نصف شعبان کی رات کے بارے میں ایسی کوئی حدیث موجود نہیں جو قطعی طور پر صحیح درجے تک پہنچتی ہو۔ البتہ بعض احادیث کو کچھ علماء نے “حسن” کہا ہے، جب کہ دوسرے علماء نے انہیں قبول نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں۔
لیکن اس رات عبادت کرنا، دعا اور استغفار کرنا منع نہیں ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ شعبان کے مہینے کی راتوں میں سے ایک ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے کو عبادت و ذکر کے ساتھ خاص اہتمام دیتے تھے، کیونکہ یہ ماہ رمضان تک پہنچنے کا دروازہ ہے،وہی مہینہ جس میں روزے فرض ہوئے اور قرآن نازل ہوا۔
یہ رات ایسے مہینے کے وسط میں آتی ہے جو انسان کو ماہ رمضان کے استقبال کے لیے تیار کرتا ہے، اور یہ ماہ رجب اور ماہ رمضان کے درمیان واقع ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت اور عام رحمت کے ساتھ بندوں پر متوجہ ہوتے ہیں:
استغفار کرنے والوں کو بخش دیتے ہیں، رحم مانگنے والوں پر رحم فرماتے ہیں، دعا کرنے والوں کی دعا قبول کرتے ہیں، پریشان حال لوگوں کی تکلیف دور کرتے ہیں، کچھ لوگوں کو جہنم سے آزادی عطا کرتے ہیں اور رزق اور اعمال لکھے جاتے ہیں۔
شبِ نصف شعبان کی فضیلت
شبِ نصف شعبان دراصل شعبان کی 15 تاریخ سے پہلے والی رات ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی ایک اہمیت بیان کی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں متعدد احادیث منقول ہیں جو اس کی فضیلت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے کئی نام بھی ذکر کیے جاتے ہیں، مثلاً:
- لیلۃ البراءت (نجات کی رات)
- دعا کی رات
- تقسیم کی رات
- قبولیت کی رات
- مبارک رات
- شفاعت کی رات
- مغفرت اور جہنم سے آزادی کی رات
اس کی فضیلت کے بارے میں روایات آئی ہیں؛ بعض علماء نے انہیں صحیح کہا اور بعض نے ضعیف، مگر فضائلِ اعمال میں ان پر عمل کی اجازت دی۔
امام احمد اور طبرانی کی روایت میں آیا ہے:
“اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔”
امام ترمذی نے کہا کہ امام بخاری نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا۔
اسی طرح حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے گمان ہوا آپ کا وصال ہوگیا ہے۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو فرمایا:
“اے عائشہ! کیا تم سمجھیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے تمہارا حق ادا نہیں کیا؟”
میں نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ، مجھے تو آپ کے طویل سجدے سے یہ گمان ہوا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کیا تم جانتی ہو یہ کون سی رات ہے؟ یہ نصف شعبان کی رات ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رات اپنے بندوں پر نظر فرماتا ہے، استغفار کرنے والوں کو بخش دیتا ہے، رحم مانگنے والوں پر رحم کرتا ہے اور کینہ رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔” [بیہقی]
اسی طرح ابنِ ماجہ نے حضرت علیؓ سے ایک ضعیف سند کے ساتھ روایت نقل کی:
“جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس رات قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ غروبِ آفتاب کے بعد آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے شفا دوں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔”
ان روایات سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس رات کی کچھ فضیلت بیان ہوئی ہے اور اس کی ممانعت کی کوئی صریح دلیل نہیں۔ نیز شعبان کا مہینہ بھی فضیلت رکھتا ہے، جیسا کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ شعبان میں زیادہ روزے کیوں رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں، جو رجب اور رمضان کے درمیان ہے، اور اسی میں اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔”
بعض علماء کی رائے
کچھ اہلِ سنت علماء جیسے یوسف القرضاوی، محمد صالح المنجد اور عطیہ صقر کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات کو خاص عبادت کے ساتھ مخصوص کرنا ثابت نہیں، نہ صحابہ سے اس کی کوئی واضح دلیل ہے، اور نہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث ہے۔ بعض علاقوں میں پڑھے جانے والے مخصوص دعا نامے کی بھی کوئی اصل نہیں۔
جب کہ دوسرے علماء مثلاً محمد علوی مالکی، حسنین محمد مخلوف اور عبد اللہ صدیق غماری کے نزدیک اس رات کی فضیلت کی روایات قابلِ قبول ہیں، اور ضعیف روایت بھی فضائلِ اعمال میں قابلِ عمل ہوتی ہے۔
ابنِ رجب حنبلی نے نقل کیا کہ شام کے تابعین (جیسے خالد بن معدان، مکحول اور لقمان بن عامر وغیرہ) اس رات کی تعظیم کرتے اور اس میں عبادت کا اہتمام کرتے تھے اور لوگوں نے انہی سے اس کی اہمیت سیکھی۔
ابنِ تیمیہ کہتے ہیں:
“نصف شعبان کی رات کے بارے میں آثار اور روایات آئی ہیں اور سلف میں سے بعض لوگ اس میں نماز پڑھتے تھے، لہٰذا کوئی شخص اگر تنہا اس میں عبادت کرے تو اس کی مثال پہلے بھی موجود ہے اور اس پر نکیر نہیں کی جا سکتی۔”
اسی لیے بعض اہلِ علم نے اس رات عبادت کی ترغیب دی اور نصیحتاً اشعار بھی کہے کہ اس رات عبادت کرو، کیونکہ نہ معلوم کس کی زندگی کا دفتر اسی رات بند ہو جائے۔
لوگوں کا رویہ
اس رات کے بارے میں لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں:
ایک گروہ جو ان روایتی اعمال پر بہت زور دیتا اور ان کا دفاع کرتا ہے، یہاں تک کہ بعض ائمہ بھی شامل ہیں، انہیں چاہیے کہ پہلے شرعی اقوال کو دیکھیں تو شدت کم ہوجائے گی۔
دوسرا گروہ اس کے سخت خلاف ہے اور اس کی تعظیم کرنے والوں کو ملامت بلکہ کبھی بدزبانی تک کر دیتا ہے۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ کرنے والے اسے دین سمجھ کر نیک نیتی سے کرتے ہیں، اس لیے نرمی ضروری ہے۔ سختی اور تحقیر عام لوگوں کے دل سے دین کی عظمت بھی ختم کر سکتی ہے اور نقصان فائدے سے زیادہ ہوجاتا ہے۔
لہٰذا دین ہر مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ ایسے معاملات میں حکمت اور نرمی اختیار کرے، خصوصاً اجتماعی مذہبی امور میں۔ علما اور داعیوں کا فرض ہے کہ صحیح تعلیم، محبت اور خیرخواہی کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کریں، تاکہ وقت کے ساتھ حق واضح ہو جائے۔
اس رات کے روزے اور نماز کا حکم
روزہ
اس دن کا مخصوص روزہ ثابت نہیں، الا یہ کہ وہ پیر یا جمعرات جیسے معمول کے مسنون روزے سے موافق ہو۔ بعض علماء اسے رمضان کی تیاری کے طور پر اس کے بعد مسلسل روزے رکھنے کو مکروہ کہتے ہیں، سوائے اس شخص کے جو پہلے سے عادت رکھتا ہو۔
نماز
عام طور پر رات کی نماز خصوصاً آخری تہائی میں مستحب ہے، لیکن اس رات سو رکعت نماز پڑھنے یا لمبی عمر یا رزق کی نیت سے مخصوص نمازیں مقرر کرنا بدعت ہے۔
امام نووی نے لکھا کہ رجب کی پہلی جمعہ کی رات پڑھی جانے والی “صلاۃ الرغائب” اور نصف شعبان کی سو رکعت نماز دونوں منکر بدعتیں ہیں، اور ان کے متعلق مذکور روایات قابلِ اعتماد نہیں۔
اسی طرح “کشف الخفاء” میں لکھا ہے کہ رجب، شعبان اور دیگر مخصوص راتوں کی ان مخصوص نمازوں کی کوئی صحیح اصل نہیں۔
خلاصہ
امام حسن البنا نے دلائل کے ساتھ خلاصہ بیان کیا:
- نصف شعبان کی رات ایک بابرکت رات ہے؛ اس میں عمومی عبادت اور اس کے دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
- اسے خاص مخصوص عبادات (مثلاً مخصوص سورتیں، خاص نمازیں یا مقرر دعا) کے ساتھ لازم سمجھنا شرعاً ثابت نہیں، اس لیے اسے شعار نہ بنایا جائے۔
- اس رات پڑھی جانے والی مشہور دعا کتاب و سنت سے ثابت نہیں اور اس کا مخصوص طریقہ بھی درست نہیں۔
آخری بات
شبِ نصف شعبان بھی دیگر راتوں کی طرح عبادت کے لیے موزوں راتوں میں سے ایک رات ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ شعبان میں واقع ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کا اہتمام کرتے تھے اور صحابہ و سلف بھی اس پر عمل کرتے رہے۔
البتہ اسے کسی خاص عبادت، مخصوص نماز یا لازمی روزے کے ساتھ محدود نہ کیا جائے تاکہ بدعت میں مبتلا ہونے یا اس کی دعوت دینے کا سبب نہ بنے۔
مترجم: سجاد الحق