گھریلو مجالسِ قرآن آج مسلمان اس بات کے کہیں زیادہ محتاج ہیں کہ وہ خاندانی اور گھریلو سطح پر قرآن کی نشستیں / محافل / حلقات قائم کریں، جو ایمان اور تقویٰ کے توشے کے لیے خاندان کو یکجا کریں، کیونکہ قرآن تو ایسا نور ہے جو کبھی مدھم نہیں ہوتا، وہ راستہ ہے جس پر چلنے والا کبھی ٹھوکر نہیں کھاتا، ہر مسئلے کا حل اور ہر الجھن سے نکلنے کا راستہ ہے، اور نفس کے لیے اطمینان اور دل کے لیے سکون ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانیت طویل عرصے تک اندھیروں اور بھٹکی ہوئی راہوں میں سرگرداں رہی، تو اللہ نے قرآن کے ذریعے اس کے لیے راہِ راست واضح کی، اسی کے ذریعے انسانیت کا مقام بلند کیا، اجر کو عظیم بنایا، بوجھ ہلکا کیا اور ذکر کو بلند فرمایا۔ قرآن وہ عظیم ترین تربیتی منہج ہے جسے انسانوں نے جانا، اور جسے ایک ایسی امت نے نافذ کیا جو باہمی انتشار، کمزوری، جہالت اور پسماندگی کا شکار تھی، پھر وہی امت بلند ترین، علم میں سب سے آگے اور قوت میں مضبوط ترین اقوام میں شامل ہو گئی۔
گھریلو قرآن محفل کی تاریخ
خاندانی/گھریلو قرآنی حلقات و مجالس کی بنیاد دراصل اُس پہلی قرآنی نشست سے جا ملتی ہے جس کے انعقاد سے کائنات کو شرفِ عظیم حاصل ہوا۔ یہ وہ مجلس تھی جو زمین کے ایک کشادہ گوشے میں دو امینوں کے درمیان منعقد ہوئی: آسمان والوں کے امین جبرائیل علیہ السلام، اور زمین والوں کے امین محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ اس واقعہ کا ذکر ہے جب اسلام کی پہلی کرن چمکی۔
شیخین نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا سچے خواب سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی محبوب ہو گئی، چنانچہ آپ غارِ حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور وہاں کئی کئی راتیں عبادت میں مشغول رہتے، اس سے پہلے کہ اپنے گھر لوٹتے، زادِ راہ ساتھ لیتے، پھر حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آتے اور دوبارہ اسی طرح کا زادِ راہ لے کر جاتے، یہاں تک کہ حق آپ کے پاس آیا، جب آپ غارِ حرا ہی میں تھے۔
پس فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس پر اس نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ مجھ پر سختی طاری ہو گئی، پھر چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو۔ میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس نے دوسری مرتبہ مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ مجھ پر سختی طاری ہو گئی، پھر چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو۔ میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ پھر اس نے تیسری مرتبہ مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا، پھر چھوڑ دیا اور کہا:
{اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الْأِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ} پڑھو﴿اے نبی ؐ ﴾ اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو، اور تمہارا ربّ بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ [القلم]
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات لے کر واپس لوٹے، اس حال میں کہ آپ کا دل شدتِ خوف سے کانپ رہا تھا۔
اس کے بعد لفظ “اقرأ” وہ پہلا کلمہ بن گیا جس سے ان دونوں امینوں کے درمیان ہونے والی اس بابرکت ملاقات کا آغاز ہوا، اور “غارِ حراء” وہ پہلا مقام قرار پایا جسے اس عظیم شرف سے نوازا گیا۔ ابھی ان دونوں امینوں کے درمیان وہ مبارک حلقہ اختتام پذیر بھی نہ ہوا تھا کہ اس کے فوراً بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے درمیان قرآن کے حلقات قائم ہو گئے، جن میں صحابہ وحی کو توجہ اور انہماک سے سنتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونے والی وحی ان کو سناتے ۔ دارِ ارقم بن ابی الارقم ان اولین مقامات میں شامل تھا جسے اس عظیم فضیلت سے سرفراز کیا گیا۔
پھر نزولِ وحی کے پورے دورانیے میں یہ ملاقاتیں مختلف مقامات پر، مختلف اوقات میں اور مختلف انداز سے منعقد ہوتی رہیں، یہاں تک کہ یہ قرآنی حلقے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ منتقل ہو گئے۔ مدینہ میں اس نور کا پھیلاؤ کہیں زیادہ وسیع تھا، کیونکہ وہاں کے باشندے انصار تھے، جنہوں نے ذکر و تنزیل کے لیے اپنے دل کھول دیے، اور اپنی جانیں اس پر قربان کر دیں۔
یوں بھلائی کا سلسلہ جاری رہا، اور قرآنِ کریم کی تلاوت، اس کے درس اور حفظ کے حلقوں کی برکت ہر طرف پھیلتی چلی گئی، یہاں تک کہ انہوں نے ہر زمانے اور ہر مقام میں مساجد اور گھروں کو آباد کر دیا۔ ان کی خیر و برکت عام ہو گئی، اور انہی پر مردوں، عورتوں، نوجوانوں اور بچوں کی تربیت ہوتی رہی۔
گھریلو قرآن محافل کے تربیتی اہداف
خاندانی قرآنی حلقے و مجالس نہایت اہم تربیتی اہداف پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- قرآن کی بنیاد پر ایک ایسی مسلم نسل تیار کرنا جو تلاوت، اخلاق اور طرزِ زندگی، ہر پہلو سے قرآن سے وابستہ ہو۔
- خاندان کے افراد کو بد اخلاقیوں اور ناپسندیدہ عادات کے دباؤ سے نجات دلانا۔
- نوجوانوں کو بلند مقاصد اور اعلیٰ اقدار فراہم کرنا۔
- اہل خانہ کے دلوں میں اپنے دین اسلام، اپنی شناخت اور اپنے رب کی کتاب پر فخر اور خوشی کا جذبہ پیدا کرنا۔
- بچوں کے سامنے قرآنِ کریم کے دل موہ لینے والے معانی اور اس کی منفرد حقیقتوں کے نئے اور وسیع معانی بیان کرنا ، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار اور متحرک کرتے ہیں۔
- امت اور معاشرے کو حفاظِ قرآن فراہم کرنا، تاکہ اس میں دو امتیازات ہمیشہ باقی رہیں: سینوں میں محفوظ ہونا اور سطروں میں محفوظ ہونا؛ اگر ایک میں لغزش ہو تو دوسرا تصحیح کر دے، کیونکہ ہمیں کسی حافظ کے حفظ پر اس وقت تک کامل اعتماد نہیں ہوتا جب تک وہ اس متفقہ رسمِ عثمانی کے مطابق نہ ہو جو نسل در نسل معتبر نقول کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔
- والدین کی نافرمانی کے مرض کا علاج کرنا جس کی شکایت والدین کرتے ہیں اور جو امت میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے، اور جس کا شفا بخش علاج قرآن میں موجود ہے۔
- قرآن کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق دلکش انداز میں پیش کرنا، جس میں زمانے کی رفتار، کشش اور تاثیر بھی ہو، اور اسلامی تراث کی اصل اور عظمت بھی پوری طرح جلوہ گر ہو۔
- ایسے افراد کی تیاری کرنا جو مساجد میں نمازیوں کی امامت سنبھال سکیں۔
- اولاد کی زبانوں کی اصلاح کرنا، انہیں عربی زبان کے صحیح اور درست تلفظ پر قادر بنانا، اور الفاظ و اسالیب کے وافر ذخیرے سے ان کو مالا مال کرنا۔
- اہلِ تجوید کے ہاں معروف قراءتی احکام سے واقفیت حاصل کرنا، نیز حلقات و مجالس میں قرآن کی تلاوت کے دوران حرکات، وقف اور سَکتات یعنی قواعدِ تجوید کی عملی تربیت دینا۔
- اولاد کی حوصلہ افزائی مادی اور معنوی انعامات کے ذریعے کرنا، اور ان کے درمیان مثبت اور پسندیدہ مسابقت کا ماحول پیدا کرنا۔
- ایک ایسی مجلسِ علم قائم کرنا جسے فرشتے گھیر لیتے ہیں؛ کیونکہ جو بھی تحفیظ کے حلقات میں بیٹھتا یا انہیں دیکھتا ہے، وہ ایک عظیم ایمانی فضا کو محسوس کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے۔
- اولاد کو فکری، اعتقادی اور اخلاقی انحراف سے محفوظ رکھنا، انہیں سنجیدگی اور بلند ہمتی پر تربیت دینا، اور زندگی کو منظم کرنے اور وقت کی قدر کرنے کا عادی بنانا۔
- ان حلقات و مجالس میں اولاد کو ملنے والی قرآنی رہنمائی ان کی شخصیت کو عمل، پیش قدمی اور استقامت پر استوار کرتی ہیں۔
- خاندانوں کے باہمی تعلق کو مضبوط کرنا، افرادِ خاندان کے درمیان خیر کو عام کرنا، اللہ کی اطاعت، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، بہن بھائیوں کے احترام و تعاون اور گھر کی صفائی ستھرائی کے اہتمام میں اضافہ کرنا۔
حفظ قرآن کے حلقوں کی حیثیت
اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندانی قرآنی حلقات کا مقام نہایت بلند ہے، اور ان کی فضیلتیں بے شمار ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
یہ حلقات سکینت کے نزول، رحمت کے سایہ فگن ہونے، فرشتوں کے اجتماع، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ مجلس میں ذکر کیے جانے کا سبب بنتے ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اس کا درس و مطالعہ کرتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی محفل میں ان کا ذکر فرماتا ہے”۔
یہ حلقات اللہ کے بندوں میں سے بہترین بندوں کا اجتماع ہوتے ہیں، جو معلم اور متعلم کے درمیان، دنیا کی سب سے مقدس کتاب، یعنی قرآنِ کریم پر جمع ہوتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ [بخاری]
اللہ والوں اور اس کے خاص بندوں کے درمیان ایک مبارک اجتماع
چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے اہل ہیں۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، وہ کون ہیں؟ فرمایا: اہلِ قرآن، وہی اللہ کے اہل اور اس کے خاص بندے ہیں۔ [صحیح ابن ماجہ]
نیکی اور تقویٰ پر باہمی تعاون، اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں کہ: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى} ترجمہ: “جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو۔” [سورۃ المائدہ: 2] اور کتاب اللہ کے سیکھنے اور سکھانے سے بڑھ کر نہ کوئی نیکی ہے اور نہ کوئی تقویٰ۔
یہ حق اور صبر کی باہمی نصیحت کے عظیم میدان ہیں، تاکہ قیامت کے دن خسارے سے نجات حاصل ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ} ترجمہ: زمانے کی قسم، انسان درحقیقت میں بڑے خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ [سورۃ العصر: 1–3]
یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے، جماعت سے وابستگی اختیار کرنے، اور تفرقے سے امان کا ذریعہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا} ترجمہ: سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ [سورۃ آل عمران: 103]
یہ اجر کے حصول، ثواب کے کمانے، اور نیکیوں کا زادِ راہ جمع کرنے کی منزلیں ہیں۔ حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے، اس کے لیے ایک نیکی ہے، اور ایک نیکی دس گنا ہو جاتی ہے؛ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے۔
یہ نفوس کی تزکیہ، اخلاق کی تہذیب، اور فضائل کے حصول کا وسیع میدان ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے: {قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا} ترجمہ: یقیناً فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔ [سورۃ الشمس: 9–10]
ان حلقات و مجالس میں لوگوں تک قرآنِ کریم پہنچانے، اس کی آیات، احکام اور علوم کو امت میں پھیلانے کا فریضہ ادا ہوتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعمیل میں: میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔ [بخاری]
ان میں قیامت کے دن قرآن کو چھوڑ دینے پر ہونے والی دردناک ملامت سے نجات، اور علم چھپانے پر سخت وعید سے بچاؤ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا} ترجمہ: “اور رسُولؐ کہے گا کہ “اے میرے ربّ، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہٴ تضحیک بنا لیا تھا”۔ [سورۃ الفرقان: 30]
ان حلقات میں فرضِ کفایہ کی عظیم ادائیگی بھی شامل ہے، اور مسلمانوں کے عام گناہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے، سب سے پہلے قرآنِ کریم کی حفظ کی ذمہ داری سنبھال کر، پھر اسے سیکھنے اور نوجوانوں و عام مسلمانوں کو حفظ کروانے کے ذریعے۔
اور بلا شک، قرآن کے حافظ اور اس کا معلم اس فرمانِ الٰہی کے دائرے میں آتا ہے: {وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ} ترجمہ: “اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔” [سورۃ فصلت: 33]
منصوبہ عمل
اور اگر کوئی خاندان چاہے کہ وہ قرآنِ کریم کے خاندانی حلقوں و مجالس سے فائدہ اٹھائے اور اس کے فوائد حاصل کرے، تو اس کے لیے چند عملی اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے، جو درج ذیل ہیں:
- خاندان کے تمام افراد کی ایک مجلس کا انعقاد، جسے “گھریلو مجلس شوریٰ” کہا جا سکتا ہے، جس میں قرآنی سیشن کے لیے مجوزہ منصوبہ پیش کیا جائے، جو سب کے لیے قرآنی تربیتی مراحل میں سے ایک قدم ہو۔
- جلسے کے انعقاد کا وقت طے کرنا، اور بہتر ہے کہ یہ فجر کی نماز کے بعد ہو، کیونکہ اس وقت صفا، سکون، توجہ، برکت اور صبح کی پہلی روشنی موجود ہوتی ہے۔
- سب کی رائے سے قراءت کے لیے اتفاق کیا جا سکتا ہے، ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق پڑھے، تاکہ روزانہ ایک حصہ تلاوت ہو اور ہر مہینے ختمہ مکمل ہو۔
- ماہانہ سورۃ: خاندان ہر ماہ ایک سورۃ متعین کرسکتا ہے جو حفظ، سمجھ بوجھ اور تدبر کے لیے ہو۔
- یاد رکھنا چاہیے کہ جمعہ کے دن کی تلاوت خاص طور پر سورۃ الکہف کی ہو۔
- ترجیح دی جائے کہ ہر ماہ کے لیے ایک (موضوع) تھیم مقرر کی جائے، جو قرآن کریم کی کوئی آیت ہو۔
- قرآن کریم میں بیان کردہ اسلامی مواقع اور واقعات جیسے ہجرت، اسراء و معراج، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات، اور انبیاء کی کہانیاں، ان کے وقت پر تلاوت کریں۔
- سورۃ البقرہ کی تلاوت مکمل ہونے کے بعد، خاندان کو ایک خاص جشن منانا چاہیے۔
- گھر میں ایک قرآنی کتابوں کی لائبریری قائم کرنا بہتر ہے۔
- والدین ہر ماہ حلقے کی قیادت ایک بچے کو سونپ سکتے ہیں اگر وہ اس قابل ہو۔
- خاندان کے ہر فرد کو ہر ماہ ایک چھوٹی سی تقریب یا کسی سرگرمی کے ذریعے سراہنا چاہیے۔
رمضان میں مجالس قرآن
والدین کو چاہیے کہ وہ رمضان کے مہینے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز خاندان کے لیے قرآن کی حلقے منعقد کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل ہوں۔ خاندان کی ذمہ داری صرف نسل انسانی کو برقرار رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد بچوں کی تربیت اور صالح مسلمان نسلیں تخلیق کرنا بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بیت النبوة (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے) کو پاکیزہ اور بلند مقام عطا کیا، فرمایا: {وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آَيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا} ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہل بیت نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے ، یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں ، بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے۔ [الأحزاب:34]
اس لیے ضروری ہے کہ:
- خاندان کے افراد ایک اجلاس میں جمع ہوں جہاں والدین قرآن کی اہمیت، اس کی تلاوت و حفظ اور اس پر عمل کرنے کے اجر کی وضاحت کریں، خاص طور پر ماہ رمضان میں۔
- بچوں کے دلوں میں قرآن کریم کی عظمت اور اس کے خاندان کی زندگی پر اثرات کو راسخ کریں۔
- خاندان کو چاہیے کہ وہ قرآن کی مصاحف کو یاد رکھے، ان کے لیے گھر میں مخصوص جگہ مختص کرے اور ان کی عزت کرے۔
- خاندان اپنے دروس قرآنی کا آغاز جزء عمّ (آخری پارے) سے کرے کیونکہ اس میں نرمی اور اخلاق کی تربیت والی بہت سی آیات شامل ہیں۔
- بچوں کی سمجھ کے لیے سادہ تفاسیر کا استعمال کریں۔
- والدین کو چاہیے کہ وہ قرآن کی کہانیوں کے ذریعے ایمان کے مفاہیم کو بچوں کے ذہنوں میں راسخ کریں۔
- قرآن کی آیات، اخلاقیات یا سلوک کی یاد دہانی کے لیے گھر میں یاد دہانی کی تختیاں لگائی جائیں۔
اگرچہ عصری چیلنجز خاندانوں کو قرآنی حلقے قائم کرنے سے روکتے ہیں، لیکن ان کا عظیم اجر دنیا و آخرت میں ان کو برقرار رکھنے کی ضرورت کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی ہدایت، تعلیم اور زندگی کی ترتیب کے لیے نازل ہوا؛ یہ کتاب انسان کے اصلاح کے لیے آئی، اور اس میں انسانی نفس کے حالات، ان کی گمراہی اور بیماری کے اسباب، تربیت اور علاج کے طریقے شامل ہیں۔
مترجم: زعیم الرحمان