فتنوں کے سمندر میں بقاء کا راستہ
لوگ فطرتاً مختلف مزاجوں پر پیدا کیے گئے ہیں۔ ان میں کوئی ایسا ہے جو نرم خو، ملنسار، سہل اور رفیق ہے، اور کوئی سخت مزاج اور مشکل طبیعت کا حامل، جب کہ کچھ ان دونوں مزاجوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ ان کے رجحانات جدا جدا، اور وہ مختلف امتوں، قبائل اور اقوام میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان تمام صورتوں میں جو چیز ثابت ہے وہ اختلاف اور تنوع ہے — اور یہ اختلاف اس اختلافِ مذموم سے مختلف ہے جو امت یا جماعت کے افراد کے درمیان پھوٹ اور نزاع کا سبب بن جائے۔ اسی معنی کی طرف حافظ ابن رجب حنبلی نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
جب دین کے مسائل میں لوگوں کا اختلاف بڑھ گیا اور ان میں تفرقہ زیادہ ہو گیا، تو اس کے نتیجے میں ان کے درمیان باہمی بغض، لعن طعن اور نفرت بھی بڑھ گئی، اور ہر ایک یہ سمجھنے لگا کہ وہ اللہ کے لیے بغض رکھتا ہے، حالانکہ ممکن ہے حقیقت میں وہ معذور ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ معذور نہ ہو، بلکہ اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کر رہا ہو اور اس چیز کی صحیح معرفت حاصل کرنے میں کوتاہی کر رہا ہو جس بنیاد پر وہ بغض رکھے ہوئے ہے۔
حافظ ابن رجب حنبلی
سنتِ اختلاف
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے انسانوں کو طبیعت، سلوک اور تربیت کے اعتبار سے مختلف انداز میں پیدا فرمایا ہے، یہاں تک کہ اختلاف ایک کائناتی اصول بن گیا، اسی لیے حسنِ کلام کے ساتھ بحث و مباحثہ ایک شرعی قدر قرار پایا۔ اس لیے مکمل یکسانیت اصل نہیں بلکہ استثناء ہے — کیونکہ کامل مشابہت زندگی کو روحِ تازگی اور تجدید سے محروم کر دیتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اختلاف کے متعدد اور متنوع اسالیب وارد ہوئے ہیں تاکہ یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ اختلاف، خواہ جیسا بھی ہو، ایک فطری امر ہے اور باہمی محبت و تعلق کو ختم نہیں کرنا چاہیے، نیز ہر شخص کا اختلاف کا اپنا انداز اور مزاج ہوتا ہے، اس لیے ہر صاحبِ رائے کے نقطۂ نظر کا احترام ضروری ہے۔
وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا
ترجمہ: "ابتداءً سارے انسان ایک ہی اُمّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے” [يونس: 19]
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ
ترجمہ: "کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے” [آل عمران:105]
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
ترجمہ: "بے شک تیرا ربّ اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے” [هود:118]
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ
ترجمہ: "ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمّت بھی بناسکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دُوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو” [المائدة:48]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، خبردار! کسی عربی کو عجمی پر، اور نہ کسی عجمی کو عربی پر، نہ کسی گورے کو کالے پر، اور نہ کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل ہے، سوائے تقویٰ کے۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
[البيهقی]
اگر قرآنِ کریم نے امتِ مسلمہ کو ایک امت قرار دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے اعتبار سے ایک ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس امت کے مختلف اقوام، طبقات اور جماعتوں کے درمیان امتیاز، اختلاف اور تنوع کے عناصر ختم ہو جائیں، بلکہ یہ سب ایک وسیع دائرۂ عقیدہ کے اندر برقرار رہتے ہیں۔
استاد جمال البنا
مثبت اختلاف
یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں کہ ہر اختلاف شر ہی ہوتا ہے، بلکہ اس کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں جو امت کے لیے نفع بخش ثابت ہوتے ہیں (سوائے اُن امور کے جو کتاب و سنت سے واضح اور قطعی الثبوت ہوں) اور ان کے علاوہ دیگر معاملات میں رائے کی وسعت سب کے لیے موجود ہے تاکہ اُس چیز تک پہنچا جا سکے جو مجموعی طور پر معاشرے کے لیے مفید ہو۔ پس سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اختلاف افکار، تصورات، عادات، روایات اور آراء میں ایک فطری امر ہے۔
لوگوں کو عبادات، معاملات اور دین کی فروعی شاخوں کے احکام میں ایک ہی رائے پر جمع کرنے کی کوشش ایسی کوشش ہے جس کا وقوع ممکن نہیں۔ اس لیے کہ غیر بنیادی شرعی احکام کے فہم میں اختلاف ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
صحابہ اور اختلاف
تم میں سب سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو اُن کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے۔
[بخاری]
یہ ایک واضح اور تفصیلی قاعدہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے اور اپنے ساتھ رہنے والوں کی فضیلت و خیر کو واضح فرمایا، لہٰذا صحابۂ کرام کے طرزِ عمل کو دینی مسائل میں دلیل کے طور پر لیا جاتا ہے۔
صحابۂ کرام نے اختلاف کے معاملے میں کتاب و سنت اور ان میں وارد ہدایات کی روشنی میں تعامل کیا، اور اختلاف و نزاع کی کثرت سے بچنے کی کوشش کی، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
سیدھے اور برابر رہو اور اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دل آپس میں مختلف ہو جائیں گے۔
[صحیح]
لیکن جب اُن کے درمیان اختلاف واقع ہوتا تو وہ اُسے کتاب و سنت کی طرف لوٹا دیتے اور اُن دونوں کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے، ساتھ ہی تقویٰ کی پابندی، خواہشِ نفس سے اجتناب اور اسلامی آدابِ گفتگو کو ملحوظ رکھتے۔ یہی وہ قاعدہ ہے جس پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے تاکہ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا حاصل کریں، صفوں کے اتحاد اور باہمی مضبوطی کو قائم رکھیں اور اپنی امت کو بلندی کی طرف لے جائیں۔
تاریخ صحابۂ کرام کے اُن بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں اُنہوں نے باہمی اختلافِ رائے کیا، باہم گفتگو اور بحث کی، پھر جب حق واضح ہو گیا تو سب کے سب اُسی کے سامنے جھک گئے۔
امام حسن البناؒ اور اختلاف
استاد حسن البناؒ ایک معتدل اور متوازن منہج لے کر آئے جس کی بنیاد انہوں نے کتاب و سنت پر رکھی، اور اس میں انہوں نے امتِ مسلمہ کی وحدت کے مسئلے کو زیرِ بحث لاتے ہوئے اس پر زور دیا، اختلاف کو ترک کرنے کی دعوت دی، اور بغیر جرح و تنقیص کے احترام کی تاکید کی۔ چنانچہ انہوں نے چھٹے اصل میں فرمایا:
لیکن ہم اُن اشخاص پر، جن مسائل میں اختلاف ہو، طعن و تشنیع نہیں کرتے اور اُن کے معاملے کو اُن کی نیتوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔
امام حسن البناؒ — اصولِ عشرین، ساتواں اصل
امام حسن البناؒ نے اختلاف اور تفرقے کو ترک کرنے کے اصولوں پر اپنی فکر کی بنیاد رکھی تاکہ امت کی پراگندگی کو سمیٹا جا سکے۔ چنانچہ ان کا پہلا قاعدہ تھا: "ہم جمع کرتے ہیں، جدا نہیں کرتے”۔ اس کے بارے میں وہ فرماتے ہیں:
دعوتِ اخوان المسلمین ایک عام دعوت ہے، جو کسی خاص گروہ کی طرف منسوب نہیں، نہ ہی کسی ایسی رائے کی طرف جھکتی ہے جو لوگوں میں کسی مخصوص رنگ اور اس کے خاص لوازم و توابع کے ساتھ معروف ہو، بلکہ یہ دین کے مغز اور اس کے لبِّ لباب کی طرف متوجہ ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ نگاہوں اور ہمتوں کا رخ ایک ہو جائے تاکہ عمل زیادہ مفید اور پیداوار زیادہ عظیم و وسیع ہو۔
امام حسن البناؒ
اور دوسرا قاعدہ تھا: "اختلاف ناگزیر ہے”۔ وہ فرماتے ہیں:
اس کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دین کی فروعی مسائل میں اختلاف ایک ناگزیر ضرورت ہے، اور ان فروع، آراء اور مذاہب میں مکمل اتحاد ممکن نہیں، اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ عقلوں میں استنباط کی قوت اور کمزوری میں فرق ہوتا ہے، دلائل کو سمجھنے یا نہ سمجھنے میں تفاوت ہوتا ہے، معانی کی گہرائی تک پہنچنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ دین آیات، احادیث اور نصوص پر مشتمل ہے جن کی تفسیر عقل اور رائے زبان اور اس کے قواعد کے دائرے میں کرتی ہے، اور لوگ اس معاملے میں بہت مختلف ہیں، لہٰذا اختلاف کا ہونا ناگزیر ہے۔
امام حسن البناؒ
اور تیسرا قاعدہ تھا: "فروعی مسائل میں اجماع ناممکن ہے”۔ وہ فرماتے ہیں:
ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دین کی فروعی شاخوں میں کسی ایک رائے پر اجماع ایک ناممکن مطالبہ ہے، بلکہ یہ خود دین کی فطرت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو اس لیے باقی اور دائمی رکھا ہے تاکہ یہ ہر دور کے ساتھ چل سکے اور ہر زمانے کا ساتھ دے سکے، اور اسی لیے یہ دین آسان، نرم، لچکدار اور سہل ہے، اس میں نہ جمود ہے اور نہ سختی۔
امام حسن البناؒ
مخالف سے معذرت
استاد حسن البناؒ نے ان کلمات کو ایک ایسے اصول کے طور پر رکھا جس پر انہوں نے اپنی فکر کی بنیاد قائم کی، اور چاہا کہ اُن کے رفقاء بالخصوص تحریکی کارکن، اور بالعموم امتِ مسلمہ کے افراد، اسی پر تربیت پائیں، بغیر اس کے کہ کوئی اپنے رائے پر تعصب کرے یا یہ گمان کرے کہ حق صرف اُسی کے پاس ہے۔ امام حسن البناؒ فرماتے ہیں:
ہم اس عقیدے پر قائم ہیں، اس لیے جو لوگ بعض فروعی مسائل میں ہم سے اختلاف رکھتے ہیں، ہم اُن کے لیے مکمل عذر تلاش کرتے ہیں، اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اختلاف کبھی بھی دلوں کے باہمی تعلق، محبت کے تبادلے اور نیکی پر تعاون میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، بلکہ اسلام کے وسیع مفہوم کی بہترین حدود ہمیں اور اُنہیں اپنے اندر سمیٹ لینی چاہییں… کیا ہم اس بات کے پابند نہیں کہ اپنے بھائیوں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں؟ پھر اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ اور کیوں نہ ہماری رائے اُن کے نزدیک غور و فکر کا محل ہو جیسے اُن کی رائے ہمارے نزدیک ہے؟ اور اگر باہمی فہم و تفہیم کی ضرورت ہو تو کیوں نہ ہم صفائیِ قلب اور محبت کے ماحول میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں؟
امام حسن البناؒ
اختلاف کے اسباب
اسباب متعدد ہیں، لیکن اُن کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اثر ایک ہی ہوتا ہے، اور وہ ہے: تفرقہ و انتشار، کمزوری اور بزدلی کا پھیل جانا، دوسروں کی تابع داری، دشمنوں کی نگاہوں میں ہیبت کا ختم ہو جانا، اور دعوتی عمل کا کمزور پڑ جانا۔
اختلاف کے اسباب میں کمزور تربیت اور آدابِ اختلاف کی کمی بھی شامل ہو سکتی ہے، اسی طرح تعلیمی پسماندگی اور جہالت کا پھیلاؤ، عدل کے فقدان اور قوانین کی پامالی بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ کبھی یہ حبِّ ذات اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کا نتیجہ ہوتا ہے، اور کبھی نیت کے فساد کا۔ بعض اوقات اختلاف کرنے والے خود اُس مسئلے کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں جس میں وہ نزاع کر رہے ہوتے ہیں، یا پھر وہ محض اپنے پیش روؤں کی اندھی تقلید اور اُن کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ دلیل اور برہان کی طرف نظر کریں۔ اسی طرح قیادت، برتری اور اقتدار کی محبت بھی اختلاف کا سبب بنتی ہے، اور کبھی لوگوں کے مزاجوں اور طبیعتوں کے فرق سے بھی اختلاف جنم لیتا ہے۔
مذموم اختلاف
کبھی انسان، جماعتیں یا قومیں غلط اندازے اور اختلافات کا شکار ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں تکلیف یا نقصان بھی سامنے آ سکتا ہے۔ ایسے موقع پر بعض فریق اپنے مخالفین پر غلط اندازے اور فہمِ دین کی کمی کا الزام لگاتے ہیں، اور بعض اوقات الفاظ میں حد سے تجاوز بھی کرتے ہیں، جبکہ اسلام نے اس سے سختی سے منع کیا ہے۔
بامقصد اور اصلاحی تنقید مطلوب ہے تاکہ اصلاح ممکن ہو، اور تعمیری مکالمہ بھی ضروری ہے تاکہ بحران سے نکلنے کے بہترین راستے تلاش کیے جا سکیں۔
لیکن مذموم اختلاف کلمے کے انتشار، امت کی دشمنی، گروہوں کی باہمی کشمکش اور تقسیم کا سبب بنتا ہے، اور امت کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے، حتیٰ کہ بعض کو بعض کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ قرآن کریم اور سنتِ مطہرہ نے اس طرزِ اختلاف سے سختی کے ساتھ متنبہ فرمایا ہے۔
غلط فہمیاں
رائے کا اختلاف دراصل اصلاح کے عمل، بہترین راستوں تک پہنچنے اور مختلف آراء کے ذریعے فکر کو وسعت دینے کا ذریعہ ہے۔ اس پہلو کو برطانوی مصنفہ "کیتھرین ڈبلیو فیلیپس” نے یوں بیان کیا ہے:
ہم اپنے کام میں زیادہ تخلیقی، محنتی اور فعال ہو جاتے ہیں جب ہم اپنے سے مختلف لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔
کیتھرین ڈبلیو فیلیپس
تاہم مختلف تربیتی، علمی اور فہم و ادراک سے متعلق اسباب کی بنا پر اختلاف بعض اوقات غلط تصورات کو جنم دیتا ہے، جیسے صرف اختلافِ رائے کی وجہ سے زبان کو طعن و تشنیع کے لیے کھول دینا، یا ہمیشہ بدگمانی کو اختیار کرنا اور مخالف فریق کے ساتھ محبت و احترام کو نظر انداز کر دینا۔
لہٰذا جب بھی رائے کا اختلاف ہو تو درج ذیل اصولوں کو اختیار کرنا ضروری ہے:
- زبان کو آلودگی، طعن و تشنیع اور ذاتی حملوں سے محفوظ رکھنا۔
- حسنِ ظن کو اختیار کرنا، کیونکہ دونوں فریق کا مقصد اصلاح ہوتا ہے۔
- مخالف فریق کی خدمات، تجربے اور علمی حصہ داری کو پیشِ نظر رکھنا۔
- رابطے اور تعلق کو قائم رکھنا اور باہمی احترام کو برقرار رکھنا (جسے "شعرة معاویہ” کہا جاتا ہے)۔
- نیتوں کو خالص رکھنا اور اجتماعی مفاد کو ذاتی، گروہی یا قبائلی مفادات پر ترجیح دینا۔
آئیے اختلاف کرنا سیکھتے ہیں!
بامقصد تنقید اور اختلاف اپنی اصل میں کوئی مذموم چیز نہیں، بلکہ مذموم وہ حد سے تجاوز ہے جو افراد کے رویّے میں پیدا ہو جاتی ہے، چاہے وہ دینی معاملات میں اختلاف کریں، یا ریاستی و سیاسی امور میں، یا کسی دعوتی و تنظیمی دائرے میں۔ یہ حد سے تجاوز انسان کو بدگمانی، بدزبانی اور مخالف کی تحقیر کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہ عمر کا لحاظ رکھتا ہے، نہ مقام و مرتبے کا، اور نہ اُس تعلق و محبت کا جو دونوں فریقوں کے درمیان موجود ہوتا ہے۔
یہ بات کوئی بھی شخص رد نہیں کر سکتا کہ انسان تعمیری تنقید کرے، جس پر عملی کام کی بنیاد رکھی جا سکے اور جس کے نتیجے میں ایسی سفارشات سامنے آئیں جو کسی واقعے کو بدل سکیں، کسی موقف پر اثر ڈال سکیں یا کسی مسئلے کے حل میں مددگار ہوں۔
ہم کسی کو اس کے اختلاف یا تنقید کی بنیاد پر الزام عائد نہیں کرتے، بلکہ سب کو اختلاف کے آداب یاد دلاتے ہیں۔ اصل اصول یہ ہے کہ ہر فریق خیر اور اصلاح کا خواہاں ہوتا ہے، البتہ طریقۂ کار یا رائے کا فرق مفاہیم کے اختلاف یا معلومات کی کمی بیشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی اصول کو اسلام نے امت کے اتحاد کے لیے سکھایا ہے، جن میں درج ذیل آداب شامل ہیں:
- نیتوں کا جائزہ لینا — اگر نیتیں خالص ہوں تو دلوں میں ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔
- رائے پیش کرنے میں تواضع اختیار کرنا اور حق کے سامنے جھک جانا۔
- گفتگو اور مکالمے کی ایسی ثقافت کو فروغ دینا جو اختلاف کو تسلیم کرتی ہو۔
- جس بات پر اتفاق ہو اس میں تعاون کرنا، اور جس میں اختلاف ہو اس میں ایک دوسرے کو گنجائش دینا۔
- کسی ایک فریق کا اپنی قوت یا اختیار کی بنیاد پر رائے مسلط نہ کرنا بلکہ دوسروں کی رائے کا احترام کرنا۔
- اختلاف کو مثبت توانائی میں بدل کر بہتر نتائج تک پہنچنا۔
- ہر سطح پر جمہوری طرزِ عمل کو فروغ دینا، خصوصاً سیاسی میدان میں۔
- نوجوانوں کو بین النسلی اختلاف قبول کرنے کی تربیت دینا اور مختلف طبقات کو ایک دوسرے کی رائے کا احترام سکھانا۔
- مکالمے کے آداب کی پابندی کرنا جیسے توجہ سے سننا، بات نہ کاٹنا، طعن و تشنیع اور بدگمانی سے بچنا، اور اُس اخوت کے رشتے کو برقرار رکھنا جسے اللہ نے انسانوں کے درمیان قائم فرمایا ہے۔
مترجم: زعیم الرحمان