واقعۂ اسراء و معراج ایسے وقت پیش آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حالات نہایت سخت اور دشوار تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید قلبی صدمہ پہنچا، یہاں تک کہ اس موقع پہ ہم پہلی مرتبہ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی بے بسی، قوت کی کمزوری اور لوگوں کے درمیان اپنی بے قدری کی شکایت کر رہے ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی قریش کی طرف سے پیش آنے والی آزمائشوں کے بعد، خصوصاً اپنے چچا ابو طالب اور اپنی وفادار زوجہ خدیجہؓ کی وفات کے بعد جب ان سختیوں میں بے تحاشا اضافہ ہوتا چلا گیا، اور پھر طائف سے واپسی پر وہاں کے لوگوں کی جانب سے ملنے والی اذیتوں، ایمان سے اعراض، اور اسلامی دعوت کی ہر طرح سے مخالفت کے باعث دل گرفتہ ہونے کے بعد، اپنے محبوب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بابرکت اور پاکیزہ سفر کے ذریعے نوازے۔
اسراء و معراج کے معانی:
اسراء سے مراد وہ سفر ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے ایک حصے میں مکہ مسجد الحرام سے بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) تک لے گیا، پھر واپس لوٹا دیا۔ اور معراج سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس سے ساتوں آسمانوں اور ان سے اوپر تک بلند کیا گیا، جہاں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی گئیں، پھر رات کے ایک حصے میں آپ کو دوبارہ بیت المقدس لوٹا دیا گیا۔
لغت میں اسراء، أسرى کا مصدر ہے، جس کے معنی رات کے زیادہ حصے میں چلنے کے ہیں، اور کہا جاتا ہے: أسراه اور أسرى به، اور قرآن کریم میں یہی دوسرا اسلوب آیا ہے۔ اکثر اہلِ لغت کے نزدیک سرى اور أسرى دونوں ایک ہی معنی رکھتے ہیں، جب کہ بعض ان میں فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ أسرى رات کے آغاز میں چلنے کو کہتے ہیں، اور سَرى رات کے آخری حصے میں چلنے کو۔
ابنِ اثیر کہتے ہیں کہ معراج (کسرہ کے ساتھ) سیڑھی کے مشابہ ہے، مِفعَال کے وزن پر، عروج سے ماخوذ ہے، یعنی اوپر چڑھنا، گویا یہ صعود (اوپر چڑھنے) کا آلہ ہے، اور عرج یعرج عروجًا اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی اوپر چڑھے، اور بظاہر یہاں معراج سے مراد عروج ہی ہے، جس میں اسمِ آلہ کو مصدر کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
قرآن و حدیث میں اسراء و معراج:
قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ مطہرہ میں واقعۂ اسراء و معراج کی متعدد تفصیلات بیان ہوئی ہیں، جو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت اہم واقعات میں سے ہے، کیونکہ اس رات میں وہ معجزات ظہور پذیر ہوئے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک جانا اور وہاں سے بلند ترین آسمانوں تک عروج ملنا شامل ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سفرِ اسراء کے بارے میں فرمایا:
{سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}، ترجمہ: “پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دُور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔حقیقت میں وہی دیکھنے اور سننے والا ہے۔” [سورۃ الإسراء: 1]
بعض علماء کا خیال ہے کہ اگرچہ معراج کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ نہیں آیا، تاہم سورۂ نجم میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ، عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ، عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ، مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ، لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ} (ترجمہ: اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃ المنتیٰ کے پاس اس کو دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی بلاشبہ اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔) [النجم: 13-18]
سفرِ اسراء کی تفصیل:
سنتِ نبویہ میں یہ روایت آئی ہے کہ اسراء کا عمل، یعنی مسجدِ حرام سے بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر، ایک خاص سواری کی فراہمی سے شروع ہوا۔ یہ سواری زمین کی عام سواریوں میں سے نہ تھی، اس کا نام بُراق تھا۔ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میرے لیے براق لایا گیا، اور وہ ایک سفید رنگ کی لمبی سواری تھی، گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی، وہ اپنا کھر وہاں رکھتی تھی جہاں اس کی نگاہ کی انتہا ہوتی تھی۔ پھر میں اس پر سوار ہوا یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گیا”۔
ترمذی کی روایت میں حضرت انسؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس رات براق لایا گیا جس رات آپ کو اسراء کرائی گئی، وہ لگام اور زین سے آراستہ تھا، مگر اس نے کچھ تردد کیا، تو جبریل نے اس سے کہا: کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کر رہے ہو؟ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز کوئی بھی تجھ پر سوار نہیں ہوا۔ راوی کہتے ہیں: تو براق پسینہ پسینہ ہو گیا۔
مسندِ حارث میں حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میرے لیے براق لایا گیا، اور وہ ایک سفید رنگ کی سواری تھی، جس کے کان حرکت میں تھے، گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی، وہ اپنا کھر وہاں رکھتی تھی جہاں اس کی نگاہ کی انتہا ہوتی تھی، پس میں اس پر سوار ہوا۔”
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبریل علیہ السلام بیت المقدس پہنچے تو جبریل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے چٹان میں سوراخ کیا اور اسی کے ساتھ براق کو باندھ دیا۔ حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب اس رات مجھے اسراء کرائی گئی تو میں بیت المقدس پہنچا، پس جبریل نے اپنی انگلی سے چٹان میں سوراخ کیا اور اسی کے ساتھ براق کو باندھ دیا”۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور وہاں نماز ادا کی۔ بیہقی کی روایت میں آیا ہے: “پھر وہ مجھے لے چلے یہاں تک کہ ہم شہر میں اس کے یمانی (دائیں) دروازے سے داخل ہوئے، پھر مسجد کی قبلہ گاہ کی طرف آئے، تو انہوں نے اپنی سواری وہاں باندھی، اور ہم ایک ایسے دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے جس میں سورج اور چاند کا جھکاؤ تھا، پھر میں نے مسجد میں وہاں نماز پڑھی جہاں اللہ نے چاہا”۔ تاہم ایسی کوئی صریح تفصیل مذکور نہیں جو یہ بتائے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی امامت فرمائی ہو، بلکہ بعض اہلِ علم کی رائے ہے کہ آپ کا انبیاء کو نماز پڑھانا آسمان کی طرف عروج (معراج) سے واپسی پر ہوا، اس سے پہلے نہیں۔
معراج: آسمانوں کی طرف عروج
اس کے بعد معراج کا سفر آسمان کی طرف شروع ہوا، اور حضرت انس بن مالکؓ سے مسلم کی روایت میں اس بات کی تصریح ملتی ہے کہ آسمان کی طرف عروج اسی رات اسراء میں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پینے کے واقعے اور اس کے بعد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر میں باہر نکلا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس شراب کا ایک برتن اور دودھ کا ایک برتن لائے، میں نے دودھ کو اختیار کیا، تو جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کو اختیار کیا، پھر ہمیں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ یہ روایت واقعات کی ترتیب کو واضح کرتی ہے، کہ مسجد اقصیٰ سے نکلنے اور دودھ پینے کے بعد آسمان کی طرف عروج ہوا۔
اس بابرکت سفر کے وقت کے بارے میں علما کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ پیر کی رات بارہ ربیع الاول کی تھی، مگر سال متعین نہیں کیا گیا۔ اور کہا گیا کہ یہ ہجرت سے ایک سال پہلے ہوا، لہٰذا ربیع الاول میں تھا، مگر رات متعین نہیں کی گئی۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ ہجرت سے سولہ ماہ قبل ہوا، پس ذوالقعدہ میں تھا۔ اور بعض نے کہا کہ ہجرت سے تین سال پہلے ہوا، اور بعض نے پانچ سال، اور بعض نے چھ سال پہلے کہا ہے۔ تاہم ائمۂ نقل کے نزدیک درست بات یہ ہے کہ اسراء ایک ہی مرتبہ مکہ میں بعثت کے بعد اور ہجرت سے پہلے پیش آیا۔
تحویل قبلہ کا قصہ:
مسجدِ اقصیٰ کی اللہ کے نزدیک وہی تقدیس ہے جو مسجدِ حرام کی ہے، اگرچہ فضیلت کے اعتبار سے فرق ہے، مگر اللہ نے سفرِ اسراء کے ذریعے اس بابرکت سرزمین کو بھی شرف بخشنا چاہا، اور اس کے رہنے والوں کو بھی عزت عطا فرمائی۔
جب اللہ نے اپنے نبی کو پہلے قبلہ کے طور پر مسجدِ اقصیٰ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا تو اس میں مسلمانوں کے لیے یہ تاکید تھی کہ دونوں مساجد ان کے دلوں میں یکساں تقدیس رکھتی ہیں، کسی ایک میں کمی یا بیشی نہیں، اور مسجدِ اقصیٰ کی حرمت ویسی ہی ہے جیسی مسجدِ حرام کی۔
بلا شبہ جو مسجدِ اقصیٰ سے غفلت برتتا ہے وہ مسجدِ حرام سے بھی غفلت برتتا ہے، کیونکہ دونوں مساجد کو اللہ نے ایک مقدس رشتے سے جوڑا ہے، جس کی ابتدا سفرِِ اسراء و معراج سے ہوئی، اور انتہا اس پر ہوئی کہ دونوں کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دے کر ان کی صفوں کو متحد کیا گیا۔
مسلمانوں کا پہلا قبلہ تھا، اور اس نکتہ میں نہایت عظیم دلائل، واضح معانی، عقیدے کی گہرائی اور ایمانی وابستگی پائی جاتی ہے، کیونکہ قبلہ امت کی وحدت کا ذریعہ ہے، اگر ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق رخ کرے تو لوگ منتشر ہو جائیں اور سمتیں مختلف ہو جائیں، چنانچہ قبلہ کے مفہوم میں باہمی ربط، اخوت، نصرت، وحدت، وجود کی علامت اور قوت کا اظہار شامل ہے۔
جو پہلی صحابہ کی جماعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ ایمان لائی تھی، اسے قبائلی تعصبات اور جاہلی اثرات (جو عربیت و مسجد حرام سے وابستہ تھے) سے نجات دلانے کے لیے ابتدائی طور پہ اللہ رب العزت نے مسجدِ اقصی کو پہلا قبلہ بنایا ، یہاں تک کہ جب دل پاک ہو گئے اور اللہ واحد قہار کے لیے خالص ہو گئے تو اصل قبلہ یعنی مسجدِ حرام کی طرف واپسی کا حکم آیا، جو زمین میں سب سے پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لیے قائم کیا گیا۔
اگرچہ جاہلیت کے دور میں عربوں کی عبادت کا رخ کعبہ کی طرف ہوتا تھا، مگر یہ کسی حقیقی عقیدے کی بنا پر نہ تھا، بلکہ نسلی تعصب اور قومیت کی تعظیم کے باعث تھا۔ چنانچہ اسلام نے یہ ارادہ کیا کہ مسلمانوں کے دلوں سے عربی قوم اور اس کی عادات کے لیے ہر طرح کی جانبداری ختم کر دی جائے، اس لیے انہیں مسجدِ اقصیٰ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا، تاکہ دین اور عقیدے کے سوا ہر اس تصور کو مٹا دیا جائے جس کی وہ تعظیم کرتے تھے، پھر جب نفوس صاف ہو گئے اور مفاہیم درست ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ کعبہ سے وابستہ کر دیا۔
مسلمان اس قبلے پر، جس کی طرف انہیں سفرِ اسراء و معراج میں نماز کا حکم دیا گیا تھا، تقریباً سولہ ماہ تک قائم رہے، جیسا کہ امام بخاری نے ذکر کیا ہے: ہمیں ابو نعیم نے خبر دی، انہوں نے زہیر سے سنا، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے براءؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف سولہ ماہ یا سترہ ماہ تک نماز پڑھی۔
یہ سولہ ماہ اس واقعے کے درمیان تھے جس میں امت پر نماز فرض کی گئی، اور اس واقعے کے درمیان جس میں اللہ نے مسلمانوں کا قبلہ تبدیل فرمایا، بیت المقدس سے بیت الحرام کی طرف۔ چنانچہ قبلہ کی تبدیلی شعبان کے وسط میں ہوئی، اور بعض کے نزدیک رجب کے وسط میں، ہجرت کے دوسرے سال، مگر اصل سبق یہ ہے کہ یہ دونوں عظیم واقعات دو مساجد کے درمیان رونما ہوئے، جن کے درمیان کوئی تفریق نہیں، مسجدِ اقصیٰ اور مسجدِ حرام۔
یہ سفر معراج سے نماز کے فرض ہونے سے شروع ہوا اور نماز کی قبلہ گاہ کے مسجدِ حرام کی طرف منتقل ہونے پر اختتام پذیر ہوا۔ اگر ہم مسلمانوں کے قبلے میں مشترک پہلوؤں پر غور کریں تو ہمیں ماضی اور حال دونوں میں یہود کی موجودگی دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ اللہ سبحانہٗ نے اپنے نبی کو مسجدِ اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ نفوس میں جمی ہوئی عصبیت اور قبائلیت ختم ہو جائے، مگر ہجرت کے بعد یہی عصبیت اور قبائلیت ایک دوسری قوم کی طرف سے ظاہر ہوئی جو مسجدِ اقصیٰ کو اپنا قبلہ بنائے ہوئے تھی، یعنی یہود ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طعنہ دیتے اور کہتے تھے: تم ہمارے تابع ہو، ہمارے قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہو۔
اس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید رنج پہنچا، آپ رات کے پچھلے پہر آسمان کے کناروں کی طرف دیکھنے نکلے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر رہے۔ پھر جب صبح ہوئی اور ظہر کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم نازل فرمایا:
{قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ}، ترجمہ: یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدِ حرام کی طرف رُخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خُوب جانتے ہیں کہ﴿تحویلِ قبلہ کا ﴾یہ حکم ان کے ربّ ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں،اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔ [البقرہ: 144]
یوں یہ سفرِ اسراء و معراج کی وہ تفصیلات تھیں جو اللہ عز وجل کی قدرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ سے بیت المقدس تک، پھر وہاں سے آسمانوں کی بلندیوں تک، پھر سدرة المنتہیٰ تک اور پھر آسمانوں اور زمینوں کے جبار سے ملاقات تک مکمل ہوئیں، تاکہ مکہ اور اس کے باہر کے نہایت کٹھن حالات میں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور دلجوئی کا سبب بنے۔
مترجم: زعیم الرحمان