جیب خرچ اور بچوں کی تربیت کا گہرا تعلق ہے۔ اکثر بچے چھ سال کی عمر کو پہنچنے اور اسکول جانے کے بعد جیب خرچ کے بارے میں خود فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خاندانی روایت ہے جو دنیا بھر میں دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ والدین عموماً اسے معمول کے طور پر دیتے ہیں، حالانکہ یہی جیب خرچ بچے کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسے خاندان میں اپنی اہمیت کا احساس دلاتا ہے، بلکہ اسے خود انحصاری اور والدین سے تدریجی طور پر آزاد ہونے کی پہلی عملی مشق بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
جیب خرچ دراصل ایک ایسی رقم ہوتی ہے جسے بچے والدین کی براہِ راست نگرانی کے بغیر خرچ کرتے ہیں۔ اس کے استعمال کے دائرے بچے کی عمر کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ چھوٹے بچے اس رقم سے مٹھائیاں اور کھلونے خریدتے ہیں، جب کہ بڑے بچے اسے کلبوں، کپڑوں یا اپنی دیگر ضروریات پر خرچ کرتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچے کی عزتِ نفس اور اس کی ضروریات کا احترام بچپن ہی سے کیا جانا چاہیے تاکہ وہ بڑا ہو کر اپنی ذات اور دوسروں کی ضروریات کا احترام کرنا سیکھ سکے۔
جیب خرچ اور بچوں کی تربیت میں اس کی اہمیت
جیب خرچ اگرچہ مختلف عمروں میں بچوں کے لیے پیسوں کا واحد ذریعہ ہوتا ہے جس سے وہ خاندان کی مداخلت کے بغیر اپنی پسند کی چیزیں خرید سکتے ہیں، مگر اس کی اصل اہمیت ان کی شخصیت سازی میں پوشیدہ ہے، جس کی چند جھلکیاں یہ ہیں:
یہ بچے کو ملکیت اور حقوق کا تصور سکھاتا ہے۔ جیب خرچ اس کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے، جسے خرچ کرنے کا اسے حق حاصل ہوتا ہے۔ اس سے وہ اپنی چیزوں اور دوسروں کی ملکیت، اور اپنے حقوق و فرائض میں فرق کرنا سیکھتا ہے۔
یہ بچت اور پس انداز کرنے کی عادت ڈالتا ہے۔ اگر بچہ کسی خاص کھلونے کا خواہش مند ہو اور ایک دن کا جیب خرچ اس کے لیے کافی نہ ہو، تو وہ کئی دن تک پیسے بچا کر مطلوبہ رقم جمع کرنا سیکھتا ہے۔
یہ اسے اپنی حدود اور صلاحیتوں کا شعور دیتا ہے۔ جیب خرچ چاہے جتنا بھی ہو، وہ تمام خواہشات پوری نہیں کر سکتا۔ اس حقیقت سے بچہ ترجیحات طے کرنا، ضروری اور غیر ضروری اخراجات میں فرق کرنا اور اپنے وسائل کو سمجھداری سے تقسیم کرنا سیکھتا ہے۔
یہ خودداری اور دوسروں سے بے نیازی پیدا کرتا ہے۔ جیب خرچ بچے میں عزتِ نفس، مضبوط کردار اور لوگوں پر انحصار نہ کرنے کی عادت ڈالتا ہے، کیونکہ محرومی اور احساسِ کمتری کے ساتھ یہ اوصاف پروان نہیں چڑھ سکتے۔
یہ بچے کی سماجی تربیت میں مددگار ہوتا ہے۔ جیب خرچ اسے دوسروں سے آزاد ہو کر اپنی ضروریات کو سمجھنے، اپنی زندگی کے مادی معاملات خود سنبھالنے اور مختلف سماجی حالات میں خود کو منظم کرنے کا موقع دیتا ہے۔
یہ قناعت اور رضامندی کا سبق سکھاتا ہے۔ بچپن میں بچے کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ والدین آمدنی کہاں سے لاتے ہیں اور گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں۔ لیکن جب اس کے پاس محدود جیب خرچ ہوتا ہے جسے ہر ضرورت کے لیے کافی بنانا پڑتا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ محدود آمدنی اور قناعت کے مفہوم کو سمجھنے لگتا ہے۔
یہ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ جیب خرچ بچے کو خاندان سے باہر لوگوں کے ساتھ لین دین کا موقع دیتا ہے، جو اس کی نفسیاتی اور سماجی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔
جیب خرچ بطور تربیتی ذریعہ
جیب خرچ کو محض خرچ کرنے کی آزادی نہیں بلکہ ایک تربیتی اور تعلیمی ذریعہ ہونا چاہیے، جو بچے کو ذمہ داری اٹھانے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت دے، نہ کہ وقتی خواہشات اور لذتوں کے پیچھے لگنے کا راستہ۔
یہ بچے اور پیسے کے درمیان تعلق کی بنیاد رکھتا ہے اور روزمرہ زندگی میں مالی معاملات کو سمجھنے کا تجربہ فراہم کرتا ہے۔ خرچ، بچت اور استعمال کے رویّوں کے ذریعے بچے میں تحفظ کا احساس، خود اعتمادی، پہل کرنے کی عادت اور خود انحصاری پروان چڑھتی ہے۔
لیکن آج یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہمارے گھروں میں جیب خرچ کے معاشی پہلو کو اس کی نفسیاتی اور سماجی قدر سے الگ کر کے تو نہیں دیکھا جا رہا؟ روزمرہ مشاہدات بتاتے ہیں کہ اکثر یہ مقصد سے ہٹ چکا ہے۔
ڈاکٹر اکرم زیدان کے مطابق بہت سے والدین بچوں کو جیب خرچ اس لیے دیتے ہیں کہ وہ ہم عمر بچوں کے سامنے کمتر محسوس نہ کریں، یا صرف معاشرتی رواج کی پیروی ہو جائے، اور کبھی کبھار محض دولت کی نمائش کے لیے۔
جب جیب خرچ اپنی تربیتی روح کھو کر سماجی حیثیت دکھانے کا ذریعہ بن جائے تو یہ بچے کے پیسے کے ساتھ تعلق کو بگاڑ دیتا ہے اور اس میں خودغرضی، لالچ اور دھوکے جیسے منفی رجحانات کو فروغ دیتا ہے۔
اسی لیے کتاب “کیسے باصلاحیت والدین عظیم بچے بناتے ہیں؟” کے مصنفین کہتے ہیں کہ والدین کو محتاط رہنا چاہیے اور پیسے کو حد سے زیادہ طاقتور نہ بننے دیں۔ اسے تربیتی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، مثلاً غلط رویّے پر روک لیا جائے اور اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی کے طور پر دیا جائے، مگر پیسے کو کردار سے اس طرح نہ جوڑا جائے کہ وہ بچے کی زندگی کا مرکز بن جائے۔
اسی طرح رچرڈ ٹیمپلر والدین کو خبردار کرتے ہیں کہ ہر موقع پر پیسے کو واحد محرک نہ بنائیں۔ اگر آپ صرف پیسے سے حوصلہ افزائی کریں گے تو بچوں کو یہی پیغام ملے گا کہ دنیا اسی طرح چلتی ہے، اور اس کا نقصان آخرکار آپ کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ہر تربیتی طریقہ ایک سوچ اور وژن پر قائم ہوتا ہے۔ چونکہ خاندان بچے کی نفسیاتی اور سماجی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے، اس لیے تربیت کے طریقوں میں اسلامی اقدار، شناخت اور اخلاقی بنیادوں کے ساتھ ساتھ مثبت اور مفید جدید خیالات کا توازن ضروری ہے۔
جیب خرچ کے منفی اثرات اور دینی اقدار کی اہمیت
جیب خرچ کے ممکنہ منفی اثرات کا یہ مطلب نہیں کہ اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ بچے کے رویّے کو مضبوط اقدار سے جوڑا جائے اور پیسے کے ساتھ اس کے تعلق کو اعتدال میں رکھا جائے۔
اس سلسلے میں سب سے اہم کام دینی اور اخلاقی اقدار کا فروغ ہے، تاکہ بچہ درست فیصلے کرنا سیکھے اور اس کے اندر خیر کے جذبات بیدار ہوں۔ اللہ کی نگرانی کا احساس اور یہ شعور کہ انسان محض امانت دار ہے اور مال اللہ کا ہے، بچے کو پیسے کے درست استعمال اور سماجی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے، حتیٰ کہ وہ اپنی بچت کا کچھ حصہ خیرات اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا سیکھتا ہے۔
یوں خرچ اور بچت محض مالی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی پہلو اختیار کر لیتے ہیں، جو بچے کو خودغرضی سے نکال کر دنیا کے محروم اور ضرورت مند لوگوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں، اور یہ شعور بچپن ہی سے اس کے جیب خرچ کی معمولی رقم سے شروع ہو سکتا ہے۔
یہ تربیتی طریقہ محنت اور حلال کمائی کی قدر کو بھی اجاگر کرتا ہے، جیسا کہ قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے بچے کو گھر کے چھوٹے موٹے کام سونپے جا سکتے ہیں، جن کے بدلے اسے جیب خرچ دیا جائے، تاکہ وہ خود کو خاندان کا فعال رکن سمجھے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ کام اور انعام میں توازن ہو اور پیسے کو ہمیشہ واحد محرک نہ بنایا جائے۔
آخر میں یہ بات اہم ہے کہ جیب خرچ کو اچھے رویّے کا انعام یا برے رویّے سے باز رکھنے کی رشوت نہ بنایا جائے، کیونکہ اس صورت میں پیسے اپنی اصل تربیتی قدر کھو دیتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ طریقہ ہمارے گھروں میں عام ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ مغربی ماہرینِ تربیت بھی اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ جیب خرچ اور بچوں کی تربیت میں توازن قائم رکھنا ہر والدین کی ذمہ داری ہے۔
مترجم: سجاد الحق