اپنے نفس میں حیا کی صفت پیدا کرنا ان اہم کاموں میں سے ہے جن کی شریعت اسلامیہ نے ہدایت کی ہے۔ یہ صفت خیر کا سرچشمہ، انسان کے ایمان کی دلیل، ہر اچھائی کو اپنانے اور ہر برائی کو ترک کرنے کی محرک ہے۔ یہ صفت انتہائی پسندیدہ صفات میں سے ہے، اچھے اخلاق میں چوٹی کی اہمیت رکھتی ہے، ایمان کو مزین کرتی ہے، اسلام کی علامت ہے، سلامتی کی نشاندہ اور برائی سے بچانے والی ہے۔
یہ صفت مسلمان کو حق بات کہنے، علم حاصل کرنے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے سے ہرگز نہیں روکتی اور مومن کو بھی اپنے تمام رویوں میں اس پسندیدہ صفت کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ صحیح تربیت کے ذریعے اس قدر کو بچوں اور بڑوں سبھی کے دلوں میں راسخ کیا جاسکتا ہے، خصوصاً ایسے زمانے میں جب کہ تربیت کے ذرائع متنوع ہیں اور خاندان تک محدود نہیں رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ نوجوانوں پر توجہ اور ان میں مثبت اقدار راسخ کرنے کے معاملات میں بگاڑ آسکتا ہے۔
حیاء کے معنی اور شریعت میں اس کی اصل
لغت میں حیاء کے معنی شرم ووقار کے ہیں۔ یہ بے شرمی اور شوخی کی ضد ہے۔ کہا جاتا ہے: “وہ اس سے حیا کرتا ہے”، یعنی اس نے شرم محسوس کی؛ یا اس نے حیا اختیار کی، پس وہ حیا والا ہے… سکڑنا اور کنارہ کش ہونا بھی اس میں ہے۔
امام واحدی کہتے ہیں کہ: اہلِ لغت کے مطابق “استحیاء” کی اصل “حیات” یعنی زندگی سے ہے۔ انسان میں اسی قدر حیا ہوتی ہے جس قدر وہ زندہ ہے اور جتنا اسے معیوب باتوں کا علم ہے۔ تو زندگی بھی دراصل یہ ہے آدمی کیا محسوس کرتا ہے اور اس کی حسیات میں کس قدر باریکی ہے۔
اس کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ نفسِ انسانی کسی معاملے میں ملامت کے خوف سے تنگی محسوس کرے اور اسے ترک کردے۔ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں کہ یہ ایسا اخلاق ہے جو صاحبِ حیا کو برے کام سے بچاتا ہے اور حقدار کے حق میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تبدیلی اور انکسار کی وہ کیفیت ہے جو اس وجہ سے طاری ہو کہ کہیں انسان کو معیوب نہ ٹھہرایا جائے یا ملامت نہ کیا جائے اور اس کا اثر چہرے سے عیاں ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں حیاء کے بارے میں بہت سی آیات آئی ہیں: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبیؐ کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔
سورۃ الأحزاب: 53
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ہاں، اللہ ہرگز اس سے نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔ [البقرۃ: 26] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: (کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی اور کہنے لگی “میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔” موسیٰؑ جب اُس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اُسے سُنایا تو اُس نے کہا “کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نِکلے ہو”۔ [سورۃ القصص: 25]
نبی اکرمؐ اور صحابہؓ میں حیا کی صفت
نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات کا اہتمام فرمایا کہ اس صفت پر اپنے صحابہؓ کی تربیت فرمائیں۔ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے بھائی کو حیاء کے حوالے سے نصیحت کررہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑدو، حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔ [بخاری و مسلم]
ابو سوار عدوی کہتے ہیں کہ انہوں نے عمران بن حصینؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: “حیاء خیر ہی لاتی ہے۔” [بخاری و مسلم]
امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ساٹھ یا ستر کے قریب حصے ہیں، ان میں سب سے افضل لا الہٰ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ راستے سے کوئی رکاوٹ ہٹادی جائے، اور حیاء بھی ایمان کا حصہ ہے۔ [مسلم]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود حیاء کے وصف سے متصف تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے زیادہ حیاء کرنے والے تھے۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی پردہ نشین کنواری سے زیادہ حیادار تھے، کوئی بات آپ کو ناپسند ہوتی تو ہم آپ کے چہرے سے جان لیتے تھے۔ [بخاری و مسلم]
ابن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ سے حیا کرو جس طرح اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔” انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! الحمد للہ ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “یہ بات نہیں ہے، بلکہ جو شخص اللہ سے ایسے حیا کرتا ہے جیسے حیا کرنے کا حق ہے تو وہ سر اور اس میں موجود چیزوں کی حفاظت کرے، اور وہ پیٹ اور اس کے متعلقات کی حفاظت کرے، وہ موت اور بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے، اور جو آخرت چاہتا ہے وہ دنیا ترک کر دے۔ جو شخص اس طرح کرے تو اس نے اللہ سے ایسے حیا کیا جیسے اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔” [الترمذی]
حضرت انسؓ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کرتے ہیں کہ: بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیاء جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنا دے گی۔ [الترمذی، البانیؒ نے صحیح کہا ہے]
جو حیاء کی صفت اپناتا ہے تو حیاء اس کے جنت جانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی ظلم و زیادتی ہے اور جفا ظلم زیادتی کا بدلہ جہنم ہے”۔ [ترمذی]
حیاء اللہ کی صفات میں سے بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ حیاء فرمانے والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے اور وہ حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ [ابو داؤد و نسائی]
صحابہ کرامؓ بھی اس عظیم صفت کے حامل تھے اور ان میں سب سے بڑھ کر باحیا حضرت عثمان بن عفانؓ تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور فرشتے بھی ان سے حیاء کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک عثمانؓ ایک حیاء والے شخص ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ :”کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں؟” [مسلم]
حضرت عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ:”جب سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت حیاء کرتا تھا اور اس حیاء کی وجہ سے میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر نہیں دیکھا نہ کبھی یہ ہمت ہوتی کہ اپنی بات کہہ سکوں … یہاں تک کہ آپؐ کی وفات ہوگئی۔ [احمد]
اسی طرح حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ میں مذی میں مبتلا تھا۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں حیاء آئی تو میں نے حضرت مقداد بن اسودؓ سے سوال کرنے کو کہا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے! دوسری روایت یوں ہے کہ “میں مذی میں مبتلا تھا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے رشتے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھنے میں شرم محسوس ہوئی۔ [متفق علیہ]
خواتین میں حیا کی صفت
اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین حیاء کے معاملے میں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ وہ فطرتاً و مزاجاً حیاء کرنے والی ہوتی ہیں۔ صحابیاتؓ کا بھی یہی حال تھا لیکن اس کے باوجود وہ دین کے مسائل پوچھنے میں نہیں شرماتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ “انصار کی عورتیں بہترین ہیں، انہیں دین سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی تھی”۔ [متفق علیہ]
صحابیات میں حیا کی ایک جھلک ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ملتی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ام سلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ حق بات سے حیا نہیں کرتا، کیا عورت کو احتلام ہونے پر غسل کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا: “ہاں، جب وہ پانی دیکھے”۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت بھی احتلام ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا: “ہاں، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، پھر بچہ اس کی مشابہت کیسے کرتا ہے”۔ [متفق علیہ]
کنواری عورت حیا کے باعث اپنی رضامندی کا اظہار نہیں کرتی تھی، بلکہ خاموش رہتی تھی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کنواری عورت سے اس کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کرنی چاہیے”۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو حیا کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا: “اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے”۔ [متفق علیہ]
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: “زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی، اس وقت وہ مالدار نہیں تھے۔ میں ان کی زمین سے اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا پھر (اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا اخ اخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں۔ اس لیے آپ آگے بڑھ گئے۔ [بخاری]
ہم اپنے اندر حیا کیسے پیدا کریں؟
اپنے اندر حیا پیدا کرنے کے لیے درج ذیل امور کو اختیار کرنا ضروری ہے:
- اللہ کی نگرانی کو ذہن میں رکھنا اور یہ کہ اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔” [الحدید: 4]
- اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفات بیان کی ہیں انہیں جاننا اور اس کی معرفت حاصل کرنا۔
- عفت پیدا کرنا اور پاکدامنی کو فروغ دینا کہ یہ اچھے اخلاق میں سے بھی ہے۔
- اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنا، اس پر قابو پانا، اسے حد سے بڑھنے اور سرکشی سے بچانا، کیونکہ اسی سے انسان اللہ تعالیٰ سے حیاء کرپاتا ہے جس کے انسان پر بے پناہ انعامات ہیں۔
- جن سے حیاء کی جاتی ہو ان کی صحبت اختیار کرنا تاکہ ان کے جیسے اخلاق اپنانے اور ان جیسا بننے کی کوشش کی جائے۔
- اللہ عزّوجل کے کلام میں غور و فکر کرنا، خصوصاً ان آیات میں جن میں اس کی ہیبت، دیکھنے، سننے اور انسان کے ہر عمل سے باخبر ہونے کا بیان ہے کیونکہ اس سب سے اللہ سے حیاء پیدا ہوتی ہے۔
- حیا کے اچھے اثرات اور اسے چھوڑ دینے کے برے نتائج کو یاد رکھنا۔
- نفس کو اچھے اخلاق کا عادی بنانا۔
- فضیلت و شرف کی حامل شخصیات خصوصاََ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا۔
- دل کے زندہ ہونے کی فکر کرنا، کیونکہ حیا اسی زندگی سے ہے، جس کا دل زندہ نہیں، اس میں حیاء بھی نہیں۔
- بچپن سے ہی حیا پر تربیت کرنا، تاکہ انسان اسی پاکیزہ خصلت پر پروان چڑھے۔
- حیاء کے منافی ہر چیز مثلاً فحش پروگرامز و چینلز کو مکمل ترک کردینا۔
- فرشتوں کی نگرانی کو یاد رکھنا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہےکہ: “کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضرباش نگراں موجود نہ ہو۔” [سورۃ ق: 18]
- ایسے افعال اور اقوال سے بچنا جو حیا کے خلاف ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور بردباری اختیار کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔” [طبرانی، البانی نے صحیح کہا ہے]
ثمرات اور فوائد
اللہ، لوگوں اور اپنی ذات سے حیا کرنے کے بے شمار ثمرات اور فوائد ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ: اس صفت کا حامل شخص نیکیوں کو اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اور اسی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔” [المائدہ: 54]
جنت میں داخلے کا سبب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حیا ایمان کا حصہ ہے، اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے، جب کہ فحش گوئی ظلم و زیادتی سے ہے اور ظلم و زیادتی جہنم میں لے جاتی ہے۔” [ترمذی]
ہر بھلائی کے حصول کا ذریعہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حیا صرف بھلائی ہی لاتی ہے۔” [بخاری]
اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی: جیسے ایفائے عہد، امانت کی ادائیگی، لوگوں کی پردہ پوشی، اور رب کی طرف سے عائد فرائض کو پورا کرنا۔
دل میں ایمان کو زندہ کرتی ہے: کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حیا ایمان کا حصہ ہے۔” [مسلم]
گناہوں سے دوری کا سبب: حیا انسان کے دل میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ اللہ کے اگے، لوگوں کے سامنے اور اپنے ضمیر کی وجہ سے گناہ کرنے سے جھجھک اور شرم محسوس کرے۔
وقار اور سنجیدگی عطا کرتی ہے: یہ انسان کو نیکیوں میں سبقت کرنے، گناہوں سے بچنے اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ مسلمان کو سنجیدگی کی تربیت بھی اسی صفت کا حصہ ہے۔
اعمال کی فضیلت اور حسنِ اخلاق کی طرف آمادہ کرتی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “قیامت کے دن میزان میں سب سے بھاری چیز حسنِ اخلاق ہوگی۔” [ترمذی]
اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا شعور پیدا کرتی ہے: یہ مسلمان کو قول، فعل اور ہر حال میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نگرانی کا خیال رکھنے کا عادی بناتی ہے۔
پردہ اور حفاظت کا ذریعہ: جو شخص اللہ سے حیا کرتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں پردہ عطا فرماتا ہے اور رسوائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
بیشک حیا اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ وہ اپنے بندوں کی دعا رد کرنے سے حیا فرماتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ یہ فرشتوں کا بھی وصف ہے، جو عثمان بن عفانؓ سے بھی حیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے باحیا بندوں سے محبت فرماتا ہے، اور جب اللہ کسی بندے سے محبت کرے تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی کے دروازے کھول دیتا ہے اور حیاء جنت میں داخلے کی اہم کنجی ہے۔
مترجم: زعیم الرحمان