نہ کہیں خطا ہوتی ہے۔
پس خطا آدھی حقیقت سے بھی ہوسکتی ہے، یا اس کے تجزیہ میں غلطی سے، یا اس پر عمل میں۔ چنانچہ اس خلل کے نتیجے میں تصور میں وہم پیدا ہوتا ہے، اور اسی بنا پر وہ رویے میں بھی ظاہر ہوتا ہے جو انسان کے فکر، جذبات اور عمل کا ترجمان ہوتا ہے۔
اور چند الفاظ وہم کے مفہوم سے متعلق ہیں، ان میں سے ہیں: ظن، خیال، سہو، کذب، خرص، شک، غفلت، جہل، ہوا، شعور، اور التباس۔
وہم کے ذرائع اور اسباب
وہم متعدد مصادر اور اسباب سے تشکیل پاتا ہے، جنہیں درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:
حواس
ان کی صلاحیتیں محدود ہوتی ہیں، مختلف چیزوں کی مشابہت ہمیں وہم میں ڈال دیتی ہے، نیز محض ظاہری شکلوں کو دیکھنے پر اکتفا کرنا بھی وہم کے اسباب میں سے ہے، کیونکہ ہمارے حواس ہمیں حقیقت کو اس کے برعکس دکھاتے ہیں، لہٰذا وہم دراصل ایک بگڑا ہوا ادراک ہے جو حواس کے ذریعے انجام پاتا ہے۔
یہی کچھ بنی اسرائیل کے فرعون کے جادوگروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں ہوا، جہاں انہیں یہ خیال ہوا کہ لاٹھیاں سانپ بن کر حرکت کر رہی ہیں، پھر جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ظاہر ہوا تو سب پر ان کے وہم کی حقیقت واضح ہو گئی، اور جادوگروں نے وہم (اپنے جادو) اور حقیقت (عصا کے معجزے) کے درمیان حقیقی فرق کو پا لیا، پس وہ خوف زدہ ہو گئے اور فرق کو سمجھ کر اپنے خالق کی طرف رجوع کیا اور ایمان لے آئے۔
فکر یا ذہن
فکر کے اپنے نشیب و فراز، پیچیدگیاں اور جال ہوتے ہیں، چنانچہ فکر یادوں اور تصویروں کو محفوظ کرکے انہیں ایک خاص لمحے میں منجمد کر دیتی ہے، اور کسی حقیقت کو عقیدے کے قید خانے میں بند کر دیتی ہے، گویا وہم میں مبتلا شخص اپنے رویوں سے کھیلتا ہے اس طرح کہ انہیں اس عقیدے کا خادم بنا دیتا ہے جسے وہ پہلے ہی قبول کر چکا ہوتا ہے۔ اس پر ہم دین میں ریاکار کے حال سے استدلال کرتے ہیں، جو میدانِ جنگ میں اس گمان کے ساتھ جان دے سکتا ہے کہ وہ دین کا خادم ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ ایسے عقائد کا خادم ہوتا ہے جو خود پسندی اور حبِ ذات پر قائم ہوتے ہیں۔
ابو موسیٰ سے روایت ہے: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کوئی شخص حمیت کے لیے لڑتا ہے، کوئی شجاعت کے لیے، اور کوئی ریا کے لیے، تو ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، وہی اللہ کی راہ میں ہے۔
بخاری
زبان
زبان بھی وہم میں بڑا کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ وہ حقیقت کو مسخ کر کے ادھوری یا غلط معلومات فراہم کرتی ہے، پس جیسے آنکھ بعض اوقات حقیقت کو اس کے برعکس دیکھتی ہے، اسی طرح زبان بھی حقیقت کو اس کے اصل کے خلاف پیش کرتی ہے، اور اکثر اوقات خطا اور وہم زبان کی کمزوری سے پیدا ہوتا ہے، خواہ پیغام دینے والے کی اظہار پر عدم قدرت ہو، یا پیغام وصول کرنے والے کی سمجھ کی کمی، یا خود زبان کی اظہار سے عاجزی۔
نفس
نفس اپنی بقا اور اپنے تحقق کے لیے وہم کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے، چنانچہ خواہش وہم کے اسباب میں سے ایک ہے؛ کیونکہ انسان میں اس بات کی آمادگی ہوتی ہے کہ وہ ہر اس چیز کو قبول کر لے جو حیرت اور اعجاب پیدا کرے اور ذہن کو اس حد تک خوش کرے کہ وہ ان لذت بخش کیفیات کے سامنے ہتھیار ڈال دے، یہاں تک کہ اسے یہ ماننے کی گنجائش ہی باقی نہ رہے کہ اس کی لذت کی کوئی حقیقی بنیاد نہ بھی ہو سکتی ہے۔
وہم ہمیں دنیا کو ویسا دکھاتا ہے جیسا ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہو، فروید اس کے بارے میں کہتا ہے: “یہ خواہش کی حقیقت پر فتح ہے”، اور فرانسیسی فلسفی گوستاف لوبون کہتا ہے کہ یہ “خواہش اور جہل سے بُنا ہوا ہے”، پس وہم، اس کے ساتھ کہ یہ انحراف ہے، ایک جذباتی بہاؤ بھی ہے، اور وہم میں مبتلا شخص ایک دوہری حالت میں ہوتا ہے: ایک طرف وہ اپنے وہم کا شکار ہوتا ہے، اور دوسری طرف وہ اس سے آزاد ہونے سے انکار کر کے اس کے ساتھ سازباز بھی کرتا ہے۔
نفس جب کسی چیز سے محبت کرتا ہے تو اس کے پیچھے لگ جاتا ہے، پس وہم انسان کو مظاہر میں قید کر دیتا ہے— جیسا کہ افلاطون نے کہا۔ یہاں تک کہ وہ ممکنہ حد تک اسی کے حصول میں لگ جاتا ہے، اور بہت سے امور کی طرف دوڑتا ہے جو سب کے سب اسی کے گرد گھومتے ہیں۔ چنانچہ جس نے مذموم محبت کی یا مذموم بغض رکھا اور اس پر عمل کیا تو وہ گناہ گار ہوگا، مثلاً وہ کسی شخص سے حسد کی بنا پر بغض رکھے اور اس کے متعلقین کو نقصان پہنچائے، یا تو ان کے حقوق روک کر یا ان پر زیادتی کر کے۔ یا کسی سے اپنی خواہش کی بنا پر محبت کرے، تو اس کے لیے ایسے کام انجام دے جو حرام ہوں یا وہ اعمال جو اللہ کی طرف سے مأمور ہوں مگر وہ انہیں اللہ کے لیے نہیں بلکہ اپنی خواہش کے لیے انجام دے۔
قرآنی نصوص میں وہم کے اسباب
قرآنی نصوص اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہم درج ذیل اسباب کی طرف لوٹ سکتا ہے:
تقلید
اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کی بات یا عمل کی پیروی کرے اور اسے حق سمجھے، بغیر اس کے کہ دلیل میں نظر و تأمل کرے۔ اور یہ تقلیدی رویہ بطور ایک تعبّدی مظہر منتقل ہوا۔
﴿بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّهْتَدُونَ﴾
الزخرف: ٢٢
ترجمہ: “بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں”
﴿أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾
البقرة: ١٧٠
ترجمہ: اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟
جلدبازی
﴿وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ عَجُولًا﴾
الإسراء: ١١
ترجمہ: انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔
جہل
پس جہالت پر قائم رہنا اور اس پر اصرار کرنا، اس طور پر کہ حق کو رد کیا جائے اور اس سے اعراض کیا جائے، وہم کی پیروی اور اس کے عقل، نفس اور شعور میں راسخ ہونے کا راستہ ہے۔
﴿وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا﴾
النجم: ٢٨
ترجمہ: حالانکہ اس معاملہ کا علم انہیں حاصل نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔
اتباعِ خواہش
کیونکہ خواہش اس خفی مراد کی تشکیل کرتی ہے جسے ہم چاہتے اور پسند کرتے ہیں، اور یہ اس چیز کی موجودگی سے لذت بھی حاصل کرتی ہے جو اس کے غلبے کو شخصیت پر مزید مضبوط کرے، اور ان میں اوہام بھی شامل ہیں؛ پس جوں جوں خواہش اپنے صاحب پر غالب ہوتی جاتی ہے، توں توں فرد میں اوہام کی وسعت اور گہرائی بڑھتی جاتی ہے۔
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾
النساء: ١٣٥
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو گرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی پٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔
تکبر اور غرور
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حق کے انکار سے تعبیر فرمایا ہے، پس تکبر انسان کو اس کے اوہام کو بڑھا چڑھا کر دیکھنے پر آمادہ کرتا ہے جو اس کی اپنی ذات کے بلند اندازے پر قائم ہوتے ہیں۔
﴿وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ﴾
القصص: ٣٩
ترجمہ: اور اس نے استکبار کیا اور اس کی فوج نے بغیر حق کے اور وہ سمجھتے رہے کہ ان کو پلٹ کر آنا نہیں ہے۔
حقیقت کا غیاب
﴿وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ ۚ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا﴾
النساء: ١٥٧
ترجمہ: خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابنِ مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے۔
حقیقت کا یہ غیاب متعدد سوالات کے لیے میدان کھول دیتا ہے؛ پس سوالات بڑھ جاتے ہیں اور مختلف صورتیں اختیار کر لیتے ہیں، تاکہ تاریک یا مسخ شدہ دائرہ مزید وسیع ہو جائے، اور نتیجتاً پیش کردہ تصور پر کامل ایمان حاصل نہیں ہو پاتا۔
حجت و برہان کی کمزوری
﴿إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ﴾
النجم: ٢٣
ترجمہ: دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی خاص خیال کو بغیر مضبوط دلیل اور قاطع حجت کے پیش کرنا اس پیغام کو وصول کرنے والے کو اس کے تجزیے میں وہم میں مبتلا ہونے کا موقع دے گا۔
ماحول اور سماجی حالات
پس سماجی ماحول ان لوگوں پر جو اس میں رہتے ہیں اور اس کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں، رہنمائی اور دباؤ کے وسائل میں سے ایک ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے جماعتوں کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مخصوص گروہ کا کسی خاص وہم پر جمع ہو جانا — چاہے وہ کسی بھی نوعیت کا ہو— اس وہم کو ابتدائی طور پر سماجی قبولیت عطا کر دیتا ہے، اور پھر وہم کی تشکیل میں مدد دینے والے دیگر اسباب کے باہمی تعاون کے نتیجے میں یہ سماجی قبولیت مزید گہری اور ہمہ گیر ہو سکتی ہے۔
﴿قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
المائدة: ١٠٠
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ خبیث و طیب برابر نہیں ہو سکتے کہ اگرچہ کہ تمہیں خبیث کی کثرت دلپسند لگے۔ اے عقل والو! اللہ سے ڈرو امید ہے کہ فلاح پاؤ۔
دوسری جانب، سماجی جبر اور سیاسی استبداد، ظلم، نامعلوم کا خوف، بہتر تبدیلی سے مایوسی، محرومی اور بے بسی کا احساس، اور اس فکر کا غلبہ جو انسان سے اس کا یہ حق چھین لے کہ وہ ایک مؤثر اور فعال انسان بنے— جو درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی — انسان کو ایک خوف زدہ اور سہمے ہوئے وجود میں بدل دیتا ہے، اور اسے اس بات پر قائل کر دیتا ہے کہ وہ محض ایک بے اختیار شے ہے جس کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں۔ یہ سب اور اس کے علاوہ دیگر عوامل خرافات اور اوہام کے غلبے، ان کے پھیلاؤ، اور ان کے محض کہی جانے والی باتوں یا عارضی رویوں سے بڑھ کر ایک طرزِ حیات اور اندازِ فکر میں تبدیل ہو جانے کے اسباب ہیں۔
اسلامی طور پہ علاج
وہم ایک پیچیدہ ساخت اور کثیر جہتی مرض ہے؛ لہٰذا اس کے علاج کے لیے فکر کی اصلاح اور نفس کا تزکیہ ضروری ہے تاکہ اس کے منفی اثرات سے پاک ہو کر بعد ازاں رویہ درست ہو جائے اور صواب کی طرف لوٹ آئے۔ اور ہم تربیتِ اسلامی میں اس مرض کے ساتھ معاملہ کرنے کے متعدد اسالیب پاتے ہیں، جن میں سے بعض احتیاطی ہیں اور بعض علاجی، اور ان میں سے چند یہ ہیں:
اللہ کے ساتھ تعلق کی نشوونما
کیونکہ وہم کی خطرناک نفسیاتی حالتیں ہوتی ہیں جو وہم میں مبتلا شخص کے دل میں خوف، اضطراب، مایوسی، حزن، ناکامی، تردد، بے بسی اور سستی پیدا کرتی ہیں۔ اور انسان بسا اوقات اپنے اوہام کے قید خانے میں طویل عرصہ تک پڑا رہتا ہے، اس کی ارادہ قوت مفلوج اور کارکردگی کمزور ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر تربیتِ اسلامی اپنے ماننے والے کو دیگر ہدایات کے ساتھ اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ وہ ذکر اور دعا کے ذریعے اللہ سبحانہ کی طرف دائمی رجوع رکھے، کیونکہ اس میں وہ سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے جو خوف کی ان حالتوں کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے جن پر تمام مخلوق بلا استثنا فطری طور پر قائم ہے۔
عقلی صلاحیتوں کی تزکیہ
یہ فکر کے راستے کی اصلاح اور عقلی صلاحیتوں کو ان مقاصد کی طرف متوجہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے جن کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ اور اندازِ فکر کی اصلاح کے ذریعے، کیونکہ تربیتِ اسلامی کا انسان خود احتسابی، تجدید، اور ظن و خواہش کے بجائے سائنسی طرزِ فکر پر تربیت پاتا ہے۔
فرد کی رہنمائی میں جلدی کرنا
اس سے پہلے کہ وہ وہم کی تعمیر شروع کرے؛ صفیہ رضی اللہ عنہا، زوجِ نبی کا واقعہ اس کی تائید کرتا ہے:
صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، تو میں رات کو آپ کی زیارت کے لیے آئی، میں نے آپ سے بات کی، پھر میں واپس ہونے کے لیے اٹھی، تو آپ میرے ساتھ کھڑے ہوئے تاکہ مجھے واپس چھوڑ آئیں — اور ان کا گھر اسامہ بن زید کے مکان میں تھا — اسی دوران انصار کے دو آدمی گزرے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے آگے بڑھ گئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اور مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی بات ڈال دے۔”
متفق علیہ
وہم کی درست تعیین کے ساتھ سامنا
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: “میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوا جب کہ آپ ایک چٹائی پر تھے، میں بیٹھ گیا، آپ کے بدن پر ایک تہبند تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا، اور چٹائی نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیا تھا، اور میں نے ایک مٹھی جو دیکھی جو تقریباً ایک صاع کے برابر تھی، اور کمرے کے ایک کونے میں کچھ پتے تھے، اور ایک کھال لٹکی ہوئی تھی، تو میری آنکھیں بھر آئیں۔ آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب! تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی آپ کے پہلو پر نشان ڈال رہی ہے، اور آپ کا یہ خزانہ ہے جس میں میں وہی کچھ دیکھ رہا ہوں جو دیکھ رہا ہوں، جب کہ کسریٰ اور قیصر باغات اور نہروں میں ہیں، اور آپ اللہ کے نبی اور اس کے برگزیدہ ہیں، اور یہ آپ کا خزانہ ہے! آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں”
رواہ ابن ماجہ
یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس تصور کی اصلاح واضح ہوتی ہے جو مادی آسائش کے معیار سے متعلق تھا، جسے وہ مسلمانوں کی حالت میں دیکھنا چاہتے تھے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ضروری سمجھتے تھے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنے والی چیز پر راضی رہنے میں دائمی راحت دیکھتے ہیں، اور دنیاوی آسائش مسلمانوں کی زندگی میں لازمی معیار نہیں ہے۔
وہم کے خطرے کو نتائج سے واضح کرنا
اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا، پس ہم نے انہیں شکست دی، اور میں اور ایک انصاری ایک شخص کے پیچھے لگ گئے۔ جب ہم اس پر غالب آئے تو اس نے کہا: لا إله إلا الله۔ انصاری نے اس سے ہاتھ روک لیا، لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے مار دیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ جب ہم واپس آئے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: “اے اسامہ! کیا تم نے اسے اس کے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کیا؟” میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو محض پناہ لینے کے لیے کہہ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: “کیا تم نے اسے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کیا؟” وہ فرماتے ہیں کہ آپ بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
رواہ مسلم
اس حدیث سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا موقف واضح ہوتا ہے جب ان کا وہم انہیں ایسے تصور کی طرف لے گیا جو حقیقت میں موجود نہ تھا، تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں سخت خطاب کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ انہوں نے تمنا کی کہ کاش ان کا اسلام ان کے اس فعل کے بعد ہوتا تاکہ وہ سابقہ کو مٹا دیتے، کیونکہ انسان کا علم اسی چیز تک محدود ہوتا ہے جو زبان ظاہر کرتی ہے، نہ کہ ان خیالات اور جذبات تک جو دوسرے کے دل میں گردش کر رہے ہوتے ہیں۔
دلائل کو قناعات سمجھ کر دیکھنا
وہم میں مبتلا شخص کے دلائل کو محض جوازات نہیں بلکہ قناعات سمجھ کر دیکھنا چاہیے، اور ان کے ساتھ ایسا اسلوب اختیار کرنا چاہیے جو عقل پر مبنی ہو اور حجت و برہان پر قائم ہو۔
انسانی ضروریات کو مخاطب کرنا
جیسا کہ اس نوجوان کے واقعے میں وارد ہوا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زنا کی اجازت طلب کی:
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے۔ تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے جھڑکا اور کہا: بس کرو، بس کرو! آپ نے فرمایا: “اسے قریب لاؤ”، پس وہ قریب آیا اور بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: “کیا تم اسے اپنی ماں کے لیے پسند کرتے ہو؟” اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ نے فرمایا: “لوگ بھی اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے”۔ پھر فرمایا: “کیا تم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتے ہو؟” اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ نے فرمایا: “لوگ بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے”۔ پھر فرمایا: “کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرتے ہو؟” اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ نے فرمایا: “لوگ بھی اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے”۔ پھر فرمایا: “کیا تم اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتے ہو؟” اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ نے فرمایا: “لوگ بھی اسے اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر فرمایا: “کیا تم اسے اپنی خالہ کے لیے پسند کرتے ہو؟” اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ نے فرمایا: “لوگ بھی اسے اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے”۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور فرمایا: “اے اللہ! اس کے گناہ کو بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے، اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما”، پس اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف متوجہ نہ ہوا۔
رواہ احمد بإسناد صحیح
فکر اور تصور کی اصلاح سے رویے کی اصلاح
انسانی غلطیوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا جو جامع ہو اور جس کی بنیاد فکر اور تصور کی اصلاح سے شروع ہو کر خود رویے کی اصلاح پر ختم ہو، اور یہی طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا جب آپ نے ان تین افراد کے رویے کو درست کیا جنہوں نے عبادت میں غلو اختیار کیا تھا جو عبودیت کے صحیح تصور کے خلاف تھا۔
تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھروں میں آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھنے لگے، جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا: ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! ان کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور فرمایا: “کیا تم وہی لوگ ہو جنہوں نے یہ یہ کہا تھا؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں”
بخاری
خاتمہ
بے شک وہم ایک خطرناک مرض ہے، جب یہ انسان پر غالب آ جائے تو اس کا توازن چھین لیتا ہے، اس کی توانائیوں کو معطل کر دیتا ہے، اس کی کامیابیوں کو کم کر دیتا ہے، اور اس کے رویے پر حاوی ہو جاتا ہے، چنانچہ اسے اس بات سے محروم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ داخلی سکون اور دوسروں کے ساتھ خارجی امن کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ پس مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ اسے اس مرض سے نجات دے، اور اسے چاہیے کہ وہ اس کے خلاف جدوجہد کرے، اپنے آپ کو کامیاب اعمال میں مشغول کرے، اور ایسے متوازن لوگوں کی صحبت اختیار کرے جو اپنے معتدل رویوں کے ذریعے اسے اوہام سے نجات پانے میں مدد دیں۔ اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ جرات پیدا کرے مگر بے احتیاطی کے بغیر، اور تردد سے دور رہے جو وہم کے برے اثرات میں سے ایک ہے، اگر وہ اپنی زندگی میں اور دوسروں کے ساتھ خوشی سے جینا چاہتا ہے۔
مترجم: زعیم الرحمان
المصدر: الوهم.. أسبابه وأساليب تربوية للعلاج