سوال:
میرا ایک دس سال کا بیٹا ہے جو اپنے بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر ہے ۔ اس میں اور اس کے بڑے بہن بھائیوں میں عمر کا کافی فرق ہے۔ اسی لیے اسے تمام بہن بھائیوں کی طرف سے وافر مقدار میں لاڑ و پیار اور محبت ملی ہے۔ وہ بہت ذہین اور سمجھدار بچہ ہے، ادب، سائنس اور ریاضی میں بہت طاق ہے، تاہم، اس کی پیدائش کے دو سال بعد، ہمیں اللہ نے بیٹی سے نوازا، جس کے بعد اسے بھی خاندان کی طرف سے وہی گرمجوشی اور محبت ملی۔ میری یہ بیٹی بہت سادہ لیکن پرکشش شخصیت رکھتی ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ روادار، ملنسار اور لوگوں سے محبت کرتی ہے، اس کی وجہ سے اس کی محبت کا دائرہ دوسروں میں پھیل گیا ہے، اور اس چیز نے اس کے بھائی کی نفسیات کو اس حد تک متاثر کیا کہ اس نے اپنی زندگی میں جو پہلا جملہ لکھا وہ اپنی چھوٹی بہن کے لیے تھا: “موت مبارک، اے بہن…” اور اس نے اس کا نام لکھا!
بات یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ جب وہ اس کے ساتھ اسکول گئی تو وہاں اسے بہت سے دوست اور چاہنے والے مل گئے، جب کہ میرا یہ بیٹا خود دوست بنانے سے قاصر رہا ۔ اسی طرح وہ پیشاب پر قابو نہ ہونے کے مسئلے کا شکار بھی ہوگیا جس میں اس کا پیشاب غیر اختیاری طور پہ نکل جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا اپنی بہن کے ساتھ مسلسل جارحانہ رویہ، اسے کمتر سمجھنا، اور ہمیشہ اسے احمق، فضول اور حقیر کہنا بھی شامل ہوتا گیا۔ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب اس نے جان بوجھ کر ایسے اوقات میں جاگنا شروع کر دیا جب وہ سو رہی ہوتی ہے، اور اس کی بیداری کے وقت خود سو جاتا ہے تاکہ اس سے سامنا نہ ہو۔ میں اس بات پر شدید فکرمند ہوں کہ ان دونوں کے درمیان کی کیفیت غیرت سے بڑھ کر حسد اور نفرت کے درجے سے قریب محسوس ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا میرا یہ احساس درست ہے کہ مسئلہ واقعی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے؟ خاص طور پر اس لیے کہ ان کے والد کا کہنا ہے کہ یہ ایک فطری بات ہے اور وقت ایسے معاملات میں خود علاج کا کام کرتا ہے۔ مجھے اس بچے کے بارے میں شدید خوف لاحق ہے، بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس میں حقیقت پسندانہ سوچ کی کمی ہے، اور اس کی بعض حرکات غیر معقولیت کی طرف مائل دکھائی دیتی ہیں۔ میں اسے ایک ماہرِ نفسیات کے پاس لے گئی، جنہوں نے کہا کہ اسے کھیلوں اور ذہنی سرگرمیوں میں شامل کر کے رویّہ کے علاج کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے پاس نہ اتنا وقت ہے، نہ علاقے میں ایسی سہولت میسر ہے کہ ہم اسے ادھر ادھر لے کر دوڑتے پھریں۔ تو کیا ہمارے دائرۂ استطاعت اور توانائی کے اندر کوئی آسان اور قابلِ عمل حل موجود ہے؟
جواب:
محترمہ سائلہ!
جب میں نے آپ کا پیغام پڑھا تو فوراً مجھے وہ احادیث یاد آئیں جن میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غارت أمكم یعنی تمہاری ماں کو غیرت آ گئی، اور اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ پس غیرت ایک انسانی فطرت ہے، وہ فطری جذبہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ یہ حدیث ہمیں اس شخص کی کیفیت بتاتی ہے جو غیرت میں مبتلا ہو، گویا اس پر اس کا شیطان آن حاضر ہوتا ہے۔
روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے باہر تشریف لے گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے غیرت آ گئی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور جو میں کر رہی تھی اسے دیکھ کر فرمایا: عائشہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیا تمہیں غیرت آ گئی ہے؟ میں نے عرض کیا: مجھ جیسی عورت کو آپ جیسے شوہر پر غیرت کیوں نہ آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس تمہارا شیطان آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا ہر انسان کے ساتھ؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: اور آپ کے ساتھ بھی، یا رسول اللہ؟ فرمایا: ہاں، لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی یہاں تک کہ وہ مطیع ہو گیا۔
لہٰذا جب ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ غیرت (جو کبھی بڑھ کر حسد کا روپ دھار لیتی ہے جو دراصل شیطان کی کاوش ہوتی ہے جیسا کہ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ مترجم) ایک فطری امر ہے، جو امہات المؤمنین تک کو لاحق ہوئی، تو ہم اپنے بچوں کے رویّوں کو دیکھتے ہوئے زیادہ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم ایسے وسائل تلاش کرتے ہیں جو ہمارے شیطان پر قابو پانے میں ہماری مدد کریں۔ ہم اگرچہ اپنے محبوب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے، مگر سیکھ تو سکتے ہیں، ان کی پیروی تو کر سکتے ہیں اور کوشش کر سکتے ہیں کہ اسی راستے پر چلتے رہیں۔
پھر ظاہر ہے کہ علاج کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے غیرت (اور حسد) کی حقیقت اور اس کے اسباب کو سمجھیں۔
بچوں میں حسد کی حقیقت
یہ ایک ایسا احساس ہے جس کے ساتھ دل کی کیفیت بدل جاتی ہے اور اس میں تین جذبات شامل ہوتے ہیں: غم، اضطراب اور غصہ۔ غم وہ کیفیت ہے جو اس وقت دل میں پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی دوسرے کو اس چیز میں شریک دیکھتا ہے جسے وہ اپنا خالص حق سمجھتا ہے، اور یہی غم ابتدائی اور کم تر درجے کی صورت ہے۔
اس کے بعد پھر اضطراب کے احساسات آتے ہیں جو ایسی سوچ کو جنم دیتے ہیں: کیا میں محبت کے لائق ہوں؟ لوگ مجھے چھوڑ کر میری بہن کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ کیا میں واقعی اتنا برا ہوں؟ اس امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وغیرہ۔
یوں غصے کے جذبات داخل ہونا شروع ہوتے ہیں، اور انسان اپنے غصے کے اخراج کے لیے انتقامی رویّے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ اور انتقام سے مراد لازماً شدید ترین رویّہ اختیار کرنا نہیں ہوتا؛ کبھی وہ بلا وجہ بہن کو دھکا دے دیتا ہے، یا اس کے کچھ کھلونے چھپا دیتا ہے، یہ غصے کی نچلی سطح کی مثالیں ہیں۔ جب کہ نفرت آمیز پیغام جو اس نے لکھا، غصے کے ردِعمل کی ایک بلند سطح پر آتا ہے۔
تاہم اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنے، رویّے کے محرکات کو سمجھنے، غصے کے نظم و ضبط کو سیکھنے اور علاج کی سمت مسلسل پیش قدمی کے ذریعے، ان جذبات کو بدلا جا سکتا ہے اور انہیں محبت، مودّت اور سکون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پس جب ہم نے غیرت اور حسد کا مفہوم سمجھ لیا، اور ردِعمل کی سطحوں کو سادہ سے لے کر پیچیدہ تک مکمل دیکھ لیا، تو والدین کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ معاملات کو اس حد تک نہ پہنچنے دیں جہاں مداخلت مشکل ہو جائے، یا صورتِ حال اس قدر بگڑ جائے کہ حل ایک طویل، تھکا دینے والا اور خاندانی وسائل کو کھا جانے والا سفر بن جائے۔
بچوں میں حسد کے اسباب
جی ہاں، بچے بھی حسد محسوس کرتے ہیں اور بڑے بھی، اگر ہم کچھ ایسے رویّے اختیار کریں جو اس صورت حال کو جنم دیتے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
حد سے زیادہ حفاظت:
چوںکہ معاملہ بیٹے اور بیٹی کے درمیان ہے، اس لیے فطری طور پر بیٹی کے ساتھ زیادہ حفاظتی رویّہ اختیار کیا جاتا ہے، جیسا کہ اکثر گھروں میں ہوتا ہے کہ بیٹیوں کے بارے میں زیادہ خدشات رکھے جاتے ہیں اور انہیں بیٹوں کے مقابلے میں زائد تحفظ دیا جاتا ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ بیٹے کو اس احساس کی طرف متوجہ کیا جائے کہ وہ ایک ذمہ دار اور بڑا شخص ہے، تاکہ اس کے اندر اپنی بہن کے لیے مثبت جذبات پیدا ہوں، کہ وہ ایک مرد ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے، یوں وہ آپ کے ساتھ مل کر محافظ بنے، نہ کہ خود کو اضافی توجہ سے محروم سمجھے۔
حد سے زیادہ خوف:
یہ بھی حسد کے جذبات کو جنم دیتا ہے، اور یہ کیفیت بھی عموماً بیٹیوں کے معاملے میں بیٹوں سے زیادہ پائی جاتی ہے، کیونکہ لڑکیوں کو فطری طور پر کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اولاد کے بارے میں عمومی خوف ایک فطری امر ہے، لیکن جب یہ مختلف حالات میں حد سے بڑھ جائے، جیسے باہر دیر ہو جانا، بیماری وغیرہ، اور بیٹا یہ محسوس کرے کہ بہن کے لیے خوف اور تشویش کی سطح اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، تو یہی خوف حسد کی ایک وجہ بن جاتا ہے۔
حد سے زیادہ لاڈ پیار:
عام طور پر لاڑ پیار کا تعلق بیٹیوں سے زیادہ جوڑا جاتا ہے بہ نسبت بیٹوں کے۔ لڑکیوں سے متعلق اشیاء اور ماحول خود ہی ناز و نعم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اگر ہم ان کا موازنہ لڑکوں کی چیزوں سے کریں۔ اس کے ساتھ یہ سماجی تصور بھی پایا جاتا ہے کہ بیٹیوں کو لاڈ دیا جائے اور بیٹوں کے ساتھ سختی کی جائے تاکہ وہ مرد بنیں۔ یہ رویّہ بیٹوں کے دل میں خلش پیدا کرتا ہے، وہ اس کے پس منظر کو نہیں سمجھ پاتے اور اسے محض اضافی لاڈ پیار کے طور پر لیتے ہیں۔ حالاں کہ ہر معاملے میں اعتدال مطلوب ہے۔
عدل نہ کرنا:
اگرچہ آپ کا مسئلہ بیٹے اور بیٹی کے درمیان ہے، اور اوپر بیان کردہ تین امور میں توازن قائم رکھنا بعض اوقات بیٹیوں کی فطری ساخت کے باعث مشکل ہو جاتا ہے، جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رفقًا بالقواریر، انہیں شیشیاں کہا… شیشی نرمی سے سنبھالی جاتی ہے اور آسانی سے ٹوٹ سکتی ہے، اس لیے بیٹیوں کے معاملے میں کچھ زائد حفاظت، کچھ زائد خوف اور کچھ زائد لاڑ پیار گنجائش رکھتا ہے، لیکن جس چیز کی کسی حال میں اجازت نہیں، وہ ہے بے عدلی۔
والدین عدل کے مفہوم کو سمجھنے اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرنے کے معاملے میں اکثر تذبذب کا شکار رہتے ہیں، چنانچہ یہاں ہمیں دو امور کے درمیان فرق کرنا ہوگا: ایک نفقہ یعنی ضروریات میں عدل، اور دوسرا ہدیہ یعنی آسائشات میں عدل۔
نفقہ ضرورت کے مطابق ہوتا ہے، اور ہر اولاد کی ضرورت اس کی عمر، تعلیمی مرحلے، صحت اور بیماری کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے، لہٰذا اس میں اصل معیار ضرورت ہی ہے۔ جب کہ ہدیہ وہ معاملہ ہے جس میں عدل لازم ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی باپ نے اپنے ایک بیٹے کو گاڑی ہدیہ کی اور دوسرے کو دینے کا وعدہ کیا، مگر دوسرے کو ہدیہ دینے سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا، تو ورثاء پر لازم ہے کہ ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے گاڑی کی قیمت الگ کر کے دوسرے بیٹے کو دیں، تاکہ اس عدل کو نافذ کیا جا سکے جس کا ارادہ باپ نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یوں بیٹے کا دل مطمئن ہوگا اور امتیاز و حسد کی آگ بجھ جائے گی۔
اسی طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جیسے کوئی باپ اپنی زندگی میں شادی شدہ اولاد کو ماہانہ رقم دیتا ہے اور بیٹے اور بیٹی کے درمیان مساوات رکھتا ہے، پھر جب اس کا انتقال ہو جاتا ہے تو سب کو شرعی حصے کے مطابق حق ملتا ہے۔ باپ کی زندگی میں عدل کا مفہوم ہدیے میں مساوات تھا، اور اس کی وفات کے بعد عدل کا مفہوم وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے شریعت میں مقرر فرمایا ہے، اس وقت کسی ایسی وصیت کا کوئی محل نہیں رہتا جو کسی کو کسی پر ترجیح دے۔
اسی طرح عدل اعلیٰ اقدار میں سے ایک قدر ہے، اور اس کے نفاذ کی سعی و کوشش اولاد کے درمیان موجود نفسیاتی گرہیں کھول دیتی ہے، ان کے مابین فاصلے کو کم کرتی ہے، اور حسد و رقابت کے اثرات اور اس کے ناگوار نتائج کو محدود کر دیتی ہے۔
موازنہ کرنا:
یہ اولاد کے درمیان بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے، اس لیے کسی بھی موقع پر، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اپنے بیٹے اور بیٹی کے درمیان کارکردگی کا موازنہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ موازنہ حسد کی چنگاری کو بھڑکاتا اور اسے ہوا دیتا ہے، اور اولاد کے مابین فطری و انفرادی تفاوت کا لحاظ نہیں رکھتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ بیٹے کا موازنہ اسی کے اپنے گزشتہ حال اور اس کی ترقی کے درجے سے کیا جائے، اور اسی طرح بیٹی کا بھی، نہ کہ ایک کو دوسرے کے مقابل رکھا جائے۔
چھوٹا بچہ:
چھوٹا بچہ، اکثر والدین کا دل اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، اور وہ لاشعوری طور پر اسے زیادہ لاڑ پیار دیتے ہیں، جسے بڑا بچہ محسوس کر لیتا ہے، یوں حسد کی بنیاد بہت ابتدائی مرحلے میں پڑ جاتی ہے۔
بہت سے والدین نے اس نکتے کی طرف توجہ دی ہے، اسی لیے وہ زچگی کے سامان کے ساتھ ساتھ بڑے بچے کے لیے ایک تحفہ بھی تیار رکھتے ہیں، گویا یہ تحفہ نومولود کی طرف سے ہو۔ اس طرح یہ تحفہ حسد کے ابتدائی جذبات کو ختم کر دیتا ہے اور بڑے بچے کی توجہ شیر خوار سے ہٹا دیتا ہے، کیونکہ وہ جو کل تک سب کچھ تھا، اب اچانک خود کو نظر انداز ہوتا محسوس کرتا ہے۔ آپ کے معاملے میں ممکن ہے کہ آپ لوگوں نے چھوٹی بچی کی پیدائش کے وقت اس ذہنی تیاری کو نظر انداز کر دیا ہو، جس کے نتیجے میں بیٹے میں حسد کے جذبات نہایت تیزی سے بڑھے اور گہرے ہو گئے۔
تربیت میں کوتاہی کی تلافی
جب ہم کھانے کے آغاز میں بسم اللہ کہنا بھول جائیں تو کیا کہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں: بسم اللہ أوله وآخره۔ یعنی اللہ ہی کے نام سے شروع اور آخر ہے۔ اسی طرح تربیت میں بھی، اگر ہم سے کوئی بات رہ جائے تو یہ نہیں کہتے کہ اب وقت گزر چکا ہے، بلکہ اللہ کے اذن سے اس کی تلافی ممکن ہے، گویا ہم اپنی تربیت میں ہونے والی کوتاہی پر بھی بسم اللہ أوله وآخره کہہ لیتے ہیں۔
چنانچہ آپ اپنی بیٹی سے بات کر سکتی ہیں اور کسی عید یا کامیابی کے موقع پر اس کے بھائی کے لیے ایک تحفہ لا سکتی ہیں، اور اچھے انداز سے اسے پیش کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ دونوں کے درمیان جذبات کو بہتر بنانے کا سبب بنتا ہے، ان شاء اللہ، جیسا کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا: تهادوا تحابوا۔ “تحفے دو تاکہ محبت کرو”۔
بچوں میں حسد کا علاج
ہم پہلے حسد کے اسباب بیان کر چکے ہیں، جن میں بعض حل بھی شامل تھے، اب باقی یہ رہ جاتا ہے کہ ہم بڑے اپنے اس بیٹے کو قبول کریں جو حسد کے جذبات میں گھرا ہوا ہے، اس کے احساسات کو تسلیم کریں، اور بعض امور کے بارے میں اس کی غلط فہمی کی اصلاح کریں، اور اس سے غیر مشروط محبت کریں، کیونکہ جتنا اسے ہماری طرف سے قبولیت ملے گی، وہ اتنا ہی پُرسکون ہوگا اور اس کا حسد کم ہوتا جائے گا۔ اسی طرح جب اس کا وقت گھر کے اندر اور باہر مفید سرگرمیوں میں مصروف ہوگا تو وہ فراغت کم ہو جائے گی جو انسان کے اندر کی ہر خوبصورتی کو ختم کر دیتی ہے۔
اور جان لو، اے محترم ماں، کہ حسد کے دو رویے ہوتے ہیں: (کنارہ کش / جارحانہ) اہلِ خانہ کو بعض اوقات جارحانہ رویّہ پریشان کرتا ہے، جیسے بیٹے کی طرف سے اپنی بہن کے نام لکھی گئی تحریر، لیکن جو چیز ہمیں اس سے بھی زیادہ تشویش میں مبتلا کرتی ہے وہ کنارہ کشی کا رویّہ ہے، جیسا کہ تمہارے بیٹے نے بھی کیا کہ اس نے سونے جاگنے کے اوقات بدل لیے تاکہ بہن سے سامنا نہ ہو۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی اصلاح پر سب سے پہلے توجہ دینی چاہیے، اور یہ کام اس طرح ہو کہ گھر کے تمام افراد کے لیے سونے اور جاگنے کے عمومی اوقات مقرر کر دیے جائیں، بغیر اس کے کہ خاص طور پر مسئلہ رکھنے والے بیٹے کو مخاطب کیا جائے۔
ہم والدین کی حیثیت سے ہر طرح کے اظہار پر خوش ہوتے ہیں، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ غلطی سیکھنے کا ایک موقع ہوتا ہے، جیسا کہ ماہرینِ تربیت کہتے ہیں، جب کہ کنارہ کشی میں جذبات دب جاتے ہیں اور ذخیرہ ہوتے رہتے ہیں، پھر معمولی باتوں پر پھٹ پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ سب سے پہلے سونے کے اوقات میں تبدیلی لانے پر توجہ دی جائے۔
اور جہاں تک نیند کا تعلق ہے، یہاں ہم پیشاب کی بےاختیاری کے مسئلے پر خاص توجہ نہیں دیتے، اس معنی میں کہ جب اس کے اور اس کی بہن کے درمیان تعلق بہتر ہوگا تو یہ مسئلہ بھی بہتر ہو جائے گا، لہٰذا نہ اسے ڈانٹو اور نہ اس معاملے کو نمایاں کرو۔
اسی طرح اس کی بہن کے لیے بھی ہدایات کا ایک مجموعہ ہونا چاہیے کہ وہ اس کے اندر حسد کے اسباب کو نہ ابھارے، مثلاً اس کے سامنے اپنی دوستیوں کا ذکر نہ کرے، جب کہ وہ خود دوست بنانے میں مشکلات کا شکار ہے۔
ہم یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ اس کی بہن کو کچھ سادہ اور مسلسل کام اس کے لیے کرنے کی عادت ڈالی جائے، جیسے اس کے لیے پانی کا گلاس لانا، اور آپ کی موجودگی میں مشترکہ کھیل کھیلنا، پھر آہستہ آہستہ یہ نگرانی کم کر دی جائے، یہاں تک کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کے عادی ہو جائیں۔
اسی طرح یہ بھی اچھا ہے کہ ہم والدین اپنی بہن بھائیوں کے ساتھ تعلقات میں اچھا نمونہ پیش کریں، تحائف دینے، چھوٹی باتوں سے درگزر کرنے، ان کی خوشیوں پر خوش ہونے اور ان کی روزی میں برکت کی دعا کرنے کے ذریعے، کیونکہ اچھی مثال بذاتِ خود اثر اور تبدیلی کا سبب بنتی ہے، ان شاء اللہ۔
اور ہم یہ بھی نہ بھولیں کہ ہمیشہ یہ دعا کرتے رہیں:
وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
سورۃ الفرقان: 74
ترجمہ: جو دُعائیں مانگا کرتے ہیں کہ “اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا”