جو شخص ہمارے خطے میں تعلیمی فکر کی تاریخ اور اس کے ارتقا کا مطالعہ کرتا ہے وہ اس حقیقت تک پہنچتا ہے کہ ہمارے پاس تعلیم و تربیت کے نہایت زرخیز نظریات اور تصورات موجود رہے ہیں۔ یہ نظریات انسانی تاریخ کے ایک طویل عرصے تک غالب رہے اور ان کا بنیادی سرچشمہ دینِ اسلام تھا۔ یہاں تک کہ یورپ نے بھی قرونِ وسطیٰ میں اسلامی تعلیمی فکر کو ایک معتبر ماخذ کے طور پر دیکھا اور اس سے بھرپور استفادہ کیا۔
لیکن جدید دور میں عرب اور اسلامی دنیا مغربی استعمار کے زیرِ اثر آگئی۔ جب یہ استعمار ظاہری طور پر ختم ہوا تو اپنے پیچھے ایک اور زیادہ خطرناک اور گہری قسم کی وابستگی چھوڑ گیا، “جسے فکری و تعلیمی تابع داری” کہا جا سکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشروں کے بعض اہلِ علم اور دانشور اسی فکری تابع داری کو “ترقی” اور “مہذب ہونے” کی علامت سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ رویہ عرب و اسلامی تہذیبی شناخت کے لیے نقصان دہ ہے۔
اگر ہم یہ کہیں کہ معاصر عربی تعلیمی فکر کے بحران کی بنیادی وجہ مغربی فکر کی اندھی تقلید ہے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ خالص اور اصیل عربی تعلیمی فکر کم ہی دکھائی دیتی ہے، جب کہ مغربی (یورپی اور امریکی) نظریات اور تصورات کو ان کے اصل معاشرتی سیاق سے نکال کر عرب معاشروں میں منتقل کر دیا گیا، حالانکہ عرب اور مغربی معاشروں کے حالات اور ثقافتی ماحول میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
مغربی تعلیمی فکر کی درآمد اور اس کے نقصانات
مصر کی عین شمس یونیورسٹی کے ماہرِ تعلیم ڈاکٹر مصطفیٰ عبدالقادر زیادۃ اپنی کتاب “تجدید الفكر التربوي العربي ومتطلباته في القرن الحادي والعشرين” میں لکھتے ہیں کہ معاصر عربی تعلیمی فکر کے بحران کو اس حقیقت نے مزید سنگین بنا دیا کہ عرب دنیا کو مغرب سے ماہرین تعلیم درآمد کرنے پڑے جو اس کی جامعات، اداروں اور مدارس میں کام کرنے لگے۔ اسی طرح بڑی تعداد میں طلبہ کو مغربی ممالک میں تعلیم کے لیے بھیجا گیا۔
ان نسلوں نے مغربی تعلیمی فکر کو تقریباً واحد متبادل کے طور پر پیش کیا، حالانکہ درحقیقت یہ صرف چند نظریات، آرا اور اجتہادات تھے جو مغربی معاشروں کے مخصوص حالات اور سماجی ڈھانچے کے مطابق وجود میں آئے تھے۔
آج کے دور میں عرب اور اسلامی دنیا کے لیے فکری خود مختاری کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ بعض عالمی رجحانات اسلام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور “عالمگیریتِ فکر و ثقافت” کے نام پر عرب و اسلامی شناخت کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ بعض حلقے تو یہاں تک مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری تعلیمی پالیسیوں اور نصاب کو عالمی رجحانات کے مطابق تبدیل کر دیا جائے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم دوسروں کے تجربات اور افکار سے استفادہ کرنے کے مخالف نہیں ہیں۔ تاہم یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ تعلیم ہر معاشرے کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس لیے کسی ایسے تعلیمی نظریے کو جوں کا توں اختیار نہیں کیا جا سکتا جو کسی اور معاشرے میں کامیاب رہا ہو، کیونکہ وہ فکر ایک ایسی زمین اور ماحول میں پروان چڑھا ہے جو عربی اور اسلامی ثقافت کی زمین اور ماحول سے مختلف ہے۔
اس مؤقف کے پس منظر میں چند اہم وجوہات ہیں:
- مغربی اور امریکی تعلیمی فکر بنیادی طور پر ایک صنعتی اور مادی تہذیب کی پیداوار ہے۔
- یہ فکر انہی معاشروں کے مقاصد اور ضروریات کی خدمت کرتی ہے جن میں وہ پیدا ہوئی۔
- یہ نظریات مغربی دنیا کے موجودہ طبقاتی ڈھانچے کے مطابق ہیں۔
معاصر مغربی تعلیمی مکاتبِ فکر کا تنقیدی جائزہ
1- پراگمیاتی فکر (Pragmatic Thought)
پراگمیاتی مکتبِ فکر کی بنیاد مختلف سابقہ فلسفیانہ نظریات پر رکھی گئی، جن میں ڈارون کا نظریۂ ارتقا اور utilitarianism (نفع پسندی) شامل ہیں۔ جس کے مطابق اشیاء کی قدر ان کے استعمال اور فائدے سے متعین ہوتی ہے اور اس فکر میں روحانی پہلو کو تقریباً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
فلسفۂ معاصر میں پراگماتی مکتبِ فکر کو ایک ایسا نظریہ سمجھا جاتا ہے جس کی پیدائش، ترقی اور عملی اطلاق امریکہ میں ہوا۔ فلسفیانہ اور تعلیمی مکاتبِ فکر میں کوئی دوسرا نظریہ قوت، اثر و رسوخ اور پھیلاؤ کے اعتبار سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکا۔
اس مکتبِ فکر پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ یہ سیکھنے کے عمل میں “ذاتی تجربے” پر حد سے زیادہ زور دیتا ہے۔ اس کے مطابق تعلیم کے تمام مضامین چاہے وہ ریاضی ہوں، تاریخ ہو، جغرافیہ ہو یا طبعی علوم روزمرہ زندگی کے تجربات سے اخذ کیے جانے چاہییں۔ اس تصور کے نتیجے میں ایک محدود تجربی رویہ جنم لیتا ہے۔ مزید یہ کہ اس نظریے میں طالب علم کو تعلیمی عمل کا محور قرار دیا جاتا ہے اور پیشگی منصوبہ بندی یا تعلیمی اہداف کے تعین کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
اس کے نتیجے میں ذاتی تجربہ اور فرد کی کامیابی کو اخلاقیات کا معیار قرار دیا جاتا ہے، جب کہ انسانی تاریخ کے اجتماعی تجربات کو ثانوی حیثیت ملتی ہے۔ اس فکر کے مطابق جو چیز فرد کے لیے مفید ہو وہی معاشرے کے لیے بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس طرح فرد کو ایسے سرمایہ دارانہ معاشرے کے لیے تیار کیا جاتا ہے جس میں شدید مقابلہ آرائی اور انفرادیت پسندی غالب ہو، حتیٰ کہ “بقا اسی کی جو زیادہ طاقتور ہو” کا اصول نمایاں ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی اقدار اسلامی معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں۔
2- وجودی فکر
وجودیت ایک یورپی فلسفہ ہے جس کے نمایاں مفکرین میں سارتر، کامو، یونسکو اور نیلر شامل ہیں۔ یہ فلسفہ بیسویں صدی کے پچاس کی دہائی کے وسط میں خاص طور پر مقبول ہوا۔
وجودی مفکرین کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد فرد کی انفرادیت کا تحفظ ہے، کیونکہ ان کے خیال میں انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ اجتماعیت (جماعت) ہے، جو انسان کو ایک بے اختیار مخلوق یا محض حیوان بنا دینا چاہتی ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک تعلیمی عمل کو زیادہ سے زیادہ انفرادی ہونا چاہیے اور طلبہ کے اجتماعی کام سے حتیٰ الامکان دور رہنا چاہیے۔
یہ فلسفہ مطلق اخلاقی اقدار کا انکار کرتا ہے اور یہ تصور پیش کرتا ہے کہ فرد خود فیصلہ کرے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ اس نظریے کے مطابق طلبہ کو کسی خاص اخلاقی قدر کی تعلیم دینا یا ان پر اسے مسلط کرنا درست نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اخلاق اور تعلیم کے بارے میں یہ وجودی تصور اسلامی معاشروں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟
لیکن عرب اور اسلامی معاشروں کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں مذہب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مذاہب مطلق اخلاقی اقدار کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کی پابندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اسلام بھی فرد کی قدر و منزلت کو تسلیم کرتا ہے، مگر اخلاقی معیار کے دائرے میں۔
3- فرائیڈ کی فکر
نفسیاتی تجزیے کے مکتبِ فکر (School of Psychoanalysis) کے بانی سیگمنڈ فرائڈ (1856–1939ء) ہیں، اور بعد میں ان کے شاگردوں اور پیروکاروں نے اسے مزید فروغ دیا۔ اس مکتبِ فکر نے جدید علمِ نفسیات اور تعلیمی نظریات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
فرائڈین مفکرین انسان کی نفسیاتی نشوونما کی ایک انتہائی مایوس کن اور تلخ تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی داخلی نفسیاتی ساختیں ہی سماجی تعلقات کو تشکیل دیتی اور متعین کرتی ہیں۔ وہ حیاتیاتی جبلتوں اور لاشعوری محرکات کو بچے کے رویے کی تشکیل میں بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کے رویے میں خود غرضی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
ان کے مطابق معاشرہ چاہے جتنی بھی کوششیں اور دباؤ ڈالے، ان جبلتوں اور محرکات پر قابو پانا آسان نہیں ہوتا۔ انسانی رویے میں جبلتی عوامل کے اس غالب اثر پر زور دینے کی وجہ سے فرائڈین ماہرینِ تعلیم طلبہ کی کج رویوں اور غلطیوں کے بارے میں ایک منفی اور غیر فعال رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بچوں کی جارحیت، غلطیاں اور حد سے تجاوز کو سختی سے روکنے کے بجائے بردباری، رویوں کے محرکات کو سمجھنے اور انہیں برداشت کرنے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
یہ نظریہ ایک اور نتیجے تک بھی پہنچاتا ہے، اور وہ یہ کہ یہ فکر عملی طور پر انسان کی اخلاقی ذمہ داری کا تقریباً انکار کرتی ہے، کیونکہ اس کے مطابق انسان کی ارادہ و اختیار پر ایسے محرکات اثر انداز ہوتے ہیں جن سے وہ نہ پوری طرح واقف ہوتا ہے اور نہ ان پر قابو رکھتا ہے۔ کیا یہ نظریہ ہمارے عرب و اسلامی معاشروں میں تعلیم و تربیت کی سمت کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔
تعلیمی فکر کی تجدید کے تقاضے
اوّل: اسلامی مرجعیت کو بنیادی ماخذ کے طور پر اختیار کرنا
ہمارے تعلیمی فکر کے بنیادی ماخذ کے طور پر اسلامی مرجعیت کو اختیار کرنا ضروری ہے، اور اس کے کچھ اصول اور نمایاں خصوصیات ہیں:
مقومات (بنیادی حقائق)
﴿اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے﴾
الزمر: 62
﴿وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، وہی بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے﴾
الحشر: 22
﴿اپنے بلند و برتر رب کے نام کی تسبیح کرو، وہ جس نے پیدا کیا اور پھر ہر چیز کو ٹھیک ٹھیک بنایا، اور جس نے ہر چیز کا اندازہ ٹھہرایا پھر اسے اپنی راہ دکھائی﴾
الأعلیٰ: 1–3
﴿اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی﴾
الإسراء: 70
﴿پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا﴾
العلق: 1–5
اہم معالم (بنیادی اصول)
﴿اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے﴾
الذاریات: 56
﴿اور نفس کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا، پھر اسے اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری سمجھا دی، یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اسے پاک کر لیا، اور یقیناً وہ نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ کر دیا﴾
الشمس: 7–10
“مومنوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔”
حدیث نبوی
“بے شک اللہ نے ہر چیز میں احسان (بہترین طریقے سے کرنے) کو لازم قرار دیا ہے۔”
حدیث نبوی
“بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔”
حدیث نبوی
﴿اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں﴾
البقرہ: 143
﴿تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو﴾
آل عمران: 110
دوم: معاصر تعلیمی فکر کے رجحانات کا شعور
عملی اور متحرک فکر: یہ ایسا فکر ہے جو طلبہ کو وہ مہارتیں، رجحانات، رویے اور عادات سکھاتا ہے جو انہیں زندگی گزارنے اور کامیابی حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں، اور ان کی ذاتی و اجتماعی زندگی کو بلند کرتے ہیں۔
متعدد ذرائع و مصادر کا حامل: آج تعلیم کو ایسے تجربات کے مجموعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جن سے متعلم گزرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سماجی، طبعی اور اطلاقی علوم کے نتائج سے استفادہ کیا جائے تاکہ طالب علم کی شخصیت نکھرے اور وہ معاشرتی حالات میں کامیابی حاصل کر سکے۔
سماجی اطلاق کی طرف مائل: مثلاً شوریٰ یا جمہوریت ایک سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی تصور ہے، جو صرف نظری باتوں یا یاد کرنے والی تقاریر تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ اس کی حقیقت اس وقت واضح ہوتی ہے جب وہ فرد کی عملی زندگی میں جمہوری شورائی رویّے کی صورت اختیار کر لیں۔
“عالمی شہری” کے تصور کو فروغ دینا: معاصر تعلیمی فکر کے نزدیک تعلیم انسانوں کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ ہے، جس کے ذریعے امن، باہمی تفہیم، مکالمہ، عدل و مساوات، انسانی حقوق کا احترام اور ماحولیاتی تحفظ جیسی اقدار کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اور جو شخص ان تمام رجحانات پر غور کرے، وہ یہ پائے گا کہ ان میں اور اسلامی تعلیمی فکر میں کوئی تضاد نہیں۔
سوم: انسانی تعلم کے عمل میں آنے والی تبدیلیوں کا شعور
جدید علوم کا ادراک: تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نصاب کے انتخاب، منصوبہ بندی اور تشکیلِ نو پر نظرثانی کریں، تاکہ طالب علم کو مختلف علوم میں سے انتخاب کا موقع ملے اور وہ علم کے مصادر تک پہنچنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے سیکھے، نہ کہ صرف انہیں یاد کرے۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا استعمال: ملٹی میڈیا، کمپیوٹر سمیولیشن، ورچوئل رائیلٹی اور دیگر جدید تعلیمی وسائل کے استعمال سے تعلیمی تجربات میں نمایاں ترقی ہوگی۔
چہارم: ثقافتی خصوصیت اور عالمگیریت کے درمیان توازن
یہ توازن درج ذیل طریقوں سے قائم کیا جا سکتا ہے:
- تعلیم کے دائرے کو وسیع کرنا: اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار اور علم کے متعدد ذرائع (انٹرنیٹ، میڈیا وغیرہ) کے باعث تعلیمی نظام کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو ان ذرائع سے مؤثر استفادہ کے لیے تیار کرے۔
- معاشی عالمگیریت کے مطابق تعلیمی نظام کی ہم آہنگی: نئے معاشی اصولوں (نجکاری، کثیرالقومی کمپنیاں، آزاد تجارت وغیرہ) کے ظہور نے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت پیدا کی ہے تاکہ وہ جدید معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
- ماحولیاتی تحفظ اور معیارِ زندگی کی بہتری کا فروغ: تعلیم کے ذریعے ماحول کے حوالے سے سماجی ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جا رہا ہے، اور طلبہ میں ایسے رویے پیدا کیے جا رہے ہیں جو ماحول کی حفاظت کریں۔
خاتمہ
ہمیں اس بات سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے جو بعض مغربی مفکرین اور مستشرقین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلامی فکر دورِ معلومات میں انسان کی تربیت کے لیے موزوں نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا یہ دور خود اسلامی تعلیمات کا محتاج ہے تاکہ وہ اپنی مادہ پرستی، خود غرضی اور غرور پر قابو پا سکے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں﴾
البقرة: 143
بقلم: م احمد شوشۃ | مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار
المصدر: متطلبات تجديد الفكر التربوي الإسلامي