سوال: میں پانچ بچوں کا باپ ہوں۔ بڑا بیٹا 15 سال کا ہے اور سب سے چھوٹا بچہ دو سال کا۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری اپنے بچوں سے اکثر گفتگو صرف قرآن حفظ کرنے اور وقت کو اسی میں لگانے کے بارے میں ہوتی ہے، لیکن وہ میری بات نہیں سنتے ہیں۔ وہ میرے بار بار اصرار اور نگرانی کے باوجود بہت مشکل سے کچھ حفظ کرتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے: اگر میں انہیں مسلسل نصیحت کرتا رہوں اور جب تک وہ اپنا حفظ مکمل نہ کریں انہیں سیر و تفریح یا باہر جانے اور فٹبال کھیلنے سے روک دوں تو کیا اس میں کوئی خرابی یا گناہ ہے؟ میری بیوی کہتی ہے کہ اس طریقے سے وہ قرآن سے نفرت کرنے لگیں گے۔ آپ کی کیا نصیحت ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
جواب
محترم سائل! سب سے پہلے تو اللہ آپ کو اپنے بچوں کو قرآن حفظ کروانے کی فکر اور شوق پر برکت دے۔
یہ بات یاد رکھیں کہ مقصد اچھا ہو تو بھی ہر طریقہ درست نہیں ہوتا۔ قرآن کو حفظ کرنا اور سمجھنا یقیناً بہت بلند اور عظیم مقصد ہے، اور ایسے مقصد کے لیے بھی بہترین اور مناسب طریقے ہی اختیار کیے جانے چاہئیں۔ بچوں کو سیر و تفریح سے محروم کرنا ایسا طریقہ نہیں جس کے سوا کوئی اور راستہ نہ ہو؛ اس سے بہتر اور زیادہ فائدہ مند متبادل موجود ہیں۔
ہم کچھ ایسے نکات بیان کرتے ہیں جو آپ کی سوچ واضح کریں گے، تاکہ آپ محبت، سکون اور اطمینان کے ماحول میں اپنا مقصد حاصل کرسکیں اور ان شاء اللہ اپنے بچوں کے ساتھ تعلق بھی خراب نہ ہو۔
بڑے ہدف کو چھوٹے اہداف میں تقسیم کریں
قرآن حفظ کرنا ایک بڑا ہدف ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے چھوٹے چھوٹے اہداف میں تقسیم کیا جائے تاکہ پیش رفت کو ناپا جا سکے۔ جب بچے تھوڑا (چھوٹا ہدف) بھی حاصل کریں تو اسے کامیابی سمجھیں، ان کی چھوٹی چھوٹی کوششوں کی حوصلہ افزائی کریں اور پھر اس پر اگلا قدم رکھیں، یہاں تک کہ بڑی منزل حاصل ہو جائے۔
مثلاً:
- سورۂ فاتحہ کی درست تلاوت اور حفظ (کیونکہ غلطی کے ساتھ نماز درست نہیں ہوتی)
- جزء عمّ (آخری پارہ) کا حفظ اور مشکل الفاظ کے معنی سمجھنا تاکہ نماز میں توجہ پیدا ہو
- آیت الکرسی اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات کا حفظ
- وہ سورتیں جن کی فضیلت احادیث میں آئی ہے
- قرآن حفظ کرنے کے اجر و ثواب والی احادیث یاد کروانا تاکہ بچوں میں اندرونی شوق پیدا ہو
- بچوں کا قرآن کو اپنی زندگی کا مستقل رہنما بنانا (یہ بار بار دیکھنے اور حالات میں اس کا ذکر کرنے سے ہوگا)
- بچوں کا مسجد، مسجد کے ماحول اور قرآن کے حلقوں سے تعلق
- قرآن سے وابستہ لوگوں (علما، حفاظ، اساتذہ اور ان جیسے سیکھنے والے بچوں) کی صحبت سے محبت
- آخرکار مکمل قرآن کا حفظ؛ جو ان سب اہداف کے پورا ہونے کا قدرتی نتیجہ ہوگا
اس طرح اہداف تقسیم کرنے سے آپ کا دباؤ بھی کم ہوگا، کیونکہ آپ بچوں کی جزوی پیش رفت بھی محسوس کرسکیں گے۔ بعض اوقات صرف ان کا باقاعدگی سے حلقۂ قرآن میں جانا ہی ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے، چاہے حفظ زیادہ نہ ہو۔ وقت کے ساتھ اچھے نتائج آتے ہیں۔
ہر ہدف کے لیے الگ طریقہ اختیار کریں
- کچھ چیزیں گھر میں استاد بلا کر حاصل ہوں گی
- کچھ مسجد جانے سے
- کچھ اچھے قاریوں کی تلاوت سننے سے
- کچھ مقابلوں میں شرکت سے
- کچھ ختمِ قرآن کی تقریبات میں جانے سے
- اور کچھ والدین کے اپنے عمل کو دیکھنے سے
یوں بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھیں گے جہاں بغیر زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کے ہر طرف قرآن کی ترغیب موجود ہو۔
ماحول اور صحبت کی اہمیت
ماحول انسان کی شخصیت پر بہت اثر ڈالتا ہے۔ کہا جاتا ہے: “مجھے بتاؤ تمہارا دوست کون ہے، میں بتا دوں گا تم کون ہو۔”
جتنا آپ بچوں کو ایسے ماحول میں رکھیں گے جہاں لوگ قرآن سے جڑے ہوں، اتنے ہی بہتر نتائج ملیں گے۔
والدین کا سب سے اہم کردار: نمونہ بننا
والدین صرف حکم دینے والے نہ ہوں بلکہ عملی مثال بنیں۔ اگر آپ بیٹے سے بار بار کہیں: “فون چھوڑو اور ذمہ داری پر توجہ دو”، لیکن خود بھی فون استعمال کرتے رہے، تو وہ اثر نہیں لے گا۔ پہلے خود فون رکھ دیں، پھر نصیحت کریں؛ نتیجہ یقیناً مختلف ہوگا۔
اسی طرح قرآن کے معاملے میں:
- ان کے سامنے تلاوت کریں
- خود حفظ کریں
- ان سے اپنی سنوائیں
وقت کے ساتھ وہ یا تو شرم محسوس کریں گے یا آپ سے متاثر ہو جائیں گے۔ اکثر والدین عبادت چھپا کر کرتے ہیں، جس سے بچے اثر نہیں لیتے۔
جب بھی گناہ کا ارادہ کرتا ہوں تو گھر کے بیچوں بیچ اپنی ماں کو قرآن پڑھتے یاد کر لیتا ہوں، پھر مجھے شرم آتی ہے کہ ایک فرمانبردار ماں کا نافرمان بیٹا بنوں، اور میں رک جاتا ہوں۔
یہ اس بات کی مثال ہے کہ بچوں کا والدین کو عبادت کرتے دیکھنا کتنا اثر رکھتا ہے۔
مزید عملی طریقے
- ہر بچے کے لیے الگ قرآن مجید مقرر کریں جسے وہ خود پسند کرے
- ایک پارہ مکمل ہونے پر خوشی منائیں
- رشتہ داروں اور دوستوں کو بلائیں تاکہ قرآن کی خوشی میں شریک ہوں
- حفظِ قرآن کے مقابلوں میں حصہ دلوائیں، اس سے یادداشت مضبوط ہوگی
اور سب سے اہم: اللہ سے دعا کریں کہ وہ بچوں کے دل میں قرآن کی محبت ڈال دے اور حفظ کو آسان بنا دے، کیونکہ اصل اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں، نتائج اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔
جیسے ایک زمین کو ایک ہی پانی ملتا ہے، کچھ پودے ہرے بھرے ہوتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتے۔ کسان کی ذمہ داری صرف کوشش کرنا ہے، پھر اللہ سے قبولیت مانگنا ہے۔
آخری نصیحت
سخت سزا اور ڈانٹ ڈپٹ حفظ میں کمی کے مسئلے کا مناسب حل نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ جو تھوڑی سی پیش رفت بھی ہو اس کی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے، اس سے ہمت بڑھے گی اور بچوں میں اچھا مقابلہ پیدا ہوگا:
وَاسِیسِ (نیکی) میں چاہنے والوں کو ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سورۃ المطففین: 26
اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے۔
سورۃ الفرقان: 74
مترجم: سجاد الحق