محبت ایک ایسی قوت ہے جس کی تاثیر مضبوط ترین ہے۔ دیکھا جائے تو محبت کے ذریعے ایک تغیر برپا کیا جا سکتا ہے، ایک تبدیلی عمل میں لائی جا سکتی ہے، گویا یہ انسان سے رابطے کا انتہائی لطیف اور اعلیٰ اسلوب ہے جو دلوں میں گھر کر لیتا ہے اور قبولیت حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا محبت کو تربیت کا ذریعہ بنانا ایک ایسا فارمولہ ہے جس پہ کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کیوں کہ یہ عین فطری ذریعہ ہے اور فطرت تبدیل نہیں ہوتی۔
محبت وہ اکسیر ہے جسے زندگی سے نکال دیں تو زندگی ناقابلِ برداشت جہنم بن جائے… کیوں کہ محبت اگر دلوں سے رخصت ہو جائے تو اس کی جگہ نفرتیں و عداوتیں لیتی ہیں، اور پھلتی پھولتی ہیں اور نتیجتاََ خرابی عام ہو کر رہتی ہے۔ اس لیے چوں کہ تربیت میں محبت کا کردار بہت اہم ہے، ہم وضاحت کے ساتھ اس کی اہمیت، طریقوں اور مربی و شاگردوں پہ مرتب ہونے والے اثرات کو بیان کریں گے۔
تربیت بذریعہ محبت ہے کیا؟
لغت میں جھانکیے تو محبت بغض کے مخالف ایک جذبہ ہے جس کے معنی مودت اور چاہت کے ہیں۔ اسے حِبّ بھی کہا گیا ہے (اور حُبّ بھی)۔ جنیدؒ کہتے ہیں: میں نے حارث محاسبیؒ کو یہ کہتے سنا کہ محبت یہ ہے کہ تم کسی چیز کی طرف اپنی پوری ہستی کے ساتھ مائل ہو جاؤ، پھر اسے اپنی جان، روح اور مال پر ترجیح دو، پھر ظاہر و باطن میں اس کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرو، اور اس کے بعد یہ شعور بھی رکھو کہ تم اس کی محبت کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کر رہے ہو۔
محبت دو چیزوں کا مرکب ہے، لوگوں سے چاہت اور مودت کی رغبت رکھنا اور ان سے شفقت چاہنا۔ بندے سے اللہ کی محبت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اس پر رحم فرماتا ہے، اس کے ساتھ لطف و عنایت کا معاملہ کرتا ہے، اس کے اکرام کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اطاعت کے کاموں میں لگاتا ہے، اسے معاصی سے محفوظ رکھتا ہے، اور اسے نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے۔
چنانچہ قرآنِ کریم میں بیان کردہ اسلوب یعنی محبت پر مبنی تربیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی محبت کی خبر دیتا ہے، یا انہیں اپنی محبت کی یاد دہانی کراتا ہے، یا ان چیزوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جنہیں وہ پسند کرتے ہیں، یا انہیں اس نعمت کا احساس دلاتا ہے کہ اس نے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دی ہے؛ اور یہ سب اس مقصد سے ہوتا ہے کہ ان کے دلوں کو مائل کیا جائے، انہیں ان نیک اعمال پر ثابت قدم رکھا جائے جو اللہ کی محبت، اس کی معافی اور مغفرت کا باعث بنتے ہیں، اور ان کی دنیاوی زندگی میں استقامت اور دنیا و آخرت کی سعادت کو یقینی بنایا جائے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں محبت کے ذریعے تربیت
اسلام نے قرآن و حدیث میں، جو دین کے بنیادی مصادر ہیں، تربیت میں اس اسلوب کی اہمیت پر بھرپور زور دیا ہے، تاکہ ایسی نسلیں تیار کی جا سکیں جو اپنے لیے بھی نافع ہوں اور امت کے لیے بھی۔ چنانچہ قرآنِ کریم نے متعدد آیات میں اس اسلوب کی طرف اشارہ کیا ہے، جن میں سے بعض میں اللہ عز وجل نے لوگوں کے چند طبقات سے اپنی محبت کا اعلان کیا ہے، ان کے اعمال اور اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے، اس غرض سے کہ ان کی طرف سے صادر ہونے والے مثبت رویّوں کو تقویت دی جائے۔
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
سورۃ آلِ عمران: 134
ترجمہ: جو لوگ خوش حالی اور تنگ دستی میں خرچ کرتے ہیں، غصے کو پی جانے والے ہیں، اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
صاحبِ الظلال کہتے ہیں کہ اللہ کا اپنے بندوں میں سے کسی بندے سے محبت کرنا ایک ایسا امر ہے جس کی قدر و قیمت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کی ان صفات کے ساتھ پہچانتا ہو جن کے ساتھ خود اللہ نے اپنا تعارف کرایا ہے، اور جس نے ان صفات کی بازگشت کو اپنے احساس، نفس، شعور اور اپنی پوری ہستی میں محسوس کیا ہو۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو اپنی محبت کی یاد دہانی کراتا ہے، تاکہ انہیں اس محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے اور حسنِ سلوک پر آمادہ کرے۔
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
سورۃ آلِ عمران: 31
ترجمہ: اے نبی ! لوگوں سے کہ دو کہ “اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں کو در گزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔
ابنِ قیم جوزیؒ نے بندے کی اللہ تعالیٰ سے محبت کا ایک معیار بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا نام ہے کہ آدمی اپنا ارادہ، اپنا عزم، اپنی جان، اپنا مال اور اپنا وقت اس ذات کے لیے وقف کر دے جس سے وہ محبت کرتا ہے، اور ان سب کو اس کی رضا اور اس کی محبوب چیزوں کی محبت میں لگا دے۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا
سورۃ مریم: 96
ترجمہ: یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عملِ صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمٰن اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔
پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان مومنوں کے لیے جو نیکی کے کام انجام دیتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں ایسی محبت پیدا فرما دیتا ہے جو وہ خود کسی خوشامد یا ظاہری اسباب اختیار کیے بغیر پاتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا محبت پر مبنی تربیتی اسلوب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں اس اسلوب کو اختیار فرمایا، اور اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اظہار کریں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اثرات سے بخوبی واقف تھے کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان محبت باقی رہتی ہے اور باہمی تعلق مضبوط ہوتا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی وہاں سے گزرا، تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور اسے بتا دو۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا ایک مضبوط اور بنیادی اصول ہے، یہ روح کی گفتگو اور تربیت و اصلاح میں دل سے دل تک پہنچنے والا پیغام ہے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اٹھا کر اپنی ران پر بٹھا لیتے، اور حسن کو اپنی دوسری ران پر بٹھاتے، پھر دونوں کو اپنے ساتھ لپٹا لیتے اور فرماتے: اے اللہ! ان دونوں پر رحم فرما، کیونکہ میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے خوش طبعی فرمایا کرتے تھے، ان کے ساتھ تواضع سے پیش آتے اور ان کی فطری خصوصیات کا خیال رکھتے تھے؛ کسی سے فرمایا: (یا ذو الاذنین!) اے دو کانوں والے، اور ایک بچے سے فرمایا: اے ابو عمیر! نغیر (چڑیا کے بچے) کا کیا ہوا؟
بچوں کی تربیت بذریعہ محبت کرنے کا طریقہ
محبت کے ذریعے تربیت کے ذرائع متنوع ہیں، یہ صرف بوسے تک محدود نہیں کہ اس کے ساتھ کلمہ نہ ہو، اور نہ ہی صرف لمس تک کہ اس کے ساتھ نگاہ شامل نہ ہو۔ ان ذرائع میں سے نمایاں ترین کو درجِ ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے۔
محبت بھرے الفاظ
اولاد کے سامنے محبت بھرے الفاظ کا زبان سے ادا ہونا نہایت ضروری ہے، اس لیے کہ بچہ اپنے بارے میں جو تصور اپنے ذہن میں قائم کرتا ہے، وہ ان باتوں کا نتیجہ ہوتا ہے جو وہ سنتا ہے۔ گویا لفظ ایک مصور کی کُرسی ہے جو چاہے تو تصویر کو سیاہ رنگوں میں ڈھال دے اور چاہے تو خوب صورت رنگوں سے آراستہ کر دے۔
محبت بھری نگاہ
والدین اور مربیوں کو چاہیے کہ وہ بچے کی طرف محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ دیکھیں، اور دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔
محبت کا لقمہ
یہ اس وقت ہوتا ہے جب گھر والے ایک ہی دسترخوان پر جمع ہوں۔ باپ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بچوں کے منہ میں خود لقمہ ڈالے۔ البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ بچے یعنی پانچویں، چھٹی جماعت یا اس سے اوپر کی عمر کے بچے اس عمل کو ناپسند کر سکتے ہیں۔
محبت کا لمس
یہ دانائی نہیں کہ باپ جب بیٹے سے بات کرے تو اس سے فاصلے پر ہو، بلکہ بہتر یہ ہے کہ وہ اس کے قریب بیٹھے اور اس کا ہاتھ بیٹے کے کندھے پر ہو۔ اس اثر کو یاد رکھا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطب کے گھٹنے سے گھٹنا ملا لیتے تھے، اور اس کی رانوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر پوری توجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔
محبت کی آغوش اور بوسہ
اپنے بچوں کو اس آغوش سے محروم نہ کریں، کیونکہ آغوش کی ضرورت بھی کھانے، پینے اور ہوا کی طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسوں میں سے ایک، حسن یا حسین کو بوسہ دیا۔ اقرع بن حابس نے یہ منظر دیکھ کر کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میرے دس بیٹے ہیں، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال دی ہے تو میں تو اس طرح نہیں۔
محبت بھری مسکراہٹ
یہ اولاد کے دل میں محبت بسانے کے اہم ترین ذرائع میں سے ہے، یہ اس پانی کی مانند ہے جس سے محبت کا پودا دلوں کے اندر پروان چڑھتا ہے۔
محبت کے ذریعے تربیت کے ثمرات
اس میں کوئی شک نہیں کہ محبت کے ذریعے تربیت والدین کے لیے خوش گوار اور تسلی بخش نتائج و ثمرات پیدا کرتی ہے، اور اولاد میں مثبت اوصاف و خصائل کو جنم دیتی ہے، جن میں سماجی ذہانت، احترام، نظم و ضبط کی پابندی، جذبۂ پیش قدمی و اقدام کی نشوونما، ذہنی سکون، قلبی اطمینان اور استحکام شامل ہیں۔
- دل کو مشقتوں سے راحت: محبت کا جذبہ عمومی طور پر نفسی ہم آہنگی اور باطنی اطمینان کی کیفیت ہے، جو انسان اپنے اردگرد کے ماحول میں منتقل کرتا ہے۔
- محبت ایک ایسی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی: جب مربی محبت کا بیج بوتا ہے تو وہ اپنے لیے ایسا ذخیرہ تیار کرتا ہے جو نہ چُرایا جا سکتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔
- سوچ میں مثبت تبدیلی: جب طلبہ کو محبت کرنے والا استاد میسر آتا ہے تو ان کی سوچ، انداز اور موقف بدل جاتا ہے۔
- مسائل کا حل: جب محبت کا رشتہ مضبوط اور قائم ہو تو مسائل نہایت آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔
- صلاحیتوں اور تخلیقی افراد کی دریافت: محبت بچے کو پورے وجود کے ساتھ علم کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔
محبت کے ذریعے تربیت بہترین طریقہ اور اولاد کی پرورش و نشوونما کا کامیاب ذریعہ ہے، کیونکہ اس کے ثمرات عملی اور محسوس ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ والدین اپنی اولاد کے لیے محبت کو فروغ دیں، تاکہ بچے والدین کی محبت میں پروان چڑھیں، اور یوں باہمی محبت خاندان کے مضبوط ربط، دائمی احترام اور دوطرفہ نگہداشت کا سبب بنے۔
مترجم: زعیم الرحمان