یہ اتقان (پختگی) اور معیار کی بات ہے؛ کیا کسی تہذیب کی بنیاد قائم رہ سکتی ہے جب کہ اس میں نا پختہ عمل، اور اس کے ہر مرحلے اور ہر جز میں اعلیٰ درجے کے معیار کا اہتمام نہ ہو؟ اور کیا ہماری امت کا دب جانا اور قافلۂ تہذیب سے پیچھے رہ جانا اسی وقت شروع نہیں ہوا جب اس کے فرزندوں نے — یا ان میں سے بعض نے — اپنے اعمال میں ضبط، پختگی اور کامل اتقان کو نظر انداز کر دیا، اور انہیں کتابِ الٰہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے عین مطابق انجام دینے میں تساہل برتا، حالانکہ یہی دونوں چیزیں اس امت کو امتیازی شناخت عطا کرتی ہیں۔ جب معاملہ یہ ہے تو پھر یہ موضوع یقیناً توجہ، تنبیہ، وعید اور سخت تاکید کا مستحق ہے۔
حدیثِ نبوی: ایڑیوں کی تنبیہ
ذرا میرے ساتھ اس حدیث کے پوشیدہ معانی پر غور کیجیے: حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کے لیے آگ (کا عذاب) ہے۔ [متفق علیہ]
(مکمل حدیث : عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا، تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں (خشک ہونے کی وجہ سے) چمک رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وضو میں ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے، وضو کامل طریقہ سے کرو۔”)
الأعقاب: عقب کی جمع ہے، اور اس سے مراد پاؤں کا پچھلا حصہ یعنی ایڑی ہے، اور پاؤں وضو میں شامل ہونے والے اعضا میں سب سے آخر میں آتے ہیں، اور ایڑیاں پاؤں کا آخری حصہ ہوتی ہیں۔
بظاہر بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ حدیث اپنے مفہوم کے اعتبار سے محض ایک فقہی مسئلے تک محدود ہے، جسے طہارت کے ابواب میں سے کسی ایک باب تک محصور کیا جا سکتا ہے، چنانچہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس حدیث کے ان عظیم معانی اور بلند مفاہیم میں تدبر کا دروازہ بند کر لیتے ہیں، جو اس کے الفاظ کے اندر پوشیدہ ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان معانی کو نمایاں کرنے کے لیے باقاعدہ تصنیفات، کتب اور تحقیقی مطالعات کی ضرورت ہے، تاکہ اس میں چھپے ہوئے قیمتی موتیوں کو آشکار کیا جا سکے۔
یہاں ہمارے لیے اس امر پر زور دینا ناگزیر ہے کہ حدیث سے متعلق باریک نکات میں گہرائی کے ساتھ غور و فکر کیا جائے، تاکہ اس کے گرد موجود نورانی ہالے کو دیکھا جا سکے، اور اس کے حروف سے بکھرتی سنہری کرنوں کی پیروی کی جا سکے کیونکہ یہ حدیث محض اوامر و نواہی یا خشک اور بے جان الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ داستان ہے جو زندگی سے لبریز ہے، ایسی نغمگی ہے جس کی بازگشت زمانے کی وسعتوں میں گونجتی ہے، اور ایسے نورانی فیوض ہیں جن سے اہلِ ایمان کی روحیں منور ہوتی ہیں۔
اعمال کا آغاز اور انجام
فرض کریں کہ آپ نے اپنے ہاتھوں اور چہرے کو خوب اچھی طرح دھویا، ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کیا، بالوں کی جڑوں اور کہنیوں کے اوپر تک پانی پہنچنے کا خاص اہتمام کیا، اور وضو میں پوری دقّت اور توجہ کے ساتھ ایک ایک مرحلہ طے کیا۔ یہاں تک کہ جب آخری مرحلے تک پہنچے، پاؤں کی انگلیاں دھوئیں اور ان کے درمیان پانی پہنچانے کا اہتمام بھی ویسے ہی کیا جیسے ہاتھوں کی انگلیوں میں کیا تھا، پھر کیا ہوا؟
پھر آپ کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے، ہمت نے ساتھ چھوڑ دیا، اور نفس نے یہ بات دل میں ڈال دی کہ وضو تو تقریباً مکمل ہو ہی چکا ہے، بس ذرا سا باقی ہے۔ آپ آخری مرحلے تک پہنچ چکے تھے، چنانچہ آپ نے اپنے آپ کو ڈھیل دے دی کہ پاؤں پر بس سرسری سا پانی بہا دیں، انہیں اچھی طرح مَلنے کی زحمت نہ کریں، جس سے پانی باقی حصوں تک، خاص طور پر پیچھے کی طرف ابھرے ہوئے حصہ یعنی ایڑی تک بھی پہنچ جائے۔
یہی حال ہمارے بہت سے اعمال کا ہوتا ہے کہ ہم ابتدا بڑے جوش و جذبے کے ساتھ کرتے ہیں، ہر معیارِ کامیابی اور ہر تقاضائے اتقان کو ملحوظ رکھتے ہیں، لیکن کچھ ہی دیر بعد سستی، کاہلی، فتور اور کم ہمتی ہم پر غالب آ جاتی ہے، اور ہم کام کو مطلوبہ اتقان کے ساتھ مکمل نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھل بدصورت، عمل ناقص، اور بنیاد کمزور و ناپائیدار ہوتی ہے، جس پر کوئی معتبر عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی۔
لہٰذا، یہ ایک نبوی، تربیتی تنبیہ ہے کہ ہم اپنے ہر عمل کے تمام مراحل میں اتقان کو اختیار کریں۔ اتقان، وہ نایاب اور قیمتی دولت ہے جو اس زمانے میں مشکل سے ملتی ہے۔ یہ ایک منفرد نبوی رہنمائی ہے کہ ہم اپمی ہمتیں مضبوط کریں تاکہ ہم اپنے کام کو ویسے ہی انجام تک پہنچائیں جیسے ہم نے اسے شروع کیا تھا، کہ ہمارے اندر اتنی جرات ہو کہ ہم اپنے اعمال کے انجام پر بھی اسی طرح نگاہ رکھیں جیسے ان کی ابتدا پر رکھتے ہیں، بلکہ انجام کی زیادہ فکر کریں، کیونکہ اعمال کا دار و مدار ان کے خاتمے پر ہے۔ اور ہم تو اس میدان کے اختتام پر کامیابی کے زیادہ حق دار ہیں، ان اصیل گھوڑوں کی طرح جو یہ جانتے ہیں کہ جیتنے کے لیے انہیں دوڑ کے آخری حصے میں اپنی رفتار اور کوشش دوگنی کرنی ہوتی ہے۔
ایڑیاں اور نماز
آپ کہیں گے کہ یہ تو ایک نہایت باریک جزئی مسئلہ ہے، پھر حدیث کے الفاظ میں اتنا سخت انداز اور اتنی شدید وعید کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم جیسے آغاز سے غافل ہو جاتے ہیں ویسے ہی انجام سے بھی غافل ہو جاتے ہیں۔ وضو کا اختتام ہمیں ایک عظیم تر عبادت یعنی نماز کے آغاز تک پہنچاتا ہے، پس وضو کے اختتام کی خرابی اس کی ابتدا کو بھی خراب کر دیتی ہے، اور اس کے نتیجے میں وضو فاسد اور باطل ہو جاتا ہے، اور لازماً اس پر قائم ہونے والی عبادت یعنی نماز بھی فاسد اور باطل ہو جاتی ہے، یوں نقصان دوہرا ہو جاتا ہے اور مصیبت کہیں زیادہ بڑی بن جاتی ہے۔
یقیناً اس حدیث کی دلالتوں میں سے ایک یہ ہے کہ نماز کی عظمت کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔ اسی بنا پر علما فرماتے ہیں: اگر یہ سخت وعید اس شخص کے لیے ہے جس نے پاؤں کا ایک حصہ چھوڑ دیا، تو اس کا کیا حال ہوگا جس نے پورا پاؤں ہی چھوڑ دیا؟ اور اس کا کیا انجام ہوگا جس نے بغیر کسی عذر کے وضو چھوڑ کر تیمم اختیار کر لیا؟ اور پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جس نے وضو اور نماز دونوں کو بالکل ترک کر دیا؟ ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
اسی ترتیب سے، جو شخص اپنے وضو میں احسان کو ملحوظ رکھتا ہے یہاں تک کہ اسے بہترین طریقے پر مکمل کرتا ہے، وہ اس بات کا بھی زیادہ حق دار ہے کہ اپنی عمر کے برسوں کے بارے میں ہوشیار رہے، اپنے نیک اعمال پر مغرور نہ ہو، اور اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اس کی زندگی اور اس کی عمر کا اختتام خیر کے سوا کسی اور حالت پر نہ ہو۔
نبوی تعلیم کا اسلوب
بات کو پھر وہیں سے شروع کرتے ہیں؛ عربی زبان میں “ویل” ہلاکت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اور بعض اوقات اس سے ایک خاص چیز مراد ہوتی ہے، یعنی جہنم کی ایک وادی — اللہ ہمیں اس سے پناہ دے — سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں: ویل جہنم کی ایک وادی ہے، اگر دنیا کے پہاڑ اس میں چلا دیے جائیں تو اس کی شدید گرمی سے پگھل جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے اپنے صحابہؓ کو ایک ایسی غلطی اور کوتاہی پر ڈرایا جو عقیدے سے متعلق نہیں بلکہ ایک ایسے عملی رویّے سے متعلق ہے جو ان کے طرزِ زندگی پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔ یہ خوفناک وعید یہودیوں، نصاریٰ یا مشرکین کو نہیں سنائی گئی، بلکہ یہ تو آپ کے ان مجاہد صحابہ کے لیے تھی جو آپ کے ساتھ غزوے میں شریک تھے۔
یہ قائد کی اپنے پیروکاروں اور سپاہیوں کے حوالے سے ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ایسی دراڑ سے غافل نہ ہو جس کے ذریعے پورا مجموعہ نقصان اٹھا سکتا ہو۔ قائد ایک ماہر طبیب کی طرح ہے جو بیماری کے مقامات کو پہچان لیتا ہے اور مرض کے شدت اختیار کرنے اور لاعلاج ہونے سے پہلے مؤثر علاج تجویز کر دیتا ہے۔
اور یہی جہاد اور اللہ کی راہ میں نکلنے کی برکت ہے کہ نفوس اور ان کی طبعیات کھل کر سامنے آ جاتی ہیں؛ کیونکہ سفر حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے، اور یہ وہ وسیع اور زرخیز میدان ہے جس میں قائد اپنے ساتھیوں کی کمزوریوں اور قوتوں کو پہچانتا ہے۔ یہی چیز ہمیں کثرت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کی سیرتِ طیبہ میں نظر آتی ہے۔
بے شک یہ سب آپ کے صحابہؓ اور ساتھی تھے۔ اور بے شک یہ وہ مجاہدین تھے جنہوں نے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ دی تھیں۔ لیکن مشیتِ ایزدی یہی ہے کہ کام کے اتقان، اس کی تکمیل اور اسے اس سنت کے مطابق انجام دینے کے معاملے میں کسی قسم کی رعایت، مداہنت یا خوشامد نہیں ہے۔ چاہے معاملہ خیر القرون کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، تاکہ تعمیر درست ہو اور بنیاد مضبوط بنے۔
لیکن اس سخت وعید، دھمکی اور خوف دلانے کے باوجود ہمیں رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بے پایاں رحمت بھی نظر آتی ہے جو کبھی مفقود نہیں ہوتی۔ یہ آپ کے اعلیٰ ترین دعوتی اسلوب میں نمایاں ہوتی ہے جو خلل کے علاج اور اصلاح کے طریقے میں جلوہ گر ہے۔ یہاں خطاب عام ہے، کسی کی دل آزاری ہے نہ کسی کو شرمندہ کرنا، بالکل اس عظیم نبوی تربیتی قاعدے کے انداز پر: ما بال أقوام (لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا نام لینے کے بجائے اس طرح نشان دہی کرتے)۔
امرائے اجناد کی حدیث
اسی مقام کے ضمن میں میں آپ کے سامنے ایک عجیب حدیث پیش کرتا ہوں جو نماز کے خاتموں اور وضو کے خاتموں کو یکجا کرتی ہے، تاکہ ان معانی کی مزید تاکید ہو جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ اس حدیث کے راوی کون ہیں؟ یہ لشکروں کے امراء ہیں! ہاں، وہ عظیم جرّار لشکروں کے قائد تھے، لیکن اپنے نبی کے احکام و نواہی کے مطیع سپاہی تھے، آپ کے کسی حکم کو حقیر نہیں جانتے تھے اور نہ کسی ہدایت کو معمولی سمجھتے تھے۔
ابو عبداللہ الاشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، پھر ان میں سے ایک جماعت کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اتنے میں ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا، رکوع کرتا اور سجدوں میں چونچ مارنے کی طرح جلدی کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کیا تم اس کو دیکھ رہے ہو؟ جو شخص اسی حالت پر مر گیا، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ کسی اور حالت پر مرا۔ یہ اپنی نماز میں اس طرح چونچ مارتا ہے جیسے کوّا خون میں چونچ مارتا ہے۔ پس وضو کو پورا کرو، ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے، اور رکوع و سجدہ کو مکمل کرو۔”
ابو صالح کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ الاشعری سے پوچھا: یہ حدیث آپ کو کس نے سنائی؟ انہوں نے کہا: امرائے اجناد نے — عمرو بن العاص، خالد بن ولید، یزید بن ابی سفیان، اور شرحبیل بن حسنہ — ان سب نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ [ابن خزیمہ، بیہقی، اور بخاری فی التاریخ الکبیر]
اگرچہ اس حدیث کے مخاطَب عمومی مسلمان ہیں، مگر ائمہ، علماء اور واعظین اس بات کے سب سے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ ہدیِ نبوی کی پیروی کریں اور وضو و نماز میں اسے عملاً نافذ کریں۔ ان کی طرف سے اس معاملے میں کوتاہی کہیں زیادہ قبیح اور سنگین ہے۔
صحابہؓ کی عملی مثالیں
یہ بلند پایہ نبوی ادب ہمیں صحابہ کے طرزِ عمل میں نہایت واضح طور پر نظر آتا ہے، جنہوں نے آپ کے ادب سے تربیت پائی اور آپ ہی کے چشمۂ فیض سے سیراب ہوئے۔ یہ جلیل القدر صحابی، عابد و زاہد، عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ اس حدیث کا واقعہ خود یوں بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے۔ یہاں تک کہ راستے میں ایک پانی کے مقام پر پہنچے۔ کچھ لوگ عصر کے وقت جلدی میں تھے، انہوں نے عجلت میں وضو کیا۔ ہم ان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں، پانی انہیں نہیں پہنچا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے، وضو پورا کرو۔ [صحیح مسلم]
پہلی مثال ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے، جو فقہ، فہم اور دعوت میں ایک نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں: میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوا، جس دن سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا تھا۔ اتنے میں عبد الرحمن بن ابی بکر داخل ہوئے اور ان کے پاس وضو کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے عبد الرحمن! وضو پورا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔ [صحیح مسلم]
دوسری تصویر جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جسے حدیث کے راوی ان کے حوالے سے یوں بیان کرتے ہیں: میں نے ابو ہریرہؓ کو سنا، وہ ہمارے پاس سے گزر رہے تھے جب کہ لوگ بڑے برتن سے وضو کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: وضو پورا کرو، اس لیے کہ ابو القاسم ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔ [صحیح بخاری]
تو کیا ہم اپنے بچوں، اپنے اہلِ خانہ، اپنے دوستوں اور اپنے محبوبوں کے پاس سے گزریں گے اور انہیں یہ حدیث اور اس کے قیمتی اسرار سکھائیں گے، تاکہ ہم اپنے وضو، اپنی نماز اور اپنے تمام اعمال میں دقت اور اتقان کو ملحوظ رکھیں، اور اپنی امت کو عزت اور بلندی کے ان مدارج کی طرف لے جائیں جن تک ہمارے محبوب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد ان کے صحابہ نے اسے پہنچایا تھا؟
مترجم: زعیم الرحمان