السلام علیکم!
میری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں اور میری ایک بیٹی بھی ہے۔ شادی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرا شوہر تقریباً ہر بات میں جھوٹ بولتا ہے۔ شروع میں جب میں نے اس کی آمدنی کے بارے میں پوچھا، پھر اس چیز کے بارے میں جو اس نے خریدی اور بہت کم قیمت پر بیچ دی، ہر جگہ اس نے جھوٹ بولا۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ صرف یہی نہیں، بلکہ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ قرض لیتا ہے اور سود کے ساتھ واپس کرتا ہے۔ مثلاً 500 لیتا ہے اور 1500 واپس کرتا ہے!
میں نے بہت برداشت کیا، مگر اب مزید برداشت نہیں ہو رہا۔ اس کے علاوہ وہ پچھلے پانچ مہینوں سے بے روزگار ہے۔ خرچ بھی بہت کم دیتا ہے، لیکن جب اس کے پاس پیسے ہوتے ہیں تو ہم پر خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتا۔
یہ بھی واضح رہے کہ وہ بہت سے اخراجات برداشت نہیں کرتا، جیسے پانی، گیس اور بجلی کے بل۔ کیونکہ میں اپنے والدین کے گھر میں رہتی ہوں اور وہی یہ سب ادا کرتے ہیں۔
وہ غیر ضروری چیزیں بھی خریدتا ہے، جیسے ایک کتا اور کئی موبائل فون، اور مجھے بتاتا بھی نہیں۔ مجھے بعد میں پتہ چلتا ہے جب لوگ میرے گھر والوں سے پیسے مانگنے آتے ہیں!
میں نے ابھی طلاق نہیں لی، مگر اب مجھے اس کے ساتھ رہنا مشکل لگتا ہے۔ میرے خاندان کے سامنے میری شبیہ بھی خراب ہو گئی ہے، اور وہ میرے شوہر (میری بیٹی کے والد) کو دھوکے باز، چور اور سود خور کہتے ہیں۔
مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا اس کی حالت درست ہو سکتی ہے؟
جواب
ہماری پیاری بیٹی!
ہم نے تمہارے خط کی بہت سی تفصیلات مختصر کر دی ہیں، جن میں مالی معاملات اور خطرناک غلطیاں شامل تھیں۔ جو کسی بھی گھر کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اگر صرف غیر ضروری چیزیں خریدنے یا مالی بے ترتیبی کا مسئلہ ہوتا، تو اسے کسی حد تک نظر انداز کیا جا سکتا تھا، کیونکہ یہ اس کے اپنے پیسے کا معاملہ ہے۔ اس صورت میں مسئلہ صرف یہ ہوتا کہ وہ پیسے کا درست استعمال نہیں جانتا۔ لیکن تمہاری شکایت میں سود (ربا) کا ذکر ہے، اور یہ نہایت خطرناک اور ہلاکت خیز چیز ہے۔
قرآن میں سود کے بارے میں سخت تنبیہ آئی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو… اگر ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ”
البقرہ: ٢٧٨-٢٧٩
یہ واضح اور سخت حکم ہے، جس کا انجام اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ ہے— جو دنیاوی سزاؤں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ تمہارے شوہر کی تمہارے خاندان کے سامنے کیا تصویر ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے کیسے بے خوف ہے؟
سہل تستری کہتے ہیں:
“جو حرام کھاتا ہے، اس کے اعضاء بھی نافرمانی کرتے ہیں … اور جو حلال کھاتا ہے، وہ نیکی کی طرف کامیاب ہوتا ہے۔”
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾
“اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے”
البقرہ: ٢٧٦
سود بظاہر بڑھتا ہوا لگتا ہے، مگر اس میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص سود زیادہ کھائے گا، اس کا انجام کمی کی طرف ہوگا”
تمہیں کیا کرنا چاہیے؟
بیٹی، لوگوں کی باتوں کو چھوڑ دو اور اپنے شوہر کو واضح طور پر بتاؤ کہ:
حضرت ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حرام کھانا جسم کا حصہ بن جاتا ہے اور انسان کو نقصان دیتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ہر وہ جسم جو حرام سے پلتا ہے، اس کے لیے جہنم زیادہ حق دار ہے۔”
شوہر کی اصلاح کیسے ہو؟
تمہیں چاہیے کہ:
- اپنے شوہر کو اللہ سے ڈراؤ
- اسے دنیا اور آخرت کے انجام سے آگاہ کرو
- اسے نیک لوگوں کی صحبت میں لے جاؤ
- اسے “قرضِ حسنہ” (بغیر سود کے قرض) لینے کی ترغیب دو
- اسے نئی شروعات کا موقع دو
- اسے روزگار تلاش کرنے کی ترغیب دو، چاہے کم آمدنی ہو
ایک اہم نصیحت
ایک نیک بیوی اپنے شوہر سے کہتی تھی:
“اللہ سے ڈرو اور ہمیں حرام نہ کھلاؤ، ہم بھوک برداشت کر سکتے ہیں مگر جہنم نہیں۔”
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾
“جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا”
الطلاق: ٢-٣
آخری بات
شوہر کی اصلاح ممکن ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ:
- وہ اپنی غلطی تسلیم کرے
- سچے دل سے توبہ کرے
- لوگوں کے حقوق واپس کرے
- سود کو مکمل طور پر چھوڑ دے
تم بھی واضح کر دو کہ تم صرف حلال رزق قبول کرو گی۔ اگر وہ نہ بدلے، تو تمہیں اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا حق ہے۔
خود سے سوال کرو
اپنے آپ سے پوچھو:
کیا تمہارے شوہر میں کوئی ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے تم یہ رشتہ جاری رکھنا چاہتی ہو؟
اگر ہاں، تو صبر اور اصلاح کی کوشش کرو۔
اگر نہیں، تو حقیقت کو قبول کر کے فیصلہ کرو۔
اہلِ خانہ کے لیے نصیحت
والدین کو چاہیے کہ:
- داماد کے مالی معاملات کو شروع میں ہی جانچیں
- صرف ظاہری اچھائی پر اعتماد نہ کریں
- شروع میں مالی سہولتیں دینے کا وعدہ نہ کریں
- ضرورت پڑنے پر بعد میں مدد کریں، مستقل سہارا نہ بنیں
دعا
اللہ تمہارے شوہر کی اصلاح کرے، اسے حلال سے محبت عطا کرے، اور حرام سے بچائے۔ آمین
مترجم: سجاد الحق
المصدر
یہ مضمون عربی مضمون “زوجي يتعامل بالربا.. هل أستمر معه؟!” کا اردو ترجمہ ہے۔