سورہ نور میں اسلامی معاشرے کے متعدد مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ ان میں سب سے اہم زنا، لواطت، گواہی، لباس، گھر، نکاح، طلاق اور لعان کے احکامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس سورت میں اللہ پر ایمان، حجاب، لوگوں کی پردہ پوشی، درگزر اور معافی جیسے اخلاقِ حسنہ اور فضیلت کے حامل موضوعات پر مشتمل آیات بھی ہیں۔ ان تمام تعلیمات سے نسلِ نو کی تربیت میں استفادہ کیا جاسکتا ہے اور ان کے اندر اعلیٰ اخلاقی و تربیتی اقدار پروان چڑھائی جاسکتی ہیں۔
یہ سورت مدنی ہے اور بار بار پڑھی جانے والی ہے۔ اس میں 64 آیات ہیں اور یہ قرآن مجید کی اکتالیسویں سورت ہے۔ یہ سورۃ الزمر کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی وجۂ تسمیہ اس کی آیت نمبر 35 میں وارد لفظِ “نور” ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: “اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے” [النور:35]۔
توجہ کے ساتھ اس کی تلاوت و تفہیم اور معتبر تفاسیر سے اس کا مطالعہ، اس سورت میں موجود تربیتی اسباق اور اخلاقی اقدار کو سمجھنے میں بہت معاون ہے۔
سورت النور کے مقاصدِ نزول
سورۃ النور ان عظیم مقاصد پر مشتمل ہے جو اسلامی شریعت کے لیے حفاظتی حصار کی حیثیت رکھتے ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں:
پورے قرآن کی طرح یہ سورت بھی اللہ کی طرف سے ہے جو اس بات کو سب سے بہتر جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا مفید ہے اور کیا مضر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ اللہ نے جو کچھ ان کے لیے چُنا ہے، اسے تھامیں اور اس پر عمل پیرا ہوں، کیونکہ اسی میں ان کی دنیوی کامیابی اور اخروی فلاح کا راز مضمر ہے۔
زنا اور قذف کی حرمت: اس میں ضروری ہے کہ ان دونوں جرائم کی حد بھی واضح کی جائے کیوں کہ ان کے معاشرے اور خاندان کی حفاظت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
حضرت عائشہؓ کی برأت: حضرت عائشہؓ کو ان کی طرف منسوب جھوٹ اور بہتان سے بری قرار دیا گیا۔ ان کے پاکیزہ اور عفت مآب ہونے کی گواہی دی گئی اور اس میں کسی بہتان تراش اور بدکردار کے سوا کوئی شک نہیں کرسکتا۔ اس ضمن میں اس سورت میں یہ اہم اصول بھی ذکر کیا گیا ہے کہ، مسلمان کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا چاہیے الا یہ کہ کبھی یقین کے ساتھ اس کا کوئی معاملہ ثابت ہوجائے۔
معاشرے میں فحاشی پھیلانے کی ممانعت: معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کا پھیلنا اس کے زوال اور انحطاط کے اہم عوامل میں سے ہے، اس میں اس کی بربادی اور تباہی ہے۔ جب کہ خیر اور نیکی کا فروغ معاشرے کی تعمیر اور استحکام کا باعث بنتا ہے۔
منافقوں سے اعراض: منافقین ہر دور میں ہر جگہ ہی موجود ہوتے ہیں، یہ اعلانیہ کفار سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہیں، ان کا کفر بھی حد سے بڑھا ہوا اور ان پر عذاب بھی سخت ہے۔ قرآن مجید میں کئی آیات میں ان سے خبردار کیا گیا ہے کہ یہ امت کو پسماندہ، سست اور کمزور بنا دیتے ہیں اور ان کے عقائد میں متزلزل کردیتے ہیں۔
غلبے کا وعدہ: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مخلص ایمان والوں اور شریعت پر عمل پیرا ہونے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین میں خلافت عطا کرے گا، دین کو غلبہ دے گا اور ان کی کافروں کے خلاف مدد فرمائے گا۔
آدابِ میزبانی: اس سورہ میں احباب و اقارب کے ضمن میں مہمان نوازی کے اصول ذکر کیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ بحیثیت ایک خاندان کے، امت مسلمہ کو اپنے پیغمبر اور مربی یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کن آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔
سدِ ذرائع: اس سورت میں زور دیا گیا ہے کہ نفس کو ان حالات سے بچایا جائے جو اسے فتنوں اور گمراہی کا شکار کردیں۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اجازت مانگنے، نگاہیں نیچی کرنے کا حکم دے کر نامحرموں کے سامنے زینت کے اظہار سے منع کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ غربت کے باوجود نکاح کریں کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے مالا مال کردے گا۔
شیطان کی پیروی سے اجتناب: اس سورت میں خبردار کیا گیا ہے کہ شیطان کی پیروی کا برا انجام ہے، وہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا بلکہ اسے ایک برائی سے دوسری برائی اور ایک گناہ سے دوسرے گناہ کی جانب لے جاتا ہے، انجامِ کار انسان کو جہنم میں پہنچاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ: “میں تو تجھ سے بری الذمہ ہوں، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔” [الحشر : 16]
اجازت کی تربیت: میاں بیوی کے کمرے میں جایا جائے جیسے بچے فجر، ظہر اور عشاء کے بعد والدین کے کمرے میں جائیں تو انہیں چاہیے کہ اجازت مانگا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت کے حق کو صرف گھروں میں داخلے کی اجازت تک محدود نہیں کیا بلکہ اس کا دائرہ وسیع کرکے کسی کو بھی دوسرے کے گھر میں جھانکنے اور دیکھنے سے بھی منع فرمادیا کیوں کہ لوگ عموماً گھروں میں اس حالت میں ہوتے ہیں جیسے وہ باہر نہیں ہوتے۔
معاشرے کی اصلاح عبادت گاہوں سے ہوتی ہے: عبادات میں سب سے اہم نماز ہے جو دلوں کی پاکیزگی کا باعث ہے اور صالح معاشرہ پاکیزہ نفوس پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مساجد کی اہمیت کا تذکرہ کیا ہے اور ان لوگوں کے مرتبے کو بیان کیا ہے جو مساجد کی تعمیر کرتے ہیں، ان کو آباد کرتے ہیں اور جن کے دل مساجد میں لگے رہتے ہیں۔
اللہ ہی کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا: اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو پیدا فرمایا ہے، دنیا میں ہر چیز اس کے حکم کے تابع ہے اور تمام کام اس کی مشیت کے مطابق حکمت کے ساتھ اور منظم انداز میں ترتیب دیے جاتے ہیں۔
اللہ کے پاس ہر چیز کا علم ہے: سورت کا اختتام اس اعلان سے ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہے اور وہ لوگوں کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
نسلِ نو کے لیے سورۂ نور میں تربیتی اصول
سورۂ نور میں متعدد تربیتی اصول موجود ہیں جن کے ذریعے مسلمانوں کے معاملات کو درست کرنے، اسے نیک کاموں کی طرف راغب کرنے اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے والے اعمال سے بچانے میں معاون ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
تحقیق کا رویہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔” [سورۃ النور: 4]
مسلمانوں کو یہ زیبا نہیں کہ وہ پاکدامن، بے خبر مومن عورتوں پر الزام لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہمارے لیے ام ایوبؓ اور ان کے شوہر کا عمل ہی مثالی نمونہ ہے، جب انہوں نے افک کا واقعہ سنا کہ حضرت عائشہؓ اور ایسے شخص کو بدنام کیا گیا ہے جس کی پاکیزگی اور فضیلت کی گواہی خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، تو اپنے شوہر سے کہنے لگیں: تم نے عائشہؓ کے بارے میں باتیں سنی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں اور یہ سب جھوٹ ہے۔ کیا تم ایسا کچھ کرسکتی ہو؟ ام ایوبؓ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں… ان کے شوہر کہنے لگے: عائشہؓ تم سے اور صفوانؓ مجھ سے بہت بہتر ہیں!
فساد کا موجب نہ ہونے پر تربیت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے۔ جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا، اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے عذابِ عظیم ہے۔” [سورۃ النور: 11]
سچے مسلمان کا یہ کام نہیں کہ وہ بے فائدہ گپوں میں مشغول ہو یا اس کی زبان سے مسلمانوں کو ایذا پہنچے یا وہ انجانے پن میں کسی کو نقصان پہنچائے۔
شیطان کی پیروی سے اجتناب کی تلقین
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہو سکتا۔ مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے، اور اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے۔” [سورۃ النور: 21]
معافی، درگزر اور فیاضی کی تربیت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: “تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور صاحبِ مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انھیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور و رحیم ہے۔” [سورۃ النور: 22]
اس آیت کے شانِ نزول میں علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ حضرت مسطح بن اثاثہؓ کو ان کی مسکینی اور قرابت داری کی وجہ سے خرچہ دیا کرتے تھے، جب افک کا واقعہ پیش آیا اور مسطحؓ بھی اس میں شامل ہوگئے تو حضرت ابوبکرؓ نے قسم اٹھائی کہ آئندہ نہ خرچہ دوں گا اور نہ ہی کوئی اور فایدہ پہنچاؤں گا۔
گھروں میں داخلے کے وقت اجازت کی تاکید
ارشاد باری تعالیٰ ہے: “اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھر میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔” [سورۃ النور: 27]
یہ اسلامی آداب میں اہم ادب ہے اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں داخلے کے وقت اجازت لیں اور سلام کیا کریں۔ بغیر اجازت داخلے سے پوشیدہ چیزوں پر نگاہ پڑسکتی ہے اور شہوات کو بھڑکانے کے محرکات پیدا ہوسکتے ہیں۔
غضِ بصر اور شرم گاہ کی حفاظت کا اہتمام
ارشادِ ربانی ہے: “اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے۔” [سورۃ النور: 30]
یہاں اللہ تعالیٰ نے نگاہیں نیچی کرنے اور شرمگاہ کی حفاظت میں ربط بیان کیا ہے کیوں کہ بھٹکتی نگاہیں پھر شرمگاہ کو بھی غیر محفوظ کردیں گی اور انجام کار انسان بدکاری کا مرتکب ہو جائے گا۔
ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: “عورت کے لیے پاکیزگی اور حفاظت کا اہتمام مرد سے مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے پردے کا حکم ہے، اظہارِ زینت کی ممانعت ہے اور تبرج سے روکا گیا ہے اور ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ باحجاب رہیں اور گھروں میں قرار پکڑیں۔”
پاکیزگی کی تربیت اور نکاح کی ترغیب
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔” [سورۃ النور: 32]
اس آیت میں اس مسئلہ کی بابت واضح، مثبت اور مبنی بر حقائق حل تجویز کیا گیا ہے کہ نکاح کو آسان کیا جائے کیوں کہ وہی فطری جنسی میلانات اور خواہشات کی تکمیل کا واحد شرعی طریقہ ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشی حالات بہتر بنائے جائیں تاکہ ہر فرد نکاح کے قابل ہوسکے۔
گھروں میں جانے کے اوقات
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اے لوگو جو ایمان لائے ہو، لازم ہے کہ تمہارے مملوک اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں: صبح کی نماز سے پہلے، اور دوپہر کو جب کہ تم کپڑے اُتار کر رکھ دیتے ہو، اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین وقت تمہارے لیے پردے کے وقت ہیں۔ اِن کے بعد وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر، تمہیں ایک دُوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے۔” [سورۃ النور: 58]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی تاکید
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “مسلمانو، اپنے درمیان رسُولؐ کے بُلانے کو آپس میں ایک دُوسرے کا سا بُلانا نہ سمجھ بیٹھو۔ اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دُوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چُپکے سے سَٹک جاتے ہیں۔ رسُولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آجائے۔” [سورۃ النور: 63]
یہ آیت اس بات کی واضح الفاظ میں تاکید کرتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حد درجہ احترام کا رویہ اختیار کیا جائے کیوں کہ آپ صلی اللہ عیلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، لوگوں کو خیر کی طرف بلانے والے اور انہیں گمراہی کے گڑھوں سے نکال لانے والے ہیں۔
یوں تو سورۂ نور میں بہت سے موضوعات ہیں، لیکن سب کا محور خاندانی نظام، عورتوں سے متعلق اجتماعی آداب، مرد و عورت کے مابین تعلق سے متعلق اخلاقی اقدار اور رکاوٹیں اور تنبیہات ہیں، اس طرح یہ سورت تربیت کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے جس سے انسان مرحلہ در مرحلہ آگے بڑھ سکے۔
مترجم: زعیم الرحمان