اسلامی شریعت نے دل کی اصلاح، پاکیزگی اور درستگی پر جسم کی صحت و سلامتی سے بھی بڑھ کر توجہ دی ہے۔ اور باطنی اعمال (قلبی عبادات کے اہتمام) کو ظاہری اعمال سے بڑھ کر لازمی قرار دیا ہے۔ شریعت میں دل کو قیادت، رہنمائی اور ہدایت کا مقام دیا ہے جسم کے اعضاء اس کے مطابق ڈھلتے ہیں اور اس کے تابع رہتے ہیں۔
صبر، اخلاص، توکل، خشیت، تقویٰ، غور و فکر اور رضا وغیرہ ایسے باطنی اعمال ہیں جو درحقیقت ظاہری اعمال کا اصل مقصد ہیں۔ یہ اعمال انسان کے دین کو محفوظ کرتے ہیں اور شیطانی وسوسوں کے مقابلے میں ثابت قدم رکھتے ہیں۔ یہی پاکیزہ اعمال تطہیرِ قلب اور تزکیے کا باعث بنتے ہیں، یہ بندے کو رب کے قریب کرتے ہیں اور اس کے اعضا کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ عبادت و اطاعت پر آمادہ رہیں۔
بلاشبہ اللہ پر ہمارا توکل اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اسی پر انحصار کرتے ہیں، اسی پر اعتماد کرتے ہیں، اسی سے اطمینان نصیب ہوتا ہے اور صرف اسی کو اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے توکل کو ایمان کی لازمی شرط قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾
سورۃ المائدہ
تو جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے دین اور دنیا کے تمام اہم معاملات میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اور جو کسی اور پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے اور آخرکار ناکامی اور خسارہ ہی اس کا مقدر ٹھہرتا ہے۔
اللہ پر توکل: مفہوم اور شرعی بنیادیں
ابن منظور کی کتاب لسان العرب میں آیا ہے کہ توکل کا مطلب ہے اللہ کے سپرد کرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا۔ اتّکل یعنی اس کے سامنے خود کو سپرد کر دینا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی معاملے میں توکل کیا یعنی اس کے انجام دینے کی ذمہ داری لے لی۔ میں نے اپنا معاملہ فلاں کے سپرد کیا یعنی میں نے اسے اس کے حوالے کر دیا اور اس پر اعتماد کیا۔ اور جب کوئی شخص کسی کو اپنا معاملہ سونپ دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو کافی سمجھتا ہے یا خود اپنے معاملے کو انجام دینے سے عاجز ہوتا ہے۔
اصطلاحی معنی کے حوالے سے حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا:
توکل اللہ پر اعتماد کا نام ہے، اور سچا توکل یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے پاس موجود چیزوں پر اس سے زیادہ بھروسہ کرے جو اس کے اپنے پاس دنیا میں موجود ہیں، کیونکہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ زیادہ عظمت کا حامل اور باقی رہنے والا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ
حافظ ابن رجبؒ فرماتے ہیں:
توکل یہ ہے کہ بندہ اپنے دل سے سچی طرح اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرے کہ دنیا اور آخرت کے فائدے حاصل ہوں اور نقصانات سے بچ سکے۔ مومن اس وقت حقیقی معنی میں بھروسہ کرتا ہے جب وہ اللہ پر کامل اعتماد اور حسنِ ظن رکھے اور اس کے حکم کے سامنے کامل تسلیم و رضا اختیار کرے۔
حافظ ابن رجبؒ
قرآنِ کریم میں توکل کی فضیلت
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ پر توکل کی فضیلت کے بارے میں بہت سی آیات آئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾
سورۃ آل عمران: ١٢٢
یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بُزدلی دکھانے پر آمادہ ہو گئے تھے، حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾
سورۃ آل عمران: ١٧٣
اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ “تمہارے خلاف بڑی فوج جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو” تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔
﴿وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ وَاللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا﴾
سورۃ النساء: ٨١
وہ منہ پر کہتے ہیں کہ ہم مطیع فرمان ہیں مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے تم ان کی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے۔
﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾
سورۃ الملک: ٢٨-٢٩
ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟ اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے۔
سنتِ نبوی میں توکل کی تعلیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ بھی اللہ پر مکمل بھروسہ کے حوالے سے تعلیمات سے بھرپور ہے۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے:
اگر تم لوگ اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے۔ وہ صبح (گھونسلوں سے) بھوکے روانہ ہوتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر آتے ہیں۔
ترمذی، اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی دعائیں بھی سکھائی ہیں جن سے ہمیں تمام معاملات اللہ کے سپرد کرنے اور اسی پر انحصار کرنے کی رہنمائی ملتی ہے۔ صحیحین میں ہے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو وصیت کی اور فرمایا کہ جب بستر پر جانے لگو تو یہ دعا پڑھا کرو:
اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی اور اپنا معاملہ تجھے سونپا اور اپنے آپ کو تیری طرف متوجہ کیا اور تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رغبت ہے تیرے خوف کی وجہ سے، تجھ سے تیرے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر جنہیں تو نے بھیجا۔
متفق علیہ
پھر اگر وہ مرا تو فطرت (اسلام) پر مرے گا۔
گھر سے نکلنے کی دعا کے بارے میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے “اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے” تو آپ نے فرمایا: اس وقت کہا جاتا ہے (یعنی فرشتے کہتے ہیں): اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی، اور تو بچا لیا گیا، (یہ سن کر) شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے۔
اللہ پر توکل کے واقعات
توکل دراصل بندگی کا لب لباب اور جوہر ہے۔ جو شخص سچے دل سے اللہ پر توکل کرتا ہے وہ بندگی کے اعلی مقامات کی طرف گامزن ہوجاتا ہے۔ کتبِ سیرت و تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں جن میں اس عظیم قلبی عمل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ان میں نمایاں واقعات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، تابعین اور مصلحین کے ہیں۔ ان واقعات میں سے چند درج ذیل ہیں:
غزوہ نجد میں بدوی کا واقعہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے۔ دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے بہت درخت تھے۔ آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لیے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار ٹکا دی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے۔ ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا۔ اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! (وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ) تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا اور دیکھ لو۔ یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔
[بخاری]
غارِ ثور میں توکل کا واقعہ
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ ہجرت کر رہے تھے تو مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرؓ کے تعاقب میں نکل پڑے۔ وہ مکہ کے راستوں اور پہاڑیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے رہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر سکیں۔ یہاں تک کہ وہ غارِ ثور تک پہنچ گئے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ ان دونوں نے بھی مشرکین کے قدموں کی آواز اور گفتگو سن لی۔ انس رضی اللہ عنہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
میں نے غار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے ابو بکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟
بخاری
سراقہ بن مالک کا واقعہ
ہجرت کے دوران ایک اور واقعہ پیش آیا۔ سراقہ بن مالک، قریش کا انعام حاصل کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تلاش میں ان دونوں کے قریب پہنچ گیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ہم نے زوال آفتاب کے بعد کوچ کیا۔ سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! اس نے ہمیں آلیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔” نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا فرمائی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گیا، اس نے کہا: تم نے میرے لیے بددعا کی ہے، اب میرے لیے دعا کرو اور میں تمہیں اللہ کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں تمہاری تلاش میں نکلنے والوں کو تمہارے پیچھے نہیں آنے دوں گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ نجات پا گیا، پھر وہ جسے بھی ملتا اس سے یہی کہتا: اس طرف تمہیں جانے کی ضرورت نہیں، میں ادھر سے ہو آیا ہوں، اس طرح وہ ہر ملنے والے کو واپس کر دیتا۔ [بخاری]
جنگِ یرموک: توکل اور فتح
یہی وہ توکل ہے جس کا بیج نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے دلوں میں بویا اور اس کے ثمرات تاریخ بھر میں ظاہر ہوئے۔ مثال کے طور پر خلافتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جنگِ یرموک کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد بیس ہزار سے کچھ زیادہ تھی جب کہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کے امراء میں ابوعبیدہ بن الجراح، شرحبیل بن حسنہ، یزید بن ابی سفیان، عیاض بن غنم الفہری اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم شامل تھے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہدایت کی تھی کہ جنگ کی صورت میں پورے لشکر کے امیر ابو عبیدہ بن الجراح ہوں گے۔ جب جنگ شروع ہوئی اور لڑائی شدت اختیار کر گئی تو عیسائیوں نے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا۔ مسلمانوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر مدد طلب کی کیونکہ دشمن تعداد اور اسلحہ دونوں میں زیادہ تھا اور وہ لڑ بھی اپنی سرزمین پر رہا تھا۔
جب عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا خط پڑھا تو جواب میں لکھا کہ وہ ایک بھی سپاہی نہیں بھیجیں گے، ان کی تعداد کم نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے، لیکن انہوں نے اللہ سے صحیح مدد طلب نہیں کی۔ انہیں یاد کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن اس سے بھی کم تعداد میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا کی تھی۔ پس مدد صرف اللہ سے طلب کریں کیونکہ اللہ کے لشکر بے شمار ہیں، وہی حکمت والا ہے اور وہی بہترین کار ساز ہے۔
مسلمانوں کو یہ خط ملا تو ان کے حوصلے بلند ہوگئے۔ انہوں نے بدر کو یاد کیا اور یک جان ہو کر دشمن پر حملہ کردیا، اللہ نے انہیں فتح عطا کی، اللہ کا بلند وبالا ہوا اور کلمۂ کفر مغلوب ہوا۔
تابعین اور علماء کی شہادتیں
یہ اخلاق صحابہ کے بعد تابعین تک منتقل ہوئے۔ امام غزالی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ توکل یہ ہے کہ انسان جسمانی کوششیں اور قلبی تدابیر ترک کردے۔ یہ جاہلوں کا گمان ہے کیونکہ یہ شریعت میں حرام ہے۔ اگر تم زمین میں بغیر بیج بوئے اللہ سے پھل کی امید رکھو یا تمہاری بیوی بغیر تعلق کے بچہ جنے، تو یہ سب جنون ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے توکل کرنے والوں کی تعریف کی ہے لیکن انہیں ایسا نہیں بتایا کہ وہ کمائی نہیں کرتے یا شہروں میں نہیں رہتے یا کسی سے کچھ نہیں لیتے، بلکہ وہ اسباب اختیار کرتے ہیں۔
امام غزالی رحمہ اللہ
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
کچھ علماء نے کہا ہے کہ مکمل توجہ اسباب کی طرف کرنا توحید میں شرک ہے، اسباب کو بالکل مٹا دینا عقل کی کمی ہے، اور اسباب کو مکمل نظر انداز کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ جس توکل کا حکم ہے وہ وہی ہے جس میں توحید، عقل اور شریعت تینوں جمع ہوں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
ابو حاتم ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:
عاقل پر لازم ہے کہ وہ اس ذات پر توکل کرے جس نے رزق کی ضمانت دی ہے۔ توکل ایمان کا نظام ہے یعنی وہ دھاگہ جس کے ارد گرد ہار کے موتی ترتیب پاتے ہیں اور توحید کا ساتھی ہے۔ اسی سے فقر دور ہوتا ہے اور یہی سکون پیدا کرتا ہے۔ جو سچے دل سے اللہ پر توکل کرے اور اللہ کی ضمانت کو اپنے پاس موجود چیزوں سے زیادہ مضبوط سمجھے، اللہ اسے لوگوں کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
ابو حاتم ابن حبان رحمہ اللہ
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے اس حدیث کا ذکر کیا:
اگر تم اللہ پر سچا توکل کرو کہ پرندے رزق کی تلاش میں صبح آرام سے نکلتے ہیں اور ساتھ ان کا بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے جو مسخر کرنے والا، مہیا کرنے والا اور اسباب بنانے والا ہے۔
امام حسن البنا اور توکل کی عملی تربیت
امام حسن البنا شہید رحمہ اللہ اس بات پر بہت حریص تھے کہ اس قلبی عمل کو اپنے ساتھیوں کے دلوں میں راسخ کریں۔ چنانچہ شیخ عباس السیسی بیان کرتے ہیں:
میں نے سنہ 1939ء میں صنعتی ثانوی اسکول کا ڈپلومہ حاصل کیا تو میں روزگار کی تلاش میں قاہرہ گیا۔ وہاں میری ملاقات دارُ المرکز العام بالحلمیہ الجدیدہ میں مرشدِ عام امام حسن البنا شہید رحمہ اللہ سے ہوئی۔ انہوں نے میرا خیرمقدم کیا اور دریافت کیا کہ میں قاہرہ کیوں آیا ہوں۔ میں نے کہا: کام کی تلاش میں.
انہوں نے فرمایا: کیا تم نے فوجی مکینیکل انڈسٹریز کے مدرسہ میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے کے بارے میں نہیں سوچا؟
میں نے کہا: صنعتی اسکولوں کے فارغ التحصیل طلبہ فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہیں۔
انہوں نے فرمایا: لیکن ہماری دعوت کا تقاضا ہے کہ ہم اس میدان میں بھی خدمت کریں۔
میں نے کہا: مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن میں طبی معائنہ میں کامیاب نہیں ہو سکوں گا کیونکہ میری ایک آنکھ میں دائمی دھندلے پن کی بیماری ہے۔
انہوں نے فرمایا: اللہ پر توکل کرو، تم کامیاب ہو جاؤ گے۔
میں نے کہا: میری آنکھ کی یہ حالت ہے، پھر میں طبی معائنہ میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہوں؟
انہوں نے فرمایا: اسی لیے تو میں نے تم سے کہا ہے کہ اللہ پر توکل کرو، کیونکہ اگر تمہاری آنکھ بالکل صحیح ہوتی تو تم اپنی آنکھ پر بھروسہ کرتے، اللہ پر نہیں۔
یہ بات میرے دل کو لگی اور میں نے ایمان کی حلاوت محسوس کی۔ چنانچہ میں اللہ پر توکل کرتے ہوئے العباسیہ میں واقع فوجی صنعتی مدرسہ کی طرف روانہ ہوا۔ ایک افسر ہمیں چند ساتھیوں کے ساتھ فوجی ہسپتال لے گیا۔ میرے دل میں پورا اعتماد اور کامیابی کی امید تھی۔ مکمل طبی معائنہ کے بعد میں ان لوگوں میں شامل تھا جو کامیاب قرار دیے گئے۔ اس طرح میں مدرسہ میں داخل ہو گیا اور میری زندگی نے ایک ایسا نیا رخ اختیار کیا جس کا مجھے پہلے گمان بھی نہ تھا۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی تو وزارتِ حربیہ نے ہمیں جلدی فارغ التحصیل کر دیا تاکہ ہمیں مغربی صحرا کے میدانِ جنگ میں بھیجا جا سکے۔ ہمارے امتحان کے مضامین میں فائرنگ (ضربِ نار) بھی شامل تھی۔
میں تقریباً سو طلبہ کے ساتھ فائرنگ کے میدان میں گیا۔ اس وقت میں بہت غمگین اور پریشان تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ میری دائیں آنکھ کی کمزوری کی وجہ سے میں اس امتحان میں ناکام ہو جاؤں گا۔ لیکن فوراً مجھے امام کی یہ بات یاد آگئی: “اللہ پر توکل کرو، تم کامیاب ہو جاؤ گے”
یہ عقیدہ گویا میری روح میں رچ بس گیا اور مجھے اس پر مکمل یقین ہوگیا۔ میں پورے اعتماد اور سکون کے ساتھ فائرنگ کی جگہ پر گیا اور اپنی دوسری آنکھ استعمال کی۔ آخر میں وہاں کے کمانڈر میجر حسین احمد، کھڑے ہوئے اور اعلان کیا: پہلا انعام جیتنے والا عباس السیسی ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک حیران کن خبر تھی جو حقیقت سے واقف تھے، لیکن درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ پر سچے توکل کی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت تھی۔
شیخ یوسف القرضاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ پر توکل کا مطلب سستی یا بےعملی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی روحانی طاقت ہے جو مومن کو مزاحمت کی قوت دیتی ہے، اس میں چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے اور اس کے ارادے کو مضبوط بناتی ہے۔
شیخ یوسف القرضاوی رحمہ اللہ
اللہ پر توکل کے فوائد
اللہ پر توکل کرنے اور اسی پر بہترین بھروسہ رکھنے سے مسلمان کو بہت عظیم فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
جنت کا حصول
جو شخص جنت کا خواہش مند ہو اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے اور اسی سے مدد طلب کرے تاکہ اسے اطاعت کے کام کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق ملے اور یہی راستہ اللہ کی رضا اور جنت تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾
سورۃ العنکبوت: ٥٨-٥٩
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلندو بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
سکون اور اطمینان
اللہ پر توکل کرنا روحانی سکون اور دل کے اطمینان کا باعث ہے۔ اللہ پر توکل کرنے والے مومن کو جب بھلائی پہنچتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور وہ اللہ کی تعریف اور شکر ادا کرے تو اس کے لیے بہتری ہے۔ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ نے اسے آزمائش کے طور پر بھیجا ہے، لہٰذا وہ صبر اور رجوع کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے، اور یہ صرف مومن کے لیے ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
مسلم
شیطان سے حفاظت
شیطان انسان کا سخت دشمن ہے جس نے پختہ قسم کھا رکھی ہے کہ وہ انسان کو گمراہ کرے گا اور اسے بھٹکائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ﴾
سورۃ الأعراف: ١٦-١٧
بولا، “اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائےگا۔”
حصولِ حب الہی
جو شخص اللہ کی محبت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے اللہ پر توکل کرنا چاہیے اور ہر کام اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾
سورۃ آل عمران: ١٥٩
پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔
نصرت اور مدد
اگر کوئی چاہے کہ اسے اپنے نفس اور دشمنوں پر غلبہ ملے تو اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے جو بہترین مددگار اور بہترین کارساز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾
سورۃ آل عمران: ١٦٠
اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
کفایت، حفاظت اور نگہداشت
اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے کافی ہو جاتا ہے جو اس پر توکل کرتا ہے اور اسے ہر غم اور برائی سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
سورۃ الطلاق: ٣
جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔
خاتمہ
بلاشبہ توکل دل کے اعمال میں سے ہے اور دل تمام جسم کا گویا بادشاہ ہے۔ اور اللہ پر توکل اور بھروسے کا مطلب یہ ہے کہ بھلائی حاصل کرنے، نقصان سے بچنے، رزق پانے اور دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اللہ پر مکمل بھروسا کیا جائے۔ اسی لیے یہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام اور نیک مومنوں کی صفات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی میں اس کی بارہا ترغیب دی گئی ہے۔
مترجم: زعیم الرحمان
اصل مقالہ: التوكل على الله من أعمال القلوب.. فوائد وتأصيل شرعي
مزید پڑھیں: اعمال میں احسان: اتقان اور کامل طریقہ کار