رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے مقدس مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا، اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ رمضان کی تیاری محض چند دن پہلے سے شروع کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی سفر ہے جو پورے سال جاری رہتا ہے۔
اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے ہم رمضان المبارک کا صحیح طریقے سے استقبال کر سکتے ہیں، اور اس مقدس مہینے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
رمضان کی با مقصد تیاری
رمضان المبارک کی تیاری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم کھانے پینے کا سامان جمع کر لیں یا گھر کی صفائی کریں۔ حقیقی تیاری یہ ہے کہ ہم اپنے دل، ذہن اور روح کو اس مقدس مہینے کے لیے تیار کریں۔
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: “جس شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔” (صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ رمضان کی تیاری میں سب سے اہم چیز “ایمان” اور “احتساب” ہے۔ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ، اور اجر و ثواب کی نیت سے رمضان میں داخل ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ، ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ رمضان صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے، اپنی روح کو پاک کرنے، اور اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کا موقع ہے۔
رمضان المبارک کی تیاری کیسے کریں؟
1. توبہ اور استغفار
رمضان سے پہلے سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگیں۔ اپنے دل کو پاک کریں اور نئے عزم کے ساتھ رمضان میں داخل ہوں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے ایمان والو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو۔” (التحریم: 8)
2. نیت کو درست کریں
رمضان کے روزے رکھنے سے پہلے اپنی نیت کو خالص کریں۔ یہ فیصلہ کریں کہ آپ صرف اللہ کی رضا کے لیے روزے رکھیں گے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔” (صحیح بخاری)
3. دل کی صفائی
رمضان میں داخل ہونے سے پہلے اپنے دل سے حسد، کینہ، غصہ، اور بغض کو نکال دیں۔ اگر کسی سے آپ کی دشمنی ہے، تو اسے ختم کریں۔ اگر کسی کا حق آپ پر ہے، تو اسے ادا کریں۔ رمضان ایک نیا آغاز ہے، اور صاف دل کے ساتھ اس میں داخل ہونا ضروری ہے۔
4. دعا کی عادت
رمضان سے پہلے سے ہی دعا کی عادت ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ سے رمضان کی توفیق مانگیں، اور یہ دعا کریں کہ وہ آپ کو رمضان میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق دے۔
5. نماز کا اہتمام
اگر آپ پانچ وقت کی نماز باجماعت نہیں پڑھتے، تو رمضان سے پہلے ہی یہ عادت شروع کر دیں۔ اس طرح رمضان میں تراویح اور دیگر نوافل آسانی سے ادا ہو سکیں گے۔
6. قرآن کریم سے تعلق
رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ رمضان سے پہلے ہی قرآن کریم کی تلاوت کی عادت بنائیں۔ روزانہ تھوڑا تھوڑا قرآن پڑھیں، اور اس کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ گھریلو مجالسِ قرآن کا اہتمام بھی کر سکتے ہیں۔
7. صدقہ و خیرات
رمضان میں صدقہ کرنا بہت فضیلت والا عمل ہے۔ رمضان سے پہلے ہی اپنے بجٹ میں صدقہ کے لیے رقم مختص کر لیں، تاکہ رمضان میں باقاعدگی سے صدقہ کر سکیں۔
8. وقت کا منصوبہ
رمضان کے لیے ایک وقت کا منصوبہ بنائیں۔ طے کریں کہ آپ کب عبادت کریں گے، کب قرآن پڑھیں گے، کب کام کریں گے، اور کب آرام کریں گے۔ منصوبہ بندی سے آپ رمضان کو بہترین طریقے سے گزار سکیں گے۔
رمضان المبارک کا منصوبہ
رمضان میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ایک منصوبہ بنانا ضروری ہے۔ یہاں کچھ تجاویز ہیں:
- پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کریں
- روزانہ تراویح میں شرکت کریں
- روزانہ قرآن کریم کا ایک پارہ پڑھیں
- ہر روز کم از کم 10 منٹ ذکر و اذکار کریں
- روزانہ کچھ صدقہ کریں، چاہے تھوڑا ہی ہو
- غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں
- رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں
- شبِ قدر کی تلاش میں آخری عشرے میں خاص محنت کریں
- سوشل میڈیا اور فضول کاموں سے پرہیز کریں
عزم برائے اصلاح
رمضان اپنی برائیوں کو چھوڑنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ فیصلہ کریں کہ رمضان میں آپ کون سی بری عادات چھوڑیں گے:
- جھوٹ بولنا
- غیبت کرنا
- فضول باتیں کرنا
- غصہ کرنا
- حسد کرنا
- فضول خرچی
- سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنا
- نماز میں سستی کرنا
- والدین سے بدتمیزی
- رشتہ داروں سے قطع تعلقی
- حرام کمائی
یاد رکھیں، رمضان صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا، اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔” (صحیح بخاری)
روزے کے آداب اور سنتیں
سحری کی اہمیت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے۔” (صحیح بخاری) سحری کھانا سنت ہے اور اس میں بہت برکت ہے۔ سحری کو دیر سے کھائیں، یعنی فجر کے وقت کے قریب۔
افطار میں جلدی کریں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔” (صحیح بخاری) مغرب کی اذان ہوتے ہی فوراً افطار کریں۔
کھجور اور پانی سے افطار
نبی کریم ﷺ تازہ کھجوروں سے افطار کرتے تھے، اگر تازہ نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے، اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پیتے۔ (ابو داؤد، ترمذی)
افطار کی دعا
افطار کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ افطار کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: “ذَہَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّہُ” (پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں، اور ان شاء اللہ اجر ثابت ہو گیا۔)
شعبان، ماہِ تیاری
شعبان کا مہینہ رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے۔ نبی کریم ﷺ شعبان میں بہت زیادہ روزے رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔” (صحیح بخاری)
شعبان میں روزے رکھنے سے جسم رمضان کے لیے تیار ہو جاتا ہے، اور روزے رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگر ممکن ہو تو شعبان میں کچھ نفلی روزے ضرور رکھیں۔
یاد رکھیں، شعبان کے آخری دنوں میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے (اگر آپ کی عادت نہیں)، تاکہ آپ رمضان کے لیے تازہ دم رہیں۔
خلاصہ
رمضان المبارک کا استقبال صرف ظاہری تیاریوں سے نہیں ہوتا، بلکہ دل، روح، اور ذہن کی تیاری سے ہوتا ہے۔ توبہ، نیت کی اصلاح، دل کی صفائی، اور عبادت کی عادت – یہ سب رمضان کی صحیح تیاری کے لیے ضروری ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے کی توفیق دے، اس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔ آمین۔ رمضان کے بعد شوال کے 6 روزے رکھنا نہ بھولیں، اور عید کی خوشی کو صحیح طریقے سے منائیں۔ اعتکاف نبویؐ کا اہتمام بھی رمضان کی برکات میں سے ہے۔
مترجم: زعیم الرحمان