اختلاط مرد و زن کا فتنہ آج کے دور میں ایک اہم مسئلہ ہے جس کا سامنا بہت سے نوجوانوں کو کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب بات نوکری اور پیشہ ورانہ ماحول کی ہو۔ ذیل میں ایک نوجوان کا سوال اور اس کا تفصیلی جواب پیش کیا جا رہا ہے۔
سوال: خواتین کے درمیان نوکری کا فتنہ
مجھے ایک ایسی نوکری کی پیشکش مل گئی جس کا میں انتظار کر رہا تھا، جیسے ہر وہ نوجوان کرتا ہے جو ایک باوقار مستقبل، مستقل ملازمت اور تنخواہ چاہتا ہے، تاکہ زندگی کے تیز رفتار سفر میں ایک نیا باب شروع کر سکے۔
الحمدللہ یہ ملازمت عزت اور وقار کے اعتبار سے نہایت اعلیٰ تھی۔ یہ ایک ایسی وزارت میں تھی جہاں میرے شعبے سے تعلق رکھنے والا ہر نوجوان کام کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام صرف خواتین کے درمیان ہے، اور میں ان سب کے درمیان واحد مرد ہوں۔
آپ میرے کام کی حالت کا اندازہ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ پورا دن دائیں بائیں نظر ڈالوں تو کوئی نہ کوئی ساتھی خاتون بیٹھی، بات کرتی یا ہنستی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ روزمرہ کے کام سے متعلق مسلسل میل جول بھی رہتا ہے، اور ظاہر ہے ان میں شادی شدہ بھی ہیں اور غیر شادی شدہ بھی۔
سب سے زیادہ مشکل یہ ہے کہ میں عورتوں کے معاملے میں خود کو بہت کمزور محسوس کرتا ہوں۔ اس نوکری سے پہلے بھی میں اپنی ذات پر ان کے فتنہ سے بہت زیادہ ڈرتا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ دفتری زندگی میں وقت کے ساتھ بات چیت، کھانے پینے اور عمومی برتاؤ میں بتدریج بے تکلفی آ ہی جاتی ہے، جو بظاہر عام سی لگتی ہے۔
الحمدللہ تمام ساتھی خواتین اخلاق اور ادب کے اعلیٰ معیار پر ہیں، اور سب مجھے اپنا بھائی ہی سمجھتی ہیں۔ کسی کی طرف سے کوئی مشکوک رویہ مجھے محسوس نہیں ہوا، لیکن میں اپنی ذات کے بارے میں فتنہ سے خوف زدہ ہوں۔ میں نے دوسری جگہ منتقلی کی کوشش بھی کی، مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اب یا تو انہی کے درمیان کام جاری رکھوں، یا پھر استعفیٰ ہی واحد حل ہے۔ آپ کیا رائے دیتے ہیں؟
اختلاط مرد و زن کے فتنہ سے بچاؤ کا جواب
یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ آپ اپنے نفس کے ساتھ کھڑے ہو کر سوال کر رہے ہیں اور مشورہ طلب کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنے حال پر نظر رکھتے ہیں اور فتنوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسی نوکری پر خوش ہو جاتے ہیں، اسے محض رزق سمجھتے ہیں اور اس کے ماحول پر توجہ ہی نہیں دیتے، یا پھر نوکری کو صرف تنخواہ، مقام یا گھر سے قربت کے زاویے سے دیکھتے ہیں، مگر اس بات سے بالکل بے پروا رہتے ہیں کہ انہیں عورتوں سے کثرت سے واسطہ پڑے گا۔
پس اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کے دل کو اس خطرے کی طرف متوجہ کر دیا۔ اصول یہ ہے کہ جس چیز سے ہمیں اپنے لیے فتنہ کا اندیشہ ہو، اس سے بچاؤ اور ابتدا ہی میں دوری اختیار کی جائے، کیونکہ نفس کمزور ہوتا ہے اور کسی بھی لمحے قابو سے نکل سکتا ہے، اور انسان نادانستہ طور پر غلطی میں پڑ سکتا ہے۔
فتنہ سے دوری کا نبوی اصول
اسی لیے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال جیسے عظیم فتنہ کے بارے میں فرمایا:
“جو دجال کے بارے میں سنے وہ اس سے دور رہے، کیونکہ آدمی اس کے پاس جاتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ مومن ہے، پھر اس کی لائی ہوئی شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔”
انسان اپنے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے، محتاط بھی ہوتا ہے، مگر پھر بھی پھسل جاتا ہے۔
اسی بنا پر فقہی قاعدہ ہے کہ فساد کو روکنا فائدہ حاصل کرنے پر مقدم ہے۔ اور رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں جا پڑا، جیسے کوئی چرواہا ممنوعہ چراگاہ کے گرد جانور چرائے، قریب ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائے۔”
مجبوری کی صورت میں عملی ضابطے
لیکن اگر متبادل یہ ہو کہ آپ بالکل بے روزگار رہیں، اور اوپر سے اگر آپ ابھی غیر شادی شدہ ہیں تو عفت اور نکاح کا راستہ مزید تاخیر کا شکار ہو جائے، تو جب تک آپ اس نوکری کو چھوڑنے کی استطاعت نہ پا لیں، اپنے اوپر کچھ سخت ضابطے لازم کر لیں، اور انہیں ہمیشہ اپنی نگاہ کے سامنے رکھیں۔ کیونکہ آپ ایسے فتنہ سے دوچار ہیں جسے رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ فتنہ قرار دیا ہے، اور وہ ہے عورتوں کا فتنہ۔
غضِ بصر: سب سے اہم ضابطہ
ان ضابطوں میں سب سے اہم نگاہ نیچی رکھنا ہے، کیونکہ یہ مومن کے لیے سب سے زیادہ حفاظت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے، جیسا کہ اللہ کا حکم ہے:
“مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔”
سورۃ النور: 30
بے تکلفی سے پرہیز
کھانے پینے میں بےتکلفی اور شرکت کی کوئی ضرورت نہیں۔ سب کے ساتھ احترام سے پیش آئیں، مگر بےجا قربت اور بےتکلفی سے بچیں، کیونکہ یہی بےتکلفی آپ کو وہاں لے جا سکتی ہے جہاں آپ جانا نہیں چاہتے۔ غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کریں، اور اس بات کی پروا نہ کریں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یا کیا رائے قائم کرتے ہیں۔ لوگوں کی نظر کے بجائے اللہ کی نظر کو اہمیت دیں۔
نکاح اور روزے: نبوی علاج
اگر آپ غیر شادی شدہ ہیں تو جلد از جلد نکاح کی کوشش کریں۔ اور اگر فی الحال ممکن نہ ہو تو ورزش کو بڑھائیں اور کثرت سے روزے رکھیں، جیسا کہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، یہ نگاہ کو نیچا رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو استطاعت نہ رکھے وہ روزہ رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔”
متبادل نوکری کی تلاش جاری رکھیں
دوسری نوکری کی تلاش ترک نہ کریں، اور پورا یقین رکھیں کہ اللہ آپ کو اس کا بہتر بدل عطا فرمائے گا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“تم اللہ کے لیے جو چیز چھوڑو گے، اللہ تمہیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔”
عورتوں کا فتنہ: ہر جگہ کا چیلنج
اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ہمارے زمانے میں عورتوں کا فتنہ صرف آپ کی موجودہ نوکری تک محدود نہیں رہا۔ ہوسکتا ہے آپ نوکری بدلیں اور وہاں بھی یہی صورتحال ہو۔ یہ فتنہ آج ہر جگہ پھیلا ہوا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ خود کو مسلسل مضبوط کریں، دل میں تقویٰ اور اللہ کی نگرانی کا احساس زندہ رکھیں، اور ایمان کا ایسا زادِ راہ جمع کریں جو اس دور میں آپ کے ساتھ رہے۔
مترجم: سجاد الحق