اللہ کا خوف تقویٰ کی عظیم ترین بنیادوں میں سے ایک ہے، کیونکہ جب بندہ اپنے رب سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے احکام کی تعمیل کرتا اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے اُن سے باز رہتا ہے۔ بلکہ یہی خوف اسے نیکیوں میں سبقت لے جانے اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اور جب خالق کا خوف دل میں کم ہو جائے تو انسان اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو پامال کرنے میں دلیر ہوتا چلا جاتا ہے۔
اس عبادت کا اصل مقام مومن کا دل ہے، جیسے امید، توکل، خشیت اور یقین جیسی دیگر قلبی عبادات کا مرکز بھی دل ہی ہے۔ یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو صاحبِ ایمان کے تقویٰ اور پرہیزگاری کی علامت ہوتی ہے، اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ جب یہ عبادت حقیقت کے ساتھ دل میں راسخ ہو جائے تو اس کے بے شمار ثمرات ظاہر ہوتے ہیں، جنہیں مسلمان دنیا میں بھی محسوس کرتا ہے اور آخرت میں بھی ان کا بھرپور اجر پاتا ہے۔
قرآن و سنت میں خوفِ الٰہی:
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے خوف رکھنے کے مفہوم کو امام صاغانی اور ابن فارس نے واضح کیا ہے کہ لفظ “خوف” مادہ (خ و ف) سے ماخوذ ہے، جو گھبراہٹ اور دہشت کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اصطلاح میں خوف سے مراد کہ انسان کسی ظاہری یا پوشیدہ علامت کی بنا پر کسی ناپسندیدہ انجام کا اندیشہ کرے۔ گویا دل کو یہ احساس لاحق ہو جائے کہ کوئی تکلیف آنے والی ہے یا کوئی محبوب چیز ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ اسی احساس سے دل میں ایک سوز، بے چینی اور احتیاط پیدا ہوتی ہے، اور آدمی اس ممکنہ نقصان سے بچنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔
خوفِ الٰہی کی اقسام:
اللہ تعالیٰ کا خوف مختلف پہلو رکھتا ہے:
1. خوفِ عبادت:
یہ وہ خوف ہے جو محبت، عظمت کے احساس، عاجزی اور کامل سپردگی کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ یہی خوف بندے کو اطاعت کی راہ پر قائم رکھتا اور معصیت سے دور کرتا ہے۔
2. خوفِ مقام:
اس سے مراد اللہ ربّ العزت کے جلال اور اس کے حضور پیشی کا خوف ہے۔ بندہ یہ شعور رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اس پر مطلع ہے، اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، اور ایک دن اسی کے سامنے حساب دینا ہے۔ قیامت کے دن اس کے حضور کھڑے ہونے کا تصور ہی دل میں لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے:
“اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں” [الرحمن: 46]۔
3. خوفِ وعید:
اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے عذاب، اس کی جہنم، اس کی پکڑ اور اس وعید سے ڈرنا ہے جو اس نے اپنی شریعت کی مخالفت کرنے اور اس کی اطاعت سے منہ موڑنے والوں کے لیے بیان فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے۔ اسی کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو! پس مجھ ہی سے ڈرو” [الزمر: 16]۔
یہ خوف اس وقت دل میں جاگزیں ہوتا ہے جب انسان آیاتِ وعید پر سنجیدگی سے غور کرے، جیسے یہ فرمانِ الٰہی:
“اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن میری یہ بات طے ہو چکی ہے کہ میں جہنم کو جنّوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔”
اسی طرح موت، قبر، قیامت اور اس دن کی ہولناکیوں کو یاد کرنا بھی خوفِ وعید کو تازہ اور بیدار رکھتا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تيميةؒ فرماتے ہیں: “پسندیدہ اور قابلِ تعریف خوف وہ ہے جو تمہیں اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے روک دے۔” البتہ اگر خوف اس حد تک بڑھ جائے کہ انسان مایوسی اور ناامیدی میں مبتلا ہو جائے تو وہ مذموم اور نقصان دہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ خوف اور امید کی عبادت میں توازن قائم رکھا جائے۔
قرآنِ مجید میں خوف کے حوالے سے مختلف انداز میں ہدایات آئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے سے ڈرنے کا حکم دیا اور اسے ایمان کی علامت قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“پس تم ان سے نہ ڈرو، بلکہ مجھ ہی سے ڈرو، اگر تم سچے ایمان والے ہو” [آلِ عمران: 175]
اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “یعنی وہ اپنے اوپر سے غالب و برتر ربّ سے ڈرتے رہتے ہیں۔” [النحل: 50] اور اپنے انبیائے کرام کے بارے میں ارشاد فرمایا: “یعنی وہ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے خوف نہیں رکھتے، اور حساب لینے کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔” [الأحزاب: 39]
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی تعریف فرمائی جو اس سے خشیت رکھتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے:
“بے شک جو لوگ اپنے رب کی خشیت سے لرزاں رہتے ہیں، جو اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں، جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، اور جو کچھ دیتے ہیں اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس خوف سے کانپ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے — یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور انہی میں سبقت لے جانے والے ہیں۔” [المؤمنون: 57-61]
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ نصیحت اور قرآن سے حقیقی فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کے دلوں میں خوفِ الٰہی ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: “یعنی آپ قرآن کے ذریعے اسی کو نصیحت کیجیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہو۔” [ق: 45]
اور فرمایا:
“یعنی اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا جو ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کے جسم اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔” [الزمر: 23]
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خوف کو اپنے اولیاء اور متقین کی خاص صفت قرار دیا ہے۔ الله سبحانه وتعالى نے ارشاد فرمايا:
“یعنی وہ لوگ جو ان رشتوں کو جوڑتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اوراپنے رب سے ڈرتے ہیں اور سخت حساب سے خوف زدہ رہتے ہیں۔” [الرعد: 21]
نبی کریم ﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے خوف کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص (منزلِ مقصود کے خوف سے) رات کے ابتدائی حصے میں سفر شروع کر دے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ خبردار! اللہ کی متاع بڑی قیمتی ہے، اور سن لو کہ اللہ کی متاع جنت ہے۔” [ترمذی]
اسی طرح حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: {وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ}
میں نے عرض کیا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں، اے صدیق کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں، مگر اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے اعمال قبول نہ ہوں۔ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں۔”
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے جو نزع کی حالت میں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟”
اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے امید بھی رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ایسے موقع پر جس بندے کے دل میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرما دیتا ہے جس کی اسے امید ہوتی ہے اور جس چیز سے وہ ڈرتا ہے اس سے اسے امن دے دیتا ہے۔” [ترمذی]
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا۔ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: میں تمہارا کیسا باپ تھا؟ انہوں نے کہا: آپ بہترین باپ تھے۔ اس نے کہا: میں نے اللہ کے حضور کوئی خاص نیکی آگے نہیں بھیجی، اور اگر اللہ نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے عذاب دے گا۔ لہٰذا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، یہاں تک کہ میں کوئلہ بن جاؤں، پھر مجھے پیس دینا، اور تیز ہوا والے دن میری راکھ کو اڑا دینا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس نے اپنے بیٹوں سے اس بات کا پختہ عہد لیا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور تیز آندھی کے دن اس کی راکھ بکھیر دی۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: “ہو جا!” تو وہ فوراً ایک زندہ انسان کی صورت میں کھڑا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے میرے بندے! تجھے اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے عرض کیا: تیری ہیبت اور خوف نے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا اور اس پر رحم فرمایا۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابو عثمان کو سنائی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ روایت سلمان سے سنی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس نے کہا تھا: مجھے سمندر میں بھی اڑا دینا، یا جیسا کہ بیان کیا گیا۔ [بخاری]
نبی کریم ﷺ نے ایک قدسی حدیث میں اپنے ربّ عزوجل سے روایت کیا ہے:
“میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کرتا۔ اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو قیامت کے دن اسے امن عطا کروں گا، اور اگر دنیا میں مجھ سے بےخوف رہے تو قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں گا۔” [صحیح ابن حبان]
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تمہارا رب ایک چرواہے پر تعجب فرماتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چراتا ہے، اذان دیتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو! یہ اذان دیتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اپنے اس بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔” (النسائی نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحيح قرار ديا ہے۔)
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں یہ الفاظ فرمایا کرتے تھے:
“اے میرے رب! مجھے اپنا شکر گزار بنا، اپنا کثرت سے ذکر کرنے والا بنا، تجھ سے ڈرنے والا بنا، تیرا فرمانبردار بنا، تیری طرف جھکنے اور عاجزی کرنے والا بنا۔” [ترمذی]
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مجلس سے شاذ ہی اٹھتے تھے جب تک اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا نہ فرما لیتے:
“اے اللہ! ہمیں اپنی ایسی خشیت عطا فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے، اور اپنی ایسی اطاعت نصیب فرما جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے…” [ترمذی]
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نماز میں خوفِ خدا سے اس قدر روتے کہ آواز رندھ جاتی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ سے نماز کے بارے میں عرض کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “ابو بکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔” حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: ابو بکر نرم دل آدمی ہیں، جب قرآن پڑھتے ہیں تو رونے لگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “انہیں حکم دو کہ وہ نماز پڑھائیں”۔ حضرت عائشہؓ نے دوبارہ عرض کیا تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا: “انہیں حکم دو کہ وہ نماز پڑھائیں، تم تو یوسف والی عورتوں کی طرح ہو!” [بخاری]
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: “اے ايمان والو: اپنى آوازيں نبى كى آواز سے بلند نہ كرو” [الحجرات :2] تو حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ جو بلند آواز تھے، گھبرا گئے اور کہنے لگے: میں ہی وہ ہوں جو نبی ﷺ سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا، میرا عمل ضائع ہوگیا، میں اہلِ جہنم میں سے ہوں! وہ غمگین ہو کر گھر بیٹھ گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی غیر حاضری محسوس کی اور ان کے بارے میں دریافت فرمایا۔ کچھ صحابہ ان کے پاس گئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہارا حال پوچھا ہے، تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: “میں وہی ہوں جو نبی ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرتا تھا اور اونچی آواز سے بات کرتا تھا، میرا عمل ضائع ہوگیا اور میں اہلِ جہنم میں سے ہوں ۔” صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی بات عرض کی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں، بلکہ وہ جنت والوں میں سے ہے۔” [متفق علیہ]
حضرت ابن عمرؓ نے ایک مرتبہ خوفِ خدا سے اپنا غلام آزاد کر دیا، اور زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا: اس عمل کا اجر اس تنکے کے برابر بھی نہیں، مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: “جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا مارا پیٹا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔” [مسلم]
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی کریم ﷺ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر تشریف نہ لائے۔ میں نے عرض کیا: میں اللہ سے اپنے گناہ کی توبہ کرتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ کیسا تکیہ ہے؟” میں نے کہا: آپ کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “ان تصاویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جسے تم نے بنایا ہے اسے زندہ کرو۔ اور جس گھر میں تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔” [بخاری]
خوفِ خدا تابعین اور صالحین کی بھی نمایاں صفت تھی۔ مالک بن ضیغم بیان کرتے ہیں کہ حکم بن نوح نے مجھ سے کہا: تمہارے والد ضیغم بن مالک پوری رات روتے رہے، نہ سجدہ کیا نہ رکوع، ہم سمندر میں ان کے ساتھ تھے۔ صبح ہم نے کہا: اے مالك آپ نے پوری رات نہ نماز پڑھی نہ دعا کی۔ وہ رو پڑے اور کہا: اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ کل ان کے سامنے کیا آنے والا ہے تو وہ کبھی دنیا کی لذتوں میں مشغول نہ ہوں۔ خدا كى قسم جب میں نے رات کی تاریکی اور ہیبت دیکھی تو مجھے قیامت کا میدان یاد آگیا، جہاں ہر شخص کو اپنی ہی فکر ہوگی: “نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کسی کام آئے گا۔”
بشر بن منصورؒ کہتے ہیں: میں ایک ٹھنڈی صبح میں عطاء عبدی (جو صغار تابعين ميں سے تھے) کے سامنے آگ جلایا کرتا تھا۔ میں نے ان سے کہا: کیا آپ پسند کریں گے کہ آپ کو حکم دیا جائے کہ خود کو اس آگ میں ڈال دیں اور حساب کے لیے نہ اٹھائے جائیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! پھر فرمایا: اس کے باوجود مجھے یہ اندیشہ ہوگا کہ کہیں میری جان خوشی سے پہلے ہی نہ نکل جائے، آگ تک پہنچنے سے پہلے!
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ فرمایا کرتے تھے: موت نے دنیا والوں کی تمام خوشیوں کو مکدر کر دیا ہے۔ وہ دنیا کی رونقوں میں مگن ہوتے ہیں کہ اچانک موت کا پیغام آ جاتا ہے اور انہیں سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ پس ہلاکت اور حسرت ہے اس شخص کے لیے جو موت سے غافل رہے اور آسودگی کے زمانے میں اس کی تیاری نہ کرے، تاکہ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اپنے لیے کچھ بھلائی آگے بھیج سکے۔ یہ کہتے کہتے وہ اتنا روئے کہ گریہ نے انہیں مغلوب کر لیا اور وہ مجلس سے اٹھ گئے۔
ہم اللہ تعالیٰ کا خوف کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
ہم اللہ عزوجل کا خوف درجِ ذیل امور کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں:
- دل کو غیر اللہ کے خوف سے خالی کرنا اور اللہ کے خوف سے بھر دینا: مسلمان کو چاہیے کہ وہ غیر اللہ کی محبت سے ہجرت کرکے اللہ کی محبت اختیار کرے، غیر کی بندگی چھوڑ کر صرف اللہ کی بندگی اپنائے، اور امید و توکل کو مخلوق سے ہٹا کر اللہ ہی پر مرکوز کرے۔
- قرآنِ کریم میں تدبر کرنا: قرآن مجید میں بے شمار آیات ایسی ہیں جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور جواب دہی کا احساس پیدا کرتی ہیں۔
- اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کرنا: اللہ کے اسماء و صفات کو سمجھنا اور ان پر ایمان رکھنا بندے کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ جتنا انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے، اتنا ہی اس کے دل میں عظمت اور خوف بڑھتا ہے۔
- الله تعالى سے دعا کرنا: مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عاجزى اور الحاح کے ساتھ دعا کرے کہ اسے ایسا دل عطا فرمائے جو خاشع ہو اور صرف اسی سے ڈرنے والا ہو اور كسى سے نہیں۔
- گناہ کی قباحت اور سنگينى پر غور کرنا: جب انسان کسی گناہ کا ارادہ کرے یا اس کا ارتکاب کر چکا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس جرم کی سنگینی اور اللہ کے مقابلے میں اس کی جسارت پر سنجیدگی سے سوچے۔ یہ سوچ انسان کو باز رکھتی ہے۔
- نیک اور متقی لوگوں کی صحبت اختیار کرنا: ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھنا جو اللہ کا خوف دلاتے ہوں، دل کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے۔
- اللہ کے وعدے اور وعید پر پختہ یقین رکھنا: قرآن اور رسولِ اکرم ﷺ کی سچى تعلیمات کی تصديق كرنا ۔
- موت اور اس کے بعد کے مراحل کو یاد رکھنا: موت کی یاد دل کو غفلت سے بیدار کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا واعظ ہے جو انسان کو حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
- کائنات کی نشانیوں میں غور کرنا: ان آفاقی آیات پر ٹھہر کر سوچنا جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا اور متنبہ کرتا ہے۔
اللہ کے خوف کے ثمرات:
اللہ تعالیٰ کا خوف بے شمار برکتوں اور عظیم ثمرات کا حامل ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
- یہ انسان کو نیک اعمال کی طرف آمادہ کرتا ہے اور ان میں اخلاص پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں، نہ تم سے کسی بدلے کے خواستگار ہیں اور نہ شکریے کے۔ ہم اپنے رب سے ایک ایسے دن سے ڈرتے ہیں جو سخت اور ہولناک ہوگا۔” [الإنسان: 9-10]
- خوفِ الٰہی خواہشاتِ نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور ناجائز لذتوں کو بے مزہ بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ جو گناہ پہلے محبوب معلوم ہوتے تھے وہی ناپسندیدہ بن جاتے ہیں۔
- ایسا شخص قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سایہ میں ہوگا۔ حدیث میں آیا ہے: “وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔”
- یہ قیامت کے دن امن و امان کا ذریعہ بنتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کرتا۔ اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہا تو قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں گا، اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہا تو قیامت کے دن اسے امن عطا کروں گا۔”
- خوفِ خدا مغفرت کا سبب بھی بنتا ہے۔ سابقہ امتوں کے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے کہا: میں نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری راکھ کو تیز آندھی والے دن اڑا دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ زندہ فرمایا اور پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیرے خوف کی وجہ سے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیا اور بخش دیا۔
- یہ جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص (منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے) خوف رکھتا ہے وہ رات کے آغاز ہی میں سفر شروع کر دیتا ہے، اور جو رات کے آغاز میں چل پڑے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ خبردار! اللہ کی متاع بڑی قیمتی ہے، اور سن لو کہ اللہ کی متاع جنت ہے۔۔”
آخر میں یہ بات واضح رہے کہ خوفِ خدا مؤمنین کی پہچان، متقین کی علامت اور اہلِ معرفت کا شیوہ ہے۔ یہی آخرت کے امن کا راستہ، دنیا و آخرت کی سعادت کا سبب، ایمان کی تکمیل، اسلام كى خوبى، دل کی صفائى اور نفس كى پاکیزگی کی دلیل ہے۔ جب یہ خوف دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے تو نفسانی خواہشات کی جڑیں جلا دیتا ہے اور دنیا کی چمک دمک کو دل سے نکال دیتا ہے۔ یہ گویا اللہ کا وہ کوڑا ہے جس سے وہ اپنے در سے بھٹکنے والوں کو سیدھا کرتا اور بھاگنے والوں کو واپس اپنی رحمت کی آغوش میں لے آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی بنیاد خوفِ خدا پر ہے، اور جس دل میں اللہ کا خوف نہ ہو وہ دل ویران اور بے روح ہوتا ہے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار