ضروری ہے کہ آدمی ہمیشہ حق کی تلاش اور پیروی کا خوگر بنے، اور اپنے انجام کو حق سے وابستہ کرے، جہاں حق ہو وہیں اس کا قدم ہو، اور جس سمت حق مڑ جائے وہ بھی اسی طرف مڑ جائے۔ اسی کے ساتھ لازم ہے کہ محض افراد سے وابستگی سے پرہیز کرے۔
یہ قاعدہ درج ذیل اسباب کی بنا پر فرض ہو جاتا ہے:
الف) حق کا دائمی ثبات اور افراد کا زوال:
حق قدیم ہے، حق ابدی ہے، اور حق ایک ہے۔ حق کو یہ صفات ذاتِ باری تعالی سے عطا ہوئی ہیں
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ ترجمہ: “یہ اِس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں” [الحج: 62]
یہ ہے معاملہ حق کا! جب کہ افراد…. وہ تو فنا ہوتے ہیں، ان کے تو احوال بدلتے رہتے ہیں، خواہشات اور شہوات ان کے درمیان کشمکش کا باعث بنتی ہیں، شبہات انہیں گھیر لیتے ہیں، شیطان انہیں بہکاتا ہے، اور بسا اوقات نفس ان پر غالب آجاتا ہے۔ ان سے وابستگی ایسی ہے جیسے ہچکولے کھاتی زمین پر چلنا، یا ایسی کشتی میں سوار ہونا جسے موجیں ادھر ادھر اچھال رہی ہوں اور جسے غرق ہونے کا اندیشہ ہو۔
ب) حق حاکم ہے، افراد محکوم:
حق ہی وہ میزان ہے جو افراد کے صالح یا فاسد ہونے، سیدھے یا گمراہ ہونے، ہدایت یافتہ یا ضال ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ افراد کو حق کے ترازو میں تولا جاتا ہے، جس کے ساتھ حق ہو وہ وزنی ہے، اور جس کے ساتھ حق نہ ہو وہ بے وزن ہے!
﴿وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ ترجمہ: “اور وزن اس روز عین حق ہوگا۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گےاور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے” [الأعراف: 8]
﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ ترجمہ: “اے محمدؐ ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے” [الكهف: 103–105]
ثانیًا: حق کے ساتھ نزاع کے اسباب
نفس شاذ ہی ایسا کرتا ہے کہ وہ خوشی اور اختیار کے ساتھ حق کے آگے اپنی باگ ڈور ڈال دے، بلکہ ہوتا تو عموماََ یوں ہے کہ مختلف رجحانات اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور گوناگوں محرکات اسے دھکیلتے رہتے ہیں، مگر وہ شخص کامیاب اور سعادتمند ہوا جس نے اپنے نفس کو مضبوطی سے قابو میں لیا، اسے تقویٰ کی لگام دی، اس کی تربیت کی اور اسے پاکیزہ بنایا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (10)﴾ ترجمہ: “یقیناً فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا”۔ [سورۃ الشمس: 9–10]
ان رجحانات میں سے چند یہ ہیں:
الف) خواہشِ نفس کی پیروی:
بعض لوگ اپنے نفس کی خواہش، اپنی رائے کے اشارے اور اپنے مزاج کے میلان کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں، بغیر اس کے کہ اپنے معاملے کو حق کے معیار پر پرکھیں۔ ایسے لوگ سب سے زیادہ گمراہ اور اندھے ہیں:
﴿فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ ترجمہ: “اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پُورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہر گز ہدایت نہیں بخشتا۔” [سورۃ القصص: 50]
﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ﴾ ترجمہ: پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ [سورۃ الجاثیہ: 23]
ب) خود پسندی:
یہ ایک مہلک بیماری ہے۔ اس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور خود کو ایسا معیار قرار دیتا ہے جس پر دوسروں کو پرکھا جائے، مگر خود وہ حق کے مقررہ پیمانوں کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہوتا۔ نتیجتاً وہ حق سے اندھا ہو جاتا ہے اور اس سے دور جا پڑتا ہے۔
اس بیماری میں سب سے پہلا مبتلا ابلیسِ لعین تھا، جسے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے انکار کیا، تکبر کیا اور کافروں میں شامل ہو گیا، اور اس کا سبب یہی خود پسندی تھی، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾ ترجمہ: پوچھا “تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ؟ بولا میں اُس سے بہتر ہوں ، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے” [سورۃ الأعراف: 12]۔
اسی علت نے فرعون کو بھی راہِ حق سے روکے رکھا، چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوا اور اپنی قوم کو بھی گمراہ کیا، جیسا کہ اس کے قول کے طور پر ارشاد ہوا:
﴿أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ (52) فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ (53) فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ﴾ ترجمہ: “میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آ پڑتے یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے۔ اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی یقیناََ یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے۔ [سورۃ الزخرف: 52–54]
اور یوسف بن الحسن نے جنید کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا: اللہ تمہیں تمہارے نفس کا ذائقہ نہ چکھائے، کیونکہ اگر تم نے اسے ایک بار چکھ لیا تو اس کے بعد کبھی بھلائی کا ذائقہ نہ چکھ سکو گے۔
ج) حالاتِ زمانہ کی موافقت:
بسا اوقات باطل پر مبنی حالات مسلط ہو جاتے ہیں، اور عرف و عادات اُن لوگوں کو لبھانے لگتے ہیں جو زندگی کے راستے میں حق کے نور سے رہنمائی حاصل نہیں کرتے۔ چنانچہ تم ایسے شخص کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے مانوس باطل سے چمٹا رہتا ہے اور ہر تبدیلی کی مزاحمت کرتا ہے، خواہ وہ تبدیلی حق ہی کی طرف کیوں نہ ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (5) وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ (6) مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ (7)﴾ ترجمہ: کیا اس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہو خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ “چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کی جا رہی ہے”۔ [سورۃ ص: 5–7]
اور اگر تعجب کرنا ہو تو مشرکین کی وہ دعا باعثِ تعجب ہے جو انہوں نے بدر میں مسلمانوں سے مقابلے کے وقت کی: “اے اللہ! ہم میں سے جو قطعِ رحمی کرنے والا ہے اور جو ہمارے پاس ایسی بات لایا ہے جسے ہم نہیں جانتے، تو اسے ہلاک کر دے” اور اس سے ان کی مراد رسول اللہ ﷺ تھے!
د) آباء کی پیروی:
لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے باپ دادا کے طریقے پر فریفتہ ہو جاتے ہیں، خواہ وہ حق سے کتنا ہی دور اور کتنا ہی منحرف کیوں نہ ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ (22) وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ﴾ ترجمہ: نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پا یا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پا یا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ [سورۃ الزخرف: 22–23]
هـ) اشخاص کی عمومی پیروی:
یا تو ان کی غالب قیادت، مضبوط شخصیت اور دوسروں پر گہرے اثر و نفوذ کے سبب، یا اس وجہ سے کہ وہ حق کے کسی ایک پہلو میں حد سے زیادہ مبالغہ کرتے ہیں۔ پہلی صورت کی مثال ارشادِ باری تعالیٰ میں ہے
﴿يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا (66) وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا (67) رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا﴾ ترجمہ: جس روز ان کے چہرے آگ پر اُلٹ پلٹ کیے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ “کاش ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی”۔ اور کہیں گے “اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا۔ اے رب ، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر”۔ [سورۃ الأحزاب: 66–68]
یہ ہے ندامت اور حسرت کا منظر، جب مہلت ختم ہو چکی ہو گی۔ اس وقت وہ تمنا کریں گے کہ کاش انہوں نے حق کی پیروی کی ہوتی، جو اپنی اصل دو بنیادوں یعنی کتاب اللہ اور رسول ﷺ میں متجلی تھا۔ پھر وہ اقرار کریں گے کہ انہوں نے اپنے سرداروں، بڑوں اور معززین کی اطاعت کی، اور اس کا نتیجہ دنیا میں گمراہی اور ضلالت، اور آخرت میں وبال اور عذاب کے سوا کچھ نہ نکلا。
ہم نے اس کی ایک جھلک مسیلمہ کذاب کے معاملے میں دیکھی، جب اس کی قوم نے اس کی گمراہی میں اس کا ساتھ دیا۔ اس فتنے سے ان میں سے شاذ ہی کوئی بچ سکا، یہاں تک کہ دنیا میں مسلمانوں کی تلواروں سے ہلاک ہوئے، اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔
دوسری صورت کی مثال: خوارج کا فتنہ
ان کے پیچھے چلنے والے ان کی اتباع میں لگ گئے اور بہت سے لوگ ان پہ فریفتہ ہو گئے؛ اس لیے کہ وہ عبادات و طاعات کے باب میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔ لیکن ان کی فکر کج روی کا شکار ہو کر بہت دور نکل گئی اور وہ سخت گمراہی میں جا پڑے، یہاں تک کہ وہ دین سے اس طرح نکل گئے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی نکل گئے جو ان کی عبادت سے مرعوب ہو کر ان سے وابستہ ہو گئے تھے۔
نبی ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا!
“تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے، اپنے قیام کو ان کے قیام کے مقابلے میں اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے”۔
و) خوف:
بسا اوقات جب لوگوں کے سامنے حق پیش کیا جاتا ہے تو خوف ان کے دلوں پر غالب آ جاتا ہے، اور وہ گوناگوں اذیتوں اور آزمائشوں کا تصور کرنے لگتے ہیں جو حق کی پیروی کی صورت میں انہیں پیش آ سکتی ہیں۔ چنانچہ وہ عافیت کو ترجیح دیتے اور سکون و آرام کی طرف مائل ہو کر باطل پر برقرار رہنے کو ہی اختیار کر لیتے ہیں:
﴿وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَىٰ إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ترجمہ: وہ کہتے ہیں “اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں” [سورۃ القصص: 57]
حقیقت میں انہیں اس رویے پر آمادہ کرنے والی چیز امور کی اصل حقیقت سے ناواقفیت ہی تھی:
﴿وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ترجمہ: لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ [سورۃ الأنعام: 37]
نیز وہ شیطانی مکر کے جال میں پھنس گئے، حالانکہ وہ اپنی ذات میں کمزور ہے:
﴿إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا﴾ ترجمہ: یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔ [سورۃ النساء: 76]
پھر وہ اپنے کمزور پیروکاروں کو خوف میں مبتلا کرتا ہے
﴿إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ ترجمہ: اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہاتھا۔ لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سےڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحبِ ایمان ہو۔ [سورۃ آل عمران: 175]
ثالثًا: حق کے ساتھ وابستگی کی صورتیں
1۔ حق کی طرف مکمل مفارقت:
لوگ مضبوط رشتوں میں بندھے ہوتے ہیں؛ قرابت، نسب اور سسرالی تعلقات انہیں جوڑے رکھتے ہیں، اور وہ زندگی کے ریگزار میں بغیر نور، بصیرت اور ہدایت کے اکٹھے سفر کرتے رہتے ہیں۔ پھر ایمان کی صدا بلند ہوتی ہے اور داعیِ حق پکار اٹھتا ہے، تو ان میں سے بعض فوراً لبیک کہتے اور پیروی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ سابقہ تعلقات سے بالاتر ہو جاتے ہیں اور جب وہ حق سے ٹکراتے ہیں جس پر وہ ایمان لا چکے ہوتے ہیں اور جو ان کے لیے سب سے زیادہ عزیز اور بلند تر بن چکا ہوتا ہے، تو ان تعلقات کو ہیچ سمجھتے ہیں۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
الف) ابوبکرؓ اور ان کا بیٹا
جب ان کے بیٹے نے، جو بدر میں مشرکین کی صفوں میں تھا، یہ بتایا کہ وہ لڑائی کے دوران اپنے باپ سے بچتا رہا، تو صدیقِ اکبر نے جواب دیا: لیکن میں تو تمہیں قتل کرنے کا حریص تھا، اگر تم میرے تیر کی زد میں ہوتے تو میں تمہیں ضرور قتل کر دیتا۔
ب) ابراہیم خلیل اللہ اور ان کے والد
انہوں نے اپنے والد کے لیے استغفار کا وعدہ کیا تھا، لیکن جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں تو وہ ان سے بری ہو گئے، حالانکہ وہ اپنے والد کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کرنے والے، سب سے زیادہ نرم خو اور سب سے بڑھ کر ان کے خیر خواہ تھے۔
﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ ترجمہ: ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس کے وعدے کی وجہ سے تھی جو اُس نے اپنے باپ سے کیا تھا مگر جب اُس پر یہ بات کھُل گئی کہ اُس کا باپ خداکا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیاحق یہ ہے کہ ابراہیم ؑ بڑا رقیق القلب و خدا ترس اور بُردبار آدمی تھا۔ [سورۃ التوبہ: 114]
ج) سعد بن ابی وقاصؓ اور ان کی والدہ:
ان کی والدہ نے نذر مانی کہ وہ نہ کھانا کھائیں گی، نہ پانی پئیں گی، نہ سائے میں بیٹھیں گی اور نہ بال سنواریں گی، یہاں تک کہ وہ محمد ﷺ کو چھوڑ دیں۔ مگر سعد نے پوری دنیا کو یہ درس دیا کہ حق کو کس طرح سب سے مضبوط رشتوں پر بھی ترجیح دی جاتی ہے۔
“اللہ کی قسم اے میری ماں! اگر تمہاری سو جانیں ہوتیں اور ایک ایک کر کے نکل جاتیں، تب بھی میں اپنا دین نہ چھوڑتا”۔
د) مصعب بن عمیرؓ اور ان کے بھائی
ان کے بھائی بدر کے قیدیوں میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور ایک مسلمان نے انہیں پکڑ رکھا تھا۔ اس حالِ زار میں جب اس کی نظر اپنے بھائی مصعب پر پڑی تو گویا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملا، مگر اسے سخت صدمہ ہوا جب مصعب نے اس مسلمان سے کہا: اسے مضبوطی سے باندھ کر رکھو، اس کی ماں مالدار ہے، شاید وہ اس کا فدیہ دے دے۔ وہ حسرت اور شکستگی سے بولا: کیا اپنے بھائی کے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے؟ تو مصعب نے اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا: وہ میرا بھائی ہے، تم نہیں۔
سبحان اللہ! کیا حق دلوں میں اس حد تک اثر انداز ہوتا ہے؟ ہاں، اور اس سے بھی بڑھ کر。
2۔ رمزِ حق کی عدم موجودگی:
بسا اوقات حق کا علم بردار اور اس کا نمایاں نمائندہ وفات یا کسی اور سبب سے منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ حق کے سپاہی اور اس کے مددگار کیا کرتے ہیں؟ کیا وہ عہد توڑ کر پلٹ جاتے ہیں، نعوذ باللہ، یا پھر مضبوطی سے جمے رہتے، صبر کرتے، ثابت قدم رہتے اور اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں؟ اس کی وضاحت درج ذیل مثالوں سے ہوتی ہے۔
الف) نبی ﷺ کی وفات
رسول اللہ ﷺ رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے تو اس خبر نے لوگوں کو سخت ہلا کر رکھ دیا۔ کوئی بین کر رہا تھا، کوئی سسکیاں لے رہا تھا، کوئی بے ہوش پڑا تھا۔ حتیٰ کہ عمرؓ نے جب یہ خبر سنی تو اس کا انکار کیا، دھمکی دی اور کہا کہ جو یہ کہے گا کہ آپ ﷺ وفات پا گئے ہیں، میں اسے سخت سزا دوں گا۔ انہوں نے کہا: انہیں محض غشی طاری ہوئی ہے، وہ ضرور اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان لوگوں کی زبانیں کاٹ دیں گے جنہوں نے کہا ہے کہ وہ وفات پا گئے ہیں۔ وہ نہ مرے ہیں اور نہ مریں گے یہاں تک کہ ہم سب کے بعد ہوں گے۔
سیدہ عائشہؓ نے اس سانحے میں لوگوں کی کیفیت یوں بیان کی: لوگ ایسے ہو گئے تھے جیسے بارش بھری رات میں بھیڑ کے بچے ہوں۔
پھر ابو بکرؓ اپنے پختہ ایمان، حکمت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھے۔ حقیقت کو جانچا، منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے وہ کلمات کہے جو دنیا کے کانوں میں ہمیشہ گونجتے رہیں گے اور یہ ابدی سبق ثبت کر گئے کہ وابستگی اصولوں اور حق سے ہوتی ہے، اشخاص سے نہیں، حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سید الاولین والآخرین سے بھی نہیں۔
“اے لوگو! جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو محمد ﷺ وفات پا چکے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔”
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ ترجمہ: محمد ؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں ، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ یا د رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انھیں وہ اس کی جز ا دے گا۔ [سورۃ آل عمران: 144]
یہ آیت سن کر عمرؓ پر سکون طاری ہوا اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے، پھر سنبھل کر کہنے لگے: گویا میں نے یہ آیت پہلے کبھی پڑھی ہی نہ تھی۔
ب) احد میں نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ
احد کے دن جب آپ ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلی تو وہ آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ لوگ حیران و پریشان بیٹھ گئے، لڑائی چھوڑ دی، جب کہ دشمن میدان میں دندناتے پھر رہے تھے اور مؤمنوں کی گردنوں پر تلواریں چلا رہے تھے۔
اسی اثنا میں انس بن نضرؓ عمر اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، وہ بیٹھے رو رہے تھے۔ پوچھا: تمہیں کس چیز نے بٹھا دیا؟ جواب ملا: رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے۔ انہوں نے گہرے ایمان اور بیدار شعور کے ساتھ انہیں جھنجھوڑتے ہوئے کہا: اٹھو! اور اسی چیز پر جان دے دو جس پر رسول اللہ ﷺ نے جان دی۔
پھر وہ آندھی کی طرح میدان میں لپکے، یہاں تک کہ شہادت پا کر اپنے رب سے جا ملے۔ ان کے جسم پر اسی سے زیادہ زخم آئے، بلکہ وہ زخم ان کے لیے اعزاز کا نشان بن گئے۔ انہیں کوئی پہچان نہ سکا سوائے ان کی بہن کے، جس نے انگلیوں سے پہچانا۔ انہی جیسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا
﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾ ترجمہ: ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچّا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ [سورۃ الأحزاب: 23]
3۔ کسی موقف میں حق کی پوزیشن کا اختیار:
بسا اوقات لوگ کسی خاص موقع پر حق کے تقاضوں میں سے کسی چیز کی مخالفت کر بیٹھتے ہیں، یا اس واجب سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں جس کا تقاضا حق سے وابستگی کرتی ہے۔ ایسے میں ایک دوسرا گروہ، جو اصولوں سے وابستگی کا حقیقی مفہوم جانتا ہے، حق کی طرف کھڑا ہو جاتا ہے اور اسے تمام تعلقات اور رشتوں پر مقدم رکھتا ہے، جیسا کہ درج ذیل مثالوں سے واضح ہے
الف) عبد اللہ بن عبد اللہ بن اُبی اور ان کے والد
جب ان کے والد نے اپنی شرمناک بات کہی: اگر ہم مدینہ واپس گئے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو نکال دے گا، تو بیٹے نے مدینہ کی حدود پر تلوار سونت کر اس کا راستہ روک لیا اور ادب و جرأت کے ساتھ کہا: تم ہی وہ بات کہنے والے ہو؟ اللہ کی قسم! آج تم جان لو گے کہ عزت کس کے لیے ہے، تمہارے لیے یا رسول اللہ ﷺ کے لیے۔ اللہ کی قسم! نہ تمہیں اس شہر کا سایہ پناہ دے گا اور نہ تم اپنے گھر میں داخل ہو سکو گے، جب تک رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دیں۔
ب) ایک شخص کا کنکریاں مارنا
ایک شخص نے دوسرے کو کنکریاں مارتے دیکھا تو اسے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ شکار ہوتا ہے نہ دشمن قتل ہوتا ہے۔ پھر اسے دوبارہ کنکریاں مارتے دیکھا تو کہا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر بھی ایسا کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
ج) غزوۂ مؤتہ میں پلٹ کر حملہ کرنے والے
خالدؓ نے غزوۂ مؤتہ میں رومیوں کے مقابلے سے ایک حکمتِ عملی کے تحت مسلمانوں کو پیچھے ہٹایا اور لشکر کو سلامت مدینہ واپس لے آئے۔ بعض لوگوں کو یہ اقدام پسند نہ آیا اور انہوں نے اسے میدان سے فرار سمجھ کر کہنا شروع کیا:” اے بھاگنے والو!” یہ دراصل اس جذبے کے تحت تھا جو نصرتِ حق کے لیے ثابت قدمی اور جانثاری کا تقاضا کرتا ہے، خواہ نتائج کچھ بھی ہوں۔ لیکن نبی ﷺ نے ان کی اصلاح فرمائی اور فرمایا: نہیں، یہ تو پلٹ کر حملہ کرنے والے ہیں، میں ان کا پشت پناہ ہوں۔
د) تین پیچھے رہ جانے والے
جب نبی ﷺ نے صرف یہ ایک جملہ فرمایا: ان سے بات نہ کرو، تو ان کے لیے زمین اجنبی ہو گئی۔ وہ زمین جو محبت اور بھائی چارے کی علامت تھی، ان پر تنگ ہو گئی۔ یہاں تک کہ کعب بن مالک کے چچا زاد بھائی نے ان کے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ کعب اس کے گھر گئے، دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے، اس سے بات کرتے رہے مگر وہ خاموش رہا اور کوئی جواب نہ دیا۔ آخر کار مایوس ہو کر وہ لوٹ آئے، دل گرفتہ اور حال سے بے حال۔ اس رویے کی بنیاد صرف یہ تھی کہ حق کی پابندی کو ذاتی تعلقات پر ترجیح دی جائے، خواہ وہ کتنے ہی مضبوط اور گہرے کیوں نہ ہوں۔
ہ) ابو خیثمہ
وہ غزوۂ عسرت میں نبی ﷺ کے ساتھ نکلنے کے بارے میں تردد میں رہے، یہاں تک کہ لشکر روانہ ہو گیا۔ پھر نبی ﷺ مدینہ کے قریب ایک مقام پر ٹھہرے اور لوگوں کا حال پوچھا۔ دریافت فرمایا: ابو خیثمہ کا کیا ہوا؟ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے دو ٹوک فرمایا: اگر اس میں خیر ہے تو اللہ اسے تم سے ملا دے گا، اور اگر اس کے سوا کچھ ہے تو اللہ نے تمہیں اس سے راحت دے دی۔
یوں واضح اعلان کیا کہ حق کا قافلہ اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے، وہ پیچھے رہ جانے والوں کی پروا نہیں کرتا، چاہے ان کا مقام اور سابقہ کچھ بھی ہو۔ یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری۔ چند ہی لمحے گزرے تھے کہ نگہبان نے کہا: یا رسول اللہ! ایک سوار راستے پر آرہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ابو خیثمہ ہو۔ اور وہ واقعی ابو خیثمہ ہی تھے!
اسی طرح ابو ذر کے بارے میں بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ جب معلوم ہوا کہ وہ پیچھے رہ گئے ہیں تو آپ ﷺ نے وہی بات فرمائی۔ پھر ابو ذر پیدل اپنا سامان اٹھائے لشکر سے آ ملے، کیونکہ ان کا اونٹ سست ہو گیا تھا۔ جب پہرے داروں نے ایک سیاہ سایہ قریب آتا دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابو ذر ہو۔ اور وہ ابو ذر ہی تھے!
رابعًا: ایک منفرد بات:
اگرچہ اشخاص سے وابستگی — نہ کہ اصولوں سے — اپنے اندر بہت سے نقصانات اور خطرات رکھتی ہے، جیسا کہ گزر چکا، تاہم اس میں ایک خوبی بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور وہ یہ کہ کبھی ایک فرد اپنی شخصیت، تعلق اور اعتماد کے ذریعے دوسروں کو ساتھ لے کر اس میدانِ حق میں لے آتا ہے جس پر وہ خود ایمان لا چکا ہوتا ہے۔ ذیل کی مثالیں اس مفہوم کو واضح کرتی ہیں:
الف) ضمام بن ثعلبہ:
وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اسلام کے ارکان کے بارے میں سوال کیا، پھر ان پر عمل کا عہد کیا، نہ اس میں اضافہ کریں گے نہ کمی، اور اس کے بدلے جنت کے طالب ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دو گیسوؤں والا کامیاب ہوا اگر اس نے سچ کہا۔
مگر اصل خوبی اس وقت ظاہر ہوئی جب وہ اپنی قوم میں لوٹے اور دعوتِ حق کا آغاز کیا۔ وہ انہیں جھنجھوڑتے ہوئے کہتے: لات اور عزیٰ بہت بری ہیں۔ لوگ گھبرا کر کہتے: خاموش رہو ضمام! کوڑھ اور جذام سے ڈرو۔ وہ پختہ ایمان کے منطق سے جواب دیتے، اللہ تعالیٰ کی یاد دہانی کراتے اور ان بتوں کی حقیقت واضح کرتے جو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، نہ کسی کو بلند کر سکتے ہیں نہ پست، نہ کچھ دے سکتے ہیں نہ روک سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی پوری قوم اسلام لے آئی۔ یوں وہ اپنی قوم کے لیے سب سے زیادہ بابرکت وفد ثابت ہوئے۔
ب) سعد بن معاذ
جب وہ مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر اسلام لائے تو اپنی قوم بنی عبد الاشہل کے پاس واپس آئے، سب کو جمع کیا اور پوچھا: اے بنی عبد الاشہل! تم مجھے اپنے درمیان کیسا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہیں۔
انہوں نے کہا: تو آج سے تمہارے مردوں اور عورتوں سے میرا کلام حرام ہے، یہاں تک کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ چنانچہ بنی عبد الاشہل میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جو اس رات مسلمان ہوئے بغیر رہا ہو۔
واللہ من وراء القصد، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مترجم: زعیم الرحمان