کچھ مطالعات نے عید الفطر کے موقع پر اُن بھولی بسری سنتوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو جدیدیت کے بڑھتے ہوئے مظاہر کے باعث پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ اس جدید طرزِ زندگی نے بہت سے ایسے اعمال اور اقوال کو نظروں سے اوجھل کر دیا ہے جن کی پابندی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جلیل القدر صحابہ بڑی اہتمام سے کیا کرتے تھے، کیونکہ یہی امور اس دینِ حنیف کی نمایاں شعائر کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ دین جس میں کسی باطل کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہیں نہ اگے سے نہ پیچھے سے اور جو اپنے ماننے والوں کو دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی کی راہ دکھاتا ہے۔
عید خوشی، امید اور خوش فہمی کی ایک وسیع فضا کا نام ہے۔ اس دن مومن اپنے دین سے وابستگی کی خوشی کو نئے سرے سے محسوس کرتا ہے۔ عید الفطر، جسے بعض لوگ “عیدِ صغیر” (چھوٹی عید) بھی کہتے ہیں، دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے، کیونکہ یہ ایک پورے مہینے کی عبادت کے اختتام پر آتی ہے، اور وہ مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اسی لیے یہ دن بڑی مسرت کا دن اور انعام کا دن ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قرار دیا ہے۔
عید الفطر کی بھولی ہوئی سنتیں
دنیا بھر کے مسلمان ہر سال عید الفطر کی آمد پر خوشی مناتے ہیں۔ یہ وہ مبارک دن ہے جو اطاعت و عبادت اور خیر و برکت سے بھرپور ماہِ رمضان کے اختتام پر آتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ عید کا دن بھی عبادات، نیکیوں اور سنتوں سے خالی نہیں ہے۔ اس دن بھی بعض ایسے اعمال ہیں جن پر عمل کرنے سے مسلسل اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ ان بھولی بسری سنتوں میں چند درج ذیل ہیں:
نمازِ عید سے پہلے کچھ کھا لینا
عید الفطر کے دن سنت ہے کہ مسلمان نماز کے لیے نکلنے سے پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھا لے۔ اس عمل میں اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ آج کے دن روزہ نہ رکھنے کا حکم ہے، اور یوں یہ دن سابقہ دنوں سے ممتاز ہو جاتا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن اس وقت تک نماز کے لیے نہیں نکلتے تھے جب تک چند کھجوریں نہ کھا لیتے۔” [بخاری]
اسی طرح حضرت بریدہؓ بیان کرتے ہیں کہ: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن اس وقت تک گھر سے نہیں نکلتے تھے جب تک کچھ کھا نہ لیتے، اور عید الاضحیٰ کے دن نماز پڑھنے سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے۔” [صحیح ترمذی]
کھلے میدان میں نمازِ عید ادا کرنا
کچھ عرصہ پہلے تک یہ سنت بھی بہت حد تک فراموش ہو چکی تھی، یہاں تک کہ بعض علماء اور لوگ کھلے میدان میں نماز ادا كرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ اگر موسم سازگار ہو تو مسجد کے بجائے کھلے میدان میں نمازِ عید ادا کرنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس طرح زیادہ سے زیادہ مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ایک جگہ جمع ہو کر اس خوشی اور اجتماع کا منظر دیکھتے اور اس میں شریک ہوتے ہیں۔ مشہور عالم شیخ محمد متولی الشعراوی کے مطابق عید کی نماز کھلے میدان میں ادا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس سے نماز کی عظمت بھی نمایاں ہوتی ہے اور مسلمانوں کے اجتماعی اجتماع کا خوبصورت منظر بھی سامنے آتا ہے، جب سب لوگ اپنی بہترین حالت میں ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔
پیدل عیدگاہ کی طرف جانا
سنت یہ بھی ہے کہ اگر ممکن ہو تو عیدگاہ تک پیدل جایا جائے۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز کے لیے پیدل تشریف لے جاتے تھے اور واپس بھی پیدل آتے تھے۔” [ابن ماجہ، حدیث حسن]
اس عمل میں مساوات اور بھائی چارے کا ایک خوبصورت پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے۔ جب سب لوگ ایک ساتھ پیدل چلتے ہیں تو غریب کو یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ امیر لوگ اپنی گاڑیوں میں جا رہے ہیں، اور راستے میں باہمی محبت، ہمدردی اور الفت کے جذبات بھی فروغ پاتے ہیں۔ البتہ اگر عیدگاہ دور ہو یا پیدل جانا دشوار ہو تو سواری استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں: “عید الفطر کی تین سنتیں ہیں: عیدگاہ تک پیدل جانا، نماز سے پہلے کچھ کھانا، اور غسل کرنا۔” [اسناد صحیح]
ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا
عید کے دن ایک سنت یہ بھی ہے کہ مسلمان عیدگاہ جاتے وقت ایک راستہ اختیار کرے اور واپسی پر دوسرا راستہ لے۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں کہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن راستہ بدل لیا کرتے تھے۔” [بخاری]
علماء نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ قیامت کے دن یہ دونوں راستے اس شخص کے حق میں گواہی دیں گے کہ وہ نمازِ عید کے لیے نکلا تھا۔
عورتوں اور بچوں کا نمازِ عید کے لیے نکلنا
عید الفطر کی ان سنتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورتیں اور بچے نمازِ عید کے لیے عیدگاہ جائیں۔ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ جن حالات سے دوچار رہی ہے جیسے مختلف علاقوں میں قبضہ، دین کی ظاہری علامتوں کے خلاف فضا، اور اسلامی شعائر کو مکمل طور پر ادا نہ کر پانا ان سب نے بہت سی سنتوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اگرچہ اب حالات پہلے کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت اور ہدایت پر عمل کرنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔
خصوصاً عورتوں کے عیدگاہ جانے کے معاملے میں بعض لوگ تردد کا شکار ہوتے ہیں، اور بہت سی عورتیں خود بھی باہر نکلنے سے ہچکچاتی ہیں، حالانکہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت ہے کہ عید کی خوشی اور برکت میں سب شریک ہوں۔ یہاں تک کہ حائضہ عورتوں کو بھی عیدگاہ آنے کی اجازت دی گئی ہے، البتہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔
اسلام جو كہ ايک فطرى اور متواون دين ہے اور انسانی طبیعت کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اسی لیے اس نے عورتوں کو حتیٰ کہ ایامِ حیض میں بھی عیدگاہ جانے کی اجازت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ چند شرائط اور آداب بھی بیان کیے ہیں۔ مثلاً عورت زینت اور بناؤ سنگھار کے ساتھ نہ نکلے، خوشبو لگا کر نہ آئے، ایسے لباس نہ پہنے جو مردوں کی توجہ اپنی طرف کھینچیں، غیر محرم مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچے، غیر محرموں سے مصافحہ نہ کرے، اور تکبیر اتنی بلند آواز سے نہ کہے کہ غیر محرم مرد سنیں، بلکہ صرف اتنی آواز میں کہے کہ خود سن سکے یا اس کے ساتھ موجود عورتیں یا محرم سن سکیں۔
حضرت امِّ عطیہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ: “ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن ہم باہر نکلیں، یہاں تک کہ کنواری لڑکیوں کو بھی ان کے پردوں سے نکالا جاتا اور حائضہ عورتیں بھی نکلتی تھیں۔ وہ لوگوں کے پیچھے رہتی تھیں، مسلمانوں کے ساتھ تکبیر کہتی تھیں اور ان کے ساتھ دعا میں شریک ہوتی تھیں، اور اس دن کی برکت اور پاکیزگی کی امید رکھتی تھیں۔” [بخاری]
نمازِ عید کے لیے جلدی جانا اور تکبیر بلند آواز سے کہنا
عید الفطر کی ان بھولی ہوئی سنتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان نمازِ عید کے لیے جلدی عیدگاہ پہنچے۔ بدقسمتی سے حالیہ زمانے میں لوگوں میں یہ عادت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ نمازِ عید کے لیے تاخیر سے آتے ہیں، یہاں تک کہ امام نماز شروع کرنے کے قریب ہوتا ہے، پھر سب لوگ جلدی جلدی دوڑتے ہوئے آتے ہیں تاکہ تکبیرِ تحریمہ میں شامل ہو سکیں۔ یہ منظر افسوسناک ہوتا ہے، حالانکہ صحابۂ کرامؓ کے طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عیدگاہ کی طرف سکون اور اطمینان کے ساتھ جلدی روانہ ہوتے تھے۔
ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ابن علیہ نے ایوب اور انہوں نے نافع سے روايت كيا کہ: “حضرت عبداللہ بن عمرؓ مسجدِ نبوی میں فجر کی نماز ادا کرتے، پھر اسی حالت میں عیدگاہ کی طرف روانہ ہوجاتے تھے۔” (اس کی سند صحیح ہے)۔ امام بغویؒ فرماتے ہیں: “لوگوں کے لیے مستحب ہے کہ فجر کی نماز کے بعد عیدگاہ کی طرف جلدی روانہ ہوں تاکہ اپنی جگہیں حاصل کر سکیں۔”
اسی طرح عید کے لیے امام کے آنے تک بلند آواز سے تکبیر کہنا بھی ان سنتوں میں سے ہے جو آج کل کم نظر آتی ہیں۔ صحابۂ کرامؓ جب عیدگاہ کی طرف جاتے تھے تو راستے میں بھی تکبیر کہتے تھے اور عیدگاہ میں بھی۔ بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے دن فضل بن عباس، عبداللہ، عباس، علی، جعفر، حسن، حسین، اسامہ بن زید، زید بن حارثہ اور ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلتے اور بلند آواز سے تہلیل اور تکبیر کہتے تھے۔” [حدیث حسن]
افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سے لوگ عیدگاہ جاتے ہوئے تکبیر بلند آواز سے کہنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس کا ایک بہتر طریقہ یہ ہے کہ لوگ جماعت کی صورت میں عیدگاہ کی طرف جائیں اور تکبیرات بلند آواز سے پڑھتے رہیں۔ دارقطنی نے روایت کیا ہے کہ: “حضرت ابن عمرؓ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن جب عیدگاہ کی طرف جاتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے رہتے یہاں تک کہ عیدگاہ پہنچ جاتے، اور پھر امام کے آنے تک تکبیر کہتے رہتے تھے۔” [صحيح]
عید کا خطبہ منبر پر نہ دینا
عید الفطر کی ایک اور بھولی ہوئی سنت یہ ہے کہ عید کا خطبہ منبر پر نہ دیا جائے۔ راجح قول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے خطبے کے لیے منبر استعمال نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے۔ سب سے پہلے نماز ادا کرتے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کھڑے ہوجاتے جب کہ لوگ صفوں میں بیٹھے ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نصیحت فرماتے، وصیت کرتے اور احکام دیتے۔ اگر کسی لشکر کو روانہ کرنا ہوتا تو اس کا حکم دیتے یا کسی اور معاملے کا فیصلہ فرماتے، پھر واپس تشریف لے جاتے۔” حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ: “لوگ اسی طریقے پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ میں مروان کے ساتھ عیدگاہ گیا۔ وہ مدینہ کا امیر تھا۔ جب ہم عیدگاہ پہنچے تو دیکھا کہ وہاں ایک منبر بنایا گیا ہے جسے کثیر بن الصلت نے تیار کیا تھا۔ مروان نماز سے پہلے اس پر چڑھ کر خطبہ دینا چاہتا تھا۔ میں نے اس کے کپڑے کو کھینچا مگر وہ اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے طریقہ بدل دیا ہے۔ اس نے جواب دیا: اے ابو سعید! جو تم جانتے ہو وہ زمانہ گزر چکا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا۔ اس نے کہا: لوگ نماز کے بعد ہمارے خطبے کے لیے نہیں بیٹھتے تھے، اس لیے میں نے اسے نماز سے پہلے کر دیا۔” [بخاری]
امام ابن رجبؒ فرماتے ہیں: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر خطبات مسجد میں منبر پر ہوتے تھے، سوائے عیدین اور حج کے مواقع کے۔”
اسی طرح مسلمان کو چاہیے کہ عید سے واپس آنے کے بعد گھر میں دو رکعت نماز ادا کرنا نہ بھولے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز ادا نہیں کرتے تھے، لیکن جب گھر واپس تشریف لاتے تو دو رکعت پڑھتے تھے۔” (اسے ابن ماجہ، احمد، ابن خزیمہ، حاکم اور سیوطی نے روایت کیا ہے)۔ البتہ بعض علماء اسے سنت نہیں سمجھتے اور بہت سے صحابہ سے بھی اس کا اہتمام منقول نہیں۔
عید کو خوشی اور الله كى اطاعت کا دن کیسے بنایا جائے؟
جس طرح عید الفطر کی بھولی ہوئی سنتوں پر عمل کرنے سے ثواب ملتا ہے اور ایمان تازہ ہوتا ہے، اسی طرح کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جو عید کی خوشی میں اضافہ کرتے ہیں اور خاندان اور معاشرے میں محبت کو مضبوط بناتے ہیں۔ مثلاً:
پرسکون رہیں
عید خوشی اور مسرت کا دن ہے، اس میں غصہ اور سختی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے اس دن کو اپنے گھر والوں کے لیے خوشی سے غم اور مسرت سے اداسی میں تبدیل نہ کریں۔ گھر کے سربراہ کو چاہیے کہ صبحِ عید اپنے بچوں پر چیخنے چلانے سے گریز کرے تاکہ خوشی کا ماحول خراب نہ ہو۔۔ اسی طرح میاں بیوی کو بھی عید کے دن رشتہ داروں کی ملاقات کے پروگرام پر جھگڑنے سے بچنا چاہیے کہ ہر ایک الگ گاڑی میں نکل جائے یا ان میں سے کوئی ایک گھر میں ہی بیٹھا رہے اور رشتہ داروں کو عید کی مبارک باد دینے سے انکار کر دے۔
خود غرضی سے بچیں
خود غرضی ایک بری صفت ہے۔ اس کا حامل تنگ دل ہوتا ہے اور اس کی نظر صرف اپنی ذات تک محدود رہتی ہے۔ اسلام نے عید کو صرف ایک شخص کی خوشی نہیں بلکہ سب کی خوشی کا دن قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ درست نہیں کہ کوئی شخص اپنی خوشی دوسروں کی خوشی کو نظر انداز کر کے منائے۔ مثال کے طور پر اگر باپ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ سیر و سفر پر چلا جائے اور اپنی بیوی اور بچوں کو گھر میں اکیلا چھوڑ دے، گویا وہ باپ کے بغیر یتیم ہوں، تو ایسی صورت میں عید کی خوشی بے معنی ہو جاتی ہے اور اس میں نہ کوئی لطف رہتا ہے اور نہ رنگ۔
عیدی دینا
بچے عید کے دن کا بڑی بے چینی اور شوق سے انتظار کرتے ہیں تاکہ کھیلیں، خوش ہوں اور بڑوں سے عیدی حاصل کریں۔ عید کے دن اہلِ خانہ پر خرچ کرنا اور انہیں خوش کرنا بڑی اہم بات ہے۔ حتیٰ کہ بیوی کو بھی اگر شوہر عیدی یا کوئی تحفہ دے تو اسے بہت خوشی ہوتی ہے۔
اپنی اصلاح کریں
زندگی میں کبھی کبھی رنجشیں اور ناراضگیاں پیدا ہو جاتی ہیں، خاص طور پر رشتہ داروں کے درمیان۔ عید کی برکت یہ ہے کہ یہ دلوں کی دوریاں مٹا دیتی ہے اور محبت اور نرمى پیدا کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مومنوں کی آپس کی محبت، رحم دلی اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی مانند ہے کہ اگر اس کا ایک عضو تكليف ميں ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔” [مسلم]
خاندانی کھانا
بہت سے خاندانوں میں یہ اچھی روایت ہے کہ عید کے دن سب لوگ اکٹھے ہوکر دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں۔ اس سے محبت اور باہمی تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ ادیب مصطفیٰ صادق رافعی نے عید کی خوبصورت تعبیر کرتے ہوئے کہا: “گویا عید امت میں ایک خاندان کی روح کو آزاد کر دیتی ہے، یہاں تک کہ پورا شہر ایک گھر بن جاتا ہے جس میں اخوت عملی صورت میں نظر آتی ہے۔”
نمازِ عید میں شرکت
مسلمان کو چاہیے کہ اس عظیم عبادت کو ضائع نہ کرے۔ رات بھر فضول مشغلے میں جاگنا اور پھر فجر اور عید کی نماز سے غفلت برتنا درست نہیں۔
یتیموں كا اكرام (یتیموں کی دلجوئی)
عید کے دن صرف اپنے بچوں کو خوش کرنا کافی نہیں بلکہ ان یتیم بچوں کو بھی تلاش کریں جن کا کوئی سہارا نہیں۔ ان کے ساتھ نرمی کریں اور انہیں خوشی دیں اور ثواب کی نیت سے ان کی دلجوئی کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے”، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت اور درمیانی انگلی کو قریب کر کے دکھایا۔ [بخاری]
آخر میں
عید الفطر کی بھولی ہوئی سنتوں کو جاننا اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ لوگ ان سے غافل نہ رہیں اور اس عظیم اجر سے محروم نہ ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔
عید کے دن اہلِ خانہ کے لیے اچھی خوراک اور نعمتوں کا اہتمام کرنا چاہیے، بیوی بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے اور انہیں خوش کرنا چاہیے، چاہے ایک مسکراہٹ سے يا ايک محبت بهرے بوسہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح رشتہ داروں سے صلہ رحمی، یتیموں اور پڑوسیوں کے ساتھ ہمدردی کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
مترجم: ڈاکٹر سیار احمد نجار