میں دو سال سے شادی شدہ ہوں۔ میری ایک بہن طلاق یافتہ ہے۔ اس کی طلاق کے دوران ہم نے معاشرے کی نظریں، لوگوں کی مداخلت اور طرح طرح کی باتیں جھیلیں۔ وہ دن میرے پورے خاندان کے لیے نہایت تکلیف دہ تھے۔ اس وقت میری شادی نہیں ہوئی تھی، اور میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ زندگی میں کچھ بھی ہو جائے، میں طلاق تک نہیں پہنچوں گی۔
لیکن بدقسمتی سے میں بالکل خوش نہیں ہوں۔ میرا شوہر بہت غصے والا ہے، اور اونچی آواز میں سب کے سامنے مجھے شرمندہ کرتا ہے۔ میں اس کی بلند آواز سے بہت ڈر جاتی ہوں اور اس کے ساتھ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، کیونکہ وہ موقع ڈھونڈ کر میرے گھر والوں کے سامنے مجھے نیچا دکھاتا ہے۔ حالانکہ میں اس کے ساتھ ہمیشہ اچھا ہی کرتی ہوں۔ میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر وہ بدلتا نہیں۔
اب میں اس کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرتی ہوں، دل ہی دل میں اسے حقیر سمجھنے لگی ہوں، اور وہ سکون مجھے اس کے ساتھ نہیں ملتا جو مجھے اپنے والد کے گھر میں محسوس ہوتا تھا۔ پہلے میں خود کو بہترین حالت میں سمجھتی تھی، اب لگتا ہے کہ میں اپنی سہیلیوں سے کم تر ہوں۔ میں اکثر گم سم رہتی ہوں، توجہ کمزور ہو گئی ہے، اداس رہتی ہوں، اور اس کیفیت سے نکل نہیں پا رہی، حالانکہ میں پابندی سے نماز پڑھتی ہوں، ورزش کرتی ہوں اور کام پر بھی جاتی ہوں۔
میں کیا کروں؟ اپنی زندگی کو کیسے قبول کروں؟ اور جب میری سہیلیاں اپنے شوہروں کی باتیں کرتی ہیں تو میں اداس کیوں نہ ہوں اور خود کو ان سے کمتر کیوں محسوس نہ کروں؟
جواب: گھر کی تعمیر میں صبر کی اہمیت
محترم سائلہ! آپ کا اپنی بہن کی طلاق کے تجربے سے متاثر ہونا، آپ کو اپنی شادی کے تجربے پر بہت جلد فیصلہ کرنے پر آمادہ کر رہا ہے۔ گھروں کی تعمیر کے اعتبار سے دو سال کوئی بڑی مدت نہیں ہوتی۔ گھر صبر سے بنتے ہیں اور صبر ہی پر قائم رہتے ہیں۔
غصہ خاص طور پر ان صفات میں سے ہے جو شریکِ حیات میں ابتدا ہی سے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ غصے والا شخص اکثر اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا، اور عموماً یہ مسئلہ منگنی کے زمانے میں ہی سامنے آ جاتا ہے۔ تو کیا ہم نے ازدواجی زندگی کے خواب کی خاطر اس بات کو نظر انداز کر دیا؟ اور جب حقیقی زندگی اپنے مسائل کے ساتھ سامنے آئی تو ہم نے برداشت اور تبدیلی پر صبر نہ کرنے کا راستہ چن لیا؟
مثبت سوچ کی طاقت
ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ مثبت معانی پر توجہ مثبت خیالات کو جنم دیتی ہے، اور منفی سوچ منفی نتائج پیدا کرتی ہے۔ آپ کو اپنی بہن کے تجربے کے دہرائے جانے کا خوف شاید لاشعوری طور پر اسی جیسے راستے پر لے جا رہا ہے اللہ آپ کو اس سے محفوظ رکھے، حالانکہ اصلاح کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
شادی کی ناکامی کے خوف پر حد سے زیادہ توجہ ایک منفی سوچ ہے، اور اس کا انجام بھی منفی ہی ہوتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم خوشگوار گھر کے عناصر اور اسباب پر توجہ دیں۔
غصے والے شوہر کو سمجھنے کی حکمت عملی
بہت سے غصے والے لوگ اصل میں دل کے اچھے ہوتے ہیں، مگر انہیں سمجھنے والا کوئی نہیں ملتا۔ کوشش کریں کہ اپنے شوہر کو مزید سمجھیں؛ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کون سی باتیں اسے غصہ دلاتی ہیں، اور اگر ممکن ہو تو ان سے پرہیز کریں۔
مثلاً بحث کرنا، یا ان موضوعات پر بات کرنا جو اسے ناگوار گزرتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ ابھی کام سے لوٹا ہو یہ سب باتیں اکثر مردوں کو شدید غصہ دلاتی ہیں۔
غصے کے وقت متوازن رویہ
اس کے غصے کے وقت اس کے بہت قریب بھی نہ رہیں اور نہ ہی مکمل طور پر دور ہو جائیں۔ حضرت سلیمانؑ کے ہدہد کی مثال اختیار کریں: “فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ” یعنی نہ اتنی قریب ہوں کہ اس کے غصے کا نشانہ بن جائیں، اور نہ اتنی دور کہ اسے آپ کی بے رخی محسوس ہو اور اس کا غصہ اور بڑھ جائے۔
موازنے سے بچیں
اپنی سہیلیوں سے اپنا موازنہ کرنا چھوڑ دیں۔ گھروں کے دروازے رازوں پر بند ہوتے ہیں، جنہیں صرف اللہ جانتا ہے۔ ہو سکتا ہے جو بظاہر خوش نظر آتا ہو، وہ آپ سے کہیں بڑی آزمائش میں ہو۔
شیطان ہمیں موازنہ اور حسرت کے ذریعے غمگین کرنا چاہتا ہے، اس کے جال میں نہ آئیں۔ اپنی زندگی کی اچھی باتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اپنے شوہر کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمائے۔
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
الفرقان: 74
“اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے۔”
عملی تجاویز برائے بہتری
ہر نماز میں دعا کو لازم پکڑیں، آپ حیرت انگیز اثرات دیکھیں گی۔ میں آپ کو یہ بھی مشورہ دوں گا کہ شخصیت کے تجزیے سے متعلق نظریات کا مطالعہ کریں، جیسے (شخصیت کی پہچان کا علم)، یا شخصیت کے تجزیے کے کورسز کریں۔
ان چیزوں کا مطالعہ اور اپنے شوہر کو ان سے متعارف کرانا شخصیت کی مضبوطی کو پہچاننے اور کمزوریوں پر کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ نفس کی تربیت اور اصلاح سے متعلق پڑھنا، سننا اور سیکھنا مت چھوڑیں۔
بالواسطہ تبدیلی کا طریقہ
اپنے شوہر کو براہِ راست نصیحت کیے بغیر، اس کے آس پاس ایسے ویڈیوز یا آڈیوز چلا دیں۔ اگر وہ ابتدا میں توجہ نہ دے تو دل گرفتہ نہ ہوں؛ ایک وقت آئے گا کہ وہ سنی ہوئی باتوں پر غور کرے گا اور متاثر ہوگا۔ سمجھ داری سے وہ مواد منتخب کریں جو اس کی ضرورت کو پورا کرے، جیسے غصے کے انتظام کا فن۔ ممکن ہے یہی اس کے ذاتی اصلاحی سفر کی ابتدا بن جائے۔
گھر کا ماحول بہتر بنائیں
اکثر غصے والے لوگ ماحول کے محرکات سے بھی متاثر ہوتے ہیں: جیسے گرمی، فرنیچر اور دیواروں کے رنگ، گھر کی ترتیب، بھوک اور پیاس۔ اس لیے کوشش کریں کہ گھر کو سکون اور آرام کی جگہ بنائیں۔
امامة بنت الحارث کی حکیمانہ نصیحت
اسی ضمن میں قدیم زمانے کی ایک دانا عورت، امامة بنت الحارث، نے شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو جو نصیحت کی، وہ قابلِ غور ہے۔ اے بیٹی! اگر نصیحت اچھے ادب کی بنا پر ترک کی جا سکتی تو تم اس کی سب سے زیادہ مستحق ہوتیں، مگر یہ غافل کے لیے یاد دہانی اور عقل مند کے لیے مدد ہے۔
اگر کوئی عورت اپنے والدین کی دولت اور ان کی اس پر شدید ضرورت کے سبب شوہر سے بےنیاز ہوسکتی، تو تم سب سے زیادہ بےنیاز ہوتیں، مگر عورتیں مردوں کے لیے اور مرد عورتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔
دس اہم نصائح
اے بیٹی! تم اس فضا سے نکل آئی ہو جہاں تم پلی بڑھیں، اور اس گھونسلے کو چھوڑ آئی ہو جس میں تم نے آنکھ کھولی تھی۔ اب تم ایسے گھر میں آئی ہو جسے تم جانتی نہ تھیں، اور ایسے ساتھی کے پاس جس سے مانوس نہ تھیں۔ اب وہ تم پر اختیار رکھنے والا نگہبان اور مالک ہے۔ تم اس کے لیے خادمہ بن جاؤ، وہ تمہارے لیے جلد ہی غلام بن جائے گا۔
اے بیٹی! مجھ سے دس باتیں یاد رکھو، یہ تمہارے لیے ذخیرہ اور یادگار ہوں گی:
- قناعت کے ساتھ رفاقت، اچھی سماعت اور اطاعت کے ساتھ نباہ
- اس کی نگاہ کا خیال رکھنا اور اس کے سونگھنے کی حس کا اہتمام کرنا تاکہ وہ تم میں کوئی ناپسندیدہ چیز نہ دیکھے اور تم سے خوشبو ہی پائے
- اس کے کھانے کے وقت کا خیال رکھنا اور اس کے سونے کے وقت اسے سکون دینا
- اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا، اس کی ذات، خادموں اور اہلِ خانہ کی دیکھ بھال کرنا
- اس کا راز فاش نہ کرنا اور اس کے حکم کی نافرمانی نہ کرنا
- اگر وہ غمگین ہو تو حد سے زیادہ خوشی نہ دکھانا، اور اگر وہ خوش ہو تو افسردگی ظاہر نہ کرنا
- جتنا زیادہ تم اس کی تعظیم کرو گی، وہ اتنا ہی تمہارا اکرام کرے گا
- جتنا زیادہ تم اس سے موافقت رکھو گی، اتنی ہی دیرپا رفاقت پاؤ گی
- اپنی رضا پر اس کی رضا کو، اور اپنی خواہش پر اس کی خواہش کو ترجیح دو
- اللہ تمہارے لیے بہتر ہی کا انتخاب فرمائے گا
شوہر کی ذمہ داری اور بیوی کا اجر
شاید تم کہو کہ یہ سب ذمہ داری اگر مجھ پر ہی ہے، تو گھر بنانے میں وہ کیا کرتا ہے؟ یہ یاد رکھو کہ تم اپنے شوہر کے ساتھ ہر قدم اگر ثواب اور اجر کی نیت سے اٹھاؤ گی تو اللہ اس کے ذریعے تمہارے دل کو سکون دے گا اور تمہارے حالات سنوار دے گا۔
خوشگوار گھر کی تعمیر میں تم جو بھی اینٹ رکھو گی، وہ اس کے ستون مضبوط کرے گی اور تمہیں اس کا اجر اور بھلائی ملے گی۔ نکاح عورت کے لیے ایک طرح کا جہاد ہے، اور اس کی کامیابی دونوں میاں بیوی کی ذمہ داری ہے، اگرچہ عورت کا کردار بہت نمایاں ہوتا ہے۔
اسی لیے ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ مرد اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، شہادت پاتے ہیں اور بڑا اجر پاتے ہیں، جب کہ ہم عورتیں ان کی خدمت کرتی ہیں، تو ہمارے لیے کیا اجر ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میری طرف سے عورتوں کو سلام پہنچا دو اور ان سے کہو کہ شوہر کی اطاعت اس سب کے برابر ہے، مگر تم میں سے بہت کم عورتیں ہیں جو ایسا کرتی ہیں۔” اور واقعی بہت کم ایسا کرتی ہیں۔ تم ان میں شامل ہو جاؤ، تمہیں اللہ کی بہت سی رضا نصیب ہو گی۔
شوہر پر بھی ذمہ داری ہے
محترم سائلہ! شاید یہ سوال اب بھی آپ کے دل میں ہو کہ “اپنی اصلاح اور اپنے گھر کی ذمہ داری اس پر کہاں ہے؟” ہم کہتے ہیں؛ چونکہ سوال آپ نے کیا ہے، اس لیے خطاب آپ سے ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ شوہر پر کوئی ذمہ داری نہیں۔
شریعت نے بارہا مردوں کو عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ وہ ان کے پاس امانت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو نازک شیشیوں سے تشبیہ دی اور فرمایا: “قواریر کے ساتھ نرمی برتو۔”
اچھے شوہر پر بھی بڑا کردار عائد ہوتا ہے۔ اس کی بلند آواز اور آپ کو آپ کے گھر والوں کے سامنے شرمندہ کرنا، یہ سب باتیں واقعی تکلیف دہ ہیں، اور آپ کو ان پر ناراض ہونے کا پورا حق ہے۔ اگر وہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر غور کرتا تو جان لیتا کہ وہ کتنا کچھ توڑ رہا ہے اور کتنا نقصان اٹھا رہا ہے۔
ہم یہی کہتے ہیں کہ آپ اپنی ذمہ داری ادا کریں اور اللہ سے اپنا حق مانگیں۔ اللہ آپ کے حالات درست کر دے گا اور آپ کے دل کو سکون عطا فرمائے گا۔ اور اللہ ہی نیتوں کو جاننے والا ہے، اور وہی سیدھی راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔
مترجم: سجاد الحق