مغربی تعلیمی فکر نے اسلامی دنیا میں اپنا اثر اُس وقت سے قائم کرنا شروع کیا جب یورپی استعمار مسلمانوں کے وسائل اور معاملات پر قابض تھا۔ جب بیسویں صدی کے وسط میں استعمار کمزور ہونا شروع ہوا تو فکری تسلط بدستور جاری رہا، جس نے اسلامی معاشرے کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد اسلامی افکار و اصول کو مسخ کرنا، اسلامی تہذیب کے نقوش مٹانا اور مسلمانوں کو عربی زبان اور اسلامی شناخت پر فخر سے دور کرنا تھا۔
الجزائر کے امام عبدالقادر اسلامی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر عبدالرحمن عمر الماحی نے اپنی ایک تحقیق میں معاصر مسلمان کے لیے اس مادی فکر کے خطرات اور اس سے نجات کا طریقہ بیان کیا ہے، جو اسلامی منہج کے اصولوں کی روشنی میں ایک تعلیمی نظام قائم کرنے سے ممکن ہے۔
مسلمان پر مغربی تعلیمی فکر کا خطرہ:
مغربی تعلیمی فکر کا خطرہ موجودہ مسلمان کے لیے دو بنیادی زاویوں سے ظاہر ہوتا ہے:
پہلا زاویہ
اس فکر کی اصل فطرت اور اس کے اکثر اصول دین سے مختلف ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہیگل، ڈارون، مارکس، فرائڈ، جوروین اور دیگر مفکرین کی تحریروں کا جائزہ لینا کافی ہے۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسی اخلاقی فلسفیانہ سوچ غالب ہے جو دین اور اخلاق سے آزادی کو جائز قرار دیتی ہے، اور مفاد پرستی، لذت پرستی، جدت پسندی، قومیت اور علاقائیت کو فروغ دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اس فکر میں وہ مطلق اصول ختم ہوگئے جو پوری انسانیت کو ایک کرتے ہیں، اور اس کی نمایاں جہتیں سیکولرازم اور وجودیت کی صورت میں سامنے آئیں۔
سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی معاملات کو عملی زندگی، معاشرتی بہبود، تعلیم اور ریاستی امور میں شامل نہیں ہونا چاہیے؛ یعنی دین کو دنیاوی معاملات سے مکمل طور پر الگ کر دینا۔ سیکولرازم دراصل قرونِ وسطیٰ میں چرچ کی بالادستی سے نکل کر صنعتی دور میں ریاست کی بالادستی کی طرف تبدیلی کا نام ہے۔ سیکولر شخص وہ ہے جو اپنے سماجی، سیاسی، معاشی، ثقافتی، علمی اور تعلیمی رویّوں میں مذہبی تعلیمات کی پابندی نہیں کرتا۔
وجودیت وہ فلسفہ ہے جو کہتا ہے کہ وجود، ماہیت پر مقدم ہے؛ یعنی انسان پہلے وجود میں آتا ہے، پھر اپنے انتخاب اور رویّوں سے اپنی حقیقت متعین کرتا ہے۔ اس فلسفے کے ماننے والوں میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے اور اسے جدید فلسفہ کی تین شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
مارتیان کے نزدیک وجودیت یہ کہتی ہے کہ اللہ پر ایمان انسان کی خواہشِ وجود اور عدم کے خوف کو محدود کرتا ہے، جبکہ الحادی وجودیت انسان کو مکمل آزادیِ انتخاب دیتی ہے، جس کے نتیجے میں اضطراب اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
دوسرا زاویہ
یہ فکر تعلیمی اور ثقافتی اداروں کو اپنا ذریعہ بنا کر پھیلتی ہے۔ نظری اور عملی علوم کے نصاب، کہانی، ڈراما، ناول اور فلم کے ذریعے اسے عام کیا جاتا ہے، اور اسی کے ساتھ اسلام کو اس کی حقیقی شکل سے مختلف انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
اس کام میں مشنری اور مستشرقین شامل رہے ہیں اور اب بھی اسلامی ممالک میں ماہرین اور اساتذہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اسی طرح مصر اور شام کے بعض عرب عیسائی، مغربی تہذیب کے فلسفے سے متاثر ہو کر اس کے پھیلاؤ کے خواہاں رہے، نیز مشنری اداروں کے فارغ التحصیل افراد اور وہ ایجنٹ بھی شامل رہے جنہیں امتِ مسلمہ کی وحدت میں دراڑ ڈالنے کے لیے تیار کیا گیا۔
اس مشن کو آسان بنانے والے عوامل:
- یورپ اور امریکہ سے آنے والے تعلیمی وفود جو عملی (پراگمیٹک) فکر کے حامل تھے، اور جن میں سے بعض نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے٬ اسلامی تعلیمات و اصولوں اور اس کے ہر زمان و مکان اور ہر شعبۂ زندگی میں قابل عمل ہونے کے نظریہ پر شک پیدا کرنے کا کام کیا۔
- سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم کو الگ کر دینا اور مغربی نصاب پر انحصار۔
- دینی مبلغین کو مغربی رنگ میں ڈھالنا یا انہیں ان کے علاقوں سے بے دخل کرنا۔
- قوم پرستی اور سوشلزم کی لہریں جنہوں نے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل کو غیر مذہبی زاویے سے پیش کیا، اور یوں استعمار کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا اور ایسے افراد تیار کیے جو تعلیم، ثقافت اور میڈیا پر اس کے اثر کو قائم رکھیں۔
مغربی تعلیمی فکر کے أصول:
مغربی تعلیمی فکر تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے:
لادینیت کا اصول:
اس میں فردیت، انسان کی برتری اور ہر قسم کی مادی و معنوی پابندی سے آزادی پر زور دیا جاتا ہے، مگر عملی طور پر یہ قدیم یونانی تصور کی طرح یورپی انسان کی بالادستی کا نظریہ پیش کرتا ہے۔
مطلق ارتقا کا اصول:
یہ قیامت یا آخرت پر یقین نہیں رکھتا اور اخلاق کو بھی ارتقائی عمل کا نتیجہ قرار دیتا ہے، یوں دین سے آگے نکل جاتا ہے۔
حتمی ترقی کا اصول:
اس کے مطابق زندگی سادہ سے پیچیدہ اور پھر زیادہ پیچیدہ شکل کی طرف ایک لازمی قانون کے تحت بڑھتی ہے، گویا ترقی میں اللہ کی قدرت اور مشیت کا کوئی دخل نہیں۔
ان اصولوں پر کئی تعلیمی نظریات قائم ہوئے جو دین، اقدار اور تربیتی نظام کے باہمی تعلق کو رد کرتے ہیں اور حقیقت کو بدلنے کے بجائے اسے قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ آج مسلمان انہی درآمد شدہ افکار اور فلسفوں کے بیچ زندگی گزار رہا ہے جہاں دین اور اخلاق کو عمل اور تعلقات کی بنیاد نہیں بنایا جاتا۔
ان کا مقابلہ تبھی ممکن ہے جب مسلمان ہر موصول ہونے والے خیال کے بارے میں اپنا واضح مؤقف قائم کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ماہرینِ تعلیم قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ مسلمان اپنی راہ اور موقف درست طور پر متعین کر سکے۔
ہم مادی تعلیمی فکر کا مقابلہ کیسے کریں؟
اسلامی منہج کے اصولوں کے مطابق ایک تعلیمی نظام قائم کر کے اس فکر کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، جس کی بنیادیں یہ ہوں:
- مختلف تعلیمی مراحل میں زیادہ سے زیادہ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویؐ یاد کروانا تاکہ عقیدہ، اصول اور اخلاقی اقدار راسخ ہوں۔
- دینی واقعات اور سیرتِ نبویؐ پر توجہ، اور دین کو علوم اور زندگی کے شعبوں سے جوڑنا۔
- وضعی تعلیمی نظریات پر کتابچے شائع کرنا جو ان کی حقیقت اور مقاصد واضح کریں اور انہیں نوجوانوں میں تقسیم کرنا۔
- ثقافتی نشستیں منعقد کرنا جن میں تبلیغی و استشراقی سرگرمیوں کے مقاصد اور طریقے واضح کیے جائیں تاکہ لوگوں میں فکری تحفظ پیدا ہو۔
- اسکولوں اور جامعات میں دینی سرگرمیوں کی حمایت، اساتذہ کے لیے لیکچرز اور انہیں عقیدہ و اخلاق سے علوم کو جوڑنے کی ترغیب دینا۔
- مذہبی سرگرمیوں مثلاً اسکول میگزین، لائبریری، مسجد، کیمپ، مقابلے اور سیمینار، اور طلبہ میں تحقیق، مکالمہ اور غلط نظریات پر تنقید کی صلاحیت پیدا کرنا۔
- مختلف اداروں میں لیکچرز دے کر اسلام کے منہج اور انسانی زندگی کے مقصد سے متعلق مسائل واضح کرنا۔
- میڈیا کا مثبت استعمال کیونکہ وہ تعلیم و تربیت، تعمیر و تخریب اور محبت یا نفرت پھیلانے کا طاقتور ذریعہ ہے۔
- فلم، ڈرامہ اور سیریلز کے مصنفین کو اسلامی تاریخ پیش کرنے کا پابند بنانا تاکہ نوجوان اپنے عقیدہ و اقدار سے واقف ہوں۔
- علماء کی کمیٹیاں تشکیل دینا جو فلموں اور ڈراموں کی نگرانی کریں اور دین کے خلاف مواد کا جواب دیں۔
- نقصان دہ اور فحش ویب سائٹس پر پابندی اور مفید علمی و ثقافتی ویب سائٹس کی رہنمائی فراہم کرنا۔
- تعلیم میں روایتی ذرائع خصوصاً کتاب کو ترک نہ کرنا۔
- اسلامی ثقافت پر توجہ اور مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید سے بچنا۔
- اس مسئلے میں انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اجتہاد اختیار کرنا کیونکہ تربیت پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، چاہے وہ دعوتی، فقہی یا فکری انداز میں ہو، تاکہ زندگی درست ہو، کوششیں متحد ہوں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار عام ہوں۔
بلاشبہ مغربی تعلیمی فکر نے ان اسلامی اقدار و اخلاق کو متاثر کیا ہے جن پر عظیم شخصیات کی تربیت ہوئی تھی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اسلام کے منہج پر عمل کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کریں، کیونکہ اسلام صرف انسان اور اس کے خالق کے تعلقات کو منظم نہیں کرتا بلکہ سماجی زندگی کے لیے بھی واضح نظامِ عمل دیتا ہے۔
یہ نظام اوامر، نواہی اور احکام کے مجموعے پر مشتمل ہے جنہیں معاشرے میں نافذ کرنا دینی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد انسان کی اصلاح، خیر، عدل اور احسان کی طرف رہنمائی اور خواہشات و لالچ کو عقل و ذمہ داری پر غالب آنے سے روکنا ہے۔ یہ احکام خاندان کی اصلاح بھی چاہتے ہیں، اسے حقوق و فرائض دے کر عزت و وقار عطا کرتے ہیں تاکہ وہ ایک صحت مند معاشرے کی بہترین اکائی بن سکے، اور اسی کے ساتھ معاشرے کے افراد کے درمیان مضبوط بنیادوں پر تعلقات قائم کر کے امن، استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھتے ہیں۔
مترجم: سجاد الحق