ہر قوم کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے درست تربیت کے راستے پر لے جائیں، کیونکہ یہی تربیت ترقی کی بنیاد بنتی ہے اور اخلاق کو بلندی عطا کرتی ہے۔ حسن الجمل، جو (اخوان المسلمین کے) ایک رکنِ پارلیمان اور سیاستدان تھے … انہی لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اصلاح اور تربیت کا راستہ اختیار کیا اور اپنی جدوجہد اور صبر کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔
حسن الجمل کا کہنا تھا کہ تربیت انسان کے ساتھ زندگی بھر رہتی ہے اور دوسروں پر اس کا تاثر قائم کرتی ہے، کیونکہ یہی چیز انسان کے رویے کو سمت دیتی ہے۔ بلکہ تربیت ان اہم عوامل میں سے ہے جو اخلاق کی تشکیل کرتی ہے۔
حسن الجمل کی ابتدائی زندگی
حسن الجمل قاہرہ کے جزیرہ الروضہ کے علاقے منیل میں پیدا ہوئے، جو ایک باوقار علاقہ تھا جہاں شاہی محلات بھی موجود تھے۔ وہ 6 اکتوبر 1930ء کو ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے کیونکہ انہیں اپنے والد کے ساتھ کام کرنا پڑا۔ ان کا کام “فراشہ” (تقریبات اور اجتماعات کی انتظامی خدمات) سے متعلق تھا، جو خوشی اور غم دونوں مواقع پر لوگوں میں عام تھا۔
منیل الروضہ کا علاقہ ایسا تھا جہاں امام حسن البنا اکثر آتے تھے، اور وہاں اخوان المسلمون کی ایک مضبوط شاخ بھی موجود تھی۔ انہی اجتماعات اور کانفرنسوں کے ذریعے، جن میں ہزاروں نوجوان شریک ہوتے تھے، حسن الجمل نے 1942ء میں امام حسن البنا سے ملاقات کی۔ وہ ان کے اندازِ دعوت سے متاثر ہوئے، ان سے وابستہ ہو گئے، اور اخوان کی منیل شاخ میں شامل ہو کر اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالعہ کا شوق بھی اپنایا اور بہت سی کتابیں پڑھیں۔
حسن الجمل فلسطین میں
جب فلسطین اور اس کے عوام پر خطرات کے آثار ظاہر ہونے لگے، جسے امام حسن البنا اور اخوان نے بھانپ لیا تھا — تو پورے عرب دنیا میں اخوان نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے جہاد کے لیے رضاکاروں کی رجسٹریشن شروع کی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں نوجوان سامنے آئے۔ حسن الجمل بھی طبی معائنے میں کامیاب ہوئے اور فلسطین جانے والے پہلے قافلے میں شامل ہوئے۔ ان کے والد نے انہیں جانے سے نہیں روکا۔ انہوں نے اپنی یونٹ کے ساتھ کئی مقامات کی آزادی میں حصہ لیا، جن میں “صور باہر” (یروشلم کے جنوب مشرق میں ایک گاؤں) بھی شامل ہے۔ وہ یروشلم پہنچے اور مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی۔ وہ وہاں اس وقت تک رہے جب تک امام حسن البنا شہید نہ ہو گئے اور جماعت کو تحلیل نہ کر دیا گیا۔
بعد میں جب وزیر اعظم نقراشی پاشا نے اخوان المسلمون کو تحلیل کرنے اور اس کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، تو حسن الجمل بھی گرفتار ہو گئے اور انہیں طور جیل میں رکھا گیا۔ وہ تقریباً ایک سال تک قید رہے، پھر رہا کر دیے گئے۔ اس کے بعد 1951ء میں حسن الہضیبی کو اخوان کا مرشدِ عام منتخب کیا گیا۔
اکتوبر 1951ء میں جب 1936ء کا معاہدہ ختم کیا گیا، تو اخوان کے طلبہ نے مزاحمتی محاذ قائم کیے۔ فلسطین جنگ میں حصہ لینے والے افراد نے بھی مختلف محاذوں پر دشمن کو شدید نقصان پہنچایا، جس کا ذکر اخبارات میں بھی آیا۔
1954ء میں “واقعہ منشیہ” کے بعد حسن الجمل کو دوبارہ گرفتار کیا گیا اور وہ 1956ء کے آخر تک قید میں رہے، پھر رہا ہوئے لیکن مسلسل نگرانی میں رہے۔
حسن الجمل: ایک فلاحی ادارہ
جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کام کیا، اپنے خاندان کی کفالت کی، اور ساتھ ہی اپنے گرفتار ساتھیوں کے خاندانوں کی بھی مدد کی۔ انہوں نے نوجوانوں کی تربیت پر خاص توجہ دی، خصوصاً قاہرہ یونیورسٹی کے طلبہ کی۔ 1965ء میں جب جمال عبد الناصر نے ماسکو سے اعلان کیا کہ پہلے گرفتار ہونے والوں کو دوبارہ گرفتار کیا جائے گا، تو حسن الجمل بھی اس مہم میں گرفتار ہو گئے (جسے سید قطب تنظیم کے نام سے جانا جاتا ہے)۔ اس دوران ان کے سسر بھی گرفتار ہوئے، اور ان کے والد اس صدمے کو برداشت نہ کر سکے اور انتقال کر گئے۔ حسن الجمل تقریباً تین سال تک جیل میں رہے اور 1968ء کے آخر میں رہا ہوئے۔
1967ء کی شکست کے بعد جب یونیورسٹیوں میں تحریک اٹھی اور نوجوانوں نے دین کی طرف واپسی اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا، تو حسن الجمل نے نوجوانوں کو دین کی تعلیم دی اور اخوان کی جدوجہد سے آگاہ کیا۔ اس طرح ایک نئی اسلامی بیداری کی تحریک ابھری، خصوصاً صدر سادات کے دور میں۔
وہ نوجوانوں کے لیے تربیتی کیمپ بھی منعقد کرتے تھے، حتیٰ کہ ایک موقع پر انہوں نے مرشد عمر التلمسانی کو بھی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مدعو کیا۔
انہوں نے فلاحی کاموں میں بھرپور حصہ لیا — غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کی مدد کی، اور کئی فلاحی ادارے، اسکول، یتیم خانے، مساجد، قرآن حفظ کرنے کے مراکز، اسپتال، اور شادی میں مدد کے پروگرام قائم کیے۔
ایک اخبار نے انہیں یوں بیان کیا:
وہ شخص جو صرف چار گھنٹے سوتا ہے اور باقی وقت لوگوں کی خدمت میں گزارتا ہے
اخبار کا بیان
تعلیمی اور پارلیمانی خدمات کی علامت
ڈاکٹر عبداللہ العقیل کہتے ہیں کہ حسن الجمل بہترین اخلاق، عاجزی، خوش مزاجی، اور دوسروں کی مدد کے جذبے کے لیے مشہور تھے۔ وہ مظلوموں کی مدد کرتے، بیواؤں اور یتیموں کا سہارا بنتے، اور لوگوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے تھے۔
صلاح عبد المقصود بیان کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ جیل میں رہے، جہاں حسن الجمل ایک بہترین رہنما اور مربی کی طرح تھے۔ انہوں نے جیل میں تعلیمی حلقے، قرآن حفظ کے مراکز اور دینی و سائنسی تعلیم کے ادارے قائم کیے۔
ایک افسر نے ایک بار ان سے کہا:
آپ نے فلاحی کاموں میں تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ وزارتیں بھی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
ایک سرکاری افسر
پارلیمنٹ کے رکن ہونے کے باوجود، وہ نوجوانوں کی تربیت میں مصروف رہے۔ خطابات، کھیلوں کے مقابلے، قرآن حفظ کی مسابقات، اور تربیتی کیمپ منعقد کرتے رہے۔
1979ء کے انتخابات میں انہوں نے حصہ لیا اور کامیاب ہو کر اخوان کے پہلے پارلیمانی رکن بنے۔ بعد میں 1984ء اور 1987ء میں بھی منتخب ہوئے۔
1990ء میں میڈرڈ کانفرنس کے خلاف انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کے بعد حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔
1995ء میں بھی انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور تین سال قید کی سزا سنائی گئی، جو انہوں نے بیماری کے باوجود مکمل کی۔
وفات
حسن الجمل اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ وہ بدھ کی صبح 30 ستمبر 1998ء (9 جمادی الثانی 1419ھ) کو وفات پا گئے۔
ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جن میں اس وقت کے مرشد مصطفیٰ مشہور بھی شامل تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ قاہرہ کے منیل علاقے کی مسجد الباشا میں ادا کی گئی اور انہیں اخوان کے دیگر رہنماؤں کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 68 سال تھی۔
مترجم: سجاد الحق
المصدر: حسن الجمل.. أيقونة العمل التربوي والخيري