یونیورسٹی طالب علم:
میں ایک یتیم طالب علم ہوں۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتا ہوں۔ میں ایک معتبر یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں اور اپنی پڑھائی میں بھرپور محنت کرتا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ اللہ مجھے اس کا بہتر صلہ عطا فرمائے گا۔
چونکہ میں کم عمری ہی میں یتیم ہو گیا تھا، اس لیے آنکھ کھولتے ہی میں نے اپنی والدہ کو دیکھا کہ وہ اس مالی امداد پر گزاراہ کرتی ہیں جو فلاحی ادارے اور خیراتی تنظیمیں ہمارے جیسے لوگوں کے لیے مخصوص کرتی ہیں۔ جب میں چھوٹا تھا تو اس بات کی مجھے زیادہ پروا نہیں ہوتی تھی کہ پیسہ کہاں سے آتا ہے، لیکن جب میں اس عمر کو پہنچا جہاں انسان اپنے اردگرد کے حالات کو سمجھنے لگتا ہے، دوستیاں بناتا ہے اور دوسروں کی نیکی اور زکوٰۃ قبول کرنے کا شعور پیدا ہوتا ہے، تو میرے دل میں ایک عجیب سی شرمندگی نے جنم لیا۔
یہ شرمندگی مجھے مجبور کر دیتی تھی کہ میں اکیلے میں بیٹھ کر اس بات پر روتا تھا کہ ہم اپنی روزی اور اسکول کے اخراجات کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں روتے ہوئے اپنی ماں پر چیخ پڑتا تھا کہ وہ یہ امداد لینا بند کر دے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میرے تمام دوست، پڑوسی اور رشتہ دار ہمیں دیکھ رہے ہوں اور جانتے ہوں کہ ہم لوگوں کی خیرات پر پل رہے ہیں، ان کی عطاؤں یا بچی کھچی امداد پر زندگی گزار رہے ہیں۔
میری ماں بھی میرے ساتھ روتی اور کہتی تھی: “اس امداد کے بغیر ہم کہاں سے خرچ کریں گے؟ کیا کریں گے؟”
تو میں کہتا: “کچھ بھی کر لیں گے، چاہے مجھے اپنی پڑھائی چھوڑ کر کسی دکان یا بازار میں کام ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔”
اس پر میری والدہ مجھے ڈانٹتیں اور سختی سے کہتیں کہ دوبارہ کبھی ایسا سوچنا بھی نہیں، ورنہ وہ ناراض ہو جائیں گی۔ میں ان کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا تھا، اس لیے ان کی دلجوئی کے لیے خاموش ہو جاتا، اگرچہ دل میں بے پناہ تنگی اور غم ہوتا تھا۔
آج جب کہ میں تقریباً اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے قریب ہوں، مجھے وہی احساس دوبارہ ستا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مجھے وہ کپڑے پہننا بھی ناگوار لگنے لگے ہیں جو میں خریدتا ہوں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ صدقات، ہبات اور لوگوں کی عطاؤں کے پیسوں سے خریدے گئے ہیں۔ بلکہ اب میں اپنے اندر اس صورتحال کے خلاف ایک طرح کی بغاوت محسوس کرنے لگا ہوں، جو لوگوں کے ساتھ میرے رویّے میں غرور اور تکبر کی صورت میں ظاہر ہونے لگی ہے، حالانکہ پہلے میں خود کو ایسا نہیں پاتا تھا۔ میرے اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
جواب:
تم اپنی ماں کے فیصلوں کے ذمہ دار نہیں ہو۔ ممکن ہے وہ مجبوراً اس راستے پر آئیں ہوں، اس لیے اپنے اوپر اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔ شاید تمہارا امتحان اور تمہاری آزمائش اب تمہاری گریجویشن کے بعد ختم ہونے کے قریب ہے، جب تم کام کرو گے اور اپنی ماں اور بہن بھائیوں کو دوسروں سے مانگنے سے بے نیاز کر دو گے۔
اپنی ماں سے اس بات کا شکوہ کرنے کے بجائے کہ وہ یہ پیسہ قبول کرتی ہیں، اس بات پر ان کا شکریہ ادا کرو کہ انہوں نے تمہاری پرورش اور گھر کے معاملات سنبھالنے میں خود کو کھپا دیا، یہاں تک کہ آج اللہ کے فضل اور ان کی محنت سے تم ایک معتبر کالج کے طالب علم بن سکے ہو۔ وہ یہ بھی انتخاب کرسکتی تھیں کہ کسی ایسے مرد سے شادی کر لیتی جو گھر کی ذمہ داری اٹھاتا اور خرچ فراہم کرتا، اور مجھے نہیں معلوم کہ اس صورت میں تمہارا ردّعمل کیا ہوتا۔
اگر تمہاری ماں تمہیں محتاجی کی حالت میں چھوڑ دیتیں اور دوسروں کی مدد قبول کرنے سے انکار کر دیتیں تو تم انہیں کبھی معاف نہ کرتے۔ اگر تمہاری ضروریات بڑھ جاتیں اور کوئی انہیں پورا کرنے والا نہ ہوتا تو بھی تم انہیں معاف نہ کرتے۔ اگر وہ تمہیں اور تمہارے بہن بھائیوں کو تعلیم چھوڑنے پر مجبور کر دیتیں تاکہ گھر کے کام سنبھالو، تو بھی تم انہیں معاف نہ کرتے۔ اور اگر وہ کسی حرام مال کا سہارا لیتیں تو بھی تم انہیں معاف نہ کرتے۔ الحمدللہ، انہوں نے ان چاروں میں سے کوئی کام نہیں کیا۔
اس کے برعکس ہمیں یقین ہے کہ تمہاری ماں نے بہت سی قربانیاں دیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے اپنی مجبوری کے تحت، نہ کہ شوق سے، یہ امداد قبول کی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ روتی تھیں۔ اگرچہ وہ مالی مدد لیتی رہیں، لیکن اس کی مقدار چاہے جتنی بھی ہو، یہ یقینی ہے کہ ان کے بہترین انتظام کے بغیر گھر کی تمام ضروریات پوری نہیں ہوسکتی تھیں۔
نہ فقر کبھی عیب رہا ہے اور نہ یتیمی۔ اس حوالے سے تمہیں محبوبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے تسلی ملتی ہے، جو والد کے بغیر پیدا ہوئے، پھر ان کی پرورش پہلے ان کے دادا اور پھر ان کے چچا نے کی، جو خود بہت سے بچوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ اصل عیب تو مردوں کا بھیک مانگنے کا عادی ہو جانا اور دوسروں پر انحصار کرنے کی خو ہے۔ عورتوں کے معاملے میں بعض اوقات بے بسی ہوتی ہے، اور شوہر کے انتقال کے بعد عورت اور اس کے بچوں کی کفالت بھائی، باپ یا چچا کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ تو اس میں تمہاری ماں کا کیا قصور کہ ان کے پاس نہ یہ تھا اور نہ وہ۔
اچھی طرح یاد رکھو کہ کوئی تم پر احسان نہیں کر رہا، بلکہ یہ مسلمانوں پر تمہارا حق ہے۔ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں پڑھا:
“اللہ تعالیٰ اس قوم کو پاکیزگی عطا نہیں فرماتا جو اپنے کمزوروں کو ان کا حق نہیں دیتی۔”
یہ مدد دینے والوں کے لیے بھی اللہ کا قرب حاصل کرنے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے کا ذریعہ ہے، جنہوں نے فرمایا:
“میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
اگر یتیم کا معاشرے پر حق نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن کی متعدد آیات میں اس کی دیکھ بھال اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم نہ دیتے، جیسے فرمایا:
“اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھنا، اور لوگوں سے اچھی بات کہنا، اور نماز قائم کرنا”…
یہ بھی جان لو کہ اسلام کی نظر میں تمہاری ماں کی حیثیت وہ نہیں جو تمہاری نظر میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں کے بارے میں فرمایا:
“میں اور وہ عورت جس کے گالوں کا رنگ فقیرانہ زردی میں بدل گیا ہو، قیامت کے دن اس طرح ہوں گے”
اور اس سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے یتیم بچوں کی پرورش میں خود کو کھپا دے اور شوہر کے انتقال کے بعد شادی سے رک جائے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیمی میں پناہ دی اور اس نعمت کی یاد دہانی کرائی، جب فرمایا:
“کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا، پھر پناہ دی؟”
تو تم پر بھی لازم ہے کہ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے اپنے بندوں میں سے ایسے لوگوں کو تمہاری اور تمہاری ماں کی مدد کے لیے مسخر کیا جو تمہارے گھریلو معاملات میں سہارا بنے۔
اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ تمہارے اندر لوگوں کے مال سے بچنے اور عزتِ نفس کی صفت ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ جو شخص خوددار نہیں ہوتا وہ بلا ضرورت سوال کرتا ہے۔ اگر تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے لیے زکوٰۃ جائز ہے تو اس کا طلب کرنا دراصل اپنے حق کا مطالبہ ہے۔ اور جو چیز تمہیں بغیر مانگے مل جائے، وہ تو اللہ کی طرف سے رزق ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرؓ سے فرمایا جب ان کے سامنے مال پیش کیا گیا اور انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ کوئی اور زیادہ محتاج ہے:
“اسے لے لو، جب یہ مال تمہارے پاس آئے اور تم نہ اس کے طلبگار ہو اور نہ ہی مانگنے والے، تو لے لو اور اسے اپنے مال میں شامل کر لو۔ چاہو تو خود استعمال کرو اور چاہو تو صدقہ کر دو، اور جو نہ آئے اس کے پیچھے دل نہ لگاؤ۔”
جہاں تک تمہاری ماں کا تعلق ہے، وہ ایسا کام تلاش نہ کرسکیں جو ان کے لیے کافی ہوتا، اور اگر وہ نہ ڈھونڈ سکیں یا کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہوں تو اس میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔ لیکن تم پر لازم ہے کہ تم محنت کرو، کوشش کرو، اور جلد از جلد اس حالت کو بدلنے کی سعی کرو جو تمہیں پسند نہیں۔ اپنی ماں کی ضروریات پوری کرو، انہیں لوگوں سے مانگنے سے بے نیاز کرو، اور یہ سب خالص اللہ کی رضا کے لیے کرو، کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔ اپنے دل کی سلامتی کا خاص خیال رکھو، کیونکہ قیامت کے دن نجات اسی میں ہے:
“جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، مگر وہی جو اللہ کے پاس پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔”
مترجم: سجاد الحق