سسرال کا رویہ – ایک عورت اپنے سسرالیوں سے کیسے معاملہ کرے؟
میرا مسئلہ اپنے سسرال والوں کے ساتھ ہے جن کے ساتھ میں ایک ہی گھر میں رہتی ہوں۔ انہیں یہ اچھا نہیں لگتا جب میرے والدین میرے پاس آتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ میرے گھر والے ان کے ساتھ اچھے سے بات نہیں کرتے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ میری ساس کے ساتھ میرے تعلقات بہتر ہوگئے، اور میری ماں نے میرے پاس آنا شروع کیا، لیکن مسئلہ میرے شوہر کے بھائیوں کے ساتھ برقرار رہا۔ میرے گھر والے اس دوران میرے پاس آتے تھے جب میرے شوہر کے بھائیوں کے تعلقات اپنے ماں باپ کے ساتھ خراب تھے، لیکن جب ان کے تعلقات دوبارہ بہتر ہوگئے تو مسئلہ پھر لوٹ آیا اور میرے گھر والے دوبارہ میرے پاس نہیں آ سکے۔
ایک دن میری بہن مجھ سے چھوٹی سی ملاقات پر ملنے آئی، جونہی ہم دونوں ایک ساتھ گھر سے نکلنے والے تھے، تو میرے شوہر کے بھائیوں نے مجھے گالیاں دیں، بے عزتی کی، حتیٰ کہ مار پیٹ تک بات پہنچ گئی، بلکہ ہم میں سے بعض کے خلاف تھانے میں شکایت بھی درج کرا دی گئی۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب میرے شوہر بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے موجود نہیں تھے۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اپنے گھر والوں کا سامنا کیا اور پھر ان سے قطع تعلق کر لیا۔
اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے گھر والے طلاق کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ میرا اپنے شوہر کے ساتھ تعلق اچھا ہے، اللہ نے ہمیں ایک بیٹی عطا کی ہے اور وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میں شدید کشمکش میں ہوں، تو میں کیا کروں؟
جواب
ہمیں کوئی ایسی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی جو سسرال والوں کے اس طرزِ عمل کو بہو اور اس کے گھر والوں کے ساتھ جائز قرار دے۔ اس فانی دنیا میں کوئی بھی وجہ ایسی تصور نہیں کی جا سکتی جو کسی انسان کو دوسرے کے ساتھ اس طرح پیش آنے پر آمادہ کرے، چاہے ان کے درمیان کوئی تعلق ہی نہ ہو، کجا کہ ہم پڑوسی، رشتہ داری، سسرالی تعلق اور اسلامی بھائی چارے جیسے رشتوں کی بات کریں جو سب ایک ہی تعلق میں جمع ہو گئے ہوں!
ہر انسان کا دوسرے انسان پر محض انسان ہونے کے ناطے حق ہے، اور ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے حق ہے۔ اگر ہم حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو دیکھیں:
“مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں: جب اس سے ملے تو سلام کرے، جب وہ دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ مشورہ مانگے تو خیرخواہی کرے، جب وہ چھینکے اور الحمدللہ کہے تو جواب دے، جب بیمار ہو تو عیادت کرے، اور جب فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہوجائے”
تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کم سے کم حقوق میں بھی شدید کوتاہی پائی جاتی ہے، نہ صرف مسلمانوں کے درمیان بلکہ ان سماجی رشتوں میں بھی جو سب سے زیادہ قریبی ہوتے ہیں۔
پڑوسی کے حقوق
پڑوسی کے حقوق تو الگ ہیں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زور دیا۔ جاہلیت کے دور میں پڑوسی کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا تھا، جیسا کہ جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے سامنے بیان کیا: “ہم ایسے لوگ تھے جو پڑوسی کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔” پھر انسانیت کے معلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی عورت کا ذکر سنا جو عبادات میں کثرت کرتی تھی مگر اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی تھی، تو فرمایا: “وہ جہنم میں ہے۔” اور یہ بھی فرمایا: “جبرئیلؑ مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی وصیت کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔” اگر سوال کے دونوں فریق صرف اسلام اور پڑوس کے حقوق کا خیال رکھ لیں تو یہی کافی ہے، پھر قرابت، رشتہ داری اور سسرالی تعلقات کے حقوق کا کیا کہنا!
مصاہرت (سسرالی رشتہ) کی حقیقت
مصاہرت (سسرالی رشتہ) کی حقیقت پر غور کیا جائے تو تعجب ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی کے گھر والے آپس میں کیسی دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں۔ اس کے بجائے کہ ہر خاندان دوسرے کے شامل ہونے سے بڑا اور مضبوط ہو، ان کے درمیان جھگڑے، اختلافات، مقابلہ بازی اور موازنہ شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ہر خاندان دوسرے پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اور بجائے اس کے کہ ان کے درمیان محبت ہو اور گھر انہیں جوڑے، تھانے اور عدالتیں انہیں اکٹھا کر دیتی ہیں!
ہم جانتے ہیں کہ دل اللہ رحمٰن کی انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جیسے چاہے انہیں پھیر دیتا ہے، اس لیے اختلاف ایک فطری بات ہے۔ لیکن احترام ضروری اور اہم ہے، اور یہی کم از کم درجۂ ایمان ہے۔ اگر کوئی انسان کسی کو پسند نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس پر ہر طرح کی اذیت روا رکھے۔ اگر بھلائی نہ کر سکے تو کم از کم نقصان سے باز رہے۔
سائلہ کے لیے نصیحت
ہم سوال کرنے والی بہن کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر وہ کسی ایسے سبب سے واقف ہے جسے اس نے خط میں ذکر نہیں کیا، جو سسرال کے رویّے کے پیچھے ہے، تو اسے اصل سبب کے حل پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ وہ مسئلے کی ظاہری شکلوں میں نہ الجھی رہے۔ ممکن ہے وہ شوہر کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک میں مدد نہ دیتی ہو، یا کوئی پچھلا دکھ ہو جس کا بدلہ سسرال لے رہا ہو۔ اسباب کا حل اکثر بار بار آنے والے مسائل کے خاتمے کی ضمانت ہوتا ہے، خاص طور پر سسرال کے ساتھ مشترکہ رہائش کی صورت میں۔
ایسے اختلافات میں یہ بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرے:
“برائی کو بھلائی سے دفع کرو، پھر تم دیکھو گے کہ جس شخص اور تمہارے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہو جائے گا کہ جگری دوست بن جائے گا۔” [القرآن]
اچھی بلکہ بہترین معاملہ فہمی دشمنی کو محبت اور دوستی میں بدل سکتی ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اس شخص کے لیے جو اپنی خواہشِ نفس پر قابو پا لے اور ذاتی انتقام کو چھوڑ کر اللہ کے لیے اچھا اخلاق اختیار کرے۔
شوہر کا موقف
اگرچہ صورتِ حال مشکل ہے، لیکن شوہر کے رویّے میں نرمی کا پہلو واضح ہے۔ اس کا طرزِ عمل اس بہن کے ظلم کے احساس میں اضافے کا سبب نہیں بنا، کیونکہ بعض شوہر خود بخود اپنے گھر والوں کی طرف داری کرتے ہیں اور ابتدا ہی میں بیوی کو قصوروار سمجھ لیتے ہیں، جس سے معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ ہم شوہروں کو نصیحت کرتے ہیں کہ جہاں حق واضح ہو، وہ اسی کا ساتھ دیں، اور ایک فریق کی خاطر دوسرے کو نہ کھو دیں، کیونکہ دونوں کے ان پر حقوق ہیں۔ اسی لیے ہم شوہر کے اپنے گھر والوں سے مکمل قطع تعلق کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں، کیونکہ وہ اس کے رشتہ دار ہیں، اور قطعِ رحمی کرنے والے کو بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “قطعِ رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔” اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے والے سے تعلق جوڑتا ہے اور قطع کرنے والے سے تعلق توڑ دیتا ہے۔
اگر انسان کو اپنے ہی گھر والوں کی طرف سے تکلیف پہنچتی ہو تو بہتر یہ ہے کہ میل جول کم رکھا جائے، لیکن رشتہ بالکل ختم نہ کیا جائے۔ راستے میں ملاقات ہو تو سلام کرے، خوشی کے مواقع اور عیدوں پر مبارکباد دے، اور کبھی کبھار حال احوال پوچھ لے۔ یہ شدید اذیت اور ساتھ رہنے کی ناممکن صورتوں میں ہے۔ خاص طور پر جب سائلہ نے اپنی ساس اور سسر کی تعریف کی ہے، تو پھر ان سے تعلق توڑنے کی کیا ضرورت ہے، جب کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک فرض اور باعثِ برکت ہے۔
خلاصہ اور نصیحت
اللہ کا شکر ادا کرو کہ سسرال کے یہ مسائل تمہارے گھر کے اندر تک نہیں پہنچے اور تمہارے اور تمہارے شوہر کے درمیان دوری کا سبب نہیں بنے۔ جب تک تمہارے درمیان محبت قائم ہے، تمہیں گھر کے استحکام کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے اور اپنے شوہر کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ اپنے گھر والوں کو بھی یہ بات سمجھاؤ، ان کے دلوں کو اس اذیت پر تسلی دے کر جو انہیں پہنچی ہے۔ ساتھ ہی اپنے شوہر سے مشورے کے ساتھ کسی دوسرے گھر میں منتقل ہونے کے امکان پر غور کرو۔ شاید یہ ایک درمیانی حل ہو جو سب کو راضی کر دے اور تعلقات میں موجود اس واضح تناؤ کو کم کر دے، تاکہ تمہارے گھر والوں کے لیے تم سے ملنا آسان ہو جائے اور وہ میل جول کم ہو جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
مترجم: سجاد الحق