میں ایک بارہ سالہ لڑکی کی ماں ہوں۔ میری بچی مسلسل اپنی ہم جماعت لڑکیوں کی طرف سے تضحیک کا نشانہ بنتی رہتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ سب اس سے نفرت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ہمیشہ دبکتی، جارحانہ اور ضدی رہنے لگی ہے اور اسے یقین ہو گیا ہے کہ وہ مبغوض ہے اور کوئی اسے نہیں چاہتا۔
اسکول کی لڑکیاں اس سے دور رہتی ہیں کیونکہ وہ نرم مزاج ہے، چھوٹی ہے اور اس کے انداز بچگانہ ہیں۔ رشتہ داروں کے بچوں کا بھی یہی طرزِ عمل ہے، جس کی وجہ سے اس کے لیے دوست بنانا مشکل ہو گیا ہے۔ میں نے خود اس کی دوست بننے کی کوشش کی مگر میری عمر کی خاتون کے لیے یہ آسان بات نہیں۔
بیٹی نماز پڑھتی ہے، حجاب کرتی ہے اور چھوٹی سورتیں حفظ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ کچھ مشورہ دیں جو اس کی مدد کریں۔
جواب
محترمہ سائلہ!
سب سے پہلے اللہ آپ کی بیٹی پر اپنی رحمت نازل کرے اور آپ کی آنکھ کو اس کی بھلائی سے بہرہ ور کرے۔
بدقسمتی سے اسکولوں اور نوجوانوں کے درمیان طنز و تضحیک (bullying) ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے ہمیں اس کے اسباب کو سمجھنا ہوگا۔
ایک بڑا سبب یہ ہے کہ جدید دور میں سوشل میڈیا اور مختلف ثقافتوں کا کھلا تبادلہ ہوا ہے۔ لڑکیاں بغیر تمیز کے ہر چیز تک پہنچ رہی ہیں۔ اچھا برا سب ایک ساتھ مل رہا ہے۔ اور اس بے قدری نے بعض لڑکیوں کو مخصوص سانچے میں ڈال دیا ہے۔ جو بچیاں اس ماڈل کے مطابق نہیں ہوتیں (یعنی ‘اوپن’ یا فیشن کے حساب سے نہیں ہوتیں)، وہ طنز اور تضحیک کا شکار بن جاتی ہیں — چاہے اس کا سبب ان کا لباس ہو یا بولنے کا انداز ہو۔
دوسرا سبب معاشی حالات اور والدین کی مصروفیت ہے۔ جب گھر کے حالات سخت ہوں اور ماں باپ بچوں کی نگہبانی نہ کرسکیں، تو بچے مشغلے اور رجحانات کے بہاؤ میں ایسے لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں جن میں اسلام یا اخلاقی تربیت کمزور ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے نوجوانوں ایک نسل پیدا ہو جاتی ہے جو صرف ‘trend’ کے پیچھے ہیں، اور دوسروں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔
مزید وجوہات بھی ہیں جو مخصوص بچوں کو نشانہ بننے پر آمادہ کرتی ہیں:
پہلا سبب: وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا۔
کبھی ہم اپنے بچوں کو بیرونی دنیا سے مکمل طور پر روکتے ہیں تاکہ ان کو محفوظ رکھ سکیں، مگر اس سے وہ دورِ حاضر کے تجربات سے بے خبر رہ جاتے ہیں۔ ایک طرح سے وہ ‘اہلِ غار’ بن جاتے ہیں۔ اس فاصلے کی وجہ سے ہم نے انہیں ہم عمر ساتھیوں کے معیار سے جدا کر دیا ہوتا ہے اور وہ مزاح کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ کھلے پن کی اجازت دیں مگر نگرانی اور رہنمائی کے ساتھ، غلطیوں کو نرمی سے درست کریں۔
دوسرا سبب: ‘متاثرہ/مظلوم’ کردار کو اپنانا۔
بعض بچے بار بار خود کو ‘مظلوم’ کے طور پر پیش کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس طرزِ عمل سے والدین کی توجہ ملتی ہے۔ والدین اکثر تب اس کم توجہی کا احساس کرتے ہیں جب کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے، تو بچے سیکھ لیتے ہیں کہ شکایت کرنا انہیں توجہ دلانے کا ذریعہ ہے۔ نتیجتاً وہ ‘مظلومیت’ کا کردار اپناتے رہتے ہیں۔
حل: بچوں میں برابر توجہ تقسیم کریں اور ہر بچے کے لیے علیحدہ وقت رکھیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ہفتہ وار ‘خاندانی نشست’ رکھیں جس میں ان موضوعات پر کھل کر بات کی جا سکے جو عام دنوں میں پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ اس نشست کو والدین، آبائی حکمرانی کے انداز میں نہیں بلکہ دوستانہ انداز اور گفتگو کے طور پر چلائیں تاکہ بچے اپنے دل کی بات کھل کر بتائیں۔
مزید عملی علاج:
- بچوں کو متنمرین (bullies) کے سامنے جواب دینا سکھائیں۔ رول پلے کے ذریعے عملی مشق کروائیں۔ مثلاً آپ ان کے ساتھیوں کا کردار کر کے وہ جملے دہرا دیں جو وہ سنتی ہیں اور بیٹی کو عملی طور پر ردِعمل دینا سکھائیں۔
- بچے کی خود اعتمادی کو پروان چڑھائیں۔ اس کے اچھے اعمال، لباس، ترتیب اور اخلاق کی تعریف کریں تاکہ وہ اپنے آپ کو گھر والوں کی نظروں میں قابل قدر سمجھے۔ جب بچہ خود کو قابلِ احترام سمجھے گا تو وہ کسی کی توہین برداشت نہیں کرے گا۔
- بیٹی کو کوئی ہنر، کھیل یا قرآن کی حفظ جیسی مصروفیت دلائیں۔ یہ اسے منفرد بنائیں گے اور وقت کو مفید طریقے سے بھر دیں گے۔ ہر مہارت یا کھیل بچے کی شخصیت کا ایک پہلو مضبوط کرتا ہے اور دیگر بچوں کے سامنے نشانہ نہ بننے میں مدد دیتا ہے۔
ایسے مشغلے دوستیاں بنانے کے اضافی مواقع بھی دیں گے، اسے مختلف حلقوں میں جانے کا موقع ملے گا، اور ممکنہ طور پر گھر یا مدرسے کے ماحول سے باہر ایسے دوست مل جائیں گے جو اس کے مزاج کے ہم رنگ ہوں۔
یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ ماں کی کوشش ہے کہ وہ خود بیٹی کے دوستوں کی کمی کو پورا کرے — یہ ماں کی محبت کی عکاسی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مستقل طور پر بچوں کی جگہ خالی نہیں کی جا سکتی۔ بعض اوقات انہیں ہلکی تکلیف یا ناکامی کا سامنا کرنے دینا زندگی کے لیے تیار کرتا ہے اور انہیں متبادل تلاش کرنا سکھاتا ہے۔ جیسا کہ کہاوت ہے: “ماں مجھے مچھلی نہ دے بلکہ مجھے مچھلی پکڑنا سکھا دے” — ایک بار مچھلی دینا آسان ہے مگر ہر بار ساتھ ہونا ممکن نہیں؛ اس لیے ہنر سکھانا بہتر ہے۔
شاید بیٹی کا “تصورِ دوستی” بھی درست نہ ہو۔ بعض بچوں کی شکایت سن کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے معیارات دوستی کے بارے میں غلط ہیں۔ اس کا ازالہ کر کے انہیں سکھائیں کہ دوستی میں دینا اور لینا دونوں ضروری ہیں؛ رشتہ جو صرف لینے پر مبنی ہو وہ چل نہیں سکتا، اور صرف دینے پر مبنی رشتہ بھی ناکام ہوتا ہے۔
عملی اقدامات:
- بیٹی کے لیے ایک دن طے کریں جب وہ اپنے قریبی عزیزوں کو گھر مدعو کرے۔ اس سے میل ملاپ اور مانوسیت بڑھے گی۔ آپ اس دن کا پروگرام اس کے ساتھ ترتیب دیں، بار بار ملنے سے رشتوں میں گرمجوشی بڑھے گی۔ اگر آپ کو گھر والوں کا رویہ پسند آگیا تو آپ اسے دوسری لڑکیوں کے گھروں میں بھی جانے کی اجازت دے سکتے ہیں۔
- اسکول سے ہٹ کر دوستوں کے ساتھ باہر نکلنے کی ترغیب دیں۔ ایسی سرگرمیاں جہاں اسکول کے ماحول کو چھوڑ کر دوستوں کے مختلف پہلوؤں کا پتہ چلے۔
قواعد اور اصول پر ڈٹ جانا:
اپنی بیٹی کو مضبوط کردار دیں۔ اسے سکھائیں کہ وہ اپنے اصول چھوڑ کر کسی دوست کو خوش کرنے کی کوشش نہ کرے۔ جو چیز اللہ کے لیے ترک کی جائے، اللہ اس کی جگہ بہتر چیز دے گا۔ بعض لڑکیاں اصول قربان کر کے دوست پاتی ہیں مگر اپنی ذات کھو دیتی ہیں، یہ نقصان ہے۔ لہٰذا اصولوں پر مضبوطی سکھائیں، اور یقین دلاتے رہیں کہ اللہ اچھے اخلاق پر بہترین صحبت عطا کرے گا۔
محترمہ! آپ کا خدشہ اور بیٹی کے لیے آپ کی محبت قابلِ تحسین ہے۔ ہم بس سبب ہیں — کامل بنانے والا اللہ ہے — اس سے دعا کریں، اس کے حضور اپنی حاجات پیش کریں اور اللہ سے اچھی صحبت مانگیں۔
اللہ مسلمانوں کی لڑکیوں کو حیاء اور عصمت عطا فرمائے اور انہیں اسلامی اخلاق سے مزین کرے۔ قرآن نے بھی تضحیک سے منع کیا ہے:
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّنْ نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۚ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَان [الحجرات: 11]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منع فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويدہ۔” یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔
مترجم: سجاد الحق