اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے علما اور داعیوں کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اس پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں جو رسولوں پر نازل ہوا، تاکہ وہ حق کا راستہ واضح کریں اور باطل کا مقابلہ کریں۔ ایسے ہی لوگوں میں استاد عباس السیسیؒ بھی شامل ہیں، وہ مربی اور داعی جنہیں اللہ نے دعوت اور تربیت کی غیر معمولی صلاحیتیں عطا کیں، جن کے ذریعے وہ لوگوں کے دلوں تک پہنچے اور ایسے عملی نقوش چھوڑ گئے جو ان کی وفات کے بعد بھی فراموش نہ ہوسکے۔
عباس السیسی کی زندگی: سفرِ ایمان کا آغاز
مشہور شہر رشید جس کی فصیلوں پر بارہا حملہ آوروں کے عزائم ٹوٹے، مسجد الجندی کی گلی میں 28 نومبر 1918ء کو عباس حسن سعید السیسی پیدا ہوئے، جو عباس السیسی کے نام سے معروف ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، اور ان کے والد پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔
ان کے والد نے انہیں گھر کے قریب میں واقع شیخ محمد خیر اللہ کے مکتب میں داخل کروایا، جہاں انہوں نے قرآنِ کریم اور پڑھنے لکھنے کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ابتدائی تعلیم مکمل کی اور 1934ء میں پرائمری کی سند حاصل کی۔ پھر اسکندریہ کے علاقے شاطبی میں واقع محمد علی صنعتی مدرسہ (جمعیۃ العروۃ الوثقیٰ الخیریۃ الاسلامیۃ کے تحت) میں داخلہ لیا۔ یہ داخلہ کم نمبروں کی وجہ سے نہیں بلکہ انگریزی مضمون میں شدید کمزوری کے سبب تھا۔
صنعتی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد امام حسن البناؒ نے انہیں مدرسۂ الصناعات الحربیۃ میں رضاکارانہ خدمات کی ترغیب دی۔ فراغت کے بعد وہ اسلحہ مرمت کرنے کے ورکشاپ میں ملازم ہو گئے اور 1954ء کے منشیہ واقعات تک وہیں کام کرتے رہے، یہاں تک کہ جمال عبدالناصر کے دور میں انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
کئی برس قید میں گزارنے کے بعد رہائی ملی تو شہر رشید میں بیس برس تک دودھ کی صنعت اور تجارت سے وابستہ رہے۔ ابتدا میں انہوں نے اپنے دوست انجینئر یوسف ندا کے ساتھ شراکت میں کاروبار شروع کیا۔ اسی دوران انہوں نے “دار القبس” کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بھی قائم کیا، جو زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔
عباس السیسی بچپن ہی سے حب الوطنی کے جذبات کے ساتھ پروان چڑھے۔ 1927ء میں سعد زغلول کی وفات پر اپنے اسکول میں ایک علامتی جنازے میں شریک ہوئے۔ 1935ء میں محمد علی صنعتی مدرسہ نے 23 فروری کے دستور کی منسوخی کے خلاف شدید مظاہرے کیے جس کے نتیجے میں بادشاہ نے دستور کی بحالی کا اعلان کیا۔
عباس السیسی اور اخوان المسلمون: دعوتی سفر
رشید ہی کے رہنے والے استاد محمود عبدالحلیم، کتاب الاخوان المسلمون: احداث صنعت التاریخ کے مصنف، اخوان کی دعوت میں سرگرم تھے۔ انہوں نے مسجد سیدی علی المحلی میں عباس السیسی کو نماز پڑھتے دیکھا، ان سے ملاقات کی، اخوان کی دعوت، اس کے مقاصد اور اصول بیان کیے۔ عباس السیسی اس سے متاثر ہوئے اور 1936ء میں اخوان میں شامل ہو گئے۔
بعد ازاں جب ان کی ملاقات استاد احمد السکری سے ہوئی تو جماعت سے وابستگی مزید گہری ہو گئی، کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ اس جماعت میں مزدور کے ساتھ ملازم اور طالب علم کے ساتھ کسان محبت بھرے ماحول میں بیٹھتا ہے۔ پھر رشید کے ایک دورے کے دوران استاد حسن البناؒ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اللہ کے دین کی خدمت پر بیعت کی۔
اسکندریہ میں تعلیم کے دوران وہاں کے اخوان سے گہرا تعلق قائم ہوا، حتیٰ کہ بعض شُعبوں کی قیادت بھی کی۔ ان کی خوش گفتاری اور شگفتہ طبیعت لوگوں کو اخوان کی دعوت کی طرف کھینچ لاتی تھی۔
بعد میں جب وہ اسلحہ مرمت کے شعبے میں گئے تو “النظام الخاص” میں شامل ہوئے اور اس کے اہم افراد میں شمار ہونے لگے۔ ملازمت کی نوعیت کے باعث مختلف علاقوں، حتیٰ کہ غزہ تک، ان کا آنا جانا رہا اور وہاں بھی اخوان کی شاخیں قائم کرنے کی کوششیں کیں۔
آزمائشوں کا سفر: قید و بند کے ایام
دعوتِ دین کا راستہ کبھی پھولوں کی سیج نہیں ہوتا بلکہ آزمائشوں اور فتنوں سے بھرا ہوتا ہے، تاکہ اللہ اہلِ ایمان کو پرکھے۔ عباس السیسی بھی اسی راہ میں گرفتار ہوئے۔ دسمبر 1946ء میں پہلی بار انہیں اس الزام پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے فوج کی اجازت کے بغیر اخوان سے وابستگی اختیار کی۔ 1948ء میں چھ ماہ قید ہوئی اور غزہ منتقل کیے گئے۔ 1954ء میں فوج اور اخوان کے شدید تصادم منشیہ کے ڈرامے کے بعد ہزاروں اخوان کے ساتھ انہیں بھی گرفتار کیا گیا۔ دو سال بعد رہائی ملی، مگر 1956ء میں ملازمت سے مستقل برطرف کر دیے گئے۔
1965ء کی آزمائش میں دوبارہ گرفتار ہوئے اور فوجی جیل میں ڈالے گئے، جہاں شدید اذیتیں برداشت کیں تاکہ نئے تنظیمی ڈھانچے کا اعتراف کروایا جائے۔ انہیں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی، جن میں سے نو سال گزارنے کے بعد 14 اپریل 1974ء کو رہائی ملی۔ یہ آزمائش صرف انہی تک محدود نہ رہی؛ ان کی اہلیہ “امّ معاذ” کو بھی تقریباً دو سو مسلم بہنوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا اور انہیں بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک منفرد مربّی کی تربیتی خدمات
استاد عباس السیسی کی تربیتی خدمات نے انہیں اخوان کے ممتاز داعیوں میں شامل کر دیا۔ ان کے حسنِ اخلاق، چہرے کی بشاشت، نرم دعوتی اسلوب، لوگوں کے ساتھ نرمی، خوشی بانٹنے، مسائل میں شریک ہونے، رشتوں کو مضبوط بنانے، محبت کے بندھن قائم کرنے، بچوں سے شفقت اور جاہل پر صبر، ان سب نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ وہ سماجی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ملاقاتیں کرتے، خوشی و غم میں شریک ہوتے۔
وہ سادہ لباس، کشادہ دل، بدسلوکی پر بھی حلم دکھانے والے، بھائیوں کے لیے محبت اور پڑوسیوں و ساتھیوں کے لیے نرمی رکھنے والے تھے۔ ان کی بذلہ سنجی اور مسکراہٹ ہر وقت ساتھ رہتی، مگر اسلامی آداب کے ساتھ۔ وہ قصے نہایت دلکش انداز میں سناتے، تاکہ مدعوین کے دل حق کی دعوت، حق کے منہج اور حق کے دین کی طرف مائل ہوں۔ انہوں نے ہر آزمائش پر صبر کیا۔
نوجوانوں کی رہنمائی: محبت سے اصلاح
نوجوانوں کی رہنمائی میں ان کا ایک نمایاں کردار یہ تھا کہ انہوں نے فکری انتہا پسندی کا علاج محبت اور نرمی سے کیا۔ ان کا مشہور قول تھا: “ہم اپنے دشمنوں سے محبت کے ساتھ لڑیں گے۔” اس طرزِ فکر نے خاص طور پر اسکندریہ میں مزاج اور اسلامی رویّوں میں اعتدال پیدا کیا۔
وہ نوجوانوں سے مسلسل رابطے میں رہتے، ملاقاتیں، نشستیں اور لیکچرز کے ذریعے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں سمیت مختلف طبقات میں دعوتِ اسلامی کو بڑی پیش رفت حاصل ہوئی۔
مزاحیہ تربیتی اسلوب: دلوں کو جیتنے کا فن
لوگوں سے رابطے میں وہ مزاحیہ تربیتی اسلوب بھی اختیار کرتے تھے۔ ایک بار ٹرام میں سوار تھے، ایک مسافر کے پاؤں پر پاؤں آ گیا۔ اس نے کہا: “کیا تم گدھے ہو؟” حاجی عباس نے نہایت نرمی سے جواب دیا: “نہیں، میں سیسی ہوں۔” مسافر ہنس پڑا اور بات دعوتی گفتگو تک جا پہنچی۔
ایک اور موقع پر مسجد میں نماز کے بعد ان کے پہلو میں ایک سانولا نوجوان کھڑا تھا۔ حاجی عباس نے اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پوچھا: “بھائی، آپ شام سے ہیں؟” نوجوان ہنس پڑا اور کہا: “اس رنگت والا شامی ہو سکتا ہے؟” حاجی عباس مسکرائے اور کہا: “میں دل کے رنگ کی بات کر رہا ہوں۔” یہی بات تعارف کا مضبوط دروازہ بن گئی۔
فن اور دعوت: ہم آہنگی کی کوشش
حاجی عباس السیسی جیسے حساس دل کے حامل شخص کے لیے فن کی قدر فطری تھی، اور انہوں نے فن کو دعوت کی خدمت میں بھی برتا۔ عمر کے اس حصے میں بھی وہ اُن اولین لوگوں میں تھے جنہوں نے دعوت میں فن کی اہمیت کو سمجھا اور اسلامی تحریک کی فقہی نگاہ اور فنون کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا ماننا تھا کہ بامقصد فن نفس کی تربیت اور تہذیب میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے 80 کی دہائی کے اواخر میں اخوان کے اندر پہلی فنی کمیٹی قائم کی اس وقت وہ مکتبِ ارشاد کے رکن تھے۔ اس کمیٹی نے “فرقة الهدى للفن الإسلامي” کے نام سے پہلی اسلامی فنی جماعت تشکیل دی۔
اگرچہ ابتدا میں جماعت کے بعض قائدین نے اس قدم پر تحفظات کا اظہار کیا، مگر یہ سرگرمی بتدریج پروفیشنل انداز اختیار کر گئی اور دیگر صوبوں میں بھی اسی طرح کی جماعتوں کے قیام کا باعث بنی، یہاں تک کہ یہ مصر میں دعوتِ اسلامی کی ایک نمایاں علامت بن گئی۔
عباس السیسی کے اقوال: حکمت کے موتی
ان کی تربیتی خدمات میں ان کی تصانیف اور اقوال بھی شامل ہیں، جن سے دعوت کے کارکنان نے برسوں فائدہ اٹھایا اور آج بھی اٹھا رہے ہیں:
اللہ کی طرف دعوت ایک فن ہے، اور اس پر صبر ایک جہاد ہے۔
اللہ کی طرف دعوت محبت ہے، اور اللہ کی راہ میں جینا، اللہ کی راہ میں مرنے سے ہزار گنا زیادہ کٹھن ہے۔
اللہ کے لیے محبت کے ساتھ جہاد ہی وہ کھلا میدان اور جائز سیاست ہے جسے نہ سرحدیں روکتی ہیں نہ قانون سلب کرتا ہے؛ کیونکہ یہ دلوں کی دھڑکن، احساسات اور جذبات کا معاملہ ہے۔
اسلام ذوق ہے، لطافت ہے، احساسات اور جذبات ہے؛ یہ دین انسانی نفس، دلوں اور روحوں سے مخاطب ہوتا ہے۔
یہ دین نہ پٹھوں کے استعمال سے شروع ہوا، نہ سخت الفاظ سے، نہ تصادم اور چیلنج سے؛ بلکہ اچھی بات اور شفقت بھری نگاہ سے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: لوگوں سے اچھی بات کہو۔
سورۃ البقرہ: 83
تصانیف: عملی تربیت کا نمونہ
ان کی تصانیف ان کے اقوال کی عملی تصویر تھیں، جیسے الذوق سلوك الروح جس میں انہوں نے محبت کے اسلوب سے متعدد رویّوں کا علاج کیا، نیز الطريق إلى القلوب، الحب في الله، اور دعوة الإخوان۔ یہ سب کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ داعی اور مربّی محبت کے ذریعے کیسے لوگوں کے دلوں تک پہنچتا ہے۔
وفات: ایک عہد کا اختتام
حاجی عباس کچھ عرصہ بیماری میں مبتلا رہے، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے جوار میں بلا لیا۔ جمعہ کی تراویح کے وقت، ماہِ رمضان میں 8 رمضان 1425ھ، بمطابق 22 اکتوبر 2004ء ان کا انتقال ہوا۔ دنیا بھر سے نوجوانوں اور محبین کی بڑی تعداد نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔ بہت سوں نے ان کی دعوتی خدمات کی گواہی دی۔
سابق مرشدِ عام استاد مہدی عاکف نے لکھا: “استاد عباس السیسی کی رحلت سے جماعت نے ایک ایسا دل کھو دیا جو دعوت کی محبت سے دھڑکتا تھا، اسی کے لیے جیتا تھا اور اپنی تمام صلاحیتیں اللہ عزوجل کے لیے وقف کیے ہوئے تھا۔”
استاد جمعہ امین عبدالعزیز نے کہا: “وہ محبت سے لبریز تھے، گویا پانی تھے جو دعوت کے پودے کو سیراب کرتا ہے۔ وہ ایک کتاب تھے جس کے صفحات روشن تھے، ہم نے ان سے سیکھا کہ دعوت محبت ہے، اور یہ کہ ہماری دعوت میں تشدد نہیں۔ انہوں نے یہ باتیں اپنی کتابوں میں لکھیں، ہمیں منتقل کیں، اسی پر ہماری تربیت کی، اور اپنے گھر میں آویزاں رکھیں تاکہ ہر آنے والا دیکھے۔ ہماری تسلی یہ ہے کہ انہوں نے مضبوط اینٹیں چھوڑیں جن سے عمارت مضبوط ہوتی ہے اور اللہ کے اذن سے بلند ہوتی جاتی ہے۔”