مغربی مرعوبیت اگر صرف ترغیب، ترقی کی تحریک اور جدید تہذیب و سائنس سے فائدہ اٹھانے تک محدود رہے تو یہ ایک صحت مند رجحان ہو سکتا ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس مرعوبیت کے منفی اثرات سامنے آتےہیں، مثلاً ثقافتی شناخت سے دستبرداری، اسلامی اقدار اور اخلاقیات سے دوری، جس کے نتیجے میں سماجی و ثقافتی مسائل جنم لیتے ہیں، بدعنوانی پھیلتی ہے، دینی اقدار کمزور پڑتی ہیں اور تہذیبی پسماندگی پیدا ہوتی ہے۔
یورپی تہذیب اور اس کی جدیدیت سے متاثر ہونے کے باوجود، آج مغربی ممالک ایک اخلاقی بحران سے دوچار ہیں، کیونکہ اقدار، اخلاقیات اور انسانی حقوق کے بارے میں ان کے دعوے عملی سطح پر نافذ ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ جامعات اور کانفرنس ہالوں میں کی جانے والی تقریریں اور لیکچرز زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ اخلاقی بحران دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا ہے اور ان لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو کبھی مغرب اور اس کی اقدار سے مرعوب تھے مگر اب حقیقت کو پہچان رہے ہیں۔ وہ اقدار جن پر مغرب طویل عرصے سے اپنی اجارہ داری جتاتا رہا ہے۔
شریعت کی میزان میں مغرب سے مرعوبیت
اسلامی شریعت کی نظر میں مغرب کی طاقت سے مرعوبیت کی جڑ انسانی تاریخ کے اس مزاج میں ہے کہ تہذیبی کشمکش میں عزت اور غلبہ کو عددی و مادی قوت سے جوڑا جاتا ہے؛ لوگ غالب طاقت کی طرف جھک جاتے ہیں اور کمزور کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں، چاہے اس کا مقام کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔
قرآنِ کریم نے اسی مفہوم کی طرف حضرت شعیبؑ کی قوم کے اس قول میں اشارہ کیا ہے:
یَا شُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا، ترجمہ: اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں۔ [سورة ہود: 91]
اور اہلِ مکہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کا ایک شبہ یہ تھا کہ ان کے خیال میں رسالت کسی طاقتور شخص پر نازل ہونی چاہیے تھی، چنانچہ انہوں نے کہا:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ، ترجمہ: یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا۔ [الزخرف: 31]
اسی حقیقت کو علمِ عمرانیات کے بانی علامہ عبد الرحمن ابن خلدون نے یوں بیان کیا:
“مغلوب ہمیشہ غالب کی نقالی کا شوقین ہوتا ہے— اس کے لباس، وضع قطع، مذہب، عادات اور تمام احوال میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس ہمیشہ غالب میں کمال دیکھتا ہے، یا تو تعظیم کے باعث، یا اس گمان سے کہ اس کی اطاعت محض قدرتی غلبے کے سبب نہیں بلکہ غالب کے کمال کی وجہ سے ہے۔ جب یہ گمان راسخ ہو جائے تو مغلوب غالب کے تمام طریقے اختیار کر لیتا ہے اور اس کی مشابہت اختیار کرتا ہے۔ اسی لیے تم دیکھتے ہو کہ مغلوب لباس، سواری، ہتھیار بلکہ اپنے تمام احوال میں غالب کی نقل کرتا ہے۔”
اسلام نے مغرب سے عقائد، افکار اور طرزِ عمل کے باب میں اندھی مرعوبیت سے خبردار کیا ہے، کیونکہ یہ پیروی ان کے حال پر راضی ہونے، امتِ مسلمہ کو حقیر جاننے اور اس سے نسبت پر شرمندگی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں اس سے تنبیہ فرمائی۔ حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے، بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں تو تم بھی داخل ہو جاؤ گے۔”
ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ یہود و نصاریٰ ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “پھر اور کون؟” [بخاری]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان “پھر اور کون؟” کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ نہیں تو اور کون ہو سکتا ہے، اور یہ بات ہمارے زمانے میں اور زیادہ واضح ہے، کیونکہ یہی لوگ ہر شر کے منصوبہ ساز اور ہر رزالت کے نمونہ بنے ہوئے ہیں۔
اگرچہ مسلمان کا عقیدہ سلامت ہو، لیکن اگر وہ امت کے دشمنوں کی ایسی مشابہت اختیار کرے جو امت کے لیے نفع بخش نہیں، تو وہ سخت وعید میں آ جاتا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہو گا۔” [ابو داؤد؛ البانی: حسن صحیح]
اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہود کی مخالفت کو ہر معاملے میں ملحوظ رکھتے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ یہود کے ہاں حیض کی حالت میں عورت کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ گھروں میں رہتے تھے۔ صحابہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ…، ترجمہ: آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجیئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ [البقرہ: 222]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “نکاح کے سوا سب کچھ کرو۔” یہود نے کہا: یہ شخص تو ہمارے کسی کام میں ہماری مخالفت چھوڑنا ہی نہیں چاہتا۔ اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشرؓ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہود ایسا کہتے ہیں، تو کیا ہم ان سے جماع نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار ابھر آئے، یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ دونوں نکل گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آیا، آپ نے انہیں بلوا کر پلایا، تو انہیں معلوم ہوا کہ آپ ان پر ناراض نہیں تھے۔ [مسلم]
اس سب کے باوجود اسلام ترقی سے کنارہ کشی یا طاقتور تہذیب سے فائدہ نہ اٹھانے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ شرط یہ ہے کہ یہ فائدہ اندھی مرعوبیت اور امت پر فخر کے خاتمے کا سبب نہ بنے۔ اسلامی تہذیب نے قرونِ وسطیٰ میں یورپ کو جہالت اور کلیسائی جبر سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، ریاضی، فلکیات، طب اور دیگر علوم میں مسلمانوں کی خدمات پر مغرب نے اپنی تہذیب کی بنیاد رکھی۔
مغرب سے مرعوبیت کے أسباب
- امتِ مسلمہ کی عمومی کمزوری
- یہ غلط تصور کہ اسلام محض پابندیوں کا مجموعہ ہے اور تہذیب سازی کے قابل نہیں
- عربی زبان (قرآن کی زبان) سے دوری اور غیر ملکی زبانوں سے حد سے زیادہ مرعوبیت
- مغرب اور اس کی تہذیب کی بے جا تعریف
- احساسِ کمتری، شخصیت کا تحلیل ہونا اور شناخت کا فقدان
- مغرب کی سائنسی و تکنیکی ترقی
- طاقتور میڈیا مشینری جو مثالی تصویر پیش کرتی ہے
- مغربی ثقافت کی کشش، تنوع اور جدیدیت
مغرب سے مرعوبیت کے مسئلے کا علاج
یورپی تہذیب کے اخلاقی دعووں کے زوال کے بعد اس مسئلے کا علاج نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔ بہت سے لوگ جو پہلے اس تہذیب سے متاثر تھے، اب اپنی غلطی تسلیم کر چکے ہیں۔ اس کے مؤثر علاج کے طریقے درج ذیل ہیں:
- قرآن کے ذریعے نسلوں کی فکری حفاظت اور ماضی کو حال سے جوڑنا
- امت کو انسانی قیادت کے تصور پر آمادہ کرنا
- امت کے مستقبل پر اعتماد کو مضبوط کرنا
- تعلیمی، ثقافتی اور ابلاغی اداروں کو مغربی غلبے سے بچانا
- مغرب کے تضادات کو بے نقاب کرنا
- اسلامی دنیا میں شناخت پر مبنی حقیقی نشاۃ ثانیہ
- عربی زبان کی سرپرستی اور عملی میدانوں میں اس کا فروغ
- مقامی مصنوعات کا معیار بہتر بنا کر انہیں مسابقت کے قابل بنانا
- مغرب سے صرف مثبت امور میں استفادہ کر کے انہیں اپنی تہذیب کے مطابق ڈھالنا
فکری رجوع
بہت سے مفکرین نے مغرب سے فکری مرعوبیت ترک کر کے اسلام کی طرف رجوع کیا۔ ان میں ڈاکٹر منصور فہمی باشا شامل ہیں، جنہوں نے ابتدا میں اسلام اور عورت کے بارے میں منفی خیالات پیش کیے، مگر بعد میں اسلامی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا اور قرآن کے ایک عظیم معجم کے مقدمے کے مصنف بنے۔
اسی طرح ڈاکٹر محمد حسین ہیکل باشا، جو ابتدا میں سیکولر تھے، اسلام اور اس کی تہذیب کی طرف لوٹ آئے۔ شیخ علی عبد الرازق نے بھی اپنی مشہور کتاب “اسلام اور اصولِ حکومت” میں پیش کیے گئے نظریات سے بعد ازاں رجوع کیا اور اعتراف کیا کہ اسلام کو محض روحانی مذہب کہنا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔
نتیجہ
اسلام تہذیب اور تمدن کا دشمن نہیں، بلکہ طاقت کے اسباب کو اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے، جہاں بھی ملے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ مسلمان مغرب یا مشرق کی ثقافت اور علوم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اس تہذیب کا اسیر نہ بنے اور اپنی فکری خود مختاری برقرار رکھے۔ جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمان فارس و روم کی تہذیب سے مستفید ہوئے، مگر اپنے عقیدے اور اخلاق پر آنچ نہ آنے دی۔ یہی راستہ آج بھی مطلوب ہے۔
مترجم: سجاد الحق