والدین پر اپنے بچوں کے حوالے سے جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ وہ ماہِ رمضان میں تربیت اور رہنمائی کے لیے بھرپور طور پر بروئے کار لائی جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان اہلِ تربیت کے لیے ایک بیش بہا موقع اور عظیم نعمت ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو صالح اور باکردار نفوس کی تعمیر کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہ کام ہرگز آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے مسلسل محنت، سنجیدہ کاوش اور گہری تربیتی بیداری درکار ہوتی ہے، تاکہ مربی اپنی زندگی اور اپنے بچوں کی زندگی میں پیش آنے والے کسی بھی موقع، واقعے یا مناسبت کو ضائع نہ ہونے دے، بلکہ ہر حالت میں اسے ان کی تربیت کے حق میں بہترین انداز سے استعمال کرے۔ کیونکہ کسی واقعے کے عین موقع پر کہی گئی بات دل و دماغ پر وہ اثر چھوڑتی ہے جو دوسرے اوقات میں کہی گئی بات نہیں چھوڑ سکتی۔ یہی باتیں رفتہ رفتہ تربیتی اقدار اور عبادات کے معانی کو دل میں راسخ کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ وہ بچے کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں، وہ انہی پر پروان چڑھتا ہے اور پوری زندگی انہیں چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا ہے۔
انسان کی زندگی بے شمار مراحل اور منزلوں سے گزرتی ہے، اور یہ ناگزیر ہے کہ وہ ہر مرحلے پر کچھ دیر ٹھہر کر اپنی توانائی تازہ کرے، تاکہ نئی ہمت اور مضبوط عزم کے ساتھ زندگی کا سفر جاری رکھ سکے۔ رمضان انہی عظیم اور بار بار لوٹ کر آنے والے روحانی پڑاؤ میں سے ایک ہے، جہاں مسلمان ہر سال رک کر اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے، دل کو تازگی بخشتا ہے اور روحانی قوت کا نیا زادِ راہ حاصل کرتا ہے، تاکہ آئندہ سال کی راہوں پر ثابت قدمی اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
روزے کے ذریعے ماہِ رمضان میں تربیت کا پہلو
رمضان میں تربیت اور اولاد کی رہنمائی کا پہلا عملی میدان “مدرسۂ صیام” ہے۔ چنانچہ جب بچہ نرسری یا پہلی جماعت میں ہو تو ہمیں چاہیے کہ اسے رمضان میں اس کی استطاعت کے مطابق روزہ رکھنے کی ترغیب دیں۔ مثلاً اگر وہ روزانہ نصف دن تک روزہ رکھ لیتا ہے تو یہی اس کے لیے کافی ہے، تاکہ وہ روزے کے تصور سے مانوس ہو سکے، کیونکہ یہ اس کے لیے ایک بالکل نیا مفہوم ہے۔ اس عمر میں بچے کی بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی قوت ابھی کمزور ہوتی ہے، اور اس کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے مناسب غذا بے حد ضروری ہے۔ لہٰذا اس مرحلے پر اسے پورا دن روزہ رکھنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔ درست طرزِ تربیت یہ ہے کہ تدریج، شفقت اور حکمت کے ساتھ اسے اس عبادت کا عادی بنایا جائے، تاکہ اس کے دل میں روزے کی محبت پیدا ہو اور وہ اسے خوش دلی سے قبول کرے، نہ کہ اسے بوجھ اور جبر محسوس ہو۔
جب بچہ کچھ بڑا ہو جائے اور تیسری یا چوتھی جماعت میں پہنچ کر خود پورا دن روزہ رکھنے کی خواہش ظاہر کرنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دن بھر کا روزہ رکھنے کی جسمانی اور ذہنی طاقت حاصل کر چکا ہے۔ اور جب اس کی سمجھ بوجھ میں مزید پختگی آ جائے اور وہ روزے کو اللہ کی عبادت کے طور پر سمجھنے لگے تو اسے مکمل روزہ رکھنے دیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں اسے روکنا نہیں چاہیے، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے— کبھی انعام دے کر، کبھی تحفہ دے کر— تاکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق پورے مہینے کے روزے مکمل کرنے کی کوشش کرے۔
نماز کے ذریعے رمضان کی تربیت کا پہلو
رمضان کی تربیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس مہینے کو بچوں میں نماز کی عادت ڈالنے اور ان کی صحیح رہنمائی کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔ رمضان کو ایک ایسے سنگِ میل کی حیثیت دی جائے جہاں سے بچے کی نماز کی باقاعدہ تربیت شروع ہو اور اسے اس پر ثابت قدمی کی تلقین کی جائے۔
جو بچہ نماز نہیں پڑھتا، اسے (بطور ماں باپ) محبت اور حکمت کے ساتھ نماز کا طریقہ سکھایا جائے اور مختلف دلکش اور حوصلہ افزا انداز میں اس کی ترغیب دی جائے۔ رمضان میں ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو، چاہے وہ مختلف عمروں کے ہوں، رات کی نمازِ قیام (تراویح) کے لیے مسجد لے جایا جائے تاکہ وہ امام کے ساتھ نماز ادا کریں۔ انہیں روزانہ اس نماز کی عادت ڈالنا اس لیے بھی مفید ہے کہ اس کے اثرات بڑے اور چھوٹے سب کے دلوں پر گہرے نقش چھوڑتے ہیں، اور اس عبادت کی ایک خاص روحانی لذت ہوتی ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔
جب بیٹا یا بیٹی اپنے والدین کے ساتھ مسجد جا کر خوش الحان قاری کی اقتدا میں نمازِ تراویح ادا کرنے کا عادی ہو جاتا ہے جس کی آواز بچوں کو پسند ہو تو یہی عمل اس کے دل میں پانچ وقت کی نماز کی پابندی کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے، جو رمضان کے بعد بھی باقی رہ سکتا ہے۔ یوں رمضان ایک مضبوط بنیاد اور بہترین موقع ثابت ہوتا ہے، جسے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کے لیے ہرگز معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
صدقہ اور صلہ رحمی کی تربیت
رمضان میں بچوں کو جن اعمال کی تربیت دی جا سکتی ہے، ان میں صدقہ بھی شامل ہے۔ یہ مہینہ خیر، نیکیوں اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا موسم ہے۔
رمضان میں صدقے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں: غریبوں کو لباس فراہم کرنا، انہیں کھانا کھلانا، روزہ داروں کو افطار کرانا، مساجد کی تعمیر و مرمت میں حصہ لینا، یا اسلامی ممالک میں قحط زدگان اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا یہ سب نیکی کے دروازے ہیں۔
یہ بہت خوبصورت منظر ہوتا ہے کہ بچہ اپنے والد کو صدقہ کرتے دیکھے، بلکہ والد خود اپنے بیٹے یا بیٹی کو کچھ رقم دے تاکہ وہ اپنی نگرانی میں خود صدقہ کریں۔ اس سے ان کے دل میں سخاوت اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ مناسب ہے کہ والدین گھر میں ایک اجتماعی صدقہ بکس (حصّالہ) رکھیں، جس میں بچے روزانہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی جیب خرچ میں سے کچھ رقم ڈالیں۔ اسے رمضان سے پہلے بھی تیار کیا جا سکتا ہے، اور رمضان کے اختتام پر یہ رقم کسی مستحق ادارے یا ضرورت مند کو دی جائے۔
اسی طرح اگر والد صاحب پر زکوٰۃ فرض ہو چکی ہو اور ان کا مال نصاب کو پہنچ کر سال پورا کر چکا ہو، تو وہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے جا رہے ہیں، تاکہ بچے بھی زکوٰۃ کے مفہوم اور اس کی اہمیت سے واقف ہوں اور اس کی عملی تعلیم حاصل کریں۔
اسی ذیل میں رشتہ داروں کی زیارت اور انہیں رمضان میں افطار پر مدعو کرنا بھی شامل ہے، نیت یہ ہو کہ روزہ داروں کو افطار کرایا جائے اور صلہ رحمی کو فروغ دیا جائے۔ والدین کے لیے بہتر ہے کہ وہ بچوں کو اس نیکی کی عادت ڈالیں اور انہیں سمجھائیں کہ چچا، ماموں یا خالہ کے گھر والوں کو افطار پر بلانے کا مقصد محض کھانا نہیں، بلکہ رشتہ داری، محبت اور باہمی تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔
بچوں میں رمضان کی عظمت پیدا کرنے میں ماں کا کردار
رمضان کو تربیت اور رہنمائی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں ماں کا کردار نہایت اہم ہے۔ وہی ایمان والی نسل کی معمار ہوتی ہے، وہی دلوں میں ایمان کے بیج بوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمان گھر کی نگہبان بنایا ہے۔ خاندان خصوصاً کم سن بچے ماں کی رہنمائی سے گہرا اثر قبول کرتے ہیں، کیونکہ وہ صحیح اور غلط کے معانی کو سب سے پہلے اپنے سامنے موجود نمونے یعنی ماں کے عمل سے سمجھتے ہیں۔ آج بہت سے گھروں میں رمضان کی شعائر کی مکمل اور درست تعظیم کا عملی مظاہرہ نظر نہیں آتا، نہ اس ایمانی موسم کو وہ حق دیا جاتا ہے جو اللہ کے احکام کی پابندی اور اس کی نافرمانیوں سے اجتناب کی صورت میں ادا ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یہی بات ہے، اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو بے شک یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔
سورۂ حج: 32
“شعائرِ اللہ” سے مراد دین کی وہ نمایاں اور ظاہر علامات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔ ان میں سے بعض کا تعلق جگہوں سے ہے اور بعض کا تعلق اوقات سے۔ انہی میں حرمت والے مہینے اور ماہِ رمضان بھی شامل ہیں۔ رمضان وہ مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت اور شرف عطا فرمایا، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے:
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔
سورۂ بقرہ: 185
شعائر کی تعظیم صرف اس بات کا نام نہیں کہ انسان زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرے اور عبادات میں اضافہ کرے، بلکہ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان مبارک اوقات اور مقامات میں اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے خاص طور پر اجتناب کیا جائے، کیونکہ یہ زمانے اور مقامات عبادت کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان میں گناہ کا ارتکاب عام اوقات اور جگہوں کے مقابلے میں زیادہ قبیح اور زیادہ گناہ کا باعث ہوتا ہے۔
اس لیے ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمل، گفتار اور گھر کے ماحول کے ذریعے بچوں کے دلوں میں رمضان کی عظمت راسخ کرے، تاکہ وہ اس مہینے کو عام دنوں کی طرح نہیں بلکہ ایک مقدس امانت اور روحانی موقع سمجھ کر گزاریں۔ اولاد کی تربیت اور انہیں رمضان اور دیگر اوقات میں دینی حرمتوں کے احترام کا شعور دینے کے لیے ایک باشعور ماں کو چند اہم امور کا خیال رکھنا ضروری ہے، مثلاً:
رمضان کی آمد سے پہلے ہی بچوں کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے، اس مبارک مہینے کی فضیلت کا کثرت سے ذکر کیا جائے، اور بتایا جائے کہ اس میں بندۂ مومن کو کس قدر عظیم اجر و مغفرت نصیب ہو سکتی ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ میں ہے: “جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” [متفق علیہ]، اور “جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کیا، اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” [متفق علیہ]، نیز فرمایا: “ابنِ آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا” [متفق علیہ]۔
بچوں کو اس عظیم دینی موقع کی شان و عظمت کا احساس دلایا جائے اور انہیں یہ سمجھایا جائے کہ شعائرِ دین کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ انسان بڑھ چڑھ کر نیکیوں کی طرف آئے تاکہ دوگنا اجر حاصل کرے اور گناہوں سے پوری طرح بچے تاکہ بڑھتے ہوئے وبال سے محفوظ رہے۔
رمضان کی تعظیم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی آمد سے پہلے عبادت کے لیے خود کو فارغ کرنے کی تیاری کی جائے۔ جب بچے اپنی ماں کو وقت کی تنظیم کرتے، ترجیحات طے کرتے اور رمضان سے پہلے گھریلو ذمہ داریوں کو حتی الامکان مکمل کرتے دیکھتے ہیں جیسے عید کے کپڑے خریدنا، عید کی مٹھائیاں اور کیک تیار کرنا، گھر کی مکمل صفائی کرنا تو ان کے دلوں پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ اور اگر ماں انہیں ان کاموں میں شریک کر لے تو یہ اثر اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔
بچوں کے خیالات کی اصلاح کرنا اور ان کے اندر ایسی صحیح سوچ پیدا کرنا بھی ضروری ہے جو رمضان کی حرمت کو مجروح کرنے والی باتوں سے بچائے۔ رمضان میں شعائر کی تعظیم کا ایک اہم تقاضا زبان کی حفاظت بھی ہے، خصوصاً غیبت سے بچنا، کیونکہ یہ گناہ روزے کی روح کو زخمی کر دیتا ہے اور تقویٰ کے اثر کو کمزور کر دیتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص جھوٹ بات اور اس پر عمل کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی حاجت نہیں” [بخاری]۔
رمضان سے بھرپور استفادے کے چند عملی ذرائع
رمضان کو تربیت اور اولاد كی رہنمائی کے لیے مؤثر بنانے کے لیے چند عملی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں:
- کسی روزہ دار کو افطار کرانا: حضرت زید بن خالد الجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اسے بھی روزہ دار کے برابر اجر ملے گا، اور اس سے روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی”۔ [ترمزى]
- لوگوں کو صدقہ و خیرات اور نیکی کے کاموں کی دعوت دینا، خواہ ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا کے ذریعے۔
- ذرائع ابلاغ سے ایک طرح کی عارضی کنارہ کشی اختیار کرنا بھی نہایت اہم تربیتی ہدایات میں شامل ہے۔ اس بابرکت مہینے میں مناسب ہے کہ گھر کے افراد اور بچوں کے ساتھ مل کر اس کا اہتمام کیا جائے، تاکہ گھریلو فضا زیادہ پُرسکون اور عبادت و تربیت کے لیے سازگار بن سکے۔
- افطار سے قبل اور اذان سے چند لمحے پہلے دعا کا اہتمام کرنا، کیونکہ یہ نہایت قیمتی اور قبولیت کے لمحات ہوتے ہیں۔
- والدین کی خدمت، ان کے قریب رہنا، ان کی ضروریات پوری کرنا، اور حتی الامکان ان کے ساتھ افطار کرنا۔
- فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک عبادت میں بیٹھنا اور پھر نمازِ اشراق یا چاشت ادا کرنا، جو بڑی فضیلت کی حامل ہے۔
- گناہوں سے توبہ اور نفس کی اصلاح کی مشق کرنا۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ یا آزمائش میں مبتلا ہو چکا ہو، یا اس کا نفس کسی برائی کا عادی بن گیا ہو اور اس سے مانوس ہو کر اس کی جدائی اسے دشوار اور گراں محسوس ہوتی ہو، تو رمضان اس كے ليے صبر، استقامت اور مجاہدۂ نفس کا بہترین موقع ہے۔
- مساجد یا آن لائن ذرائع کے ذریعے تجوید اور حسنِ تلاوت کی محافل میں شرکت۔
گھر میں قرآن خوانی کی نشست قائم کرنا جس میں والدین اور بچے سب شریک ہوں، تاکہ خیر و برکت عام ہو اور بچوں کا تعلق قرآن سے مضبوط ہو۔ قرآنِ مجید کو سمجھ کر پڑھنا اور تدبر کے ساتھ اس کی آیات پر غور کرنا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ رمضان آتا ہے اور گزر جاتا ہے، اور ہم کئی بار قرآنِ کریم ختم بھی کر لیتے ہیں، لیکن ہماری توجہ زیادہ تر اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ سورہ کب مکمل ہوگی یا قرآن کب ختم ہوگا۔ یقیناً اس میں بہت بڑا اجر و ثواب ہے، مگر اس سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر، اس میں تدبر کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کریں۔ محض ختمِ قرآن کی فکر کے بجائے تفاسیر کی مدد سے معانی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
پوشیدہ صدقہ کرنا، کیونکہ اس کی ایک خاص فضیلت ہے مسلمانوں كے درميان اور یہ اعمال کی قبولیت کا ذریعہ بنتا ہے۔ گھریلو کام کاج کے دوران بھی نیت کی اصلاح اور ذکرِ الٰہی کا اہتمام کرنا۔ رمضان میں خواتین کا خاصا وقت باورچی خانے میں گزرتا ہے، خصوصاً افطار اور سحری کے اوقات میں، جو قبولیتِ دعا کے لمحات ہوتے ہیں؛ ان لمحات کو ذکر و دعا سے معمور کیا جائے۔
تراویح کی نماز کا اہتمام، خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں اہلِ خانہ کے ساتھ۔ بچوں کو نماز کی پابندی کی ترغیب دینا اور انہیں ٹی وی یا موبائل میں مصروف چھوڑ کر خود عبادت میں مشغول نہ ہو جانا۔ گھر کے افراد کے درمیان قرآن و سنت کی حفظ کى مسابقات كا اہتمام كرنا نہايت مفيد اور با بركت عمل ہے۔ اسی طرح بچوں کے دوستوں کے ساتھ بھی گروپس کی صورت میں ایسے مقابلے منعقد کیے جا سکتے ہیں، تاکہ باہمی رغبت اور شوق پیدا ہو، اور بچوں کو انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا۔
حقیقت یہ ہے کہ رمضان بچوں کی تربیت اور ان کی رہنمائی کا ایک قیمتی موقع ہے جو سال میں صرف ایک مرتبہ نصیب ہوتا ہے۔ والدین اور مربیوں کو چاہیے کہ وہ ماہِ رمضان میں تربیت کے اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور بچوں کو نیکیوں کی عادت ڈالنے اور بری اخلاقی عادات چھوڑنے کی عملی تربیت دیں۔
ہر والد اور مربی کو یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ بچپن تعلیم و تربیت کا سنہرا دور ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام والدین کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کم عمری ہی سے نماز، روزہ اور (لڑکیوں کے لیے) حجاب جیسی عبادات کا عادی بنائیں، تاکہ جب وہ سنِ تمییز کو پہنچیں تو ان اعمال پر قائم رہنا ان کے لیے آسان ہو جائے۔ اور یقیناً رمضان جیسے روحانی موسم میں یہ تربیت زیادہ مؤثر اور سہل ثابت ہوتی ہے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار