امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ ویسے تو ایک فقیہ اور عظیم عالم کے طور پر جانے جاتے ہیں البتہ ان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے انھوں نے پورا منہجِ تربیت و فکر وضع کیا بلکہ اپنے وسیع علم اور متعدد علوم میں گہرے تبحر کی بنا پر وہ اپنے عہد کے تلامذہ کی توجہ کا مرکز بن گئے، چنانچہ شاگرد ان کے گرد حلقہ زن ہو جاتے اور اپنے استاد کی مجلس کے مشتاق رہتے، اور بلا عذر اس حلقے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوتے۔
خالد سلیمان الشریدہ کی تحقیق فکر تربوی فی یومیات ابی حنیفہ (امام ابو حنیفہ کی زندگی میں تربیتی فکر) میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ جلیل القدر عالم ایک ایسی عربی اسلامی تہذیب کا ہم بطل تھا جو اپنے عروج پر تھی، خصوصاً پہلی صدی ہجری کے دوسرے نصف اور دوسری صدی ہجری کے پہلے نصف میں۔ اس دور میں علوم کی کثرت ہو گئی تھی اور تلامذہ کے پاس مختلف علمی مصادر سے ان کے حصول کے لیے وقت تنگ پڑ گیا تھا، چنانچہ امام ابو حنیفہؒ نے یہ محسوس کیا کہ علم میں تخصص اور اس کے ذریعے اللہ کی رضا کا حصول ایک ایسے مدرسے کا منہج ہے جس کے وہ خود بانی تھے، پھر انہوں نے یہ بھی جان لیا کہ اس نوع کے تحصیلِ علم کے لیے ایسے طالب علم کی ضرورت ہے جو دنیاوی مشاغل سے یکسو اور فارغ ہو۔
امام ابو حنیفہؒ کون تھے؟
ابو حنیفہؒ نعمان بن ثابت تھے، جو تیم اللہ بن ثعلبہ کے غلام یا خادم تھے۔ ان کی پیدائش 80 ہجری، 699 عیسوی میں ہوئی، اور کہا جاتا ہے کہ وہ فارس کے ان لوگوں کی اولاد میں سے تھے جن پر غلامی طاری نہیں ہوئی۔ ان کے والد ثابت، حضرت علیؓ بن ابی طالب کے پاس آئے اور فارس کے تہوار نَیروز کے دن انہیں بطور تحفہ فالودہ پیش کیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارا تو ہر دن ہی تہوار ہے۔
نعمان بن ثابت نے حجاج بن یوسف ثقفی کے عہد میں شہر کوفہ میں نشوونما پائی، اور فقہ میں اس قدر گہرائی حاصل کی کہ ان کی طرف ایک مستقل فقہی مذہب منسوب ہوا جو مذہبِ حنفی کے نام سے معروف ہے۔ اپنی علمی زندگی کے ساتھ ساتھ وہ تاجر بھی تھے اور ریشمی کپڑے کی تجارت کرتے تھے، اور کوفہ اس صنعت و تجارت کا ایک اہم مرکز تھا، جس نے ان کی معیشت اور زندگی کے سفر میں انہیں ایک مضبوط مالی سہارا فراہم کیا۔
اکثر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ابو حنیفہؒ کی وفات رجب 150 ہجری، 770 عیسوی میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر ستر برس تھی۔ انہیں مقابرِ خیزران میں دفن کیا گیا، جہاں خلیفہ مہدی کی قبریں مشرقی جانب واقع تھیں۔ ان کی وفات کے سبب کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے کہ منصبِ قاضی القضاۃ قبول کرنے سے انکار پر انہیں کچھ دن قید میں رکھا گیا، کوڑے لگائے گئے، پھر رہا کیا گیا اور اسی کے بعد ان کا انتقال ہوا، اگرچہ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ان کی وفات زہر کے باعث ہوئی۔
امام ابو حنیفہؒ کی رہنمائی میں تربیتی مدرسہ:
ابو حنیفہؒ نے علم کے حصول کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا سے جوڑ دیا تھا، اور اپنے دور میں رائج مختلف علوم کے ساتھ اس ربط نے بالآخر انہیں فقہ کے میدان میں لا کھڑا کیا، کیونکہ ان کے نزدیک اس علم کی صلاحیت اور افادیت مسلّم تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے: دین میں تفقہ علم میں تفقہ سے افضل ہے، کیونکہ علم کی بنیاد دین پر ہے؛ دین توحید ہے اور علم شریعتیں ہیں، اور سب سے افضل فقہ یہ ہے کہ آدمی ایمان سیکھے۔
ان کے نزدیک ایمان زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کا نام ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر علم قائم ہوتا ہے۔ اسی جامعیتِ علم کے سبب ابو حنیفہؒ کا خوفِ خدا بھی نہایت وسیع اور گہرا تھا۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: “مجھے تمہارے اس کوفی، نعمان بن ثابت کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ خوف رکھنے والے ہیں”۔
یہ بھی روایت ہے کہ ابو حنیفہؒ نے علم کی طرف دعوت دی، کیونکہ اس میں امت کی اصلاح اور امورِ زندگی کی درستی ہے۔ اسی لیے وہ ابراہیم بن ادہم سے کہتے تھے: “اے ابراہیم! تمہیں عبادت میں ایک صالح حصہ عطا ہوا ہے، پس علم کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بناؤ، کیونکہ وہ عبادت کا سر ہے اور اسی سے معاملات درست ہوتے ہیں”۔
اسی مثالی تربیتی و تعلیمی منہج کے تحت ان کا یہ خیال تھا کہ وہ ایک ایسا مسلمان عالم تیار کر سکتے ہیں جو دوسروں کے لیے نمونہ ہو، اور مسلمان عالم کا اولین مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ اسی لیے ایسے عالم پر لازم ہے کہ وہ جو کچھ علم حاصل کر سکے، اس پر ہمیشہ حمد و شکر ادا کرتا رہے۔ وہ کہتے تھے: میں نے علم حمد و شکر کے ذریعے حاصل کیا، جب بھی میں نے علوم میں سے کسی بات کو سمجھا اور کسی فقہ و حکمت کی توفیق پائی تو میں نے الحمد للہ کہا، جس سے میرا علم بڑھتا چلا گیا۔
امام ابو حنیفہؒ نے یہ بات بھی واضح کی کہ عورت کی تعلیم بھی انتہائی ضروری ہے، تاہم وہ عورت کی تعلیم مرد کے ہاتھوں ہونا پسند نہیں کرتے تھے، کیونکہ اس سے دین پر منفی اثرات کا اندیشہ ہے۔ ان کے نزدیک عورت کو اپنی ہی جنس کی عورت تعلیم دے، اسی حوالے سے وہ کہتے ہیں:” ہمارے پاس جہم بن صفوان کی بیوی آئی، اور اس نے ہماری عورتوں کی تربیت کی”۔
حنفی مذہب کے امام اپنے عہد کے تلامذہ کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے، یہاں تک کہ طلباء ان کے سامنے بیٹھنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے، اور سب اپنے استاد کی علمی مجلس کے مشتاق رہتے، اسے صرف مجبوری میں ہی چھوڑتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ امام ابو یوسفؒ غریب تھے اور امام ابو حنیفہؒ کی درسگاہ میں باقاعدگی سے آتے اور ان سے علم حاصل کرنے کی حرص رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے والد، اور بعض روایات کے مطابق والدہ، آئیں اور انہیں زبردستی درس سے اٹھا لے گئیں، جس کے بعد ابو یوسفؒ اپنے استاد کی مجلس سے غیر حاضر ہو گئے۔ ابو حنیفہؒ نے مجلس میں انہیں نہ پایا تو ان کی غیر حاضری کا سبب معلوم کیا، اور پھر انہیں اس حد تک مالی تعاون فراہم کیا جس سے وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں، اور انہیں مکمل یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ ابو یوسفؒ خود کہتے ہیں: میں انتیس برس تک ابو حنیفہؒ کے پاس آتا جاتا رہا، اور اس مدت میں مجھ سے فجر کی نماز کبھی فوت نہ ہوئی، اور میں نے ستائیس برس تک ابو حنیفہؒ کی صحبت اختیار کی، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں بھی ان سے جدا نہ ہوا، سوائے بیماری کے۔ یہاں تک کہ خود ابو حنیفہؒ نے قضاء کا منصب قبول کرنے سے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ وہ علم کے لیے پوری طرح فارغ رہنا چاہتے تھے۔
محمد بن حسن الشیبانی، جن کا انتقال 189ھ، 804ء میں ہوا، ابو حنیفہؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی کمائی کے مختلف ذرائع ہیں، جیسے ملازمت، حکومت، تجارت، زراعت اور صنعت، پھر وہ ان تمام اقسام میں ان کے درجے اور قدر کے اعتبار سے فرق بیان کرتے ہیں۔ امامؒ کے نزدیک علم اسی کو دیا جائے جو اس کا حریص ہو، اور اسے رغبت کے ساتھ حاصل کرے، نہ کہ جبر اور اکراہ کے ذریعے۔ یہی کیفیت انہوں نے خود اپنے اندر پائی تھی۔ شعبی نے بھی ان میں یہ علمی شغف اور فکری بیداری دیکھی، تو انہیں علما کی مجالست کی دعوت دی۔ اس ضمن میں امام ابو حنیفہؒ کہتے ہیں: “اپنے علم کی بات اس سے نہ کرو جو اس کا خواہش مند نہ ہو، ورنہ تم خود بھی اذیت میں مبتلا ہوگے اور تمہارے پاس بیٹھنے والا بھی، اور جو تمہاری بات کاٹ دے اس کے سامنے دوبارہ بات نہ دہرانا، کیونکہ وہ ادب سے کم محبت رکھنے والا ہوتا ہے”۔
تعظیمِ علماء اور اخلاص:
اگر طلب میں سے بعض لوگ ایک دوسرے کو، یا اپنے استاد کو، علمی لغزشوں کی طرف گھسیٹنے کی کوشش کریں، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رویہ ناپسندیدہ ہے، حتیٰ کہ ہمارے عہد کے عرف میں بھی اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے (حالاں کہ اب استاد کا وہ ادب نہیں)، اور اس سے کوئی حقیقی علمی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا، بلکہ نفس کی لذت اور شیطانی تکبر ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طرزِ عمل اولین علما کی علمی مجالس میں رائج نہ تھا۔ وہاں روایت پر مبنی مبحث ہی اختیار کیا جاتا تھا۔ اسی تناظر میں ابو حنیفہ نعمانؒ نے اس مسئلے پر غور کیا اور علم کو مدوّن کرنے، اسے باقاعدہ ابواب میں تقسیم کرنے اور منظم کتابوں کی صورت ترتیب دینے کی دعوت دی، کیونکہ انہیں علم کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ اسی فکر کی عملی تصویر ان کے شاگرد ابو یوسفؒ میں نظر آتی ہے، جو علم کے حصول اور اس میں اخلاص کے بدلے بھوکا رہنا بھی گوارا کر لیتے تھے۔ امام ابو حنیفہ نعمانؒ کا کہنا تھا کہ علما کے حالات و واقعات اور ان کی صحبت مجھے فقہ کے بہت سے مباحث سے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ یہی لوگوں کے آداب اور اخلاق کی تربیت کرتی ہے۔
نعمانؒ اپنے ساتھیوں کو اُن مجالس سے روکا کرتے تھے جن میں علم کم اور فائدہ نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ ان کے اصحاب، جن میں ان کے بیٹے حماد بھی شامل تھے، علمِ کلام میں مناظرہ کر رہے تھے۔ انہوں نے انہیں اس طرز سے منع کیا۔ اصحاب نے عرض کیا کہ ہم نے آپ کو بھی اس میں مناظرہ کرتے دیکھا ہے، پھر ہمیں کیوں روکتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم مناظرہ اس طرح کرتے تھے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (یعنی نہایت سنجیدگی سے)، اس خوف سے کہ کہیں ہمارا ساتھی لغزش میں نہ پڑ جائے (یعنی مناظرہ کی وجہ اپنے مسلمان بھائی کی اصلاح ہوتی ہے)، اور تم مناظرہ اس نیت سے کرتے ہو کہ تمہارا ساتھی پھسل جائے۔ اور جو اپنے ساتھی کی لغزش چاہے، وہ درحقیقت اس کے کفر کا خواہاں ہوتا ہے۔
جہاں تک ابو حنیفہؒ کی جانب سے علما کے احترام و اکرام کی تربیت کا تعلق ہے، تو انہوں نے اس کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ ان کے بیٹے حماد ایک شیخ کے پاس پڑھتے تھے، جب انہوں نے سورۂ فاتحہ میں مہارت حاصل کر لی تو ابو حنیفہؒ نے استاد کو پانچ سو درہم عطا کیے، اور بعض روایات میں ہے کہ ایک ہزار درہم دیے۔ جب وہ خود نیا لباس پہنتے تو علما شیوخ کو بھی ویسا ہی لباس پہناتے۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ہم نشین کو بوسیدہ اور پرانے کپڑوں میں دیکھا، تو لوگوں کے رخصت ہونے کے بعد اسے بٹھایا اور ایک ہزار درہم دیے، اور فرمایا کہ اپنی حالت بدل لو، تاکہ تمہارا دوست تمہاری وجہ سے غمگین نہ ہو۔
شاگردوں سے آپ کا تعلق:
امام ابو حنیفہؒ اپنے شاگردوں سے کہتے ہیں کہ تم پر لازم ہے کہ نرمی اور مروّت کو اختیار کرو، صبر اور برداشت سے کام لو، خوش اخلاقی اور فراخ دلی اپناؤ، اپنے زیرِ نگرانی لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہو، ان کی تربیت اور اصلاح میں پیش قدمی کرو، اور اس سب میں نرمی کو اپنا شعار بناؤ۔ تمہارے بھائیوں میں سے جو بیمار ہو، خود جا کر اس کی عیادت کرو، سلام کو عام کرو خواہ وہ لوگ ہی کیوں نہ ہوں جو اخلاقی اعتبار سے پست ہوں، اور جب کبھی تمہیں کسی کے ساتھ مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہو، مسائل زیرِ بحث آئیں اور لوگ ان پر ایسے انداز سے گفتگو کریں جو تمہاری رائے کے خلاف ہو، تو اپنی مخالفت ظاہر نہ کرو، بلکہ ان سے انس پیدا کرو، کبھی خوش طبعی کرو اور ان سے گفتگو جاری رکھو، کیونکہ یہی طرزِ عمل محبت کو جنم دیتا ہے اور علم پر ثابت قدمی کو دوام بخشتا ہے۔ یہی افکار ابو حنیفہؒ کی اس وصیت میں بھی بار بار نمایاں ہوتے ہیں جو وہ اپنے شاگرد ابو یوسفؒ کو آدابِ مجلس اور نرم برتاؤ کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
امام ابو حنیفہ نعمانؒ کو یہ عادت تھی کہ وہ اپنے شاگردوں کی عزت و تکریم کرتے، اور ہر جمعہ اپنے ساتھیوں کو اپنے گھر مدعو کرتے۔ خود ان کے لیے کھانا پکاتے، شاگرد تو کھاتے مگر وہ خود ان کے ساتھ کھانا نہ کھاتے تاکہ شاگرد ان سے جھجک محسوس نہ کریں، البتہ ان کے ساتھ مشروب پیتے اور کہتے کہ میں صرف کھانے میں تم سے الگ رہتا ہوں۔ روایات میں ان کے غریب شاگرد ابو یوسفؒ کا واقعہ بھی ملتا ہے، جسے علم کی مشغولیت نے کسبِ معاش سے روک رکھا تھا۔ ابو حنیفہؒ نے اس سے فرمایا کہ اے یعقوب، تمہارے اہلِ خانہ ہیں اور تم اس حال میں ہو، تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، میں تمہاری اور تمہارے اہلِ خانہ کی کفالت کرتا۔
اختلاف کی آزادی:
علمی حلقہ یا مجلسِ علم درس کی ایک ترقی یافتہ صورت ہوتی ہے، جو اُن کتابوں کے مطالعے کے بعد آتی ہے جن کی بنیاد تلقین اور سماعت پر ہوتی ہے۔ رہا مجلسِ علم، تو اس نے اپنے نظام اور افکار کی نشوونما میں قائل کرنے کے لیے مباحثہ کو بطورِ منہج اختیار کیا، اور اس مباحثہ کے لیے منطقی اور عملی تجزیے کا اسلوب ناگزیر ہوتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جس سے اس دور کی علمی حلقے ممتاز تھے۔ بسا اوقات بحث شدت اختیار کر لیتی تھی اور درسی نشست کے مروجہ طریقۂ کار سے آگے بڑھ جاتی تھی، تاکہ اسی نوع کی بحث کے ذریعے مطلوبہ نتیجہ تک پہنچا جا سکے۔ اسی بنا پر ابو حنیفہؒ نے اپنی رسائل میں سوال و جواب کا راستہ اختیار کیا، اور یہی بات ہم ان کی پوری رسالہ ”العالم والمتعلم” میں واضح طور پر دیکھتے ہیں۔
روایت ہے کہ ایک دن ابو حنیفہؒ اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے تھے، اور ہر ایک دوسرے کی بات کی تردید کر رہا تھا، یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا۔ تو امام ابو حنیفہ نعمانؒ نے بحث روک کر زفر بن الحارث سے فرمایا: ایسے شہر کی علمی قیادت کی تمنا نہ کرو جس میں ابو یوسفؒ موجود ہو۔ اور انہوں نے زفر کے مقابلے میں ابو یوسفؒ کے حق میں فیصلہ کیا، یعنی علمی حلقوں میں علمی قیادت کے اعتبار سے۔
امام ابو حنیفہ نعمانؒ اپنے شاگردوں کو علمی خطرات اور لغزشوں سے بچانے کے لیے نصیحت میں جری تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ایک شاگرد سے، جسے انہوں نے تحریر میں بہت زیادہ تنگ لکھتے دیکھا، فرمایا: اپنی تحریر کو نہ سمیٹو، یعنی سطروں اور الفاظ کو بہت قریب قریب نہ لکھو اور انہیں باہم مدغم نہ کرو؛ اگر زندہ رہے تو بھی پچھتاؤ گے اور اگر مر گئے تو بھی پچھتاؤ گے۔ یعنی جب عمر بڑھ جائے گی اور نظر کمزور ہو جائے گی تو اس طرزِ تحریر پر ندامت ہوگی۔ اسی طرح وہ اصلاح اور درستگی میں کشادہ دلی کے حامل تھے۔
مسلسل تحصیلِ علم:
اس دور میں کوئی مقررہ مدت نہیں تھی جس میں شاگرد اپنا تعلیمی سفر ختم کر لے، اور حتیٰ کہ استاد بن جانے کے بعد بھی ممکن ہے کہ وہ متعلم ہی رہے۔ اس دور کے بہت سے شاگرد کسی ایک علم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد بھی دیگر علوم میں طلبہ ہی رہتے تھے، اور پہلے علم کے لحاظ سے وہ استاد اور معلم شمار ہوتے تھے۔
یوسف بن خالد السمتی نے ابو حنیفہؒ کے درس اور تعلیم کو مکمل کرایا، اور ابو حنیفہؒ سے رابطہ برقرار رکھا، ان سے کہا: “اپنی کتابوں کے ذریعے میرے ساتھ رابطہ رکھو اور اپنی ضروریات سے مجھے آگاہ کرو، اور میرے لیے بیٹے کی مانند رہو، کیونکہ میں تمہارے لیے باپ کی مانند ہوں۔” امام ابو حنیفہؒ نے خود اس تربیتی اصول کو اپنایا، اور اپنے شاگرد حماد بن ابی سلیمان کے حلقہ درس کو اس وقت تک ترک نہ کیا جب تک وہ حیات رہے، حالانکہ ان کے پاس علم کی وسعت اور جامعیت موجود تھی۔ ابو حنیفہؒ نے اپنے شاگرد ابو یوسفؒ سے، جب انہوں نے خود پر غرور کیا اور کچھ مسائل میں ناکام ہوئے، فرمایا: “تزببت قبل أن تتحصرم” (تم انگور بننے سے پہلے ہی کشمش بن گئے!) یعنی کمال اور تیاری سے پہلے اپنی صلاحیت دکھانے کی کوشش کر رہے ہو، جو سمجھاتا ہے کہ جو شخص سیکھنے کے عمل سے آزاد ہے، اسے اپنی حالت پر افسوس کرنا چاہیے۔ الحصرم سے مراد وہ پھل ہے جو مکمل طور پر تیار ہونے سے قبل کی حالت میں ہو۔
امام ابو حنیفہ نعمانؒ اپنی علمی کوشش میں مستقل مزاج اور صبر والے تھے، دن رات مطالعہ اور تحقیق کرتے رہے، یہاں تک کہ وفات ہو گئی۔ انھوں نے اپنے شاگرد ابو یوسفؒ میں یہ اصول منتقل کیا، جو کہتے ہیں: “میرے بیٹے کی وفات ہو گئی، میں تدفین میں شریک نہ ہوا، اسے اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے سپرد کر دیا تاکہ ابو حنیفہؒ سے مجھے کچھ حاصل ہونے والا نہ چھوٹ جائے، اور اس کی کمی کا دکھ میرے دل سے نہ جائے”۔
بغدادی ابو حنیفہؒ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ “محنتی اور مجتہد تھے، صبح سے دوپہر تک علمی حلقے میں متحرک رہتے، دوپہر سے عصر تک، عصر سے مغرب تک، اور مغرب سے عشاء تک۔ اور وہ استاد بن جانے کے بعد بھی علم حاصل کرتے رہے”۔
استاد کی اہمیت:
اکثر علوم جو اس دور میں پھیلے، خاص طور پر فقہی علوم، وہ ابتدا میں علمِ حدیث کے طریقہ پہ محفوظ کیے گئے، یعنی وہ علم جو روایت اور ملاقات سے منتقل ہوتا، اور سند و تسلسل سے ثابت کیا جاتا، جس کے لیے راوی کا تفقہ ضروری تھا تاکہ علم امانت کے ساتھ منتقل ہو۔ اسی وجہ سے متعدد علمی فرقے قائم ہوئے، اور استاد اپنی اہمیت اور علم کی درستگی اسی اعتماد سے حاصل کرتا تھا جو لوگ اس کے علم پر کرتے تھے۔ کبھی اس کا علم تسلیم کیا جاتا اور کبھی اس کی عدالت یا علم کی کمی پر اعتراض کیا جاتا۔
ابوحنیفہ نعمانؒ نے اپنے استاد حماد کا انتخاب غور و فکر کے بعد کیا اور کہا: “میں نے ایک باوقار، حلم والا اور صابر شیخ پایا”۔ اور کہا: “میں نے حماد بن سلیمان کے پاس علم حاصل کیا تو میں نمو پایا”۔
امام ابو حنیفہ نعمانؒ نے اپنے علم اور صلاحیت کی توثیق کے لیے ابتدائی صحابہ سے علم حاصل کیا، جیسے انس بن مالک (متوفی 93ھ 711م)، عبد اللہ (متوفی 87ھ 705م)، وائلہ بن الأسقع (متوفی 85ھ 704م) اور دیگرعلماء، نیز اپنے استاد حماد سے، اور اپنے علم کو ایسے شاگردوں کو دیا جو ان کے علم کی تصدیق کرتے تھے جیسے ان کے اساتذہ نے ان کی تصدیق کی۔ روایت ہے کہ خلیفہ منصور نے ابو حنیفہؒ سے کہا: “اے نعمان، تم نے علم کہاں سے حاصل کیا؟” انہوں نے جواب دیا: “عمر کے اصحاب کے ذریعے عمر سے، علی کے اصحاب کے ذریعے علی سے، ابن مسعود کے اصحاب کے ذریعے ابن مسعود سے”۔ خلیفہ نے کہا: “تم نے توثیق کی، اے ابو حنیفہ”۔
روایت ہے کہ انہوں نے قراءات کا علم امام عاصم بن أبي النجود سے حاصل کیا، جو سات قاریوں میں سے ایک تھے، اور اسی دوران اپنے فتاویٰ اور روایتوں کے اصولوں پر بحث اور موازنہ بھی کرتے رہے۔ ابو حنیفہ نعمانؒ اپنے شاگرد کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے: “اگر تم سے کسی مسئلے کے بارے میں سوال کیا جائے تو پہلے لوگوں کو معروف قول سے آگاہ کرو، پھر اپنے قول کا اضافہ کرو، اور اس کی دلیل بتاؤ، تاکہ وہ لوگ تمہاری منزلت اور مقام کو پہچان سکیں۔”
وہ بعض اساتذہ کے بارے میں جرح و تعديل کی گواہی دیتے تھےتاکہ ان کے شاگرد اور اصحاب ان کی حالت سے باخبر رہیں۔ وہ اپنے اصحاب کو جابر الجعفی کے پاس جانے سے منع کرتےاور کہتے: “جابر الجعفی نے اپنی نفس کو خواہشات کے تابع کر کے بگاڑ لیا”۔ اس کے برعکس، وہ سفيان بن عیينة کی حدیث اور علم کی تصدیق کرتے اور ان کی ا صلاح اور تقویٰ کی گواہی دیتے۔
ایک عالم کی شان یہ ہے کہ وہ بے ہودگی کے مقابلے میں شائستگی اور وقار کا مظاہرہ کرے۔ المکی روایت کرتے ہیں کہ ایک مجلس میں ابو حنیفہؒ موجود تھے، ایک شخص آیا اور ان کو گالی دینے لگا، تو انھوں نے اسے کوئی توجہ نہیں دی، یہاں تک کہ وہ شخص ان کے گھر تک آیا۔ ابو حنیفہؒ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: “یہ میرا گھر ہے، میں داخل ہونا چاہتا ہوں، اگر تم مکمل کرنا چاہتے ہو تو اپنا باقی کلام مکمل کرو تاکہ کچھ بھی ادھورا نہ رہ جائے جس کی تمہیں فکر ہو”، تو وہ شخص مارے شرم کے بس اتنا کہہ سکا: “مجھے معاف کر دو”، ابو حنیفہؒ نے جواباََ کہا: “تم معاف ہو”۔
امام ابو حنیفہؒ کا علم و تفقہ:
امام ابو حنیفہؒ کا خیال ہے کہ استاد پر لازم ہے کہ وہ اپنے شعبہ کے علم اور اس کی تفصیلات پر مکمل عبور رکھے، اور ایسے مسائل میں نہ پڑے جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں، اور یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے پاس موجود علمی اصولوں کی بنیاد پر کچھ خلا کو پُر کرے، اور یہ سب اس اجتہاد سے ممکن ہے جو روشن فکر، مضبوط بنیاد سے پیدا ہوتا ہے۔ ابو یوسفؒ کہتے ہیں: “میں نے ابو حنیفہؒ سے پوچھا کہ اگر یہودی یا عیسائی کا بچہ مر جائے تو اسے کیسے تعزیت دی جائے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ نے موت کو اپنی مخلوق پر لکھا ہے، ہم دعا کرتے ہیں کہ اس کا چلے جانا بہتر ثابت ہو، اور ہم اسی کی طرف لوٹتے ہیں”۔ ابو حنیفہؒ کی علمی وسعت اور علم کی گہرائی سوال و جواب سے ہی ظاہر ہے!
امام ابو حنیفہ نعمانؒ نے یہ علمی مجلس اپنے شیخ حماد سے وراثت میں حاصل کی، اور اسی لیے ان میں وہ باتیں نظر آئیں جو بعض دیگر اساتذہ میں نہیں ملتیں، جیسے دقیق فہم اور واضح دلائل۔ وہ فرماتے ہیں: “جو حدیث کا طالب علم ہو اور فقه نہیں جانتا، وہ ایسے ہے جیسے دوا ساز جو ادویات جمع کر لیتا ہے مگر نہیں جانتا کہ کس مرض کے لیے ہیں، یہاں تک کہ ڈاکٹر آتا ہے؛ اسی طرح حدیث کا وہ طالب اپنے حدیث کے مقصد کو نہیں جانتا جب تک کہ فقہ نہ آئے۔”
امام ابو حنیفہ نعمانؒ کے نزدیک معرفت کے ذرائع یہ ہیں: کتاب (قرآن)، متفقہ خبر(حدیث)، اجتہاد (قیاس)، اور اجماع۔ حالانکہ ان کے فکر اور اصولوں میں اجتہاد قیاس سے وسیع تر ہے۔ روایت ہے کہ جب کوئی خبر ان کے نزدیک ثابت ہو جاتی، تو وہ کسی اور پر نظر نہیں ڈالتے، اور فرماتے ہیں: “جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث پہنچتی تو ہم اسے اختیار کرتے، اور جب صحابہ سے آتی تو ہم انتخاب کرتے، اور جب تابعین سے آتی تو ہم ان کے ساتھ تقابل کرتے۔”
مترجم: زعیم الرحمان