نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اہم معاملات میں اپنے صحابہ کے ساتھ مشورہ کو عملی طور پر اپنایا۔ مشورے کی یہ عادت ان اجتماعیتوں، قبیلوں اور قوموں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی جو اسلام سے پہلے کے دور میں رہتی تھیں اور سب نے اپنے طریقے، رسم و رواج اور ثقافت کے مطابق اسے جاری رکھا کیونکہ یہ ایک انسانی قدر ہے جو جبر، زبردستی اور محض ذاتی رائے سے بالاتر ہے۔ پھر جب شریعتِ اسلامیہ آئی اور وحی کا نزول ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے امت کے اہم معاملات میں ضروری اصول قرار دیا۔
حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رائے، علم اور شعور کے اعتبار سے کامل ترین انسان تھے اور وحی کے ذریعے رہنمائی پاتے تھے، اس کے باوجود اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ان کے لیے بھی مشورے کے اصول کو برقرار رکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے صحابہؓ سے مشورہ کریں، تاکہ صحابہؓ کو اس اصول کی تربیت دی جائے، انہیں آمریت، جبر اور انفرادیت پسندی سے دور رکھا جائے، اور ان میں ذمہ داری کا احساس، دوسروں کی رائے کا احترام اور باہمی افہام و تفہیم پیدا ہو، تاکہ وہ ذاتی یا اجتماعی معاملات سے متعلق فیصلے بہتر انداز میں کرسکیں۔
حیاتِ نبویؐ میں مشاورت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے بہت سے مواقع پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے شوریٰ کے اصول کو اپنایا کہ جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
﴿(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے اِن کے قصور معاف کر دو، اِن کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔﴾
آل عمران: ١٥٩
اس میں حکمت تھی کہ مشورے کی روایت عموماً ہر مسلمان کی زندگی میں اور خصوصاً میدانِ سیاست دیگر خاص میدانوں میں ایک سنت اور طریقہ بن جائے۔
غزوۂ بدر میں مشاورت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر میں جنگ سے پہلے بھی مسلمانوں کے زعماء سے مشورہ کیا اور اس وقت بھی جب اچانک ابو سفیان نے اپنے تجارتی قافلے کا راستہ بدل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ صورتحال غیر متوقع تھی کہ قریش اپنی تمام قوت مجتمع کرچکے ہیں، اپنے لاؤ لشکر کو لے کر اپنے بڑے بزرگوں، گھوڑوں اور اونٹوں سمیت، جنگ کرنے کے لیے نکل پڑے ہیں۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اے لوگو! مجھے مشورہ دو»
اس پر ابو بکر صدیقؓ، عمر بن خطابؓ، اور مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے اور انہوں نے نہایت اچھے انداز میں اپنی گفتگو پیش کی، اور مہاجر مسلمانوں کی رائے کا اظہار کیا … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا:
«اے لوگو! مجھے مشورہ دو»
اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ایسا لگتا ہے کہ آپ ہم (انصار) سے رائے چاہتے ہیں”؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہاں”۔ تب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے انصار کی طرف سے بہترین انداز میں رائے پیش کی اور واضح کیا کہ مدینہ کے اندر یا باہر ہر جگہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے پابند ہیں۔ حتیٰ کہ اگر آپ انہیں برک الغماد (یمن کے قریب ایک مقام) تک بھی لے جائیں تو وہ آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
غزوۂ احد میں مشاورت
جنگِ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینے سے باہر نہ نکلا جائے کیونکہ آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ کی تلوار میں ایک شگاف ہے، ایک اونٹ آپ کے لیے ذبح کیا جا رہا ہے، اور آپ نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط زرہ میں داخل کیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ آپ کے صحابہؓ کی ایک تعداد شہید ہو گی، آپ کے اہلِ بیت میں سے ایک شخص زخمی ہوگا، اور وہ زرہ مدینہ ہے۔
لیکن انصار نے آپ کو باہر نکلنے کا مشورہ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس پہن لیا تو انصار نے اپنا مشورہ واپس لے لیا اور کہا کہ ہم مدینہ سے باہر نہیں نکلیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اب میں نے اپنی زرہ پہن لی ہے، اور نبی جب اپنی زرہ پہن لے تو اسے نہیں اتارتا یہاں تک کہ وہ جنگ کرے یا اللہ اسے فتح عطا فرمائے»
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور مسلمان بھی نکلے، جن کی تعداد ایک ہزار تھی، یہاں تک کہ وہ اُحد پہنچ گئے۔ ادھر مشرکین بھی آ پہنچے، اور دونوں کے درمیان سخت لڑائی پیش آئی۔
غزوۂ احزاب (خندق) میں مشاورت
غزوۂ احزاب (خندق کی جنگ) کے دن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاسی مشاورت کی نہایت واضح مثال پیش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ دشمن لشکر کے بعض سرداروں سے اس بات پر معاہدہ کر لیا جائے کہ انہیں اس سال مدینہ کے پھلوں کا ایک تہائی حصہ دے دیا جائے گا، اس شرط پر کہ وہ محاذ سے پیچھے ہٹ جائیں، تاکہ مدینہ کے گرد محاصرہ کمزور پڑے۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ غطفان کے دو سرداروں سے، جو مدینہ کے قریب ڈیرے ڈالے ہوئے تھے، اس بارے میں گفتگو کی اور وہ راضی بھی ہو گئے۔
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، نبی، قائد اور حاکم ہونے کے باوجود اپنی رائے پر اصرار کرنے والے نہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں اپنے صحابہ سے مشورہ کیا۔ صحابہؓ نے اس کے برعکس یہ پسند کیا کہ مدینہ کے پھلوں میں سے کچھ بھی نہ دیا جائے اور حالات کو اسی فوجی صورتِ حال پر رہنے دیا جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے قبول فرما لی اور اپنی رائے کو ترک کر دیا۔
غزوۂ تبوک میں مشاورت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے تو وہاں بیس راتیں قیام فرمایا۔ اس دوران رومی لشکر سے مڈبھیڑ نہ ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ موجود مسلمانوں سے تبوک سے شمال کی جانب پیش قدمی کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔
حضرت عمر بن خطابؓ نے آگے بڑھنے کے خلاف رائے دی۔ ان کے نزدیک اس سے رومیوں اور ان کے حلفاء سے ٹکراؤ ممکن تھا، جو تعداد اور استعداد کے لحاظ سے مسلمانوں سے برتر تھے۔ نیز انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مقام تک پہنچ جانا ہی رومیوں کو مرعوب کرنے کے لیے کافی ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کے مشورے کو قبول فرمایا اور تبوک سے آگے تشریف نہ لے گئے۔
اذان کے لیے مشاورت
ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے لوگوں کو بلانے پر صحابہ سے مشورہ کیا۔ بگل بجانے کی رائے آئی لیکن یہود کی مشابہت کی وجہ سے پسند نہیں کی گئی۔ کسی نے ناقوس کی تجویز دی، یہ بھی نصاریٰ سے مشابہت کی وجہ سے رد کردی گئی۔ اسی رات انصار میں سے عبداللہ بن زیدؓ اور عمر بن خطابؓ کو خواب میں اذان کا طریقہ دکھایا گیا۔ وہ انصاری صحابی رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ بلالؓ نے صبح کی اذان میں یہ اضافہ کیا کہ: “نماز نیند سے بہتر ہے” اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے برقرار رکھا۔ حضرت عمرؓ گویا ہوئے کہ اے پیغمبر! میں نے بھی اسی کی طرح دیکھا تھا، لیکن یہ مجھ سے سبقت لے گیا۔ [ابنِ ماجہ]
پھلوں کی بیع کے بارے میں مشورہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت (درختوں پر پکنے سے پہلے) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک (قیمت کا) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے (تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔ [بخاری]
اسیرانِ جنگ کے بارے میں مشاورت
عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے بارے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا: یہ آپ کی قوم کے ہیں اور آپ کے رشتہ دار ہیں، لہٰذا انہیں چھوڑ دیجئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا، تو انہوں نے کہا: انہیں قتل کر دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں﴾
سورۃ الأنفال: ٦٧
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری رائے کے خلاف (فیصلہ کرنے) کی وجہ سے قریب تھا کہ ہم پر کوئی عذاب آ جاتا۔ [حاکم نے روایت کیا اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا]
صلح حدیبیہ میں مشاورت
المِسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال اپنے تقریباً چودہ سو صحابہ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانوروں کی گردنوں میں پٹے ڈالے، انہیں نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خزاعہ میں سے ایک جاسوس کو روانہ فرمایا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ غدیر الاشطاط کے مقام پر پہنچے تو آپ کے جاسوس نے آکر اطلاع دی کہ قریش نے مقابلے کے لیے لشکر جمع کر لیا ہے، وہ حلیف قبائل (احابیش) کو بھی اکٹھا کر چکے ہیں۔ وہ آپ سے لڑیں گے، بیت اللہ سے روکیں گے اور آپ کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا تمہاری رائے ہے کہ ہم ان لوگوں کے اہل و عیال پر حملہ کر دیں جو ہمیں بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ ہماری طرف آئیں تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی ایک آنکھ (طاقت) کاٹ دے گا، اور نہ آئیں تو ہم انہیں اسی حال میں چھوڑ دیں گے کہ وہ غم زدہ رہیں»
ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس گھر کی زیارت کے ارادے سے نکلے ہیں، نہ کسی سے لڑنا چاہتے ہیں اور نہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا آپ اسی مقصد کی طرف بڑھیں، اور جو ہمیں روکے گا ہم اس سے لڑیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو۔” [بخاری]
مستشار امین ہوتا ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الہیثم بن التیہان سے فرمایا: “کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟” انہوں نے کہا: “نہیں۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو ہمارے پاس آ جانا۔” پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے، اور ابو الہیثم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ان دونوں میں سے ایک کو چن لو۔” انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ ہی میرے لیے انتخاب فرما دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«جو شخص مشورہ دے، وہ امانت دار ہوتا ہے۔ اسے لے لو؛ میں نے دیکھا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہے، اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا»
ترمذی
حیاتِ صحابہؓ میں مشاورت
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی مشاورت کی اہمیت سے آشنا تھے کہ اسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت فرمائی تھی۔ اس کا عملی مظاہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد ہی ہوگیا۔
سقیفہ بنی ساعدہ: خلافت کا فیصلہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ سُنح کے مقام پر تھے۔ وہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا، پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی پاکیزہ ہیں۔ پھر باہر تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا:
«خبردار! جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا»
پھر آپ نے یہ آیات تلاوت کیں:
﴿(اے نبی!) تمہیں بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے﴾
الزمر: ٣٠
﴿محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کے رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں﴾
آل عمران: ١٤٤ تا ١٤٥
یہ سن کر لوگ زار و قطار رونے لگے۔ ادھر انصار سعد بن عبادہؓ کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور کہنے لگے: ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے ہو۔ اس پر ابو بکر، عمر بن خطاب اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم وہاں پہنچے۔
عمر رضی اللہ عنہ کچھ کہنا چاہتے تھے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں خاموش کرایا، پھر خود گفتگو کی، اور سب سے زیادہ بلیغ انداز میں فرمایا: “ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر ہو گے۔” اور کہا: عمر اور ابو عبیدہ میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ ہم آپ ہی کی بیعت کریں گے، آپ ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے بہتر ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کی، اور لوگوں نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ [البغوی]
ابو بکرؓ کا منہجِ فیصلہ
میمون بن مہرانؓ بیان کرتے ہیں کہ ابو بکرؓ کے پاس کوئی مقدمہ آتا تو پہلے وہ قرآن میں حل دیکھتے۔ اگر اس میں کوئی ایسا حکم مل جاتا جس سے لوگوں میں فیصلہ ہوسکتا ہوتا تو اسی کے مطابق فیصلہ کرتے۔ اگر قرآن میں نہ ملتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کوئی سنت معلوم ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے۔ اور اگر یہ بھی مشکل ہو جاتا تو مسلمانوں سے پوچھتے کہ میرے پاس ایسا معاملہ آیا ہے، کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ فرمایا ہو؟ کبھی ایسا ہوتا کہ کئی لوگ جمع ہو جاتے اور ہر ایک اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ بیان کرتا۔ اس پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے:
«تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم میں ایسے لوگ رکھے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو محفوظ رکھتے ہیں»
سنن الدارمی
اور اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی کوئی رہنمائی نہ ملتی تو سربراہان اور برگزیدہ افراد کو جمع کرتے، ان سے مشورہ کرتے، اور کسی متفقہ رائے کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔
عمرؓ اور جنین کا مسئلہ
مِسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطابؓ نے عورت جنین کے ضائع ہونے کے مسئلے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔ تو مغیرہ بن شعبہؓ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے ساتھ کوئی اور گواہ لے کر آؤ۔ پھر محمد بن مسلمہؓ نے بھی اس کی گواہی دی۔ [مسلم]
عمرؓ کا شوریٰ مجلس
عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ عمرؓ نے ان سے فرمایا: “مجھ سے تین باتیں اچھی طرح یاد رکھو: حکومت مشورے سے چلتی ہے، اور عرب کے فدیے میں ہر غلام کے بدلے ایک غلام ہوگا، اور لونڈی کے بدلے دو غلام ہوں گے۔” [ابن حزم]
ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک جماعت عمرؓ کے پاس آئی۔ انہوں نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا: میں نے لوگوں کے معاملات پر غور کیا تو مجھے ان میں کوئی اختلاف نظر نہیں آیا، اور اگر کوئی اختلاف ہے تو وہ تمہارے درمیان ہے، اور یہ معاملہ تم ہی پر موقوف ہے۔
اس وقت طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے مال کے سلسلے میں کہیں باہر تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم میں سے کسی کو امیر بنانا ہے تو وہ انہی تین میں سے ہوگا: عبدالرحمن بن عوف، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم۔ پھر فرمایا:
«تم میں سے جو بھی حاکم بنے وہ اپنے رشتہ داروں کو لوگوں پر مسلط نہ کرے۔ تم اٹھو اور آپس میں مشورہ کرو»
پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: “تھوڑی مہلت دو، مجھے کچھ ہو جائے تو صہیب تمہیں تین دن نماز پڑھائیں گے۔ اور تم میں سے جو کوئی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر امیر بنے، تو اس کی گردن اڑا دینا۔” [ابن حجر عسقلانی]
عبد اللہ بن زبیرؓ اور تعمیرِ کعبہ
حضرت عائشہؓ ذکر کرتی ہیں کہ یزید بن معاویہ کے دور میں اہل شام (یزیدی فوج) نے (مکہ پر) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اسے (اسی حالت پر) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے موسم میں لوگ (مکہ) آنے لگے۔ جب لوگ آئے تو انہوں نے کہا: اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر سرِ نو تعمیر کردوں یا صرف بوسیدہ حصے کی مرمت کرا دوں؟
حضرت ابن عباسؓ گویا ہوئے کہ ان کے سامنے یہ حل ہے اس کے بڑا حصے کی جو کمزور ہو گیا ہے، مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو اور ان پتھروں کو اسی طرح رہنے دیں جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اس پر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا: اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جائے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اسے نیا نہ بنا لے تو تمہارے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا۔
جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے ارادہ کرلیا کہ اسے گرا دیں تو لوگ ڈرنے لگے کہ جو شخص اس پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کوئی آفت نازل ہو جائے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرا دیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ اسے گرانے لگے حتیٰ کہ زمین بوس ہوگیا۔
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے چند ستون بنائے اور ان پر پردے لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا میں نے حضرت عائشہؓ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ “اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی ہوتا جو اس کی تعمیر کی تکمیل میں معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ زمین اس میں ضرور شامل کرتا اور اس میں لوگوں کے داخلے اور نکلنے کے لیے دروازہ بناتا” ابن زبیرؓ کہنے لگے کہ آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کر سکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں تو انہوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے (کھدائی کی) حتیٰ کہ اس کی بنیادیں بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئیں لوگوں نے بھی اسے دیکھا۔ اس کے بعد انہوں نے اس پر عمارت بنائی۔
کعبہ کی اونچائی اٹھارہ ہاتھ اس طرح تھی کہ جب انہوں نے حطیم کی طرف سے اضافہ کر دیا تو سابقہ اونچائی کم محسوس ہوئی چنانچہ انہوں نے اس کی اونچائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر داخلہ ہوتا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جاتا تھا۔ جب حضرت عبداللہ بن زبیرؓ شہید کر دیے گئے تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو اطلاع دیتے ہوئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اس کی تعمیر ابراہیمی بنیادوں پر استوار کی جسے اہل مکہ کے معتبر لوگوں نے دیکھا ہے۔ عبدالملک نے اسے لکھا۔ ہمارا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے رد و بدل سے کوئی تعلق نہیں البتہ اس کی اونچائی میں جو اضافہ ہے اسے برقرار رہنے دو اور جو حطیم کی طرف سے ہے اسے سابقہ بنیاد پر لوٹا دو اور جو دروازہ کھولا ہے اسے بھی بند کردو۔ تو اس نے اسے گرا دیا اور اس کی (پچھلی) بنیاد پر لوٹا دیا۔ [مسلم]
خلاصہ اور نصیحت
ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے اصول کو بہت سے مواقع اور حالات میں عملی طور پر نافذ فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام نے بھی اسی طریقے کو اپنایا ہے۔ ان مثالوں میں مشوروں کی مختلف صورتیں اور انداز شامل ہیں، اور ہمیں ضرورت ہے کہ آج ان مثالوں سے سبق سیکھیں اور نصیحت حاصل کریں کیونکہ مشاورت جیسا کوئی ذریعہ نہیں جو کاوشوں کو مجتمع کرے، صفوں میں اتحاد پیدا کرے اور امت کے مقاصد کے حصول میں مدد دے۔
مترجم: زعیم الرحمان